وہ جنس نہیں ایماں لے آئیں جسے دکان فلسفہ سے : حبیبہ طلعت

0
  • 20
    Shares

آج سات دسمبر کو جنید جمشید مرحوم کی پہلی برسی ہے۔  ایک سال قبل حویلیاں کے مقام پر PK ATR 661 طیارے کو حادثے سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اسی بد قسمت طیارے میں جنید جمشید مرحوم بھی سوار تھے اور دیگر سینتالیس مسافروں کے ساتھ عازم سفر آخرت ہوۓ۔ تین دن قبل یعنی چار دسمبر کو جاری کردہ ٹویٹ میں جنید جمشید نے چکوال کو زمین پر جنت قرار دیا تھا اور ساتھیوں کے ساتھ اپنی تازہ تصاویر بھی پیش کی تھی.

امسال بارہ ربیع الاول کو نعت خواں جنید جمشید مرحوم کے صاحبزادوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نعت خوانی کا باقاعدہ آغاز کر دیا. بابر جنید نے ” میرا دل بدل دے” ریکارڈ کروائی جب کہ تیمور جنید نے ” میرے بابا” کے نام سے یادگاری کلام ریکارڈ کروایا. مزید جنید جمشید کی پہلی برسی کے موقع پر جنون گروپ کے گٹارسٹ، جنید جمشید کے دیرینہ رفیق سلمان احمد کی جانب سے جنید جمشید کی حقیقی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی  فلم ‘آنسو’ بھی یکم دسمبر کو ریلیز کر دی گئی ہے.

تین ستمبر 1964 کو کراچی میں جنم لینے والے جنید جمشید نے 52 سالہ بھرپور زندگی گزاری. ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی. والد پاک فضائیہ سے وابستہ تھے. جنید جمشید نے بھی مختصر عرصے کے لئے جوائین کیا  پھر یونیورسٹی آف انجینئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے انجئینرنگ کی سند حاصل کی. جس کے بعد پاک فضائیہ میں کنٹریکٹ پر ملازمت کی.  پاپ میوزک کا دور دورہ تھا چنانچہ جنید جمشید نے جنون گروپ اور وائٹیل سائینز کے ساتھ بے شمار نغمات تیار کئے۔ خوب صورت آواز کی بناء پر جلد ہی شہرت کی ان بلندیوں کو چھو لیا جو کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے.

تین دیائیوں پر مشتمل فنی خدمات میں، ابتداء میں موسیقی، گیت نگاری، گلوکاری بعد ازاں موسیقی کی دنیا کو مکمل خیر باد کہنے کے بعد نعت خوانی کا مقدس فریضہ سنبھال لیا. ساتھ کاروبار اور تجارت کا آغاز کیا. اپنے نام سے ملبوسات کا برانڈ اسٹور اور اسکی چین قائم کی.  اسلامی مبلغ کے طور پر ملک کے طول و عرض میں معروف تھے. بے شمار ایونٹس اور ٹیلی ویژن پروگرامز، بالخصوص رمضان ٹرانسمیشن میں حمد و نعت بھی پڑھتے اس کے سوا ہلکے پھلکے انداز میں لوگوں کو اسلامی طرز زندگی کی طرف راغب کرتے تھے. ان کی آواز اور شخصیت میں عجب وقار اور دلکشی تھی. شائد عطاء و کرم اسی کو کہتے ہیں جو لہجے میں تاثیر اور انداز مقبول عام رہے.

ممتاز فارسی شاعر عرفی شیرازی نعت گوئی سے متعلق کہتے ہیں کہ

عرفی شتاب ایں رہ نعت است نہ صحرا است
آہستہ کہ رہ ہر دم تیغ است قلم را

ترجمہ“اے عرفی! اتنی تیزی نہ دکھا. یہ نعت کا راستہ ہے . کوئی صحرا نہیں کہ آنکھیں بند کر کے دوڑتا چلا جائے گا. یہ راستہ بہت کٹھن ہے اور اس کی کیفیت تلوار کی دھار پر چلنے کا نام ہے.”

مجموعی طور سے نعت کی پیشکش میں جذبہءعقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ، ادبی محاسن اور لوازمات کا خیال ہونا چاہئے. جن کی نعت متقاضی ہے مثلا موزوں زبان و بیان، الفاظ کی عمدہ تراش خراش، تشبیہہ و استعارہ وغیرہ، نعت خوان کے لئے یہ کمال احتیاط اور آداب کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی مدح و ثناء میں غلو اور شرک سے بچتے ہوئے عقیدت کے ساتھ عشق رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بارگاہ میں نذرانہ بہ حسن و خوبی پیش کریں.جیسا کہ اس نعت میں دیکھا جا سکتا ہے عاجزی و احتیاط کا دامن تھامے کس قدر عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کئے گئے ہیں.

تو امیر حرم، میں فقیرعجم
تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ھی عطا، میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا
تو ہے احرام انور باندھے ہوئے
میں درودوں کی دستار باندھے ہوئے
کعبہء عشق تو، میں تیرے چار سو
تو اثر میں دعا، تو کجا من کجا
مظفر وارثی

عرب وعجم میں یکساں طور سے نعت گوئی اور نعت خوانی کو ممتاز حیثیت حاصل رہی ہے تاہم سب سے زیادہ نعت خوانی کی محافل پاکستان میں سجتی ہیں. کہ جاتا ہے کہ سب سے زیادہ نعت اردو زبان میں کہی گئی ہے. پاکستان میں نعت خوانی آغاز سے ہی باوقار روایات کی حامل رہی ہے مظفر وارثی، صدیق اسماعیل، صبیح رحمانی، عبدالرؤف روفی اویس رضا قادری، خورشید انور، ریاض الدین سہروردی، سید منظور الکونین، ام حبیبہ، منیبہ شیخ، قاری وحید ظفر قاسمی وغیرہ کے بعد ایک توانا لب و لہجہ، جذبوں سے سرشار جنید جمشید مرحوم، جن کو نعت خواں کے طور پر عام مرد و خواتین بالخصوص نوجوان طبقے میں بے حد پزیرائی ملی بلکہ اسے غلو کی حد تک نہ سمجھا جاٰئے تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ درویش کیا ہوتے ہیں؟ نہیں دیکھا بس پڑھا ہے یا سنا ہے. مگر جنید جمشید مرحوم تو ہمارے اسی زمانے کے رہے. ہمارے اور آپ کے سامنے  کی بات ہے. براہ کرم کوئی شدید معنوں میں نہ لے کہ ہم ان جو درویشوں میں شامل کر رہےہیں. ایسا ہرگز نہیں ہے.

ہم صرف نعت گوئی کے حوالے سے مرحوم کی زندگی کا وہ پہلو دکھانا چاہ رہے ہیں کہ کیسے ایک ہمارے جیسے ماڈرن زمانے کے نوجوان نے شہرت کی بلندیوں پر ہوتے ہوئے، اپنا آپ بدل ڈالا، دل کیا بدلا  کہ تمام طرز فکر اور بود و باش بدل ڈالا  مزید بر آں اپنے دل کے گداز سے سب دل والوں کو بدلنے کا ارادہ ٹھان لیا. وہ ملی نغمے اور رومانوی گیت جن کی وجہ سے ہن برس رہا تھا ماضی کا باب بن گئے. موسیقی کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی. زندگی کا مکمل منظر نامہ ہی بدل لیا. تعلیم، معاش کی جس دوڑ دھوپ کو ہم صبح و شام زندگی میں کافی و شافی سمجھتے ہیں. جنید جمشید نے ان سب سے  نباہ کرتے ہوئے اصلاح و تبلیغ کی الگ راہ اختیار کی.

1987 سے پاکستان  کے کونے کونے میں گونجتی آواز “دل دل پاکستان “جب قصیدہء بردہء شریف کی چوکھٹ چوم کر آئی تو سرفراز ہوئی “میٹھا میٹھا ، پیارا پیارا میرے محمد کا نام”جلد ہی ان کا شمار پاکستان کے نامور نعت خوانوں میں ہونے لگا. عشق رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے مہکتے کون کون سے کلام ہیں جو چار وانگ عالم میں درود و سلام بھیج رہے ہیں. کون کون سی خوب صورت نعت شریف ہیں. جن کو شرف باریابی ملا. پاکستان کے ایک وسیع حلقے کو اپنی مسحور کن آواز اور متاثر کن شخصیت کے بل پر زندگی میں کچھ کرنے اور اسلامی شعائر اختیار کرنے کی طرف متوجہ کرنے والے مبلغ اسلام ، 52 سالہ جنید جمشید نے 2004 میں موسیقی کی دنیا کو مکمل خیر باد کہنے کے بعد عرصہ بارہ سال میں بے شمار حمد و نعتیہ کلام پڑھا، اور متعدد مناجات اور ترانے پیش کئے. قومی زبان اردو کے سوا علاقائی اور انگریزی زبان میں بھی حمد و نعت پیش کی.
مقبول عام نعتیں اور کلام یہ رہے؛

_دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے__

محمد کا روض
__یہ صبح مدینہ، یہ شام مدینہ
__ الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں

جبکہ ریکارڈ کے مطابق حمدیہ اور نعتیہ کلام کی مکمل فہرست حسب ذیل ہے:

__اے رسول امیں خاتم المرسلین ص
__اے طیبہ امت کا سفینہ
__بدر الدجی
__ تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت
__جلوہء جاناں
__جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
__حبیبی رسولی
__ دو عالم تمہارا ہوا کملی والے
__ طلع البدر علینا
__ قصیدہء بردہء شریف
__مجھے زندگی میں یارب
__ محبت کیا ہے
__ محمد کا روضہ قریب آرہا ہے
__مدد اے میرے اللہ
__ میرے اللہ تو کریم ہے
__ میٹھا میٹھا ہے میرے محمد ص کا نام
__ یہ صبح مدینہ یہ شام مدینہ
__ الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
__مدینے کو جائیں
__مکہ یاد آتا ہے
__آج سک متراں دی
__رہ کشی مکو .پشتو نعت
_____Allah Make Me Bold
_____Habibi Rasooli
____Oh Merciful

…….مختلف ادوار میں ریلیزز کی تفصیل کچھ یوں ہے

  • 1994 واٹیل سائینز
    1999 اس راہ پر
    2002 دل کی بات
    2005  جلوہء جاناں
    2006  محبوب یزداں
    2008  بدر الدجی
    2009 بدیع الزماں
    2016 میں امتی
  • لاتعداد نغمات، لازوال نعتوں، دلگداز کر دینے والے حمدیہ کلام اور نجی، اجتماعی اور مذہبی محافل کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن پروگرامز میں پیش کردہ تیس سالہ طویل ثقافتی خدمات پر جنید جمشید کو 2007 میں صدر پاکستان کی جانب سے تمغہء امتیاز سے بھی نوازا گیا.

عطاء اور کرم کیسے ہوتی ہے. پہلے تو شرط ہی لگن کی ہوئی. پھر اتباع کی ریاضت اور یہ راہ عشق نہیں آسان ہوا کرتی کہ آپ کے دل بدلنے کا کام مالک حقیقی کا ہی ہے. بس کوئی چاہے بھی تو، کوئی مانے بھی تو، فرمایا گیا کہ

” وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے, جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے ”
القران

مگر افسوس اس امر کا ہے کہ جنید جمشید کی زندگی جہاں خود ان کے لئے ایک الگ انتخاب بنی وہاں ہمارے ملک میں رائج گروہی مفادات نے بھی مرحوم کو متنازعہ ثابت کرنا چاہا. ان نیلے پیلے، کالے اور سبز رنگا رنگ اسلام کے پیروکاروں نے ثنا خوان نعت رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر کسی تبلیغی گفتگو کے حوالے سے ان کے خلاف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور کچھ برگزیدہ ہستیوں کی بابت گستاخی کا الزام لگایا گیا جبکہ توہین رسالت ص کی دفعات کے تحت سنی تحریک کے رہنماء محمد قادری کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا. یہ وہ لوگ جو مذہب پر اجارہ داری رکھنا چاہتے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے، اس میں مشکلات لانے کا کام جس طبقے نے اپنے اوہر لیا ہے اس سے تو ہم اپنے سماج کی بھیانک تصویر دیکھ سکتے ہیں جہاں مذہب کا استعمال سیاست کے لیۓ بھی کیا جاتا ہے اور اپنے اپنے مسالک کی حاکمیت برقرار رکھنے کے لیۓ بھی کیا جاتا رہا ہے۔

28 مارچ 2016 کی رات اسلام آباد ائیر پورٹ پر کچھ مشتعل افراد نے ان پر حملہ کیا اور زود و کوب کیا. ان کو کچھ عرصے کے لئے روپوش بھی ہونا پڑا. سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو  میں معافی مانگ لینے اور ان کی توبہ اور معافی قبول کرنے سے متعلق علماء کرام کے فتاوی کے باوجود ان کے لئے راہ عشق پر خار بنی رہی.یہ وہ لوگ جو مذہب پر اجارہ داری رکھنا چاہتے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے، اس میں دشواری جس طبقے نے پیدا کی ہے۔ ہم اپنے سماج کی بھیانک تصویر دیکھ سکتے ہیں جہاں مذہب کا استعمال سیاست کے لیۓ بھی کیا جاتا ہے اور اپنے اپنے مسالک کی حاکمیت برقرار رکھنے کے لیۓ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ دوسروں کو فتوی کے تیروں سے زیر کرنا بھی بہت آسان پے۔

بالاخر جنید جمشید سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت سے سرفراز ہوئے. پی آئی اے کے فضائی حادثے میں دیگر سینتالیس کے قریب مسافروں کے ساتھ اب ان تمام الزامات اور جھگڑوں سے دور جا چکے. فضائی حادثے کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر ان کے جسد خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹ کر مکمل اعزاز کے ساتھ کراچی لایا گیا اور  معین خان اکیڈمی سے متصل گراؤنڈ میں مولانا طارق جمیل نے اپنے رفیق کار کی نماز جنازہ پڑھائی. بعد ازاں وصیت کے مطابق دارالعلوم  کورنگی،کراچی کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا. اس حادثے میں ان کی ہمراہ جاں بحق ہونے والی اہلیہ نیہا جنید کیولری گراؤنڈ کے قبرستان میں سپرد خاک کی گئیں. جنازے پر عوام کی کثیر تعداد کی شرکت نے جنید جمشید کی قبولیت عام پر مہر تصدیق ثبت کی۔ ہری چند اختر کے نعتیہ شعر پر اختتام کرتے ہیں کہ

زندہ ہو جاتے ہیں، جو مرتے ہیں ان کے نام پر
اللہ اللہ__کس نے__ موت کو مسیحا کر دیا
صلی اللہ علیہ و الہ وسلم

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: