پشاور کی یونیورسٹی میں تہذیب کا رقص —- محمد آصف

2
  • 66
    Shares

کل کچھ اہلِ علم اساتذہ میں بات احمد اقبال کے تجربے کی چل نکلی تو کافی اچھے نکات سامنے آئے۔ کہا گیا کہ جدید نسل آگے بڑھنے میں اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتی دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہ نکتہِ نظر بھی اٹھایاگیا کہ دراصل جدید نسل میں خاص الخاص خواتین کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ ان کے اساتذہ کا وہ گھناونا کردارہے جو استحصالی نگاہ سے ان پر اپنی لنگی ڈھیلی کرنے کے چکر میں ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی راستہ نہ ہونے کی صورت میں یہی ایک “چور” راستہ بچتا ہے۔ درحققیت عورت ایسا نہیں چاہتی مگر کیا کرے کہ کوئی اور آپشن نہیں۔

اسے اہم حقیقت کا ایک رُخ کہہ سکتے ہیں۔ یہ مکمل تصویر نہیں۔ کیوں کہ مکمل تصویر بہت بھیانک ہے جس کو دیکھنے کے لیے بصیرت درکار ہے۔ ہم مجموعی طور پر یہ ماننے کو توتیار ہیں کہ ہماری درسگاہیں معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہیں، کلچر اور تہذیب کے نام پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کو زیادہ پروموٹ کرتی ہیں اور یہ کہ جس جدیدیت کا لبادہ یہ اوڑھے ہوئے ہیں اس کا اثر ہم اپنے اردگرد بہت قریب محسوس کررہے ہیں۔ مگر ہم ابھی تک یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس لبادے میں ہماری اپنی اولادیں بھی لپیٹی جارہی ہیں کہ نہیں۔۔

ابھی کچھ دیر قبل شہید بے نظیر یونیورسٹی پشاور کی ایک طالبہ کا ایک ایکسپو پارٹی میں نقاب ڈالے بیلے ڈانس (پیٹ کا رقص) دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ کہا گیا کہ یہ کوئی پیشہ ور رقاصہ نہیں بلکہ یہ محض شوق ہے۔ یہ الگ بات تھی کہ پیشہ ور رقاصہ اور اس طالبہِ علم میں سوائے چہرے کے نقاب کے کوئی فرق دکھائی نہ دیا۔ بہت سی ماوں اور خواتین کے درمیان رقص کرتی اس طالبہ، علم کے اس اقدام کو کیا نام دیا جائے؟

ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح کی کلچرل گیدرنگ ہر دوسرے اسکول اور تعلیمی ادارے میں کسی نہ کسی نام سے جاری ہے۔ اس میں ناچنے والی ہوں کہ گانےوالی، ہماری ہی اولادیں ہیں، ہماری ہی بہنیں بیٹیاں ہیں۔ مگر وہ ہیں کن کی؟ کس شہر سے کس گلی محلے سے ان کا تعلق ہے؟ ظاہر ہے وہ ہمارے اردگرد سے اٹھی ہیں۔ ان کے کسی بھی عمل کی دھمک معاشرہ قبول کرے گا۔ ایسے میں ان درسگاہوں میں ہونے والی یہ مخلوط اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام کن کا فرض ہے؟

سوال یہ ہے کہ جب ہم میڈیا اور اس کے ہونے والے اثرات پر بات کرتےہیں توکیا اس سے مراد دوسرے لوگ ہوتےہیں؟ اور یہی اثر جب ہم پر وارد ہونے والا ہو تو کیا ہم یہ کہہ کراس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں کہ اس کے سواچارہ نہیں۔

اس طالبہِ علم کی ماں بھی کہیں بیٹھ کر اسی بات کا رونا رو رہی ہوگی کہ جدیدیت کا زہر نوجوان نسل کے رگ وپے میں بس رہا ہے۔ مگر کیا یہ ممکن ہے کہ اسے اپنے ہی گھر میں اس زہرِ ہلاہل کی تلخی اپنی سگی بیٹی کے لوگوں کے سامنے رقص کی صورت میں دکھائی نہ دے رہی ہو؟

معاشرے میں پیھلے اس کھلے تضاد کہ ہم اخلاقیات میں بہت بہتر درجے پر ہیں، کیا یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ شاید ہماری اخلاقیات کی گرفت اتنی کمزور ہے کہ جدید طرزِ زندگی (جس میں حدود و قیود ازسرِ نو ترتیب دیے جا رہی ہیں) کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے۔۔

جب ایسی صورتحال پیدا ہوجائے تو کیا یہ کہاجاسکتا ہے کہ عورت کھلے لفظوں میں اپنے آپ کو استحصال کے لیے پیش کررہی ہے؟ یا کیا ہم ایسی آزادی کو کسی اور تعبیر کا نام دےسکتے ہیں؟ آج جسم سے چپکے ہوئے لباس اور نقاب میں حلال رقص پیش ہوا ہے کل کو نیم برہنہ اور نقاب کشاء صورت میں بھی آسکتا ہے۔ تب ہماری اخلاقیات کس درجے پر ہوں گی؟کیا تب ہم اس کےجواز کی کوئی اور صورت ڈھونڈیں گے؟

جس لوچ، ہوس، اور زہنی پراگندگی کا سامان آج کی درسگاہیں ہماری نوجوان بچیوں کے اذہان میں انڈیل رہی ہیں اور جس کا اظہار ہم کچھ کچھ انفرادی صورت میں دیکھ بھی رہے ہیں، کل کو اس کا مجموعی نتیجہ دیکھنے کا حوصلہ کیا ہم سب میں موجود ہے؟ آج پوری دنیا کے سامنے خود کو رقص کی صورت میں پیش کرتے ہوئے یہی عورت کل کو کس منہ سے یہ کہتی ہوئی نظر آئے گی کہ مردکی نگاہ میں ہوس ہے یا یہ کہ اس کی کامیابی کے راستے میں ایک ایسی صورتحال تھی جس کو وہ نہ چاہتے ہوئے عبور کرگئی۔ جبکہ دوسری طرف وہ اپنی مرضی سے لوگوں کی نظری راحت کا سامان بن رہی ہے۔

غیر نصابی سرگرمیوں کےنام پر جس طرح عورت کو شو پیس بناکر مردوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے کیا اسے آزادیِ نسواں کہہ کر عورت کو اور زیادہ ہلکا تو نہیں کیا جارہا؟یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا؟ اور کہاں جا کر رُکےگا؟ اس سوال کا جواب میرے یا آپ کے پاس نہیں۔ اس کا جواب اُسی کے پاس ہے جو مرکزِ نگاہ ہے۔ وہی لڑکی، وہی عورت جو کل کو اس معاشرے میں اپنا کردار ایک ماں کی حیثیت سے اداکرنے کے لیے نکلی ہوئی ہے۔ مگر ایک بار رُک کر اس سے پوچھ لیجیے کہ۔۔۔۔۔ جس جنس کی تربیت پر اتنی محنت کی جارہی ہے جس کی عزت کا حمیت کا، توقیر اور پردے کا اتنا احساس کیا جارہا ہے۔ اسے خود بھی اس پاکیزگی کا احساس ہے کہ نہیں؟

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: