دلیل کی حفاظت: ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

0
  • 26
    Shares

25 نومبر کی صبح فیض آباد میں ہونے والے آپریشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک بے خبری کے اندھریے اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لیے نکلے ہوئے عوام کے لہو کی سرخی میں ڈوب گیا۔ اس مسئلے کی حساسیت کے پیش نظر جس تدبر کا مظاہرہ کرنادرکار تھا حکومت کی طرف سے وہ تدبر کہیں نظر نہیں آیا۔ ناداں کند آں کہ دانا کند ولے بعد از خرابی بسیار کے مصداق حکومت نے وہ اقدامات بحران پیچیدہ ہونے کے بعد اٹھائے جو بحران کے حل کے لیے شروع میں درکار تھے۔  حکومتی ارباب اختیار اس امر کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ چند مٹھی بھر مذہبی طبقات کا مسئلہ نہیں بلکہ اس ملک کے کروڑوں عوام کا مسئلہ ہے جسے وہ اپنی زندگی سے بڑھ کر اہمیت دیتے ہیں۔سبب یہ ہے کہ عقیدہ ختم نبوت ہماری قومی ملی اور اجتماعی تہذیبی زندگی کی اساس ہے۔ ا س بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ امت مسلمہ جس الوہی پیغام کی امین اور وارث ہے وہ کوئی دیومالائی عقیدہ یا اساطیری مذہب نہیں بلکہ ایسا زندہ اور عملی نظام حیات ہے جس میں پوری انسانیت کی بقا اور امن پوشیدہ ہے۔ ا س نظام حیات سے انحراف عالم انسانیت کو تباہی کی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔

 

کسی بھی نظریے یا نظام زندگی کی ثقاہت کا انحصار اس دلیل پر ہے جس دلیل پر وہ نظام زندگی استوار ہوتا ہے۔ اسلام کے نظریہ حیات کی وہ دلیل جو اسے انسانیت کے لیے آخری مکمل اور حتمی نظام بناتی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مبارکہ اور آپ کی سیرت ہے۔ یہی وہ دلیل ہے جسے آپ نے اپنی دعوت کے آغاز میں اہل مکہ کے سامنے پیش کیا اور ان کے پاس آپ کو صادق اور امین تسلیم کر نے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ باطل کی ہمیشہ ہر دور میں یہ کوشش رہی ہے کہ اسلام کی اس بنیادی دلیل یعنی آپ کی ذات مبارکہ کو متنازعہ بنایا جائے اور امت مسلہ کی آپ سے غیر متزلزل وابستگی کو شک و شبہ اور مغالطوں کا شکار کر دیا جائے۔ کیونکہ جب دلیل ہی اپنی ثقاہت کھو دے گی تو اسلام کا نظام زندگی ہونے کا دعوی خود بخود ختم ہو جائے گا۔

پاکستان کے ذمہ دار شہری کے طور پر ہمیں یہ امر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکامات کی روشنی میں معاشی اور سماجی نظام کو رو بہ عمل کرنا اس ملک کے قیام کا بنیادی مقصد تھا۔ اگر آج یہاں استحصالی نظام مسلط ہے، عوام اپنے حقوق سے محروم ہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے اور عوام کا معیار زندگی آزادی کے اثرات سے محروم ہے تو ا س کا سبب یہی ہے کہ اس ملک کے قیام کا مقصد مقتدر حلقوں کے پیش نظر نہیں رہا۔

علامہ اقبال نے جب اپنے خطوط کے ذریعے قائد اعظم سے مسلسل رابطہ رکھ کر انہیں قائل کیا کہ وہ مسلمانوں کی قیادت سنبھالیں اور مسلم لیگ کو حقیقی عوامی جماعت بنا کر مسلمانان ہند کے آئینی حقوق کی حفاظت کو یقینی بنائیں تو اس طرف بھی بار بار اشارہ کیا کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کے قیام کا مقصد اسلام کے قانون معاش کو نافذ کرنا ہو گا جو ایک الگ اور آزاد ملک کے بغیر ناممکن ہے۔ 28 مئی 1937 کے خط کا متن اس کا گواہ ہے۔ خود قائد اعظم کے نزدیک پاکستان کا حصول کوئی بے مقصد جدوجہد نہ تھی۔ اپنی زندگی کی آخری عوامی تقریب یعنی سٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے اس حقیقت کی طرف اس نوزائیدہ مملکت کے ارباب بست و کشاد کو متوجہ کیا کہ اسلام کا معاشی نظام انسانیت کی ضرورت ہے جو استحصالی اور سرمایہ دارانہ معیشت کے بوجھ تلے دبی ہلاکت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے قیام کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسانیت کی اس ناگزیر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اگر قیام پاکستان کے مقصد اور بانیان پاکستان کےنزدیک پاکستان کے منصب ، مقام اور فریضہ کو پیش نظر رکھیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس نظام حیات، جس کا خواب اقبال اور قائد  دیکھ رہے تھے، کی دلیل یعنی عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت اس ریاست کی اولیں ترجیح ہونی چاہیے۔ اور یہ کتنی فطری بات ہے کہ  جب بھی اس دلیل کی حفاظت اور تقدس کے لیے کوئی آزمائش کی گھڑی آئی تو پوری پاکستانی قوم بغیر کسی دباو یا لالچ کے سسیہ پلائی دیوار بن گئی۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں اسلام آباد میں ہونے والے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں پر جب پوری رات شیلنگ ہوتی رہی، آنسو گیس پھنیکے جاتے رہے مگر پورے ملک سے ایک فرد بھی ان کی حمایت میں نہیں نکلا۔ مگر جب پہلا شیل فیض آباد دھرنے پر پھینکا گیا تو جڑواں شہروں کے گردو نواح سے لوگ اس دھرنے کی حمایت میں امڈ آئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ دھرنا ملک گیر احتجاج کی صورت اختیار کر گیا۔

 

ہمارے ہاں سیکولر حلقے اور ماضی کا شعور نہ رکھنے والے کھوکھلے دانشور سطحی دلائل سے معاشرے کو ان نظریات کی طرف گامزن کرنے میں مصروف رہے جو نہ تو کوئی حقیقی اساس رکھتے ہیں نہ ان کا پاکستان کی تاریخ، قیام یا مقصد و مستقبل سے کوئی تعلق ہے۔ اس کا نتیجہ سوائے خلط مبحث کے کچھ نہیں نکلا۔اہل فکر ونظر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس دلیل ، یعنی عقیدہ ختم نبوت ، کی طاقت کو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے استعمال کریں ۔ یہ دلیل اس ملک کے عوام کو اپنی جان  سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ معمولی سی کوتاہی بڑے بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جس فیصلے کوکندھا بنا کر حکومت اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے اس فیصلے کے اجرا سے پہلے فیض آباد دھرنے کے ذمہ داران کے تحفظات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو معاملہ بڑی خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا تھا پورے معاشرے کو انتشار کا شکار کر گیا۔

ایک عرصے کے بعد پاکستان میں مذہب کے نام پر فرقہ وارانہ سیاست اختتام پذیر ہو رہی تھی، اور مذہبی سیاسی جماعتیں بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل رہی تھیں۔ جماعت اسلامی جیسی منظم سیاسی جماعت کی ضمانتیں ضبط ہونے لگیں۔ حتی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جماعت اسلامی کی نمائندگی اور خود امیر جماعت سراج الحق کی نمائندنگی جس حلقے سے ہے وہ جماعت کے سیاسی تشخص یا اہمیت کے سبب نہیں بلکہ ڈاکٹر یعقوب مرحوم جیسے بے لوث عوامی کارکنوں کی ذاتی ساکھ کا ورثہ ہے۔ مولانا سمیع الحق اپنے سیاسی وجود کو باقی رکھنے کے لیے تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے پر مجبور ہوئے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایم ایم اے یا کسی بھی مذہبی اتحاد کی حیثیت کاٹھ کے گھوڑے کی گاڑی سے زیادہ نہیں۔ مگر فیض آباد آپریشن نے اہل سنت کے اس طبقے کی مسلکی سیاست کا دروازہ کھول دیا ہے جو ہمیشہ مسلم لیگ کے ووٹر رہے ہیں او کبھی بھی کسی انتہا پنسدانہ یا مسلکی نوعیت کی سرگرمی کا حصہ نہیں رہے۔ یہ مقام فکر ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کی اٹھائیس  سالہ جدوجہد، جس میں چودہ شہیدوں کا لہو بھی شامل ہے ،پر تحریک لبیک کا چند ماہ کا سفر بھاری نظر آ رہا ہے۔ اگر یہ رحجان آئیندہ انتخابات میں غالب آتا گیا تو قومی سیاسی کلچر میں ایک نئے عنصر کا اضافہ ہو گا۔

فیض آباد آپریشن پاکستانی معاشرے اور سیاست کو عدم توازن سے دوچار کر گیا ہے۔ ہمیشہ پر امن رہنے والے سواد اعظم سراپا احتجاج  ہوئے، مسلکی سیاست کے امکانات پیدا ہو گئے اور دلیل کی بجائے طاقت فیصلے کی اساس بننے لگی۔ صاحبان اقتدار و اختیار کا امتحان ہے کہ وہ دلیل کے تقدس کی حفاظت کا احساس اس معاشرے میں کس طرح دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: