احوبہ ——– جیلانی بی اے — آخری حصہ

0
  • 8
    Shares

اسی شام مکہ کی گلیوں میں مشہور ہو گیا کہ فاران کی چوٹیوں تلے جو عورت خیمہ زن تھی وہ ایک ساحرہ ہے، جو اپنے چرتر سے مکہ پر تسلط جمانا چاہتی ہے،

کسی نے کہا: ” ممکن ہے کہ وہ شاہ حیرہ کی جاسوس ہو۔ “۔ ۔
دوسری صبح اس کے خیمے کے باہر چار گھوڑے سوار کھڑے تھے انہوں نے سمیہ سے کہا، ہم تمہاری مالکہ کو۔ ملناچاہتے ہیں؟
احوبہ نے جواب بھیجا، وہ اندر آ سکتے ہیں۔

نہیں اس کے سردار نے ترش لہجہ میں کہا ”اسے باہر آنا ہو گا”۔ احوبہ باہر نکل آئی، وہی شیخ اس کے سامنے کھڑا تھا جس نے اس دن اسکی خیرات لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے چہرے کے نقوش اجنبیت سے سخت ہو گئے تھے۔
”ہماری مہمان، محترمہ! ہم کافی مل چکے ہیں، ہم اس زر و دولت کے بھی ممنوں ہیں جن کی چمک سے ہماری صحرائی گلیاں جگمگا اٹھی ہیں لیکن مختصر قیام محبت کی شدت کو بڑھاتا ہے جب کہ طویل قیام نفرت کی آمیزش کے بغیر ہو نہیں سکتا!
احوبہ چپ کھڑی تھی۔
”ہم اپنی دوستی کا حق ادا کیے دیتے ہیں بعد کے فسادات کے ہم یقیناً ذمہ دار نہیں ہوں گے”۔
”میں آپکی شکر گزار ہوں، احوبہ نے کہا”۔ میں بھی معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور مجھ کو فخر ہے کہ میں سردار مکہ سے ہم کلام ہوں کیا مجھ کو اس وقت تک قیام کی اجازت ہے جب تک کہ ہلال نو بدر بن کر غائب نہ ہو جائے ؟”
کچھ توقف کے بعد سردار بولا، لیکن معزز خاتون کو بستی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں!
اتنا کہہ کر انہوں نے باگیں موڑیں اور غبار کے بادلوں میں گم ہو گئے۔
اس شام احوبہ نے ستاروں کو دیکھا وہ ایک دوسرےکے بہت قریب آ گئے تھے کیا واقعی ان میں سے ایک میں
ہوں؟ احوبہ نے اپنے آپ سے سوال کیا۔

آہ آرزوئیں عزم کا دامن پکڑے آتی ہیں لیکن وہ جانتی نہیں کہ امید کے خوشے کے ساتھ حسرت کا خار بھی لگا ہوتا ہے۔
احوبہ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ستارے ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے تھے۔
جب اس کے خیمے کے قریب ایک قافلہ نے آن پڑائو لگایا ہارے ہوئے جواری کی طرح احوبہ وقت کی بساط پر اپنا پانسہ تک لگا دینا چاہتی تھی۔ وہ ہر راہ رو کا چہرہ دیکھنے کے لیے دولت کی تھیلیاں دینے کو تیار تھی۔ اس نے سمیہ کو یہ معلوم کرنے بھیجا کہ وہ قافلہ کہاں سے آ رہا تھا۔ ”وہ شام سے آ رہا ہے اور مکہ جا رہا ہے، وہ مکہ ہی کے تاجر ہیں، سمیہ نے خبرسنائی۔
امید کی ٹمٹماتی شمع چمک اٹھی۔
”جن کی بیٹی، بھاگ اور ان سے کہہ، کہ اگر وہ سونا چاندی لینا چاہتے ہیں تو میرے خیمے کے سامنے سے ایک ایک کر کے گزریں!!
جب عرب بدوئوں نے یہ خبر سنی، تو انہوں نے گرد سے اٹی ہوئی ڈاڑھیوں پر ہاتھ پھیرا، ” کیا وہ ملک غسان کی بیٹی ہے”؟
”نہیں، ایک عبرانی شہزادی ہے، جو اپنے گناہوں کا کفارہ جیت ابراہیم کے جوار میں ادا کرنا چاہتی ہے”۔
انہوں نے اپنے جوتوں کی خاک جھاڑی اور ایک ایک کر کے خیمے کے سامنے گزرتے گئے اور تھیلیاں لیتے گئے، سب نے اپنے چہروں پر پس پردہ دو سیاہ آنکھوں کی ٹکتکی چبھتی محسوس کی۔
”کوئی باقی تو نہیں”؟
”صرف ایک ہے، اور وہ ایسی خیرات لینے سے انکاری ہے”۔
‘”وہ ضرور کوئی پاسبان حرم کعبہ ہو گا، احوبہ بے ساختہ پکار اٹھی۔ پھر معا اس نے محسوس کیا، گویا وہ اسی کے متعلق کہہ رہی تھی جسے وہ ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔
”جا سمیہ اس سے کہہ دو کہ وہ راہ خدا میں بھی کچھ لینے کو تیار نہیں”۔
کچھ وقفہ کے بعد سمیہ جواب لائی ”میں راہ خدا میں دینے کا عادی ہوں، لینے کا نہیں؟
یہ قرشی پندار کا خاصہ تھا جب احوبہ نے جواب سنا تھا اس کا دل دھڑکنے لگا اس نے محسوس کر لیا، وہ چشمہ کے کنارے پہنچ گئی تھی بالکل وجدانی طور پر پھر بھی اپنے اس یقین وہبی کو سہارا دینے کے لیے اسکے پاس کوئی دلیل نہ تھی۔

”اس نے کہہ، اگر وہ آ نہیں سکتا، تو ایک ملتجی کو شرفِ ملاقات بخش سکتا ہے؟
جواب ملا”بے شک”
قافلے کے اونٹ قطار در قطار بیٹھے ہوئے تھے۔ ان پر کجاوے بدستور کسے ہوئے تھے، کیونکہ ان کا قیام لمحاتی تھا۔ ایک درخت کے نیچے چند نوجوان تیر اندازی کر رہے تھے۔
”میں اپنی سونے کی تھیلی پر شرط لگاتا ہوں، تم اپنے تیر سے چوٹی کی شاخ کو نہیں کاٹ سکتے۔

دوسرے نوجوان نے عقابی نگاہوں سے شاخ بلند کی طرف دیکھا، جو ہوا کے اشاروں پر جھوم رہی تھی”لات و عزی کی قسم، میں ایسا کر سکوں گا، یہ کہتے ہوئے اس نے شست باندھ کر تیر چھوڑا، شاخ چٹختی اورچرمراتی ہوئی نیچے آ رہی۔
”وہ مارا، نوجوان خوشی سے چلایا۔ ابراہیم و اسماعیل کی قسم، میں آدھی دولت انکی بھینٹ چڑھاوں گا۔ وہ تیر اندازی کے ماہر تھے”
احوبہ ان کے قریب سے گزری اور اس کجاوے کے قریب آن کھڑی ہوئی جس میں وہ مغرور قرشی نما دراز تھا، وہ اسے دیکھ کر بھی لیٹا رہا، جب وہ اسکے عین سامنے آن کھڑی ہوئی۔ تو اس نے اپنی آنکھیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔ اسکی آنکھوں میں نجابت اور خود اعتمادی کی مستی تیر رہی تھی۔ اسکے سیاہ گیسو اسکی درخشاں پیشانی پر لوٹ رہے تھے اور اس کا سرخ و سپید چہرہ آسمانی نور سے دھلا ہوا تھا۔ یہ تو وہی ہے، یہ تو وہی ہے، احوبہ کا دل زور سے اچھلا۔ اگر وہ اپنے شعور کی مجموعی قوت سے ارادہ کو عنان۔ میں نہ رکھتی تو یقیناً وہ جھک کر اس سے لپٹ جاتی اور اس کے فراغ سینے پر اپنا سر رکھ کر ڈھائیں مار مار کر روتی۔ لیکن نسائی حیا سب سے زیادہ قوی تھی۔
”اے جوہرِ عرب، معزز سردار، میں ایک فریضہ ادا کر رہی ہوں، معزز سردار نے اسے سر سے پائوں تک دیکھا، احوبہ خوشی سے کانپ رہی تھی۔

”میں خود خیرات دیتا ہوں”۔ اس نے تحکمانہ انداز سے کہا۔ اسکی آواز سے مردانگی نمایاں ہو رہی تھی۔ یہ الفاظ کہتے ہوئے اسکی پیشانی کا نور بدر منیر کی طرح جگمگا اٹھا۔
”میں خیرات لے سکتی ہوں” احوبہ نے وفورسرور کو دباتے ہوئے کہا۔
”ہاں ہاں، کیوں نہیں”۔
احوبہ ایک قدم اور قریب آ گئی۔ اس نے ادھر ادھرنگاہ ڈالی، اونٹ لاپروائی سے جگالی کر رہے تھے۔ اور درخت کے نیچے وہ لوگ نئی شرط پر شور مچا رہے تھے۔ وہ اس کا ہاتھ چوم لینا چاہتی تھی۔ اب کسی رسم و تکلف کی کیا ضرورت تھی۔ دنیاوی آئین کی اب کیا احتیاج تھی؟
جب کہ اس کے سامنے وہ موتی تھا، جس میں اسکی پوری زیست کا مقطر نچڑ کر آ گیا تھا۔
”مجھے اپنی باندی بنا لو، میں سرزمین کنعان کے ایک باوقار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں”۔
اس نے اسی لاپروائی سے اسکی طرف دیکھا۔
”نقاب اٹھائو، اس نے حکم دیا۔
اس نے اپنے چہرے سے سیاہ نقاب الٹ دی اسکی پلکوں پر آنسو آخر شب کے ستاروں کی مانند جھلملا رہے تھے۔ سردار قریش اپنی سیاہ اور مست آنکھوں سے اس کے حسن کا تجزیہ کر رہا تھا۔
”مجھ کو کنعان کا یہ پھول قبول ہے” اس نے فیصلہ سنایا۔
اس کا گلا فرط مسرت سے گھٹنے لگا، میں کل تمہارا انتظار اپنے خیمہ پر کروں گی”۔
”کل؟”
”ہاں کل، تمہیں تین سو ساٹھ عربی خدائووں کی قسم، تم کل ضرور آئو، کیا میں عقد وعدہ میں تمہارا خنجر لے سکتی ہوں؟
وہ مسکرایا اور اس کے موتیوں سے سفید دانت چمکے۔

”یہ لو، تم نے عربی زبان کی تیزی نہیں دیکھی۔ یہ خنجر سے زیادہ تیز ہے۔ اس نے اپنے سرہانے کے نیچے سے سنہری خنجر نکال کر اس کی طرف پھینک دیا۔ احوبہ نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اسے اٹھا کر چوم لیا۔ عمر میں پہلی دفعہ وہ اپنا تمام نسائی عجز اور کمزوری عریاں ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
جب وہ واپس آئی، تو اس نے خیمے کے سامنے تبوک کے درویش کو مراقبہ میں محو پایا ۔ ۔ ۔ ۔
”میں نے پا لیا ہے۔ میں نے پا لیا ہے۔ احوبہ اسے دیکھتے۔ ۔ ہی پکار اٹھی۔
درویش نے اپنا سر اٹھایا اور اسکی طرف دیکھا۔
”واقعی؟”
”کل تم دیکھو گے کہ میں کس طرح اس نور کو اپنی جان کی تہوں میں چھپائے بیت المقدس واپس جاتی ہوں؟”
اس شام دو ستارے ایک دوسرے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے۔ احوبہ کے دل میں لافانی خوشی کی موجیں اٹھ رہی تھیں۔
دوسرے دن سورج افق سے ابھی ایک نیزہ بلند تھا۔ چاہ زمزم پر سفید کبوتر پھڑ پھڑا رہے تھے۔ عرار نجد کی کلیاں اپنی ایک روزہ زندگی کے آخری سانس لے رہی تھیں کہ ایک عربی سردار سیاہ گھوڑے پر سوار احوبہ کے خیمے کے باہر کھڑا تھا۔ احوبہ دوڑ کر باہر نکلی اور اسکی رکابیں تھام لیں وہ گھوڑے پر سے نیچے اتر آیا۔
”میرے معزز سردار محسن مہمان کے لیے خیمہ منتظر ہے”۔
خیمہ بہترین ایرانی اور رومی صناعت سے سجا ہوا تھا مشرق کے ملائم ترین ریشم کے پودے لٹک رہے تھے۔ عود و عبیرکی لپٹیں اٹھ رہیں تھیں اور سونے کے طشتوں میں دمشق کی کھجوریں، حجاز کی انگور، شام کے انار چنے گئے تھے، چاندی کے مٹکے قسطنطنیہ کی قیمتی شراب سے لبریز تھے۔
”میرے معزز مہمان کے لیے نبیز مناسب مزاج ہو گی، یہ ایرانی دوشیزاوں کے ہاتھوں کی تیار شدہ ہے اور اس میں ہاتھیوں کے ملک کے مسالے ملے ہوئے ہیں۔ یہ روح و بدن کی تھکاوٹ دور کرتی ہے”۔ اس نے چاندی کی ایک منقش مینا سے جام بھرتے ہوئے کہا۔

عرب نے طلائی پیالے کو منہ سے لگایا اور ایک ہی جرعہ میں اسے خالی کر دیا، اسکی سیاہ بلوریں آنکھوں میں ستارے جگمگا اٹھے۔ اسرار کے بعد احوبہ نے اجازت لی اور تبدیلی لباس کے لیے دوسرے خیمہ میں آ گئی۔ سمیہ صندلی آئینہ لئے بیٹھی تھی احوبہ اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ سمیہ نے یمنی زیتون کا تیل اس کے سر میں ڈالا اور اسکی بالوں میں بحیرہ احمر کی خونباب موتی پرونے لگی۔ پھر اس نے طلائی تاروں سے گندھا ہوا موہاف اسکے ریشمی اور چمکیلے بالوں میں باندھ دیا۔

”بنت بریرہ، آج تمہاری ماں زندہ ہوتی تو رشک سے جل جاتی۔
احوبہ اپنے خیالات میں کھوئی ہوئی تھی۔ اسکی آنکھیں ہونے والے حادثہ کے تخیل سے مست ہو رہی تھیں۔ پھر سمیہ نے اطلس کا وہ لباس نکالا، جس کے اندر ایران کے یک صد کاریگروں نے اپنے ناخنوں سے سونے کے تار پروئے تھے۔ احوبہ نے اپنے گلے میں دجلہ و فرات کے باریک گھونگھوں کی مالا ڈالی۔
وہ زینت و آرائش سے فارغ ہو چکی تو سمیہ ایک نقرئی صندوقچی لے آئی۔
”ہرمقس کی بیٹی، میں اپنے ساتھ بیت المقدس کی خاک لے آئی تھی۔ یہ اپنی تاثیر سے تمہیں اپنے پاس بلا لے گی”۔
سمیہ نے مٹی کی ایک چٹکی لی اور اس کے لباس اور بالوں پر چھڑک دی پھر احوبہ تبوک کے درویش کے پاس آئی، وہ مراقبہ میں بدستور محو تھا۔
سورج ریتلے افق میں آہستہ آہستہ دھنس رہا تھا۔
”مقدس راہب، گواہ رہو، میں موسیٰ ؑو عزینہؑ کی ناموس بیت المقدس واپس لیے جا رہی ہوں”۔
احوبہ نے خیمہ کی طرف قدم اٹھایا، لیکن درویش نے ایک لمحہ توقف کا اشارہ کیا۔ اس کے قریب ہوتے ہوئے دیکھ لینا کہ دو ستارے بھی ویسے ہی قریب ہو گئے ہیں یا نہیں”۔
جب وہ اندر داخل ہوئی تو عرب مردانگی کا جوہر نرم قالینوں پر لیٹا ہوا انگور کے خوشے سے انگور منہ سے توڑ توڑ کر کھا رہا تھا۔
”میں آ گئی ہوں، لالہ صحرا!”
اس نے لیٹے لیٹے اس کی طرف دیکھا اور انگور کھانے میں مشغول رہا۔
احوبہ اس کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ میں تمہیں خوابوں میں دیکھا کرتی تھی، مجھ کو معلوم نہ تھا کہ تم فاران کے سایہ تلےملو گے؟
عرب بولا ”اے ارض مقدس کی پروردہ، تمہیں سرزمین بطحا خوش آمدید کہتی ہے۔ ”
”معزز سردار! یہ خاک تمہارے نور ہی سے روشن ہے”۔
قرشی نے دوشیزہ کی طرف دیکھا”۔ عرب کو کسی کے منہ سے کوئی تعریف سنناگوارا نہیں، وہ اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہے، تو صرف اپنی زبان سے، ورنہ مطلقا نہیں”۔
احوبہ نے ایک جام بھرا جسے وہ غٹ غٹ کر کے پی گیا۔
صحرا کے آسمان پر سیاہی کے پردے تن رہے تھے۔ دم بدم احوبہ کا دل گرتا، ابھرتا، اسے ایسا محسوس ہوا گویا وہ تختہ دار پر چڑھ رہی تھی۔ ۔ عورت ناکامی کو دیکھنے کی بجائے اپنی آنکھیں بند کر لینا زیادہ بہتر سمجھتی ہے، اگرچہ اندھیرا چھا رہا تھا، لیکن وہ آسمان کی جانب آنکھیں اٹھانا نہ چاہتی تھی۔
جب مہمان اٹھ کر بیٹھ گیا، اس کا چہرہ اس کے چہرہ کے قریب آرہا تھا۔ احوبہ کھڑی ہو گئی ” ذرا ٹھہرو”۔ وہ دروازے میں آن کھڑی ہوئی۔ اس کا دل زور زور سے کانپ رہا تھا۔ وہ آسمان کی طرف دیکھنا نہ چاہتی تھی۔ لیکن اس کی آنکھیں خود بخود اٹھ گئیں مگر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہاں تو صرف ایک ہی ستارہ چمک رہا تھا، اس کا سر چکرا گیا۔
”تم شادی شدہ ہو؟” احوبہ نے نحیف آواز میں پوچھا۔
”ہاں”
”تم کل رات اپنی بیوی سے ملے تھے؟”
”ہاں، اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا”۔ یہ ملاقات عرصہ درازکے بعد تھی”۔
”پھر یہاں سے نکل جائو” احوبہ یکایک چیخی وہ دیوانہ وار اسکی طرف بڑھی اور پھلوں سے بھرے ہوئے طشت الٹ کر اسے باہر دھکیلنے لگی”۔ نکل جائو، نکل جائو”۔ وہ چمگاڈر کی طرح چیخ رہی تھی،
عرب متحیر پھٹی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
”یہ لو اپنا خنجر، نکل جائو”۔
اس نے عرب کا طلائی خنجر اپنی آستین سے نکالا اور اس کے سر پر زور سے دے مارا”۔ میں تمہیں ہرگز ہرگز دیکھنا نہیں چاہتی”۔
عرب کوئی لفظ کہے بغیر باہر نکل گیا۔ چند لمحوں کے بعد دور سے گھوڑے کی ٹاپیں گہری سیاہی میں گونج کر ڈوب گئیں۔
رات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عورت کی طرح بال بکھیرے آسمان پر پھیل رہی تھی۔ چمکدار ستارہ روشن آنکھ کی طرح زمین دیکھ رہا تھا۔ اپنےقریب سے احوبہ نے گویا ہنسی کی آہٹ سنی، اس نے تبوک کے درویش کی طرف دیکھا، وہ ستارے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
احوبہ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا اور
پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، یا یہود یا یہود ”۔

دنوں کا سفر مہینوں میں کٹ رہا تھا۔ اب احوبہ کے لیے کونسا ٹھکانہ تھا؟
وہ ابھی حجازکی آخری سرحد ہی تک پہنچی تھی کہ اس نے قافلےوالوں کی زبانی سن لیا کہ کعبہ کے تین سو ساٹھ بت ایک دن اوندھےگر گئے اور نوشیرواں کے ملوکی محل کی برجیاں ایک زلزلے سے سرنگوں ہو گئیں۔
اس نے ساربان کو پھر مکہ لوٹنے کا حکم دیا۔
جب وہ منیٰ کے قریب پہنچی تو اس نے اونٹنی روک لی اسکی صورت تو پہلے ہی بدل چکی تھی۔ اس نے اپنا لباس بھی بدل لیا، اسی حالت میں وہ مکہ میں داخل ہوئے، اب کے وہ پیچھے پیچھے چل رہی تھی اور سمیہ آگے آگے۔
سمیہ نے ایک عورت سے پوچھا ”محترمہ جس دن کعبہ کے بت گرے تھے، اس دن کس گھر میں بچہ پیدا ہوا تھا”۔
عورت نے انگلی سے ایک خستہ حالت کچے مکان کی طرف اشارہ کیا۔ یہ دونوں مکان کی طرف بڑھیں۔ اس مکان کی دیواریں قد آدم سے کچھ ہی بڑی ہونگی۔ انہوں نے کھٹکھٹائے بغیر دروازہ کھول دیا اور اندر داخل ہو گئیں۔ کچی کوٹھری کے اندر نور کی ایک شمع جل رہی تھی۔ وہی عورت جسے ایک دن اس نے بیول کے درخت کے نیچے دیکھا تھا، اپنی گود میں ایک بچہ لیے بیٹھی تھی۔
احوبہ نے اس کی طرف دیکھا اور یک بیک اسکا دل ایک چنگاری سے سلگ اٹھا۔ وہ اس منظر کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکی۔ اسکا سر چکرانے لگا اور وہ باہر نکل آئی۔
پورے تریپن برس بعد ایک نئی امت جو اپنے آپ کو ملت ابراہیمیہ سمجھتی تھی۔ اور اپنے لیے مسلم کا لفظ پسند کرتی تھی۔ پورے ایک ماہ کے روزے رکھ رہی تھی، کہا جاتا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدائے ارض و سماوات کے ہاں رہن رکھ دی تھیں۔ ان کے نزدیک فرمانروائی کا حق کسی انسان کو نہ تھا بلکہ ایک حق صرف اسی کے لیے مخصوص تھا۔ جس نےانھیں خلق کیا تھا اور وہ تمام انسانوں کو ایک ہی جڑ کی شاخیں تصور کرتے تھے۔ ایک ماہ بعد ایک شام یثرب کی انگلیاں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔ مسلمان خوشیاں منا رہےتھے۔ اور ان کے ہاتھ دعا میں آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے۔

جب الھڑ لڑکیاں ڈھولکیوں پر جنگ یغاث کے گیت گانےلگیں تو ایک ضعیف بڑھیا یہ شور سن کر ہانپتی کانپتی چھت پر آئی، آسمان کے مغربی گوشہ میں ہلال نو ریشمی آسمان پر جھومر کی طرح لٹک رہا تھا، یکا یک اسے یعقوب و اسحاق کے باپ کی دعا یاد آئی، جو اس نے حرم کعبہ کی اینٹیں چنتے ہوئے کی تھی۔

”الہی ! ان انسانوں کے درمیان اپنا ایک رسول بھیجیو، جو ان کو تیری آیات سنائے۔ انھیں قانون و تدبر سے روشناس کرائے اور ان کی زندگیوں کو صیقل کر دے۔ الہی ! تو ہی غالب اور حکمت والا ہے”۔

ختم شد

 پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں          دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں               تیسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: