گڈ بائی ٹو سر سیّد —— سلیم احمد

0
  • 279
    Shares

سرسید کے صدسالہ جشن کے ہنگام، پیدا ہونے والی حالیہ بحث کے تناظر میں، سلیم احمد کا چار پانچ دھائی قبل کا لکھا ایک خوبصورت مضمون دانش کے قارئین کے لئے پیش ہے۔


خوش قسمتی یا بد قسمتی سے مجھے سر سید احمد خاں کے مخالفوں میں سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اس کی داد دیتے ہیں۔ بہت سے فریاد کرتے ہیں۔ میرے ایک دوست نے جو خود بھی سر سید سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ ایک دفعہ میرے بارے میں لکھا کہ مَیں نے سر سید کے خلاف لکھ لکھ کر خوب شہرت کمائی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سر سید احمد خاں پر مَیں نے ایک آدھ کالم یا جہاں تہاں دو چار نعروں کے سوا اور کچھ لکھا ہی نہیں۔ البتہ حالی کے خلاف میں ضرور لکھتا رہا ہوں۔ لیکن مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ حالی پر کچھ لکھوں گا وہ بھی سر سید کے خلاف سمجھا جائے گا۔ پھر ادب میں یہی ایک تصورِ مخالفت یا موافقت کا ہے جو میری سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک سطح پر تو خیر ٹھیک ہے مگر عام طور پر اس کے معنی بہت پست ہوتے ہیں۔ اس میں ذاتی معاملات کی سی بُو آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ادبی، نظریاتی یا اصولی بات کا محرک کوئی ذاتی جذبہ ہو۔ میں ذاتی جذبے اور ذاتی معاملے کا بھی قائل ہوں۔ زندگی بہت بڑی حد تک انہیں دو چیزوں کا نام ہے۔ مگر افسوس کہ اس کی بھی ایک پست سطح ہے جو میرے معیار کے مطابق نہیں۔ جن معنوں میں لوگ ذاتی مخالفت یا موافقت کا ذکر کرتے ہیں، میں ان معنوں میں اپنی ذات کا کوئی علم نہیں رکھتا۔ ایسا ذاتی تعلق تو مجھے اپنے بچوں سے بھی نہیں ہے۔ بچوں کے لیے میں جان دے سکتا ہوں اصول نہیں دے سکتا۔ جھوٹی گواہی نہیں دے سکتا۔ کسی سے بے جا دشمنی یا دوستی نہیں پال سکتا میری ذات میرے اصولوں اور معیاروں کے ساتھ میری ذات ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی اور ذات مجھ میں موجود ہے تو مَیں اسے ’’بد ذات‘‘ سمجھتا ہوں۔

لیکن حالی سے مَیں نے کبھی بد ذاتی نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ بچپن ہی سے مجھے حالی سے ایسی محبت رہی ہے کہ اردو کے کم ادیبوں سے رہی ہے۔ اس آدمی میں کیسی سچی شرافت اور درد مندی تھی۔ رہ گئی اس کی ادبیت تو میں ہی کیا، اردو کا کون ادیب ہے جو ادب پر بات کرتا ہے اور حالی کے بغیر لقمہ توڑ سکتا ہے۔ میرے دوست ضیا جالندھری نے کہا۔۔۔۔ آپ ہر بات میں حالی کا تذکرہ کیوں کرتے ہیں۔ مَیں نے کہا کیا کروں۔ ادبی دریا کی یہ وہ مچھلی ہے کہ جس کنارے پر بھی شست پھینکتا ہوں۔ ہر جگہ حالی نکل آتا ہے۔ غزل میں وہ ہے۔ تنقید میں وہ ہے۔ سوانح عمری میں وہ ہے۔ نظم میں وہ ہے۔ مضمون نگاری میں وہ ہے۔ حالی تو ہمارے جدید ادب کا کابوس ہے۔ حالی سے کون بچ سکتا ہے۔ ترقی پسند اور غیر ترقی پسند سب زلفِ حالی کے اسیر ہیں۔ میں تو حالی سے اتنا متاثر ہوں کہ شیروانی پوشی ہی میں نہیں۔ غزل نویسی میں بھی ان کی نقل کرتا ہوں اور کئی غزلیں حالی کے رنگ میں کہی ہیں۔ بلکہ ان کا لب و لہجہ بار بار میرے لب و لہجہ میں گونج اٹھتا ہے۔ مفلر البتہ نہیں باندھتا۔ حالی کی قدر شناسی کے لیے یہ بھی ضروری ہو تو باندھ سکتا ہوں۔ مگر حالی سے اختلاف (مخالفت نہیں) بہت بنیادی ہے۔ یہ اختلاف کبھی کبھی جہاد کو ضروری بنا دیتا ہے اور جہاد کا اصول ضرب کاری ہے جو لوگ نہ مجھے سمجھتے ہیں نہ حالی کو نہ ادب کو۔ انہیں بظاہر میرے اس رویہ سے تکلیف ہوتی ہے مگر تکلیف کے اسباب بھی مختلف ہیں۔ کوئی حالی کو ترقی پسندی کا باوا آدم سمجھتا ہے اس لیے بگڑ جاتا ہے۔ کوئی اسلام اور مسلمانوں کا محسن سمجھتا ہے۔ اس لیے خار کھا جاتا ہے۔ مَیں بات حالی پر کرتا ہوں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پر کی جا رہی ہے۔ اسی لیے اپنی اپنی روح کی تکلیف کو حالی کی روح کی تکلیف سمجھ لیتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ہر طرح کے لوگوں کو ناراض کرنے سے بہتر یہ ہے کہ نام لیے بغیر بات کی جائے تو اگر علامت نہ ہوں تو مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بعض نام قومی یا آفاقی علامت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور میں بہت سے ایسے نام بھی لیتا ہوں جو میرے لیے ذاتی علامت ہیں۔ یہ گم نام اور کم حیثیت لوگوں کے نام ہیں۔ اور اکثر لوگ ان کے تذکرہ سے بھی چڑ جاتے ہیں۔ مگر مَیں کیا کروں مجھے تو اپنی بچّی میں بھی علامتی معنی نظر آتے ہیں۔ پھر لوگوں کو خوش کرنا میرے کس کام آئے گا۔ مجھے کون سا عہدہ یا مرتبہ لینا ہے۔ 1947ء میں مَیں نے اپنے ایک مضمون میں اپنے اس منشور کا اعلان کیا تھا کہ گلے میں سونے کا تمغہ ڈال کر ادب کی خدمت کی تو کون سا تیر مارا۔ روکھی سوکھی کھا کر ادب کے لیے کچھ کر سکوں تو البتہ ایک بات ہو گی۔ ایسی باتوں کو لوگ باتیں بنانا سمجھتے ہیں۔ اور ہمیشہ ایسی باتیں بنا کر ’’آمد بر سرِ مطلب‘‘ کی طرف کوچ کر جاتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ادب میرے لیے ہمیشہ مقصود بالذات رہا ہے کبھی کسی اور چیز کے حصول کا ذریعہ نہیں بنا۔ اگر کوئی اسے ’’انگور کھٹے ہیں‘‘ کا معاملہ سمجھتا ہے تو یہ خوش خیالی اسے مبارک ہو۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ انگور میرے لیے اتنے کھٹے کبھی نہیں تھے جتنے ان لوگوں کے لیے تھے جنہوں نے انہیں اب میٹھا بنا لیا ہے۔ ویسے اگر نام نہ لینے کے اصول کو مَیں اختیار بھی کروں تو اس کی صرف ایک صورت ہو سکتی ہے۔ یعنی ان لوگوں کے نام لینا چھوڑ سکتا ہوں جن کے خیال یا تجربہ سے موافقت رکھتا ہوں۔ ان لوگوں کا نام لینا پھر بھی ترک نہیں کروں گا جن سے اختلاف رکھتا ہوں۔ کیونکہ قرآن کریم میں ابو بکرؓ و عمرؓ کے نام نہیں لیے گئے مگر ابو لہب کا نام لیا گیا ہے۔ کبھی کبھی مصالحت اور منافقت سے بچنے کے لیے دشمن اور مخالف کا نام لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

خیر تو حالی اور سر سید سے میری کیا مخالفت ہو سکتی ہے۔ خدا بخشے انہیں مرے ہوئے زمانہ ہو گیا۔ مَیں تو جب پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر یہ کوئی خاندانی، نسلی یا قبائلی تنازعہ بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مَیں مُردوں سے لڑنے کو تصنیع اوقات بھی سمجھتا ہوں۔ اور خلاف شریعت بھی۔ جو مر گیا قابل معافی ہے اور لاش کا مثلہ کرنا حرام ہے۔ حالی اور سر سید سے میری لڑائی مُردوں سے لڑائی نہیں ہے۔ ایسے زندوں سے ہے جو زندوں سے زیادہ زندہ ہیں۔ مَیں حالی کو ادب کی ہر صنف میں زندہ دیکھنا ہوں۔ سر سید کو ہر اصلاحی تحریک میں۔ سر سید اصلاحی تحریکوں میں بھی زندہ ہیں۔ نظامِ تعلیم میں بھی اور جدید مذہبی فکر میں بھی۔ یہ سر سید ہی ہیں جو اس وقت بولنے لگتے ہیں جب ان کے کسی زوال یا انحطاط یا غلط اقدام پر شور مچایا جاتا ہے۔ یہ سر سید ہی ہیں جنہوں نے ہمارے پورے نظامِ تعلیم کو کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ یہ سر سید ہی ہیں جو کبھی پرویز میں بولتے ہیں کبھی غلام جیلانی برق میں۔ شبلی، اقبال، مولانا مودودی، علامہ مشرقی سب کو تھوڑے تھوڑے اختلاف سے ان کا فیض پہنچا ہے۔ یہاں تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی۔ ان میں سے جو لوگ سر سید سے کچھ اختلاف بھی رکھتے ہیں تو وہ ایسا ہے جیسے باپ بیٹے میں ہوتا ہے۔

یہ سر سید ہی ہیں جنہوں نے ہمارے پورے نظامِ تعلیم کو کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ یہ سر سید ہی ہیں جو کبھی پرویز میں بولتے ہیں کبھی غلام جیلانی برق میں۔ شبلی، اقبال، مولانا مودودی، علامہ مشرقی سب کو تھوڑے تھوڑے اختلاف سے ان کا فیض پہنچا ہے۔ یہاں تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی۔ ان میں سے جو لوگ سر سید سے کچھ اختلاف بھی رکھتے ہیں تو وہ ایسا ہے جیسے باپ بیٹے میں ہوتا ہے۔

مجھے سر سید سے نہ ذاتی اختلاف ہے نہ باپ بیٹے کا۔ سر سید سے میرا اختلاف ایسا ہے جیسے دن کو رات سے ہوتا ہے۔ چلئے آپ مجھے رات اور انہیں دن سمجھ لیجئے۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے نہ کسی تحریک اصلاحی کا فیض پہنچا ہے نہ کسی تحریکِ مذہبی کا۔ یہاں تک کہ نظام تعلیم کا بھی نہیں۔ میں نے ان کے نظامِ تعلیم سے اتنا واسطہ بھی نہیں رکھا کہ ان کی دی ہوئی ڈگری سے روٹی کماتا۔ میں نے روٹی ان کی مدد اور سند کے بغیر کھائی ہے۔ مگر سر سید سے میرا اختلاف مجھ پر الہام نہیں ہوا ہے۔ اور مَیں بھی اسی ماحول میں پیدا ہوا تھا جس کے سنگ بنیاد پر سر سید کا نام لکھا ہوا ہے۔ ماحول وہی تھا۔ عام خیالات وہی تھے۔ نظام تعلیم وہی تھا۔ یہاں تک کہ نصاب بھی۔ لوگ ان سب چیزوں سے فیضیاب ہو رہے تھے۔ اور زندگی بنا رہے تھے جس طرح چشموں پر پیاسوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک دنیا سر سید کے حوض کے ارد گرد جمع تھی۔ اور سیراب ہو رہی تھی۔ ادیب، شاعر، مصلح، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، لیڈر کون ہے جس نے اس گھاٹ پر پانی نہیں پیا۔ مَیں بھی پینا چاہتا تھا لیکن پہلے ہی چلو میں الو ہو گیا۔ اس کا ذائقہ اتنا تلخ اور بد بودار لگا کہ پینے کی ہمت نہ پڑی۔ دوستوں نے سمجھایا۔ عزیزوں نے نصیحتیں کیں۔ بزرگوں نے ڈرایا دھمکایا۔ ہمدردوں نے کہا ’’بھوکے مرو گے‘‘۔ استادوں نے کہا، فیض اٹھائو۔ کانے ہو اندھوں میں راجا ہو جائو گے۔ میں جانتا تھا سب سچ کہتے ہیں۔ مگر اللہ اکبر غرورِ تشنگی بھی کیا شے ہے۔ مَیں نے چلو کا پانی اچھال دیا اور پیاسے کا پیاسا اپنی راہ پر چل دیا۔ اس نظامِ تعلیم سے میٹرک کا سرٹیفکیٹ لیا تھا۔ آج تک اسے استعمال نہیں کیا کیونکہ درخواست ہی نہیں دی۔ خدا بخاری کا بھلا کرے انہوں نے تعلیم پوچھے بغیر سٹاف آرٹسٹ بنا دیا تھا۔ ساری زندگی میں صرف ایک بار اس سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑی۔ وہ بھی تاریخ پیدائش کی تصدیق کے سلسلہ میں۔

بزرگ کہتے ہیں کہ سمندر میں رہ کر مگر مچھ سے بیر پالنا اچھا نہیں ہوتا۔ میں سمندر میں ہوں اور مگر مچھ کی اولادوں سے تہ آب بھی مفر نہیں۔ ہر طرف سر سید کے جال پھیلے ہوئے ہیں اور جالوں کے سرے سر سید کے وارثوں نے تھام رکھے ہیں۔ نکل جانے کا کوئی راستہ نہیں ایک کڑی توڑتا ہوں دوسری میں پھنس جاتا ہوں۔ بقول جمیل الدین عالی

مچھلی بچ کر جائے کہاں      جب جل ہی سارا جال!

یہ جل نہیں، اجل ہے۔ پانی نہیں زہر ہے۔ کچھ لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ باپ سے روٹھے ہوئے ہیں۔ لڑتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھی دھوکے میں ان کو اپنا ساتھی سمجھ لیتا ہوں۔ مگر آخر میں وہ بھی سر سید کے چہیتے بیٹے نکل جاتے ہیں۔ اور طنز کرنے لگتے ہیں کہ سلیم احمد، سر سید کے خلاف لکھ کر خوب شہرت کما رہا ہے۔ شہرت کا معاملہ یہ ہے کہ 23 برس سے ریڈیو میں ہوں۔ 18 برس سے فلم میں۔ ریڈیو فلم ٹیلی ویژن صحافت یہ شہرت کے وہ ذرائع ہیں کہ کسی کو ایک بھی ہاتھ لگ جائے تو سات پشت کی عاقبت سنوار جاتا ہے۔ میری شہرت کا عالم یہ ہے کہ سلیم احمد شاعر کو الگ سمجھا جاتا ہے۔ سلیم احمد ڈرامہ نویس کو الگ۔ سلیم احمد فلم نویس کوئی اور ہے اور سلیم احمد جس کے کالم چھپتے ہیں وہ کوئی اور ہے۔ محلّے کے بچے تک نہیں پہچانتے۔ ایک ادیب کے ایک ناول کی ڈرامائی تشکیل کے لیے میرا نام لیا گیا۔ تو انہوں نے کہا یہ کون سلیم احمد ہیں۔ ایک سلیم اور کو تو میں جانتا ہوں جو تنقید اور شعر لکھتے ہیں۔ دوسری طرف یہ عالم ہے کہ ایک اخبار میں میرے کچھ اشعار انتخاب کیے گئے تو اخبار والوں نے یہ بتانا ضروری سمجھا کہ سلیم احمد ڈرامہ نویس کی حیثیت سے تو جانے جاتے ہیں مگر یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ شاعر بھی ہیں۔ مجھ پر تو زندگی بھر کے تجربہ سے کھل گیا کہ شہرت ایک سراب ہے۔ بُلبلا ہے۔ شہرت کمانا مقصود ہوتا تو سر سید کی مداحی میں مدلل کتاب لکھتا اور گلڈ سے انعام پاتا۔

لیکن ایک راستہ سر سید کی شاہراہ سے الگ بھی موجود تھا۔ یہ بھی ایک شارع تھی۔ کبھی اس پر غزالی اور رازی کی سواریاں چلتی تھیں۔ اور سلاطین زمانہ کا رکاب تھامے ساتھ ہوتے تھے۔ ہزاروں غلام جلو میں ہوتے تھے۔ اور قدم قدم پر زر و جواہر کی بارش ہوتی تھی مگر زمانہ کی دست برد سے یہ سڑک ٹوٹ پھوٹ گئی تھی۔ دو رویہ لگے ہوئے درخت جھنکاڑ بن چکے تھے۔ سزائیں اور منزلیں اجاڑ ہو چکی تھیں۔ چلنے والوں کی بھیڑ اب بھی تھی۔ مگر ایسی جیسے دیہاتیوں کی میلے جاتے وقت ہوتی ہے کہ پگڑ باندھے ڈور اور لٹھیاں سنبھالے چبینے کھاتے اور اوک سے پانی پیتے چلے جاتے ہیں۔ مجھے اس راستے کی عظمت کا احساس تھا۔ مگر یہ بھی جانتا تھا کہ اب یہ دیہاتیوں کی پگ ڈنڈی ہے۔ شہر کا راستہ اور ہو گیا ہے۔ اور شہر جانے والی سڑکوں پر یکے تانگے سائیکلوں اور کاریں سب تھیں۔ ریل بھی اُدھر ہی جاتی تھی۔ میں بھی دیہاتی میلوں میں گھومنے والوں کو دیکھتا تھا کہ پیدل یا ٹٹووں پر سوار شہر کی سڑکوں پر آ جاتے ہیں تو تماشا بن جاتے ہیں۔ مَیں تماشا بننے سے ڈرا ورنہ سر سید کے حوض کے مقابل ایک میٹھے پانی کا چشمہ بھی موجود تھا اس کا پانی گدلا، رتیلا اور تہ نشین ضرور ہو گیا تھا مگر تھا آبِ حیات۔ یہ دیوبند کا چشمہ تھا۔ میں علی گڑھ نہیں گیا نہ دیوبند۔ بس میرٹھ میں بیٹھا رہا۔ دونوں مقامات یہاں سے قریباً مساوی فاصلے پر تھے۔ دونوں طرف آنے جانے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ سر سید، ڈاکٹر، انجینئر، اور پروفیسر بنا رہے تھے تو دیوبند شیخ الاسلام، شیخ الحدیث اور عالم اور مفتی پیدا کر رہا تھا۔ معاشرے میں دونوں کا مقام تھا۔ دیوبند والے ذرا پرانے فرسودہ اور کسی حد تک ازکار رفتہ سمجھے جاتے تھے مگر مولانا احتشام الحق تھانوی کو دیکھ لیجئے تو سمجھ آ جائے گا کہ دونوں راستوں کی منزلیں مختلف ہو کر بھی کتنی مساوی ہیں۔ مَیں نے دونوں کے دروازے اپنے اوپر بند کیے۔ مسٹر اور مولوی دونوں میرے کام کے نہیں تھے۔ مَیں کچھ اور بننا چاہتا تھا۔ کیا بننا چاہتا تھا۔ یہ میں خود نہیں جانتا تھا مگر کچھ بننا ضرور چاہتا تھا اور اس کا منتظر تھا کہ یہ دریافت کر لوں کہ کیا چاہتا ہوں۔ یہ زمانہ انتظار کا زمانہ تھا۔ انتظار اور کیسا انتظار جس کے خاتمہ کی مدت نا معلوم تھی۔ یہ بھی یقین نہیں تھا کہ وہ کبھی ختم ہو گا یا نہیں۔ اور ختم ہو گا تو کیا لائے گا۔ لائے گا یا نہیں لائے گا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ مگر میں انتظار کرنے بیٹھ گیا۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سر سید انگریز کے اقتدار کا سمبل ہیں۔ مگر انگریزوں کو سر سید نے دعوت نامہ بھیج کر نہیں بلایا تھا۔ انگریز خود آئے تھے اور توپوں اور بندوقوں کی زد پر آئے تھے۔ سر سید نے صرف یہ دیکھا کہ وہ آ گئے ہیں تو ان کے آنے کو تسلیم کیا اور گردن جھکا دی۔

خدا پروفیسر کرار حسین اور محمد حسن عسکری کو جزائے خیر دے۔ جب میرے چاروں طرف اندھیرا تھا تو یہ دونوں چراغ روشن تھے بلکہ میرے لیے آفتاب و ماہتاب تھے۔ میرے شب و روز انہیں کے سہارے بسر ہوتے تھے۔ یہ میری روشنی تھے۔ میری امید تھے۔ میری روح کا آسرا تھے۔ انتظار سے تھک کر جاتا تھا تو ان کی طرف۔ زخم کھا کر بھاگتا تھا تو ان کی طرف۔ مایوس ہو کر پلٹتا تھا تو ان کی طرف اور کب ایسا ہوا کہ ان کے قدموں کا فیض نہیں پہنچا۔ یہ ہر زخم کا مرہم اور ہر مایوسی کا تریاق۔ ان کی خاموشی اور گویائی دونوں نے کیمیا کا کام کیا۔ بولتے تو جانے کتنے دروازے کھل جاتے اور خاموش رہتے تو حیات افروز قوتوں کا پر اسرار سناٹا میری روح پر چھا جاتا۔ آتش نے کہا کہ سفر شرط ہے ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے۔ مجھے ہزار ہا کا تو تجربہ نہیں مگر یہ دو چھتنار درخت میں نے ضرور دیکھے۔ ان کی چھائوں میں بیٹھا۔ ان کے پھل پات کھا کر پیٹ بھرا اور ان کی ٹیک لگا کر کمر سیدھی کی۔ خدا دونوں پر رحمت کرے۔

ہاں تو مَیں سر سید سے اپنے اختلاف کا ذکر کر رہا تھا۔ مَیں نے کہا مَیں مُردوں سے اختلاف نہیں کرتا۔ میری لڑائی زندوں سے ہے اور زندہ قوت کے خلاف زندہ قوت استعمال کرنی پڑتی ہے۔ میں نے حالی پر شدید حملے کیے۔ حالی کو ضرب لگتی ہے تو سر سید کا تخت اقتدار بھی کھسکنے لگتا ہے۔ حالی آخرت ہی میں سر سید کے لیے وسیلۂ نجات نہیں بنیں گے دنیا میں بھی ذریعہ شفاعت ہیں۔ لیکن سر سید کے دوسرے مخالفوں، دشمنوں اور نکتہ چینوں سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ گو کبھی بظاہر میرا اور ان کا اعتراض ایک معلوم ہوتا ہے۔ وہ تو سر سید کو مغرب کی برتری کا مبلغ سمجھتے ہیں۔ مگر مغرب کی برتری سر سید نے نہیں پیدا کی تھی۔ انہوں نے صرف برتری دیکھی تھی اور برتری کو تسلیم کیا تھا۔ صرف شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھ گئے تھے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سر سید انگریز کے اقتدار کا سمبل ہیں۔ مگر انگریزوں کو سر سید نے دعوت نامہ بھیج کر نہیں بلایا تھا۔ انگریز خود آئے تھے۔ اور توپوں اور بندوقوں کی زد پر آئے تھے۔ سر سید نے صرف یہ دیکھا کہ وہ آ گئے ہیں تو ان کے آنے کو تسلیم کیا اور گردن جھکا دی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سر سید گردن نہ جھکاتے تو لڑائی فتح ہو جاتی۔ مگر گردن نہ جھکانے والے ایک دو نہیں فوج کی فوج ہے اور سب کا حشر ہمارے سامنے ہے۔ سر سید گردن نہ جھکاتے تو انہی میں سے ایک ہوتے۔ غالباً قید فرنگ اور شہادت سر سید پر اتنی گراں بھی نہ ہوتی۔ سر سید تھے اور سید شہادت کو کھیل سمجھتے ہیں۔ مگر سر سید گردن نہ جھکاتے تو خواہ شہید ہو جاتے فتح کا وہ راستہ نہ نکلتا جو بعد میں پیدا ہوا۔ وہ حسین کے مقلد نہیں بنے مگر کون کہہ سکتا ہے کہ تقلید حسن بھی ان کے حصے میں نہیں آئی۔ کچھ لوگ اتنے خبیث اور دنی الطبع ہیں کہ سر سید کو ایجنٹ، بد نیت اور مفاد پرست تک ثابت کرتے ہیں۔ مَیں ان سب سے اپنی برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ اور اگر میری کسی بات سے ایسے خیالات کی تائید ہوتی ہے تو اس سے بھی بری الذّمہ ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ میرے اختلاف کی سطح کوئی اور ہے اور وہ مجھ سے رفتہ رفتہ منکشف ہوئی ہے۔ سر سید بہت بڑے بوتے کا آدمی تھا اور سر سید نے جو کر دیا وہ کسی سے نہ ہو سکا۔ اکبر بھی ساری زندگی مخالفت کرنے کے باوجود مان گئے کہ سید کام کرتا تھا۔ کام کے طریقے، ذرائع اور حدود پر مجھے اعتراض ہے۔ کام کے مقصد اور نیت پر نہیں وہ مسلمانوں کے سچے بہی خواہ تھے اسلام کے حقیقی مصدق تھے۔ البتہ ان کے عمل نے ان کی نیت اور مقصد سے آزاد ہو کر ایسے نتائج پیدا کئے جن سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ مجھے اختلاف ہے بھی مگر یہ اختلاف بھی دوسروں سے مختلف ہے۔ ایک وقت تھا جب ہمیں ایسے نتائج کی ضرورت تھی۔ ہم نے ان نتائج سے کام لیا اور زندہ رہے۔ زندہ رہے اور جہاد کیا۔ جہاد کیا اور انگریزوں کو نکال بھگایا۔ روح ہندوستان اس جنگ میں ہمیشہ سر سید کے پیدا کیے ہوئے سپاہیوں کی ممنون منت رہے گی۔ میرا اختلاف یہ نہیں ہے کہ وہ نتائج ایک وقت میں کیوں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدا ہونا تاریخی تقاضا تھا۔ اختلاف یہ ہے کہ وہ نتائج اب بھی کیوں برقرار ہیں۔ اب ہم زندگی کی نئی منزلوں میں ہیں۔ ہمیں اب ایک دوسرے طریقہ کار اور حکمت کی ضرورت ہے ہم اب بالکل دوسرے نتائج پیدا کرنے چاہتے ہیں۔ چنانچہ سر سید جو کبھی ہمارے لیے سنگ میل تھے۔ اب سنگِ راہ ہیں۔ اب وہ راستہ نہیں دکھاتے گمراہ کرتے ہیں۔ منزل رسی میں مدد نہیں دیتے۔ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ تاریخ کا تقاضا ہے کہ اس سنگ راہ کو اکھاڑ پھینکا جائے اس کی اپنی وقتی اور تاریخی اہمیت اور ضرورت کا اعتراف کر کے اس کو ٹھوکر مار دی جائے اور آگے بڑھا جائے۔ سر سید زندہ ہوتے تو مجھے حق الیقین ہے کہ جو لوگ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی تائید کرتے۔ شاید ان میں سے پھر کوئی مسدس مدو جزر اسلام قسم کی کوئی چیز لکھ ڈالتا اور سر سید اسے بھی اپنا وسیلہ نجات بنا لیتے۔

میں تو سر سید کو سلام کرنے آیا ہوں۔ مگر یہ سلامِ رخصت بھی ہے۔ سر سید کو سلام رخصت کے بعد شاید ہم پھر انہیں سلامِ محبت کرنے کے لیے بھی آئیں گے۔ مگر یہ اس وقت ہو گا جب سر سید کی پیدا کردہ دنیا نیا پیکر اختیار کرے گی۔

مَیں سر سید کو گالی دینے نہیں آیا۔ میں تو سر سید کو سلام کرنے آیا ہوں۔ مگر یہ سلامِ رخصت بھی ہے۔ سر سید کو سلام رخصت کے بعد شاید ہم پھر انہیں سلامِ محبت کرنے کے لیے بھی آئیں گے۔ مگر یہ اس وقت ہو گا جب سر سید کی پیدا کردہ دنیا نیا پیکر اختیار کرے گی۔ جب ہم ان تنظیموں، اداروں اور جمیعتوں کو پاش پاش کر دیں گے جو سر سید کے عمل نے پیدا کیے ہیں اور جو ہمارے راستے میں حائل ہیں۔

مختصراً جب سر سید کا حوض خشک ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ایک بار پھر ابلنے کے لیے، دیوبند کو بھی اس کی ضرورت ہے۔ جب یہ دونوں ملیں گے تو دریا بن جائیں گے اور کیسا دریا کہ جس کا سوتا حوض کوثر سے پھوٹتا ہے۔ مجھے یقین ہے اور خدا اس یقین کو پختہ تر کر دے کہ ہمارے اس کام میں خود روح سر سید ہمارے لیے دست بدعا ہے۔


دانش پہ سلیم احمد کی دیگر تحاریر ان لنکس پہ ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

آزادیِء رائے کو بھونکنے دو: سلیم احمد کی یادگار تحریر

تہذیب کا جن: سلیم احمد

اسلامی زندگی بمعہ چھہ رنگین ناچوں کے: سلیم احمد

قطب شمالی: سلیم احمد (خاکہ) حصہ اول

کاغذ کے سپاہیوں سے لشکر بنانے والا: سلیم احمد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: