اقبال کا معجزہ —– سلیم احمد

0
  • 119
    Shares

محمد حسن عسکری نے کسی جگہ ”مسجدِ قرطبہ“ کو اردو شاعری کا تاج محل کہا ہے۔ تاج محل سے میرا ذہن خود بہ خود دلّی کی شاہی مسجد کی طرف جاتاہے اور یاد آتا ہے کہ اقبال نے اسے مسجدوں کی دُلہن کہا تھا۔ یہ مسجد واقعی ہے بھی دُلہن کی طرح۔ نفیس، نازک، خوب صورت۔ لیکن اس میں وہ صلابت، سنگینی اور پختگی نہیں جو مسجدِ قرطبہ میں پائی جاتی ہے۔ کیا یہ دو قوموں کے مزاج کا فرق ہے؟ میں نے دلّی، آگرہ اور فتح پور سیکری میں شاہی تعمیرات دیکھی ہیں۔ مجھے عہدِ غلاماں کے بعض بچے کھچے آثار میں جو مردانہ قوت نظر آئی، وہ عہدِ شاہجہانی کی تعمیرات میں کم ہوتی چلی گئی ہے۔ یہاں تک کہ خود مغلیہ دور کی ابتدا کے آثار بعد کی تعمیرات سے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً ہمایوں کے مقبرے میں وہ نفاست نہیں ہے، جو عہدِ شاہجہانی کی تعمیرات میں پیدا ہوگئی ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان جیسے جیسے ہندوستان کی مٹی میں ملتے گئے، کم زور ہوتے گئے؟ یا ہم یہ کہیں کہان میں قوت کے ساتھ حسن کا اضافہ ہوگیا؟ سلطنتِ دہلی کے دور تک مسلمان ہندوستان میں پوری طرح جمے نہیں ہیں۔ ابھی باہر سے آمدورفت بھی لگی ہوئی ہے اور اندر سے جڑیں بھی مضبوط نہیں ہوئی ہیں۔ لیکن بعد کے ادوار میں وہ یہاں زمین پکڑنے لگتے ہیں اور عہدِ مغلیہ میں وہ واضح طور پر ہندوستانی بن جاتے ہیں۔ عہدِ مغلیہ کا آغاز بابر سے ہوتا ہے۔ اب بابر کی شخصیت کو دیکھیے تو وہ قوت اور حسن کے توازن کا ایک دل کش نمونہ ہے۔ ایک طرف وہ ایسا فاتح ہے جس نے صرف بارہ ہزار سپاہیوں سے ابراہیم لودھی اور رانا سانگا کے ٹڈی دل لشکر کو شکست دی اور ایک عظیم الشان سلطنت کا بانی بنا۔ دوسری طرف وہ شاعر ہے اور ترکی عروض پر رسالہ لکھتا ہے۔ اس کی شخصیت کی قوت اور خوب صورتی کا داخلی اندازہ لگانا ہو تو اس کی ’تزک‘ کا مطالعہ کیجیے جس کے اسلوب میں ایک فاتح کا کردار ایک شاعر کے حسنِ طبیعت سے گلے ملتا نظر آتا ہے۔ جسمانی قوت میں اس کا یہ حال ہے کہ اس نے ہندوستان کے سارے دریا خود پیر کر پار کیے اور قلعے کی دیوار پر دو آدمیوں کو بغل میں دبا کر دوڑ سکتا ہے۔ لیکن دل کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ بیٹے کی بیماری برداشت نہیں کرسکتا اور اس کو بچانے کے لیے اپنی جان صدقے کے طور پر دے دیتا ہے۔ بابر فاتح میں  شاعر کی ایک کم زوری بھی ہے— شراب نوشی۔ یہ کم زوری اس لیے ہے کہ بابر خود اسے کم زوری سمجھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رانا سانگا کے مقابلے پر اسے فتح اُس وقت نصیب ہوئی جب اس نے اپنی فوج کے سامنے آخری تقریر کرکے جام توڑ دیا اور کبھی شراب نہ پینے کا عہد کیا۔

ذہن خود بخود بھٹکتا ہوا محمد شاہ رنگیلے سے سقوطِ ڈھاکہ تک جاتا ہے اور نہ جانے کیسے کیسے کردار یاد آنے لگتے ہیں۔ مغلیہ خاندان میں بابر کی یہ کم زوری عہد بہ عہد چلتی ہے۔ ہمایوں شراب نہیں پیتا لیکن افیون کھاتا ہے۔ ویسے بھی وہ ایک کم زور شخصیت کا مالک ہے جس کی واحد خوبی یہ ہے کہ رحم اور حسنِ سلوک میں بابر کے حسنِ طبیعت کا نمونہ ہے۔ اکبر میں بابر کی ساری خوبیاں موجود ہیں۔ وہ فاتح ہے، شہنشاہ ہے، اکبرِ اعظم ہے، لیکن اس کے دل کو دیکھو تو شاعرانہ نزاکت سے دھڑک رہا ہے۔ وہ ہندوستان میں مغلیہ خون کا شاہکار ہے اور وہ پہلا ہندوستانی ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے حقیقی مسائل کا سب سے زیادہ شعور رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مسئلے کے حل کا جو طریقہ وہ اختیار کرتا ہے، اس سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہے اور ان میں بھی شامل ہوں۔ پھر اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ اکبر کی پالیسی کا سنگِ بنیاد ہمایوں نے رکھا تھا اور بسترِ مرگ پر اکبر کو نصیحت کی تھی کہ ترکوں کو آپس میں لڑنے دو اور سلطنت کی بنیاد مقامی لوگوں کی مدد سے استوار کرو۔

جہانگیر مغلیہ خاندان کے داخلی توازن میں ایک نمایاں عدم توازن کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس پر بابری شخصیت کی کم زوری کا غلبہ ہے۔ باپ سے بغاوت، شراب نوشی کی کثرت اور عشق و عاشقی کے وہ افسانے جو اس سے منسوب ہیں، اس کی شخصیت کو ایک افسانہ تو بناتے ہیں لیکن اس میں فاتحانہ قوت، مردانہ صلابت کی نمایاں کمی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اسے بابر اور اکبر کا وہ دل بھی نہیں ملا جو رحم اور حسنِ سلوک کے جذبات سے دھڑکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر وہ ایک ایسی سخت دلی کا مظاہرہ کرتا ہے جو اس سے پہلے خاندانِ مغلیہ میں ظاہر نہیں ہوئی۔ وہ شیر افگن اور ابوالفضل کو قتل کراتا ہے۔ اپنے بیٹے کو اندھا کرا دیتا ہے اور اپنے دودھ شریک بھائی کو قلعے کی دیوار سے سر کے بل پھنکوا کر مروا ڈالتا ہے۔ لیکن اس سنگ دلی کے ساتھ ”دل کی کم زوری“ بھی اندر ہی اندر کہیں موجود ہے۔ کشمیر میں ایک مزدور پہاڑی سے گر گیا، لاش گوشت کا ایک لوتھڑا بن گئی۔ لوگ اس لوتھڑے کو کپڑے میں باندھ کر جہانگیر کے سامنے لے آئے۔ جہانگیر نے اس لوتھڑے کو دیکھا تو مزاج مکدر ہوگیا۔ اتنا اثر لیا کہ بیمار ہوگیا اور اسی بیماری میں چل بسا۔ شاہجہاں ایک بار پھر بابری توازن کا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن اب کے اس فرق کے ساتھ کہ بابر کی شخصیت کا جزوِ غالب اس کی قوت ہے۔

شاہجہاں کی شخصیت کا جزوِ غالب حسن ہے۔ اب مسلمان ہندوستان میں پورے طور پر جم چکے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی طاقتیں ایک دوسرے سے ہم آہنگی میں ایک ایسا توازن حاصل کرچکی ہیں جس میں مقامی اور غیرمقامی کی تفریق گویا ایک وحدت کا حصہ بن چکی ہے۔ ایرانی اور ترک عناصر، جن کی پیکار عہدِ جہانگیری میں سلطنتِ مغلیہ کے لیے ایک نمایاں خطرہ تھی، اب ایک ہم آہنگ مرکب کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ یہ دور خارجی فتوحات کا دور نہیں ہے مگر اس کی داخلی فتوحات اتنی بڑی ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی عظمت کی زندہ نشانیاں اسی دور کی دین ہیں۔ اورنگ زیب عالم گیر نمایاں طور پر پھر خارجی اور داخلی پیکار کا اظہار کرتا ہے۔ مقامی عناصر کی بغاوتیں دوبارہ شروع ہوجاتی ہیں اور اپنے اثر و نفوذ کی بنا پر خطرناک صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ ایرانی اور ترکی افتراق پھر سر اُٹھاتا ہے اور خطرے پر خطرے کا اضافہ کرتا ہے۔

اورنگ زیب کی شخصیت داخلی طور پر بھی ایک پیکار کا شکار ہے۔ وہ شاعر ہے، ادیب ہے، شاعری کا ایک پرستار ہے کہ بیدل کا دیوان سفر میں بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے، لیکن اس کی یہ خوبیاں ایک شہنشاہ کی حیثیت سے اس کی کم زوریاں بن سکتی ہیں۔ وہ خارجی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی شخصیت کے ان عناصر کو دباتا ہے اور اس شدت کے ساتھ کہ اس کی خارجی تصویر اس کی داخلی تصویر سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ مجھے اورنگ زیب کو دیکھ کر ایک ایسے سپاہی کا خیال آتا ہے جو اندر سے زخموں سے چور چور ہو لیکن انھیں چھپانے کے لیے زرہ پوش ہوگیا ہو اور لوگ اس کی زرہ کو دیکھ کر اس کے زخموں کا اندازہ نہ لگا سکتے ہوں۔ اورنگ زیب میں بابر کا شاعر اور شہنشاہ مساوی قوت رکھتے ہیں۔ مگر اورنگ زیب کے حالات کا تقاضا ہے کہ شاعر کو قتل کیا جائے اور شہنشاہ کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ اورنگ زیب کا المیہ بھی ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کا بھی۔ اورنگ زیب ہندوستان میں سلطنتِ مغلیہ اور مسلمانوں کی قوت کے تحفظ کی اس پیکار کا آخری سپاہی ہے جو اس کی وفات کے ساتھ ہی مسلمانوں کی شکست کو ظاہر کرنے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایک شدید انتشار اندر اور باہر سے انھیں توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ سلطنتِ مغلیہ کو بھی اور مسلمانوں کے اقتدار کو بھی۔ اورنگ زیب اس انتشار کا المیہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہمارے دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہندی مسلمان ہندوستان میں کم زور کتنے ہی ہوگئے ہوں مٹے بالکل نہیں۔ جب کہ عرب اندلس میں فنا ہوگئے۔ یہ فرق کیوں ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کی بقا کا کیا راز ہے؟ یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے۔

آہستہ آہستہ ہم اقبال کے تجربے میں ڈوب جاتے ہیں۔ ان کے محسوسات کی گہری زندگی ہمارے رگ و پے میں اُترنے لگتی ہے۔ اب ہم اقبال کے خیالات سے واقف نہیں ہوتے، اب ہم اقبال کے دل میں اُتر جاتے ہیں اور اس کی گہرائیوں میں ہمیں ایک ایسی زندگی محسوس ہونے لگتی ہے جو اس سے پہلے ہم نے محسوس نہیں کی تھی۔ ہم اپنے وجود میں زیادہ حساس، زیادہ مضطرب، زیادہ زندہ ہوجاتے ہیں۔ اب نظم کا آہنگ ہمارے لہو کا آہنگ بن جاتا ہے اور نظم ہمارے سر سے نیچے اُتر کر ہمارے پورے وجود کو پگھلاتی ہوئی ہمارے تلووں میں گونجنے لگتی ہے۔

معاف کیجیے گا، بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ذکر تھا شاہی مسجد اور مسجدِ قرطبہ کے فرق کا۔ مسجدِ قرطبہ عربوں کی تخلیق ہے، شاہی مسجد ہندی مسلمانوں کی۔ مسجدِ قرطبہ میں صلابت اور قوت کا وہ اظہار ہے جو اقبال کو حد درجہ پسند ہے لیکن شاہی مسجد ہندی مسلمانوں کی اُس سادہ مردانگی کا اظہار ہے جس میں قوت حسن سے گلے مل رہی ہے۔ اقبال نہ شاہی مسجد سے متاثر ہوتے ہیں، نہ میر کی شاعری سے اور شاید میر امن کی نثر بھی ان کے دل کو نہیں چھوتی، کیوںکہ اس میں انھیں وہ چیز نہیں ملتی یا اُس درجے میں نہیں ملتی جس کی طرف ان کا دل کھنچتا، یعنی وہ قوت جو اپنے اندر نفاست کے بجائے صلابت کا انداز رکھتی ہو۔ بہرحال اقبال کی ”مسجدِ قرطبہ“ ایک ہندی کی طرف سے عرب مسلمانوں کے لیے عقیدت اور محبت کے ان جذبات کی تخلیق ہے جو ہندی مسلمانوں کے لیے عقیدت اور محبت کے ان جذبات کی تخلیق ہے جو ہندی مسلمانوں کے دل کو عربوں کے لیے ہمیشہ آغوشِ عاشق کی طرح کشادہ رکھتے ہیں۔ ”مسجدِ قرطبہ“ کا مرکزی موضوع کچھ لوگوں کے نزدیک زمانہ ہے، کچھ لوگوں کے نزدیک عشق اور کچھ لوگوں کے نزدیک موت۔ لیکن میرے نزدیک ”مسجدِ قرطبہ“ کا موضوع وہ حیاتِ شاعرانہ ہے جو معجزہ ہائے ہنر میں اپنی نمود کرتی ہے۔ اس حیاتِ شاعرانہ کے دو مرکزہیں۔ ایک داخلی دوسرا خارجی۔ ”مسجدِ قرطبہ“ میں اقبال داخلی مرکز کو ”قلب“ کہتے ہیں اور خارجی مرکز علامتی طور پر مسجدِ قرطبہ ہے۔ یعنی وہ معجزہ¿ فن جو قلب سے خارج میں نمود کے لیے رنگ و چنگ، خشت و سنگ اور حرف و صوت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ حیاتِ شاعرانہ انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ انفرادی حیاتِ شاعرانہ فن کے شخصی نمونوں میں اپنا اظہار کرتی ہے، جب کہ اجتماعی حیاتِ شاعرانہ سے اجتماعی فنی کارنامے ظہور میں آتے ہیں اور اس کا اظہار بیشتر قوموں کے فنِ تعمیر میں ہوتا ہے۔ اجتماعی حیاتِ شاعرانہ کا ایک اور مظہر قوموں کی تاریخ ہے جس میں وہ اقدار کی تخلیق کرتی ہیں اور انفرادی قلب کی طرح ان کا بھی ایک داخلی مرکزہے۔ ذکر چونکہ مسلمانوں کا ہے، اس لیے ہم کہیں گے کہ مسلمانوں کے اجتماعی قلب کی علامت حرمِ کعبہ ہے جو مسلمانوں کے نزدیک قلبِ عالم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب ”مسجدِ قرطبہ“ کا موضوع اپنے داخلی تقاضوں سے ایک سہ ابعادیکائنات کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اس کائنات کا ایک بُعد قلب ہے، دوسرا بُعد مسجدِ قرطبہ، تیسرا بُعد حرمِ کعبہ۔ اقبال کی نظم ”مسجدِ قرطبہ“ اسی کائنات کی لفظی صورت گری ہے۔

پہلے حیاتِ شاعرانہ کے داخلی مرکز کو دیکھیے۔ یہ قلب ہے۔ حیاتِ شاعرانہ کا وجود قلب کے اعماق میں ہے، جہاں وہ خونِ جگر سے ہم آمیز ہوکر معجزہ فن کی تخلیق کرتی ہے۔ یہ معجزہ جب حرف میں اپنا اظہار کرتا ہے تو شاعری بن جاتا ہے، صوت میں اپنا اظہار کرتا ہے تو موسیقی بن جاتا ہے، رنگ میں اپنا اظہار کرتا ہے تو مصوری بن جاتا ہے اور سنگ و خشت میں اپنا اظہار کرتا ہے تو فنِ تعمیر بن جاتا ہے۔ خونِ جگر عشق سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ معجزہ¿ فن کی نمود عشق کے ذریعے فن کار کے قلب سے ہوتی ہے۔ معجزے سچے بھی ہوتے ہیں اور جھوٹے بھی۔ اقبال کے نزدیک سچے معجزے کی ایک پہچان ہے۔ وہی جو اقبال کی شاعرانہ شخصیت کا مرکزی موضوع ہے، موت کے مقابلے پر دوام۔ زمانے کی حقیقت تغیر ہے، اس لیے وہ موت کا نمائندہ ہے۔ اس کا کام کائنات کی ہر چیز کو پرکھنا ہے۔ یہ دیکھنا ہے کہ اپنے وجود میں وہ سچی ہے یا جھوٹی، یعنی موت کا مقابلہ کرسکتی ہے یا نہیں۔ اس لیے اقبال عشق کو زمانے کے مقابلے پر رکھتے ہیں اور دونوں کی قوتوں کا موازنہ کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق ایک ایسی قوت ہے جو زمانے کو شکست دے سکتی ہے۔ یعنی موت پر قابو پاسکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کے دو ثبوت ہیں؛ ایک خود ان کی شاعری اور دوسرا مسجدِ قرطبہ۔ اقبال دونوں کا مقابلہ کرتے ہیں:

تیری فضا دل فروز، میری نوا سینہ سوز
تجھ سے دلوں کا حضور، مجھ سے دلوں کی کشود

اور اس طرح شاید اقبال یہ کہتے ہیں کہ اگر عربوں نے مسجدِ قرطبہ کی تخلیق کرکے اپنی صداقتِ عشق یا صداقتِ حیات کو ظاہر کیا ہے تو ہندی مسلمان بھی ان سے کم نہیں ہیں۔ ہندی مسلمانوں نے اقبال کی شاعری پیدا کی ہے۔ نظم میں اچانک ”کافر ہندی“ کا لفظ اتفاقیہ نہیں آیا۔ یہ اتنا معنی خیز ہے کہ نظم کی پوری معنویت کو متاثر کرتا ہے۔

اقبال فن کار کے قلب کا تقابل عرشِ معلی سے کرتے ہیں۔ عرشِ معلی اس کائنات کا چوتھا بُعد ہے جو ماورائے کائنات ہے۔ عرشِ معلی لامحدود قوت اور دوامِ حیات کا مظہر ہے لیکن فن کار کا قلب بھی اس سے کم نہیں ہے۔ یہ بھی اس قوت و حیات کا مظہر ہے جو زمانے اور موت سے شکست نہیں کھاتی۔ اقبال اس قلب کو ذاتی تجربے سے جانتے ہیں اور میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ”مسجدِ قرطبہ“ جیسی نظم، جو بظاہر اتنی معروضی معلوم ہوتی ہے، اس کی تخلیق اقبال کے داخلی تجربے سے ہوئی ہے۔

حیاتِ شاعرانہ کا خارجی مرکز علامتی طور پر مسجدِ قرطبہ ہے۔ اس لیے یہ مسلمانوں کی حیاتِ شاعرانہ کے داخلی مرکز یعنی قلب کا خارجی اظہار ہے۔ ”مسجدِ قرطبہ“ میں جو چیز ظاہر ہوتی ہے، وہ مسلمانوں کی وہ داخلی زندگی ہے جس سے مسلمان تاریخ میں ابدیت حاصل کرتے ہیں:

تجھ سے ہوا آشکار بندہِ مومن کا راز
اس کے دنوں کی تپش، اس کی شبوں کا گداز
اس کا مقامِ بلند، اس کا خیالِ عظیم
اس کا سرور، اس کا شوق، اس کا نیاز، اس کا ناز

مسلمانوں کی یہ داخلی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے۔ اس کے مقابلے پر خارجی کائنات ”وہم و طلسم و مجاز“ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔

اب فن کار کے قلب اور مسجدِ قرطبہ کے مقابلے پر ایک تیسری علامت حرمِ کعبہ ہے جو مسلمانوں کے اجتماعی قلب کی علامت ہے۔ اقبال مسجدِ قرطبہ کا رشتہ حرمِ کعبہ سے جوڑتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کی نظریں مسلمانوں کے اجتماعی تاریخی عمل کو دیکھنے لگتی ہیں۔ مسلمانوں کا اجتماعی تاریخی عمل ان کے اجتماعی قلب سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ حرمِ کعبہ کی دین ہے۔ مسلمانوں کی وہ اجتماعی زندگی، جو اقدار کی تخلیق کرتی ہے، اس قلب سے وابستہ ہے اور تاریخ میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ اس زندگی کے پہلے علم بردار عرب ہیں:

آہ وہ مردانِ حق، وہ عربی شہسوار
حاملِ خُلقِ عظیم، صاحبِ صدق و یقیں
جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمزِ غریب
سلطنتِ اہلِ دل فقر ہے، شاہی نہیں
جن کی نگاہوں نے کی تربیتِ شرق و غرب
ظلمتِ یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں

مسلمانوں کا اجتماعی تاریخی عمل حرمِ کعبہ سے ان کی وابستگی کا ثمر ہے اور یہ عمل انسانیت کے لیے خیر ثابت ہوا ہے۔ اقبال اس کے ثبوت کے لیے خود اندلس کو پیش کرتے ہیں جہاں مسلمانوں کے لہو کا فیض آج بھی جاری ہے، جب کہ خود مسلمان اندلس سے ختم ہوچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اقبال کو یہ تلخ حقیقت یاد آجاتی ہے کہ مسلمانوں کا اجتماعی تاریخی عمل، جو انسانیت کے لیے خیر تھا، ہر جگہ جمود کا شکار ہوچکا ہے۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں، زوال اور فنا سے دوچار ہیں۔ ان کی حکومتیں ختم ہوچکی ہیں۔ جو باقی ہیں وہ موت کے گھاٹ اُتر رہی ہیں۔ محکومی اور غَامی نے ان کی روحوں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ یہاں تک کہ خود مسجدِ قرطبہ، جو مسلمانوں کے اجتماعی تاریخی عمل کی ایک علامت ہے، صدیوں سے ویران اور غیرآباد ہے اور اس کی فضائیں بانگِ اذاں کو ترس رہی ہیں۔

میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ساتھ اقبال کو اپنی ذات بھی یاد آتی ہے یا نہیں، لیکن نظم کے آخر میں وہ عہدِ شباب کو ضرور کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی اجتماعی حالت کے پس منظر میں اپنی ذاتی حالت کو بھی دیکھا ہے؟ وہ بھی اب بوڑھے ہو رہے ہیں۔ بوڑھے، کم زور اور بیمار۔ اقبال کو یاد آتا ہے کہ زمانہ منقلب ہے اور حیات کو موت سے اور موت کو حیات سے بدل رہا ہے۔ زمانے کےانقلابات قوموں کو بدل رہے ہیں۔ جرمنی بدل گیا، فرانس بدل گیا، اٹلی بدل گیا۔ وہ قومیں جو زوال اور موت کا شکار تھیں، ازسرِنو نوجوان ہو رہی ہیں، زندہ ہو رہی ہیں۔ اقبال اس تبدیلی کو بڑی اُمید کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ زمانے کی یہ تبدیلیاں مسلمانوں کو بھی دوبارہ زندہ کردیں؟ قومیں کس چیز سے زندہ ہوتی ہیں؟ اپنے قلب و روح کے اضطراب سے۔ جس طرح قطرہ خونِ جگر معجزہ ہنر کی تخلیق کرتا ہے، اسی طرح قومیں بھی قطرہ خونِ جگر کی شورش سے بیدار ہوتی ہیں۔ اقبال اپنے دل میں دیکھتے ہیں۔ ان کے دل کے اضطراب نے ان کی شاعری کو پیدا کیا ہے۔ کیا یہی اضطراب اجتماعی طور پر روحِ مسلماں میں موجود نہںی ہے؟ نظم کے آخری بند میں اس خواب کا ذکر ہے جب عالمِ نو پردہ تقدیر سے ظہور میں آئے گا اور مسلمان حیاتِ نو حاصل کرلیں گے۔ مسلمان اور ان کے ساتھ شاید اقبال بھی۔

نظم کا آغاز زمانے کے بارے میں چند خیالات سے ہوا تھا۔ ہم اسے پہلے ذہن کے ذریعے پڑھنا شروع کردیتے ہیں، لیکن نظم جوں جوں آگے بڑھتی ہے، اس میں جذبہ، ایک گہرا جذبہ، شامل ہوتا جاتا ہے۔ پہلا بند ختم ہوتے ہوتے ہم اس جذبے کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ اب خیالات، خیالات نہیں رہتے، اب وہ صرف ذہن کی چیز نہیں ہیں، اب ان میں اقبال کا دل بھی شامل ہوگیا ہے۔ ہمیں اس دل کی دھڑکن صاف سنائی دینے لگتی ہے اور ہم اس کی دھڑکن کے نغمے سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ وہ مستی جو اقبال کے دل میں ہے اور نظم کی تخلیق کا باعث ہے، ہمارے دلوں میں بھی سرایت کرنے لگتی ہے۔ نظم کی نغمگی اور بحر کا آہنگ اس مستی کو بڑھا رہا ہے۔ اس کے ذریعے ہم اقبال کے تجربے میں زیادہ سے زیادہ شریک ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ طبلِ جنگ کی طرح ہے جس کی آواز سے مست ہوکر لوگ جان دینے پر تیار ہوجاتے ہیں، یا اُس حُدی خواں کی طرح جس کی لَے پر جنگ میں بھٹکے ہوئے اونٹ بھی کارواں میں واپس آجاتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: علامہ اقبال اور آج کی عرب دُنیا — پروفیسر فتح محمد ملک

 

آہستہ آہستہ ہم اقبال کے تجربے میں ڈوب جاتے ہیں۔ ان کے محسوسات کی گہری زندگی ہمارے رگ و پے میں اُترنے لگتی ہے۔ اب ہم اقبال کے خیالات سے واقف نہیں ہوتے، اب ہم اقبال کے دل میں اُتر جاتے ہیں اور اس کی گہرائیوں میں ہمیں ایک ایسی زندگی محسوس ہونے لگتی ہے جو اس سے پہلے ہم نے محسوس نہیں کی تھی۔ ہم اپنے وجود میں زیادہ حساس، زیادہ مضطرب، زیادہ زندہ ہوجاتے ہیں۔ اب نظم کا آہنگ ہمارے لہو کا آہنگ بن جاتا ہے اور نظم ہمارے سر سے نیچے اُتر کر ہمارے پورے وجود کو پگھلاتی ہوئی ہمارے تلووں میں گونجنے لگتی ہے۔ ہم نظم کے سامنے برہنہ ہوجاتے ہیں، جس طرح بچہ اپنی ماں کے سامنے برہنہ ہوجاتا ہے اور روحِ شاعری ہمارے وجود کو نہلانے لگتی ہے۔ ہمارے وجود کی ساری کثافت دُھل جاتی ہے اور ہم ایک دھڑکتے ہوئے دل کی طرح اقبال کے تجربے سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔ اور جب اقبال کی نظم ختم ہوتی ہے اور ہم ہوش میں آتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے— ہم اسے بیان کرسکیں یا نہ کرسکیں، کہہ سکیں یا نہ کہہ سکیں— کہ ابدیت کی تاریخ میں ایک معجزہ فن کا اضافہ ہوچکا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: