سلیم احمد بحیثیتِ نقاد ——- فیضان احمد ملک

0
  • 42
    Shares

اردو ادب میں تنقید کے آثار ابتداء سے ہی ملتے ہیں جس کا اندازہ اردو میں موجود تخلیقی ادب سے لگایا جاسکتا ہے کیونکہ اعلیٰ ادب اچھے تنقیدی شعور کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ البتہ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں تنقید کی روایت کا آغاز باضابطہ طور پر حالیؔ سے ہوتا ہے۔ حالیؔ اور ان کے معاصرین کے زیر اثر اردو تنقید نہ صرف یہ کہ نئی روشنی سے ہم کنار ہوئی بلکہ نقد کے نئے پیمانے بھی میسر آئے۔ حالیؔ ، شبلی، امداد امام اثر، کلیم الدین احمد، احتشام حسین او ر محمد حسن عسکری کے بعد جن نئے تنقید نگاروں نے اردو تنقید کو اپنی تنقیدی صلاحیتوں سے سب سے زیادہ متاثر کیا، ان میں سلیم احمد کافی اہم ہیں۔

سلیم احمد (۱۹۲۷ء۔۱۹۸۳ء) نے ڈرامہ نگار، کالم نویس، شاعر، صحافی اور نقاد کی حیثیت سے اپنے دور کو کافی متاثر کیا۔ اگر چہ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ایک شاعر کی حیثیت سے کیا ہے مگر ان کی اول و آخر اہمیت تنقید نگار کی حیثیت سے ہے۔ ان کی ناقدانہ بصیرت نے انہیں اردو کے قدآور ناقدین میں لا کھڑا کیا ہے ان کی تنقید مغرب کی ادبی روایت سے بھی سیراب ہے او رمشرق کی ادبی روایات اور فکر کی آگہی سے بھی مالا مال ہے۔ گویا ان کی تحریروں میں مغرب اور مشرق کی ادبی بصیرت نے شیر وشکر ہوکر ایک نئی تنقیدی بصارت کو جنم دیا ہے۔ جس طرح حالی نے اردو تنقید کو ایک نئی صورت دی ہے اسی طرح اردو تنقید کی تاریخ میں سلیم احمد ایک موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے واسطے سے اردو تنقید کو ایک اعتماد حاصل ہوا ہے او رساتھ ہی اعتبار بھی۔

سلیم احمد نے بھر پور علمی اور ادبی زندگی گزاری اور کئی حیثیتوں سے اردو ادب کی آبیاری میں حصہ لیا۔ ان کی تحریروں میں جابجا اس بات کا تاثر ملتا ہے کہ انہیں شروع سے ہی محمد حسن عسکری کی تحریروں سے دلچسپی رہی ہے۔ چنانچہ ان کی شخصیت‘ شاعر ی اور تنقید پر محمد حسن عسکری کی سوچ اور فکر کے اثرات نمایاں ہیں۔ محمد حسن عسکری سے قریبی رشتہ رکھنے کے باعث وہ ان کی ہی طرح آزاد خیال‘ بلند حوصلہ‘ روشن دماغ اور جدت پسند واقع ہوئے۔ سلیم احمد خود اس بات کا بر ملا اعتراف کرتے ہیں کہ ادب او رزندگی کے حوالے سے انہیں جس طرح کی بصیرت کاحصول ہوا‘ اس کے لیے وہ محمد حسن عسکری کے ہی مرہونِ منت ہیں۔ محمد حسن عسکری کے ہم عصروں میں سلیم احمد ایسے واحد شخص ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ محمدحسن عسکری کی قربت میں گزارا۔ یہ اسی قربت کا نتیجہ ہے کہ سلیم احمد اور محمد حسن عسکری کی ادبی اور فکر ی دلچسپیوں میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر دونوں میر تقی میرؔ اور فراق ؔ گورکھپوری کی شاعر ی کو حد درجہ پسند کرتے ہیں۔ سرسید اورحالیؔ کی جدیدیت پر دونوں نے شدید اعتراضات جتائے۔ ابن العربیؒ کی تصانیف کا دونوں نے گہرائی سے مطالعہ کیا۔ دونوں کے ذہنی اور علمی سفر میں ایک نو مسلم فرانسیسی مفکر رینے گینوں بنیادی محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ رینے گینوں جہاں محمد حسن عسکری کا مرشد اورر وحانی راہنما ہے۔ وہیں سلیم احمد کا ایک نہایت اہم حوالہ۔ دونوں کو شروع سے ہی نظریۂ پاکستان سے جذباتی اور فکری وابستگی رہی ہے۔ چنانچہ قیام پاکستان کے فوراً بعد دونوں نے پاکستانی ادب کے حوالے سے بحث ومباحثہ کا دروازہ کھولا۔ لیکن ان تمام مماثلتوں کے باوجود سلیم احمد اور محمد حسن عسکری کے ذہنی اور فکری سفر میں کئی طرح کے اختلافات بھی نظر آتے ہیں۔ سراج منیر نے دونوں کے تعلق کی نوعیت کو نسبتاً بہتر انداز میں پیش کیا ہے۔

’’……عسکری اور سلیم احمد کی استاد شاگردی کا معاملہ کچھ افلاطون اور ارسطو والا ہے ……..سلیم احمد اور محمد عسکری کے مزاج میں قطبین کا فرق ہے۔ یہ دونوں ہر چیز میں الٹ ہیں اور اسی لیے ان کا تعلق Complementary ہے۔ سلیم احمد نے عسکری کو کس کس طرح متاثر کیا‘ یہ ایک الگ مضمون کا موضوع ہے۔ لیکن وہ چیز جسے عسکری کا مکتب فکر کہا جاتا ہے وہ ان دونوں سے مل کر ہی ترتیب پاتا ہے۔ یہ ایک مشترک Pr-axis ہے ……..روایت‘ تہذیب اور جدیدیت کے بارے میں سلیم احمد کے تصورات اپنے داخلی اسٹرکچر میں عسکری صاحب کے نتائج سے بہت حدتک مختلف ہیں‘‘۔

محمد سہیل عمر نے بھی سلیم احمد اور محمد حسن عسکری کے طریقۂ کار کی انفرادیت کو اس طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

’’عسکری صاحب او رسلیم بھائی‘ دونوں کابنیاد ی مسئلہ ہی یہ ہے کہ انسانی کائنات میں کارفرما حقائق‘ خاص طور پرادب میں‘ کس کس رنگ میں او ر کون کون سی سطح پر ظاہر ہوتے ہیں۔ ہاں‘ اتنا فرق ضرور ہے کہ عسکری صاحب کا طریق کار تصوف کی زبان میں حسی یعنی عروجی ہے او رسلیم بھائی کا عقلی یعنی نزولی۔ دونوں کو پڑھنے سے صاف محسوس ہوتاہے کہ ایک‘ الفاظ کے تمام تعینات کو زائل کرکے‘ نہایت علوِ خیال کے ساتھ‘ انہیں واحد المعنی بتارہی ہے اور دوسرا‘ اس مافوق وحدت معنی کو‘ الفاظ کے تعینات قائم رکھتے ہوئے اور انکے درجہ بدرجہ احکام کو مؤثر مانتے ہوئے‘ ظاہر کر رہا ہے۔ پہلے‘ صاف محمد حسن عسکری ہیں او ردوسرے‘ ہمارے سلیم بھائی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ میں نے اول الذکر کے طریق کار کوعقلی او رنزولی کیوں قرار دیا ___عقل کاکام تعمیم ہے ۔حِس کاوظیفہ تخصیص ہے۔ عقل کا موضوع وجود ہے۔ حِس کا موجود اسی فرق کانتیجہ ہے کہ سلیم احمد کا اسم اعظم یعنی ’’پورا آدمی‘‘ جسم پر منتج ہوتاہے۔ اب شیخ اکبر کا وہ قول پھر دیکھ لیجئے کہ الحق محسوس والخلق معلوم‘‘۔

دراصل محمد حسن عسکری کے قدر شناس اور ذہین ترین شاگرد سلیم احمد ایک ایسے منفرد صاحب قلم تھے‘ جن کے پاس کہنے او ردیکھنے کے لیے علمی و ادبی مواد کانہ صرف وسیع ذخیرہ تھا بلکہ جو اپنی بات کے اظہار و بیان کے لیے دوسروں سے الگ انداز بھی رکھتے تھے۔ ان کی تصنیفات ’’ نئی نظم اور پورا آدمی‘‘، ’’غالب کون‘‘، ’’ادھوری جدیدیت‘‘، ’’اقبال: ایک شاعر‘‘، ’’محمد حسن عسکری: آدمی یا انسان‘‘ اور دیگر تحریروں کے اندازِ بیاں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ ادبی تنقید میں ایک مخصوص اسلوب کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔ سلیم احمد کی تحریر قاری کو اس طرح گرفت میں لے لیتی ہے کہ وہ غیر محسوس انداز میں مطالعہ میں غرق ہو جاتا ہے. ان کی تحریر میں کہیں بھی اس بات کا شائبہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ سے کھینچا تانی کرتے ہیں۔ انہوں نے دقیق علمی مباحث اور پیچیدہ سے پیچیدہ خیالات کا اظہار اس طرح کیا ہے کہ ان میں کہیں بھی پیچیدگی باقی نہیں رہ پائی ہے۔ اردو کی صاحبِ اسلوب شخصیات کے اسلوب کا تجزیہ کرنے سے اس بات کا جابجا تاثر ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے اسلوب کو دلکش اور خوبصورت بنانے کی خاطر آرائش و زیبائش سے کام لیا ہے۔ لیکن سلیم احمد کے اسلوب میں اس قدر سادگی‘ صفائی‘ روانی او ردل کشی ہے کہ اس میں کہیں بھی آرائش او رزیبائش کا گماں تک نہیں ہوتا ہے ۔ان کا اسلوب اس حد تک او ریجنل ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی شعوری کوشش کا تاثر نہیں ملتا ہے۔ سلیم احمد نے اپنے اسلوب کو جاذبِ نظر او ردل کش بنانے کی خاطر اپنے استاد محمد حسن عسکری کے اسالیب بیان سے کماحقہ‘ استفادہ کیا ہے۔ اس بات کا اعتراف شمس الرحمن فاروقی نے بھی کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ’’سلیم احمد نے محمد حسن عسکری کے اسلوب کے بعض پہلوؤں‘ خاص کر شگفتگی اور سلاست‘ ان کا اثر بڑی حد تک قبول کیا‘‘۔ سلیم احمد کے بعد وارث علوی جیسے کچھ ناقدین نے سلیم احمد کا اسلوب اپنانے کی بھرپور کوشش کی لیکن انہیں زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔ مشہور نقاد نظیر صدیقی نے سیلم احمد کے اسلوب کے بارے میں لکھا ہے:

’’ان کی نثر حد درجہ صاف، شگفتہ، دلچسپ اور دل نشین ہوتی ہے۔ وہ افہام و تفہیم کے فرائض کو اچھی طرح انجام دیتی ہے۔ ان کے جملے ان کی غیر معمولی تجزیاتی صلاحیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ تسلسل اور تواتر کے ساتھ ذہین اور دلچسپ جملے لکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ تاہم ان کی تحریروں میں غضب کی روانی او ربلا کی بے ساختگی پائی جاتی ہے‘‘۔

سلیم احمد بلاشبہ جدید اردو تنقید کے صفِ اول کے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں فکر و آگہی کی وہ شمع روشن ہے۔ جو قاری کو نئے جہانوں کی سیر کرانے کے ساتھ ساتھ نئے زاویوں سے بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ دراصل سلیم احمد کی خوبی یہ ہے کہ وہ صحیح او رغلط کے بیچ حائل خلیج کو پاٹنے کے امکانات تلاش کرتے ہیں اور جو سچائیاں ان پر منکشف ہوتی ہیں۔ انہیں وہ نت نئے زاویوں سے پرکھتے ہیں اور پھر جو رائے قائم کرتے ہیں اس کے بارے میں طرح طرح کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں اور خاص طور پر اپنے استاد اور رہبر محمد حسن عسکری سے تبادلۂ خیال کر کے وہ ادب کے کسی بھی مسئلے پر ایک حتمی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سلیم احمد کی تنقید نگاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود ان کی زندگی میں ہی ان کے تنقیدی افکار و خیالات اور شعر و ادب سے متعلق نظریات پر بحث و مباحثہ کا آغاز ہوگیا تھا۔ سلیم احمد فطری طور پر ایک نزاعی نقاد تھے، ان کی ہر تحریر کسی نہ کسی بحث کا آغاز کرتی تھی۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سلیم احمد نے تنقید کے مروجہ اصولوں سے ہمیشہ انحراف کیا لیکن ایسا کرتے ہوئے انہوں نے ٹھوس اور مضبوط دلائل بھی فراہم کئے لیکن سلیم احمد صرف اپنے نادر و نایاب افکار و خیالات سے ہی نہیں، اپنے اسلوب بیان کے ذریعے بھی قارئین کو حیرت زدہ کرنے کے عادی تھے۔ اسی لیے جب بھی سلیم احمد کی کوئی نئی تنقیدی تحریر کہیں شائع ہوتی‘ بحث کا موضوع بن جاتی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: قطب شمالی: سلیم احمد (خاکہ)

 

سلیم احمد کو پسند کرنے والے ان کی تحریروں کو دلچسپی سے پڑھتے اور مخالفین ان کی تحریروں کی خامیوں کو چُن چُن کر نکالتے‘ ان کے خیالات اور انداز بیان پر نکتہ چینی کرتے۔ اردو کے مشہور نقاد کلیم الدین احمد نے اردو تنقید اور اردو غزل کے بارے میں جو فقرہ بازی کی تھی۔ سلیم احمد کے یہاں بھی کچھ ایسا ہی انداز ملتا ہے۔ اپنی تنقید کے جارحانہ مزاج کا احسا س خود سلیم احمد کو بھی تھا۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے:

’’میں حالی سے لڑا۔ترقی پسندوں سے لڑا۔ رومان پرستوں سے لڑا اور غالب سے لڑا۔ مگر میں کسی سے نہیں لڑا۔ میں تو اپنے آپ سے لڑنے میں مصروف ہوں اس لیے کہ جن عناصر سے لڑ رہاہوں اور جو میرے اند ر موجود ہیں میں جانتا ہوں کہ و ہ غیر تخلیقی اور غیر انسانی ہیں اب اس لڑائی میں میں اپنے مورچوں کابس جائزہ لیتا ہوں او راپنے دشمن کے کمزور پہلوؤں کو بھی دیکھتا ہوں‘ غالب کہتاہے ’’دین بزرگاں خوش نہ کرو‘‘ فراق صاحب کہتے ہیں ’’ہر بانی مذہب لا مذہب ہوتاہے‘‘۔ ’’غالب کون؟‘‘____میں اس سے بحث کرلیتا ہوں۔ یہ بغاوت کے لمحات میں کی ہوئی تعمیمات سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہی تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ غالب نے باغیوں کی ہمت افزائی کی ہے اور وہ باغیوں میں پیدا باغی ہے۔ یہ غالبؔ کی بھی تعریف ہے او رفراقؔ کی بھی او رتمہاری بھی ۔مگر پیارے اس بغاوت کادور گزر چکا ہے یہ بغاوت اپنا کام کر کے اب اپنے آخری مراحل طے کررہی ہے۔ اب یہ مردہ دور آوٹ آف ڈیٹ ہے۔ اب اس میں کوئی انسپائریشن نہیں۔ اب یہ گندے انڈے کی طرح کوئی بچہ پیدا نہیں کرسکتی۔ اب بغاوت کے خلاف بغاوت کی ضرورت ہے‘‘۔

سلیم احمد ادیب کے سچے ہونے پر بہت زیادہ زور دیتے تھے وہ ادیب کا ایک ساتھ ادیب اور منافق یا ادیب اور زرپرست ہونے کو غلط سمجھتے تھے ۔ ان کے نزدیک ادیب صرف او رصرف سچائی کا متلاشی ہوسکتا ہے کسی دوسری بات کا نہیں۔ انہوں نے اپنے دوستوں کی تحریروں کا تجزیہ کرتے وقت بھی غیر جانبداری سے کام لیا ہے اور جہاں کہیں بھی کوئی نا گفتی نظر آئی۔ اس پر بلا تردد خط تنسیخ کھینچ دیا۔ سلیم احمد کے نزدیک ایک ادیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ ادب کو دوسری تمام سرگرمیوں پر فوقیت دے کر اسے طرزِ زندگی کی حیثیت سے قبول کرے۔ انہوں نے خود اپنے ادبی موقف کی ترجمانی اس طرح کی ہیں:

’’ادب کی تخلیق لفظوں کی تجارت نہیں ہوتی۔ ادب کی تخلیق ایک طرزِ زندگی ہے۔ یہ ادیبوں، درویشوں، صوفیوں، انقلابیوں اور پاگلوں کا کام ہے۔ اس میں زر پرست، سماجی ریا کار، منا فق، ہاتھی کے دانت رکھنے والے معلم شریک نہیں ہوسکتے….. ادیب اس بات کا ٹھیکے دار نہیں کہ وہ منافق اور ریا کار نہ ہو۔ ادیب کی صرف ایک ذمہ داری ہے۔ وہ یہ کہ اگر وہ منافق او رریا کار ہے تو اس کااعتراف کرے او رکہے کہ ہاں وہ منافق ہے۔ وہ اپنے اور انسانوں کے بارے میں سچ بولے۔ اس کے بغیر وہ ادیب تونہیں‘ معلم، حکمراں اور پارٹی لیڈر ضرور ہوجائے گا‘‘۔

محمد حسن عسکری کی طرح سلیم احمد بھی مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ لیکن جس طرح محمد حسن عسکری اپنے ذہنی اور فکری سفر میں رینے گینوں کی وساطت سے مغربی تہذیب کی اصل سے واقف ہوگئے۔ اسی طرح سلیم احمد بھی رینے گینوں کی وساطت سے ہی مغربی تہذیب کی فریب کاریوں سے آشنا ہوگئے۔ سلیم احمد کے یہاں رینے گینوں کا ذکر محمد حسن عسکری ہی کی وجہ سے آیا ہے۔ محمدحسن عسکری نے روایت کے بارے میں جتنے بھی مضامین لکھے ہیں۔ ان میں وہی تصورِ روایت ہے جو رینے گینوں کے یہاں ملتا ہے ۔سلیم احمد رینے گینوں کے افکار وخیالات سے گہرے طور پر متاثر ہوئے۔ انہیں رینے گینوں کے یہاں فکر و آگہی کی جو روشنی نظر آئی اس حوالے سے وہ نظیر صدیقی کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’……..مجھے محمد حسن عسکری کے ذریعے رینے گینوں کی کتابیں دیکھنے کا موقع ملا اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جو چیز میرے احساس میں ایک دھند کی طرح بکھری ہوئی تھی وہ رینے گینوں کے یہاں مغربی تہذیب کی تنقید بن گئی ہے۔ رینے گینوں نے میرے احساس کی تصدیق کی اور اسے بہت وضاحت سے فکر کے درجے تک پہنچا دیا۔ رینے گینوں کی مدد سے اب میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مغرب کی فکر (اور اس میں فلسفہ‘ ادب‘ نفسیات‘ علم الانسان سب شامل ہیں) حقائق کی غلط تعبیر اور اس پرعمل اور ردعمل کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ تم سمجھ سکتے ہوکہ میرے لیے اتنا ہی کافی تھا‘ لیکن رینے گینوں نے مجھے یہ سمجھنے میں بھی مدد دی کہ حقیقت کی صحیح تعبیر کیاہے اور کہاں کہاں ملتی ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے رینے گینوں کو پورا سمجھ لیا ہے یا سمجھ بھی سکتا ہوں‘مگر یہ شخص میرا ہر روز کا مطالعہ ضرور بن گیاہے اوران ہی محدود ذہنی صلاحیتوں اور اس سے بھی محدود تر معلومات کے ذریعہ میں اسے زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں اور ساتھ ساتھ اپنے تجربات سے ربط دینے کی بھی‘‘۔

سلیم احمد کو اقبال کی شاعری سے جیسی عقیدت مندانہ او ران کے خیالات و نظریات سے جیسی ناقدانہ دلچسپی تھی او ران کا ذہن فلسفہ‘ تصوف‘ اسلامی تاریخ او رمذہب او ر سائنس کی بڑھتی ہوئی کشمکش کے نازک پہلوؤں سے جس حد تک آراستہ تھا۔ اس کی بنیاد پر سلیم احمد نے ’’اقبال: ایک شاعر‘‘ کی تصنیف کی۔ اقبال کے بارے میں سلیم احمد نے لکھا ہے:

’’اقبال، دنیائے اسلام کے زوال اور بیداری‘ انقلاب روس اورانقلاب چین‘ برصغیر کی آزادی کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتے تھے او رنہ حالیؔ غدر اور سرسید کے بغیر وجود میں آسکتے تھے ان سب لوگوں کے یہاں یقیناً ان کے آج کا معیار ہے اور ہم اسے دوسرے شاعروں کے آج سے ممیز کرسکتے ہیں……. لیکن شاعری کامسئلہ آج نہیں‘ ابدیت ہے‘ عصریت نہیں ہے بلکہ ماورائے عصریت ہے‘‘۔

سلیم احمد کا شمار ان اقبال شناسوں میں نہیں ہوتا ہے جنہوں نے صرف اقبال کی مدح سرائی کی ہے۔ انہوں نے اقبال کے فکر و فن کا تجزیہ ہر اعتبار سے غیر جانبداری سے کیا، اس دوران انہیں اقبال کے ذہنی اور فکری سفر میں کئی طرح کے تضادات نظر آئے ۔جن کو انہوں نے اپنی کتاب ’’اقبال: ایک شاعر‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں شمیم کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’اقبال کے نظریات کے تضادات کااحساس اب لوگوں میں آہستہ آہستہ بڑھ رہاہے اور جوں جوں وقت گزرتا جائے گا بہت سے پردے از خود اٹھتے چلے جائیں گے۔ سب اپنی اپنی ناقص عقل و فہم کے مطابق ہی گفتگو کرسکتے ہیں۔ میرے نزدیک خطبات اور اقبال کی شاعری میں عشق اور عقل کاجو تضاد نظر آتا ہے وہ اتنا واضح اور واشگاف ہے کہ اس پر کسی تاویل کے پردے نہیں ڈالے جاسکتے۔ تمہارا یہ کہنا کہ شاعر کو مبالغے کاحق ہے, درست ہونے کے باوجود ان لوگوں کی کوئی توجیہہ نہیں کرتا جو اقبال کے خیالات کو شاعرانہ قسم کی موضوعی صداقت کی بجائے معروضی حقائق کہتے ہیں‘‘۔

دراصل سلیم احمد اردو کے ایک ایسے منفرد صاحب قلم ہیں۔ جنہوں نے محمد حسن عسکری کی ادبی اور علمی روایات کو آگے بڑھایا ہے۔ لیکن وہ اپنی انفرادیت اور علیٰحدہ فکر ی نظر کی بنا پر اپنی الگ شناخت بھی رکھتے ہیں۔ سلیم احمد کی جملہ ادبی اور علمی خدمات کا مطالعہ کرنے والا اس بات کا منکر نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ بعض معاملات میں محمد حسن عسکری سے بہت آگے تھے ان میں محمد حسن عسکری کے برعکس تجزیہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی اور بقول نظیر صدیقی ’’سلیم احمد کی طبیعت میں وہ چیز ہے جسے انگریزی میں (WIT) کہتے ہیں اور اردو میں نہ جانے کیا کہتے ہیں۔ محمد حسن عسکری کی بہ نسبت کچھ زیادہ ہی ہے‘‘۔ محمد حسن عسکری نے جہاں بعض ادبی اور علمی مسائل کی طرف اشارے کیے تھے۔ وہاں سلیم احمد نے ان مسائل پر بحث ومباحثہ کا دروازہ کھولا اور انہیں بہت آگے بڑھایا۔ سلیم احمد اردو تنقید میں محمد حسن عسکری کے بعد دوسری ایسی شخصیت ہیں جن کے یہاں تنقید تہذیب بن گئی ہے۔ انہوں نے اپنی تنقید میں وہ سوالات اٹھائے ہیں جن کو نظر انداز کرکے ہم اپنی تہذیبی معنویت کاسراغ لگا سکتے ہیں اور نہ اس کا تعین کرسکتے ہیں۔

سلیم احمد صرف محمد حسن عسکری کے مقلد نہیں کہے جاسکتے ہیں بلکہ وہ دبستانِ عسکری کے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دبستان کی ترتیب و تہذیب میں ان کا کردار کافی اہم اور نمایاں ہے۔ بحیثیت مجموعی سلیم احمد نے شعر و ادب کے تنقیدی تجزیے کے لیے اپنے اصول و ضع کیے۔ اپنا منفرد اسلو ب ایجاد کیا اور روایت‘ تہذیب اور کلچر کی صحیح تعبیر سے اردو والوں کو آشنا کیا۔ مذکورہ خصوصیات کی بناء پر سلیم احمد‘ محمد حسن عسکری کی ہی طرح اردو کے دوسرے نقادوں او رصاحب قلم شخصیات سے ممتاز و افضل مقام پر فائز نظر آتے ہیں لیکن یہ اردو تنقید کی بدقسمتی ہے کہ محمد حسن عسکری کے ہم عصروں نے محمد حسن عسکری کی طرح سلیم احمد کو بھی نظر انداز کیا ہے‘ لیکن اب چونکہ اردو میں حقیقت پسندی او ر شعر و ادب کے غیر جانبدارانہ مطالعے کا آغاز ہوچکا ہے اسی لیے اب محمد حسن عسکری کی طرح سلیم احمد کی ادبی او رعلمی خدمات کی اہمیت اور معنویت کا بھی اعتراف کیاجانے لگا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: