نیو ورلڈ آرڈر : محمد خان قلندر

0
  • 46
    Shares

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ٹرمپ کارڈ اپنی صدارت کے دوسرے سال میں ہی کھیل دیا۔ نیو ورلڈ آرڈر کی پشت پناہ، نادیدہ قوتیں جو جدید استعماری بندوبست کی معمار ہیں وہ شائد اب بہت جلدی میں ہیں. یہ ان کی سرعت پسندی کا شاخسانہ نظر آتا ہے۔

سو سال قبل امریکہ کی خانہ جنگی ختم ہونے اور پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جس “جدید استعمار” کی داغ بیل لیگ آف دی نیشن بنانے کی سوچ کی صورت ڈالی گئی اس کے مؤلفین کی اب چوتھی نسل برسرکار ہے. دنیا کے جملہ ذرائع پیداوار پر ان کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو چکا ہے. اگلا مرحلہ کرہءارض پر موجود ہر سماجی نظام کو غیر مستحکم کرنا ہے تا کہ نیو ورلڈ آرڈر ان کے پروگرام کے مطابق نافذ العمل ہو سکے۔

اب تک کی ٹرمپ کی پالیسی ملک میں شدید انتشار اور منافرت کو ہوا دینے کی ہے۔  کل کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان نے، ثابت کیا گیا ہے کہ پہلے سے موجود خلفشار اور پے در پے قتل و غارت کے واقعات میں اضافہ  ہی مقصود ہے۔

پچھلی صدی کے پہلے عشروں میں دوسری جنگ عظیم تک روایتی طرز حکومت بادشاہت اور اس سے جڑے سماجی نظام کے ساتھ جنگوں کی قدیمی اسباب، شہنشاہیت، قومیت، مذہب، علاقیت، اور سلطانی راج جو اس وقت کے وسائل اور پیداوار پر قبضہ اور انسانی لیبر کو مطیع فرمان غلام بنانے تک محدود تھے. اب جدید صنعت و حرفت کی ترویج اور سرمایہ کاری کی وجہ سے غیر اہم ہو گئے۔ فوج میں جدید اسلحہ سازی سے افرادی قوت کی اہمیت کم ہو گئی، ذرائع رسل و رسائل اور کمیونیکشن میں ترقی سے فاصلے سمٹ گئے۔ مزید عالمی سماج یا انٹر نیشنل ایسٹیبلشمنٹ وجود میں آ گئی۔ جس کی نمائشی صورت اقوام متحدہ کا ادارہ ہے۔ اس کے ساتھ کئی ضمنی انتظامی ادارے بھی بنائے گئے، اس بندوبست کے پیچھے دنیا کے امیر ترین لیکن پوشیدہ خاندانوں کا گروپ بن گیا. ساتھ ہی بین الاقوامی مالیاتی ادارے وجود میں آئے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں بنائی گئیں جن کے ذریعے دنیا کو ایک عالمی منڈی بنا دیا گیا۔

اس ظاہری بندوبست کے ساتھ ایک خفیہ عالمی اشرافیہ کی تنظیم جس کا خواب ایک صدی قبل دیکھا گیا تھا اب حقیقت میں موجود ہے۔ جو اب اس نیو ورلڈ آرڈر کی داعی اور پیش کار ہے اگرچہ سکرین پر سامنے کئی ادارے اور حکومتیں اس کے زیر تسلط ہیں۔

دوسری جنگ عظیم شروع تو مغرب میں ہوئی لیکن اس کا دائرہ ساری مشرقی دنیا تک پھیلایا گیا، جس کے نتیجے میں پورے کرہءارض پر نئی جغرافیائی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ مکمل ہوا۔ اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی، سوویت یونین کا بلاک تشکیل پا گیا۔ مغربی ممالک کے زیر تسلط ایشیاء اور افریقہ کے ممالک کو تقسیم در تقسیم کرتے بتدریج آزادی دی گئی۔

ویت نام اور کوریا میں جنگ ختم ہونے تک دنیا میں امن اور استحکام کی فضا بحال ہونے لگی، اس دوران اس اشرافیہ کا اثر رسوخ بہت حد تک ساری دنیا میں پھیل گیا تو اس نے اپنے پروگرام کا اگلا مرحلہ شروع کیا۔ ان تمام آپریشنز کا مستقر مشرق بعید میں ہانگ کانگ سے مشرق وسطی میں منتقل ہوا۔ وسائل سے مالا مال مملکتوں میں ڈکٹیٹرز کو مضبوط کیا گیا۔ ترقی پذیر ممالک کو قرضے دے کے ان کی حکومتوں کو بھی زیر اثر کر لیا گیا، اس اشرافیہ کلب کو توسیع دی گئی اور ان ممالک میں دولت کے ارتکاز کے لئے مافیا بنائے گئے، جنہوں نے ہر طریقے سے دولت جمع کرنی شروع کی۔ پھر مقامی طور پر بد امنی کی تحریکوں کو ہوا دی گئی۔ ماحول میں خوف اور بےیقینی کی فضا پیدا کی گئی اور ان نووارد ممبران نے اپنی ساری دولت اس اشرافیہ کلب کی حفاظت میں رکھنے میں عافیت سمجھی۔ شروع میں اسرائیل کی مملکت کی توسیع اور تسلط کے لئے اس سے ملحق ملکوں سے جنگ اور فلسطین کی ریاست منہدم کرنے کے ساتھ لبنان، شام، اور مصر کو کمزور کر دیا گیا،

اس دوران اشتراکیت کے سماجی ڈھانچے کو جو اس استعمار کے لئے سب سے بڑا چیلنج تھا مستقل کمزور کرنے پرکام جاری رہا. بازنطینی ریاستوں میں جنگ، جرمنی کو دوبارہ متحد کرنے کے ساتھ ساتھ سوویت یونین کا خاتمہ، افغان وار میں اس کے الجھنے اور یہاں شکست کے بعد ہو گیا۔ چین کی آبادی،  وسائل اور محل وقوع کی وجہ سے وہاں معاشی ترقی میں تعاون کیا گیا، ایک طرف وہاں سرمایہ کاری کی گئی  ساتھ بڑی صنعتیں وہاں منتقل کی گئیں دوسری طرف وہاں کی حکومت کو مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کے حکومتی بانڈز و دیگر کا سب سے بڑا انوسٹر بنایا گیا۔ یہاں بھی اشرافیہ کے بہت مافیا موجود ہیں۔

ایران پر طویل عرصے کی معاشی پابندیوں اور عراق کے ساتھ جنگ کے بعد عراق پر براہ راست فوج کشی، لیبیا سے مراکش تک تمام ملکوں میں حکومتی نظم کا خاتمہ کرنے کے ساتھ، افغانستان میں جنگ کو طول دینے، شام، عراق اور یمن میں مستقل خونریزی اور اب سعودی عرب میں شاہی خاندان میں اکھاڑ پچھاڑ کے ساتھ، شمالی کوریا کا تنازعہ برقرار رہنے سے اس خطے میں تو بدامنی کا تواتر مسلسل موجود رہنے کا بندوبست مکمل نظر آتا ہے۔ یہاں سے سرمایہ کی منتقلی کا عمل جاری رہنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، دیگر ممالک پر اس کے لازمی اثرات رہیں گے اور وہاں بھی متمول لوگ اس اشرافیہ کلب کے ممبران کی وساطت سے اپنا سرمایہ ان کی محفوظ جنت میں جمع کرتے رہیں گے۔

شام، عراق اور یمن میں مستقل خونریزی اور اب سعودی عرب میں شاہی خاندان میں اکھاڑ پچھاڑ کے ساتھ، شمالی کوریا کا تنازعہ برقرار رہنے سے اس خطے میں تو بدامنی کا تواتر مسلسل موجود رہنے کا بندوبست مکمل نظر آتا ہے۔دنیا کے تمام وسائل پر قابض اشرافیہ کا ایک بڑا ھدف آبادی میں تخفیف کرنا بھی ہے، جس کے ضمن میں جنگیں بھی نا گزیر ہیں۔

اس تناظر میں یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلاہ کی کوشش کے ساتھ امریکہ کے موجودہ الیکشن کا تجزیہ کریں تو لگتا ہے کہ اب یہ ممالک بھی اگلا ہدف ہیں، دنیا میں بدامنی کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگ نقل مکانی کرتے آئے ہیں. اب یورپی ممالک اور امریکہ و کینیڈا میں پاپولییشن مکس بہت تبدیل ہو چکا ہے، پچھلے الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت بالکل غیر متوقع تھی۔

اب تک کی ٹرمپ کی پالیسی ملک میں شدید انتشار اور منافرت کو ہوا دینے کی ہے۔ لگتا ہے کہ کسی ایجنڈے کے تحت یہ سب کام کئے جا رہے ہیں۔ اور کل کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے، دنیا میں تو رد عمل آنا تھا اور آرہا ہے لیکن امریکہ کے اندر پہلے سے پے در پے قتل و غارت کے واقعات میں اضافہ ہو گا اور اس کے امریکی عوام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، کہیں پڑھا تھا کہ اس اشرافیہ کلب کا دنیا کے تمام وسائل پر قبضہ کرنے ساتھ دوسرا بڑا ہدف تفریط آبادی بھی ہے اور یہ چاہے جنگوں سے ہو، دہشت گردی سے ہو یا موذی امراض سے بچاؤکی ویکسین کی عدم فراہمی سے ہو پائے، خوراک کی کمی اور جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی سے ہو بس آبادی کم ہونی چاہیئے۔

عقل فہم ادراک سے متذکرہ حقائق کو سمجھنے سے یہ بات درست لگتی ہے لیکن ماننے کو دل نہیں چاہتا، دیکھیئے پردہ قدرت سے کیا ظہور میں آتا ہے کہ دنیا میں سکون کی فضا معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: