سوز عشق : گل وچوں ہور اے —- لالہ صحرائی

0
  • 191
    Shares

علامہ اقبال نے کہا تھا:

وقت است کہ بکشائم مے خانۂ رومی باز
پیرانِ حرَم دیدم در صحنِ کلیسا مست

اب وقت آگیا ہے کہ میں حضرت رومیؒ کا میخانہ دوبارہ کھولوں، اسلئے کہ میں نے حرم کے پِیروں کو کلیسا کے صحن میں مست دیکھا ہے یعنی ہمارے امام ہی راہ سے کُراہ پر گامزن ہیں، یہی صورتحال آج بھی درپیش ہے، دین کی راہ میں عشق کا دم بھرنے والے بہت ملیں گے مگر اس نام کے حقیقی معنوں سے آشنا کوئی ہے نہ اس کی حدت اور چاشنی سے لبریز کوئی ملتا ہے، نتیجۃً عشق کی راہوں میں ہانکنے والے خود بھی رٌسوا ہیں، مقاصد بھی لاحاصل اور ان کے پیروکار بھی نیکی برباد اور گناہ لازم والی منزلوں پر بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

عشق کرنا کسی سطحی ذہنیت کا کام نہیں، یہ کام بڑے اعلیٰ درجے کی زیرک اور باہمت شخصیات کا وطیرہ رہا ہے جو ظاہری و باطنی نگاہوں سے دنیا و مافیہا کی ماہیت و حیثیت کو خوب جان چکے ہوتے ہیں، عبدیت کا شعور ان کی گھٹی میں پڑا ہوتا ہے، فنا اور بقا کے سارے زاویے ان کے وجدان میں رقص کناں رہتے ہیں، جس کسی نے بھی معرفت پا لی وہ عشق کے مدار میں داخل ہو گیا اور اپنی آگہی کے پیچھے صدقِ دل سے کھڑا بھی رہا، گویا جہاں اقرار بااللسان و تصدیق بالقلب و عملاً متقبلاً ہے دراصل وہیں پر عشق ہے اور جہاں عشق ہے وہاں کربلا ہے، جہاں گلزار معرفت کھلتا ہے، صحرائے بدر و حنین بھی وہیں رونما ہوتا ہے، جہاں عشق ہے وہیں دارورسن سجتا ہے، جہاں معرفت پیدا ہوتی ہے وہیں سوز و گداز بھی در آتا ہے۔

میرے حساب سے عشق مجہول محض نہیں بلکہ یہ عقل کا ہائیسٹ ورژن ہے لیکن بیخودی کی منزل پر کھڑے عاشق کو دیکھ کر کم عقل لوگ اسے مجہول محض سمجھ کے نعرہ لگاتے ہیں، عشق دے جھلے ای بازی لے گئے، اور ساتھ ہی اپنی کم مائیگی کو عشق کا جامہ پہنانے کی ناکام سعی کرتے ہوئے دنیا کا تماشا بن جاتے ہیں۔

عشق کا لفظ جہاں بھی استعمال ہوا ہے وہ ایک سمجھ بوجھ کے تحت پیدا ہونے والی سول افرمیشن sole affirmation صمیم قلبی اور مستقل مزاجی consistency کیلئے استعمال ہوا ہے نہ کہ بے سوچے سمجھے کی چھلانگ کے طور پہ جانا پہچانا گیا، جس نے بھی اس راہ میں قدم نکالا بہت سوچ سمجھ کے نکالا ہے اور پھر اس راہ میں ایسا ڈٹ کے کھڑا ہوا کہ جان گئی تو گئی مگر ایمان کا وقار اور عشق کی حدت ماند نہیں پڑنے دی۔

So, in my opinion, on the whole: wisdom is a tool to recognize importance of something and love/ ishak/ devotion/ passion/ obsession is to stand affirm on the charter discovered by the wisdom.

آتش نمرود میں کود جانے والا عشق بھی بلا سوچے سمجھے کی چھلانگ اور بلا اجازت کیا گیا کام نہیں تھا اس لئے کہ پیغمبر علیہ السلام کبھی بھی لاشعوری طور پر یا بغیر حکم کے اپنی مرضی سے کوئی قدم نہیں اٹھاتے، ان کے افعالِ مقدسہ میں ان کے شعور کا فیصلہ ہوتا ہے یا پھر حکم ربی کا دخل ہوتا ہے، جیسے آگ میں جانا ایک شعوری فیصلہ تھا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کرنا حکم ربی کے تحت تھا، جیسے حضرت موسٰی علیہ السلام کا طور پہ رب ارنی کہنا شعوری فیصلہ تھا اور جادوگروں کے مقابلے پر آنا حکم ربی کے تحت تھا اور سیدالشہداء علیہ السلام کا منفرد و بالا مقام عشق جو ہر عشق کی نہایت ہے۔

غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسینؑ ابتدا ہے اسماعیلؑ

قرطاس عالم پر عشق حقیقی کے انمٹ نقوش چھوڑنے والے گروہ انبیاءاکرامؑ کے اہلبیتؑ تھے یا ان کے اصحابؓ تھے پھر ان نفوس قدسیہ کے پیروکاروں میں معبد سے لیکر مقتل تک اور سوز جگر سے لیکر ادب نوائی تک ہر راہ نورد شوق نے اس کوچہء عشق میں اپنا اپنا رنگ خوب جمایا ہے، اس میدان میں ہمیشہ دو ہی گروہ غالب رہے ہیں، پہلا جس نے بوقت ضرورت دین متین کی عزت و ناموس پر پہرہ دیا حتٰی کہ اپنی جانیں بھی اس راہِ عزیز میں نچھاور کر دیں، دوسرا وہ جو قرطاس و قلم تھام کر مسندِ عشق پر بیٹھا اور قلبی واردات و باطنی احساسات کو علمی و ادبی پیرائے میں اگلی نسلوں کو گرمانے اور ان کیلئے مشعل راہ بنانے کی خاطر قلمبند کرتا رہا، یہ دونوں کام ہی اپنی اپنی جگہ ازحد ضروری تھے، اس کے علاوہ کسی نے عشق میں کوئی اور راہ اختیار کی ہو تو صحائف عشق میں اس کا زندہ رہنا تو درکنار، ایسوں کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملتا.

بدروحنین سے لیکر ریاست مدینہ کی پرورش کیلئے اصحاب قدسیہؓ کی تگ و دو، اصحاب راشدہؓ سے لیکر معرکہ کربلا تک سب کچھ اس ایک شعر میں قلمبند ہے:

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے

میرزا غالب نے کہا تھا:

بزمِ ترا شمع و گُل، خستگیِ بُو تراب … سازِ ترا زیر و بم، واقعۂ کربلا

اے خدا تیری محفل کی شمع و دلکشی جناب بُوتراب کی جدوجہد سے ہے اور واقعۂ کربلا تیرے ہی ساز کے زیر و بم ہیں یعنی مشیت ایزدی اور اس پر قافلہء کربلا کا لبیک کہنا عشق حقیقی کی معراج ہے۔

پھر کہانی اگلی نسل میں منتقل ہوئی، شاہوں کی مصاحبت اختیار کرنے کا حکم آیا تو امام اعظمؒ نے عہدہ قضا لینے سے انکار کر دیا اور اس سیاسی رشوت کو ٹھکرانے کی قیمت اپنی جان سے ادا کر گئے، جبری طلاق کا مسئلہ آیا تو امام مالکؒ نے اسے برملا غلط کہا، دوسروں کی خوبصورت بیویوں کو طلاقیں دلوا کر داخلِ حرم کرنیوالے شاہوں کے غضب کو اس انکار کی قیمت امام مالکؒ نے اہل حکم کے ہاتھوں شدید صعوبتیں اٹھا کر ادا کی، امام شافعیؒ نے خلق قرآن کے معاملے میں شاہوں کی مخالفت اور ان کے کوڑوں کا بھرپور مقابلہ کیا، حضرت حسن عسکریؒ کا بڑھتا ہو روحانی اقتدار اور علمی مرجعیت سلاطین کے لیے ناقابل برداشت ہوئی تو معتمد عباسی کے بھجوائے ہوئے زہر سے جام شہادت پا گئے، شیخ منصور نے جو دیکھا وہ بیان کیا اور اس بیان کی قیمت اپنی جان سے ادا کر گئے مگر حضوری کی اس کیفیت سے مراجعت اختیار نہ کی، ان کی شہادت کا بدلہ لینے کو دجلہ میں شدید طوفان اٹھا تو انہی کی گدڑی دکھا کر شانت کر دیا گیا، سو سال بعد فریدالدین عطارؒ پر فیض کی تجلی کی تو حضرت عطارؒ سے پندنامہ جیسا شاہکار ظہور پزیر ہوا۔

شیخ فریدالدین عطار کہتے ہیں:

بجز غم خوردنِ عشقَت، غمے دیگر نمی دانم
کہ شادی در ہمہ عالم ازیں خوشتر نمی دانم

تیرے عشق کے غم کے سوا مجھے کوئی اور غم نہیں ہے اور میں سارے جہان میں اس سے بہتر خوشی کی کوئی اور بات نہیں جانتا کہ مجھے فقط تیرا غم ہے۔

سرمد شہید نے کہا تھا:

عمریست کہ افسانۂ منصور کُہن شُد
من از سرِ نو جلوہ دہَم دار و رسن را

مدت گزر گئی ہے، شیخ منصور کا قصہ اب پرانا ہو گیا ہے اسلئے میں نئے سرے سے دار و رسن پر جلوہ افروز ہونگا تاکہ عاشقوں کی یہ روایت زندہ رہے۔

اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ سرمد شہیدؒ کا قتل سیاسی چپقلش کا شاخسانہ تھا، داراشکوہ کی دوستی ان کی جان لے گئی مگر جو بات ہمارے آپ کے نزدیک ستم اور انہونی تھی وہ دیدار حق کی خاطر سرمدؒ صاحب کیلئے زرا بھی دردناک نہیں تھی۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے، زرا تمکنت ملاحظہ کیجئے کہ جلاد جب تلوار لے کے سامنے آیا تو حضرت سرمدؒ نے یہ شعر پڑھا:

سر جدا کرد از سرم شوخیکہ ما با یار بُود
قصہ کوتہ کرد ورنہ دردِ سر بِسیار بُود

یار نے میرے ساتھ یہ احسان کیا کہ میرا سر کاندھوں سے اتروا دیا، اچھا کیا کہ یہ قصہء حیات کوتاہ کر دیا ورنہ ہجر میں جینے کا یہ دردِ سر یونہی لگا رہتا۔

جلاد جب وار کرنے لگا تو حضرتؒ نے یہ شعر کہا:

عریانیء تن بود غبارِ رہِ دوستاں
نیز بہ تیغ از سرِ ما وا کردند

میری عریانی دوستوں کے راہ کا غبار تھی اور یہ تیغ کیساتھ میرا سر قلم کرنا بھی اسی راہ میں ہے۔

سرمد شہیدؒ نے اپنا قلم کیا ہوا سر اٹھایا اور یہ کہتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھنے لگے، میں منبر اقدس پہ جا کے بارگاہ پاک میں استغاثہ کروں گا کہ شاہوں نے ناحق میرا خون کیا ہے لیکن ایک صاحب ولایت کی مداخلت سے آپ رک گئے اور اپنا سر زمین پر رکھ کے لیٹ گئے، وہیں جامع مسجد دہلی کے قریب اسی جگہ ان کا مدفن بنا۔

حضرت سرمدؒ کی چند رباعیات دیکھئے:

سرمد غمِ عشق بوالہوس را نہ دہند
سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
ایں دولتِ سرمد ہمہ کس را نہ دہند

اے سرمد، غمِ عشق کسی بوالہوس کو نہیں دیا جاتا، پروانے کے دل کا سوز کسی شہد کی مکھی کو نہیں دیا جاتا، عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے، یہ سرمدی اور دائمی دولت ہر کسی کو نہیں دی جاتی۔

از منصبِ عشق سرفرازَم کردند
وز منّتِ خلق بے نیازَم کردند
چو شمع در ایں بزم گدازم کردند
از سوختگی محرمِ رازم کردند

ہمیں منصب عشق سے سرفراز کر دیا، اور خلق کی منت سماجت سے بے نیاز کر دیا، شمع کی طرح اس بزم میں ہمیں پگھلا دیا پھر اس سوختگی کی وجہ سے ہمیں محرمِ راز کر دیا۔

سرمد تو حدیثِ کعبہ و دیر مَکُن
در کوچۂ شک چو گمرہاں سیر مَکُن
رو راہ روی ز شیطان آموز
یک قبلہ گزیں و سجدۂ غیر مَکُن

سرمد تو کعبے اور بُتخانے کی باتیں مت کر، شک و شبہات کے کوچے میں گمراہوں کی طرح سیر مت کر، مستقل مزاجی سے اپنی راہ پر چلنا شیطان سے سیکھ، ایک قبلہ پسند کر لے اور غیر کو سجدہ مت کر۔

سرمد گلہ اختصار می باید کرد
یک کار ازیں دو کار می باید کرد
یا تن برضائے یار می باید داد
یا قطع نظر ز یار می باید کرد

سرمد گلے شکوے کو مختصر کر، ان دو کاموں میں سے ایک کام کر، یا اپنے آپ کو یار کی رضا پر چھوڑ دے، اگر رضائے محبوب تجھے گراں گزرتی ہے تو پھر تو یار سے تعلق رکھنے کا شوق چھوڑ دے۔

داراشکوہ نے تین سو کے قریب بزرگوں کی شطحات اکٹھی کیں اور کہا، میری شطح یہ ہے کہ یہ سب شطحات میری ہیں، قصہ سیاسی تھا لیکن سرمدؒ کی طرح ان کے بھی اقوال کو بنیاد بنا کر انہیں شہید کر دیا گیا، میاں میرؒ صاحب نے شہید کی میت اپنے آستانے پر منگوا کر تدفین کر دی، کسی نے پوچھا حضرت آپ کا فرمانا تھا کہ ہندوستان کا تخت و تاج داراشکوہ کو ملے گا لیکن ان کے ساتھ تو انہونی ہو گئی، میاں صاحبؒ نے داراشکوہ کی تربت کی طرف اشارہ کرکے کہا، اس میں کیا شک ہے کہ اسے ابدی تخت و تاج ودیعت کر دیا گیا ہے، میری چاہت تھی اسے ولایت ہند ملے اور رب کریم کی چاہت تھی اسے ابدی ولایت ملے، وہ کامیاب ہو گیا اور نواز دیا گیا ہے۔

سلطنت سہل است، خُود را آشنائے فقر کُن
قطرہ تا دریا تواند شُد، چرا گوھر شَوَد
از دارا شکوہ قادری

حکومت کرنا تو آسان ہے، تو اپنے آپ کو فقر کا شناسا کر کہ قطرہ جب تک دریا میں نہ جائے گا، گوہر کیسے بنے گا؟

یہ ہمت و شان ہے اس پہلے گروہ کی جو عشق میں اپنی جان سے گزر جاتا ہے، دوسرا گروہ اہلِ الارشاد کا ہے جنہوں نے عشق حقیقی میں اپنی زندگی کو سر تا پا بیخودی کا مظہر بنا لیا تاکہ پسماندگان و تازہ آوردگانِ کوچہء عشق کو عبدیت کی منازل طے کرتے ہوئے اسوہ اولیاءؒ کی روشنی حاصل رہے اور کہیں بھی کسی مقام پر بھی سالکوں کا قدم ڈگمگانے نہ پائے۔

حاکم وقت نے دربار میں طلب کرکے حضرت جنیدؒ کیساتھ تحمکانہ لہجے میں بدتمیزیاں شروع کیں تو ان کے شاگرد شیخ ابوبکرؒ کی قوت برداشت جواب دے گئی، وہ جس قالین پر بیٹھے تھے اس پر شیر کی ایک تصویر بنی ہوئی تھی، شیخ ابوبکرؒ نے اس تصویری شیر کو تھپکی دی تو وہ اٹھنے لگا، حضرت جنیدؒ نے تھپکی دے کر اسے واپس سلا دیا اور فرمایا، یہ نہ کرو شبلی، ہم علم و حکمت کے لوگ ہیں، ہمیں اس پیشی کو علم و حکمت سے نمٹانا ہے تاکہ دینی خدمات میں رخنہ اندازی نہ ہو، اس مکالمے سے حاکم کی توجہ جب شیخ ابوبکرؒ کی طرف ہوئی تو اس نے نہ صرف تصویری شیر کو بیدار ہوتے ہوئے دیکھ لیا بلکہ حضرت جنید کی تھپکی سے واپس سوتے ہوئے بھی دیکھ لیا اور اپنے بیہودہ سلوک پر لرزہ براندام ہو کر معافی کا خواستگار ہونے لگا۔

شبلی کا لقب ملنے کے بعد دنیائے تصوف و طریقت میں شیخ ابوبکرؒ کو صرف شیخ شبلیؒ کے نام سے جانا جاتا ہے، شبلی کا معنی ہے شیر کا بچہ، ایک دن حضرت جنیدؒ نے کہا، شبلی میں نے آج خواب میں دیکھا ہے کہ شاہِ کونین علیہ السلام نے آپ کے ماتھے پر بوسہ دیا، آپ ایسا کونسا عمل کرتے ہو جو بارگاہ اقدس میں اتنا مقبول ہوا ہے، شیخ شبلی نے کہا، میں ہر شام بعد از نماز مغرب دو نوافل پڑھتا ہوں جس میں یہ آیت لازمی تلاوت کرتا یوں:

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌٌ رَّحِيمٌ۔

بیشک تمہارے پاس تم میں سے ایک باعظمت رسول ﷺ تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں گزرتا ہے۔ اے لوگو! وہ تمہارے لئے بھلائی اور ہدایت کے بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے نہایت ہی شفیق، بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔

شیخ شبلیؒ عشق کی راہوں میں مناجات کہتے ہوئے ایسے دیوانہ وار گزرے ہیں کہ لوگ انہیں دیوانہ ہی کہتے تھے، آپ جواب میں کہتے کہ میں اگر دیوانہ ہوں تو خدا میری دیوانگی کو فزوں تر کرے اور تم اگر ہوشیار ہو تو وہ تمہیں اور ہوشیار بنا دے، شیخ شبلیؒ کہا کرتے تھے۔

کُلُّ بَیتِِ اَنْتَ سَاکِنُہ
غَیْرُ مُحْتَاجِِ اِلی السُّرَجِ
وَجْھُکَ اَلماْمُوْلُ حُجتُنَا
یَوْمَ یاَتی النَّاسُ باِلْحُجَجِ

جس گھر میں محبوب رہتا ہو اسے چراغ کی ضرورت نہیں، اس روز جب سب لوگ اپنی اپنی حُجتیں لے کر حاضر ہوں گے، تیرا چہرہ جو ہماری امید ہے وہی ہماری حُجت ہو گا، حجت بمعنی ہماری کامیابی کی ضمانت، ہماری سچائی کی دلیل یا مضبوط سہارا۔

شیخ ابوسعید ابوالخیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے پیر صاحب ہیں، کامل شیخ، اپنا مدرسہ، ہزاروں شاگرد اور جاگیردارانہ اسٹیٹس رکھتے تھے اس کے باوجود عشق و تقوٰی بھی کمال تھا، آپ کے سامنے ایک مفلوک الحال کو لایا گیا، سائل نے کہا، یہ شخص جواری ہے اور اس کام میں اس نے اپنا گھربار سب کچھ لٹا دیا ہے، شیخ ابوسعید کا چہرہ متغیر ہوا اور بیہوش ہو گئے، بیدار ہوئے تو سائل نے کہا حضرت ہم تو اسے نصیحت کیلئے لائے تھے، یہ آپ کو کیا ہوا، فرمایا دوستو یہ اپنے کام میں بہت کھرا ہے، اس نے جس کام سے عشق کیا اس میں اپنا سب کچھ لٹا دیا اور مجھ پر اس خوف سے لرزہ طاری ہو گیا کہ ہم سب سے بڑی ذات سے عشق کا دعویٰ کرتے ہیں اور ابھی تک سب کچھ سنبھالے بیٹھے ہیں۔

حضرت ابوسعید ابوالخیر کی رباعیات بہت لطف انگیز ہیں، راہ عشق میں ان کے کلام دیکھئے:

تسبیح مَلَک را و صفا رضواں را
دوزخ بد را، بہشت مر نیکاں را
دیبا جم را و قیصر و خاقاں را
جاناں ما را و جانِ ما جاناں را

تسبیح وتحلیل فرشتوں کیلئے، پاکیزگی داروغہ جنت کیلئے، دوزخ بد اور جنت نیک لوگوں کیلئے، قیمتی ساز و سامان جمشید و قیصر و خاقان جیسے بادشاہوں کیلئے ہے، ہمارا کیا ہے، ہمارا صرف محبوب ہے، وہ ہمارے لیے ہے اور ہماری جان اپنے محبوب کیلئے ہے۔

رفتم بہ طبیب و گفتم از دردِ نہاں
گفتا، از غیرِ دوست بر بند زباں
گفتم کہ غذا؟، گفت، ہمیں خونِ جگر
گفتم، پرہیز؟ گفت، از ہر دو جہاں

میں طبیب کے پاس گیا اور اُس سے اپنا دردِ نہاں بیان کیا، اُس نے کہا، غیرِ دوست کے سامنے اپنی زبان بند رکھنی چاہیے، میں نے کہا، اچھا، غذا کیا کھاؤں؟ اُس نے کہا بس خونِ جگر، میں نے کہا اور پرہیز کیا کروں، اُس نے کہا، دونوں جہانوں سے۔

در کعبہ اگر دل سوئے غیرست ترا
طاعت ہمہ فسق و کعبہ دیرست ترا
ور دل بہ خدا و ساکنِ میکده ‌ای
مے نوش کہ عاقبت بخیرست ترا

کعبہ میں اگر تیرا دل غیر کی طرف ہے تو پھر تیری ساری اطاعت فسق ہے اور کعبہ بھی تیرے لئے بتخانہ ہے اور اگر تیرا دل خدا کی طرف ہے پھر چاہے تو میکدے میں رہے، تو بے فکر مے نوش کر کہ تیری عاقبت بخیر ہے۔

تیرے مجنوں کو پہاڑ و صحرا کی پہچان نہیں، اس کیلئے دونوں ایک برابر ہیں، تیرے عشق کا دیوانہ سر اور پاؤں میں فرق نہیں جانتا، ہر کوئی جسے تیری راہ ملی اسے نے خود کو اس حد تک گم کر دیا، ہر کوئی جس نے تجھے پہچان لیا وہ اپنی شناخت بھول گیا۔

مجھے اس بات کا احساس ہے کہ بات کافی طویل ہو گئی ہے اور ابھی تک اس مضمون کا مطمع نظر بھی واضع نہیں ہو سکا کجا یہ کہ کنارے لگتا، مگر اس تحریر میں لطف کچھ ایسا آرہا ہے کہ ابھی اسے کچھ اور طوالت دینا چاہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ:

گاہے گاہے باز خواں ایں دفترِ پارینہ را
تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے سینے کے داغ تازہ رہیں تو پھر کبھی کبھی یہ پرانے قصے بھی پڑھ لینے چاہئیں۔

اس طوالت کا ایک مقصد بقول مرشد اقبالؒ یہ بھی ہے کہ:

نغمہ کجا و من کجا ساز و سخن بہانہ ایست
سوی قطار می کشم ناقہ بی زمام را

نغمہ کیا اور میں کیا، یہ آلاتِ موسیقی اور شاعری سب محض ایک وسیلہ ہیں، اصل کام یہ ہے کہ میں بے لگام اور بھٹکی ہوئی اونٹنیوں کو کسی طرح سے قطار میں لے آؤں۔

صوفیاء نے اطاعت کے معاملے میں، مستقل مزاجی، عزم و ہمت اور عشق و حضوری کی کیفیات کو ہجر، وصال، خونِ جگر، آشفتگی، میخانہ، مےنوشی، قلقل و جام و صبو اور اطوار رندانہ کے استعاروں میں جس طرح چھپا چھپا کے بیان کیا ہے اس کا ایک اپنا حسن ہے، آئیے لگے ہاتھ ان کلاموں کا بھی لطفِ مطالعہ لیتے چلیں۔

مرزا صائب تبریزی فرماتے ہیں:

انتظارِ قتل، نامردی است در آئینِ عشق
خونِ خود چوں کوہکن مردانہ می ‌ریزیم ما

قتل ہونے کا انتظار کرنا عشق کے آئین میں کم ظرفی و کم ہمتی ہے اسلئے میں کوہکن فرہاد کی طرح اپنا خون مردانہ وار بہا رہا ہوں۔

یعنی مجھے عمل کے معاملے میں اپنے اوپر مکمل اختیار حاصل ہے بجائے اس کے کہ کوئی مجھے پکڑ پکڑ کر عمل کی طرف لے جائے میں خود ہی خود کو دوڑائے رکھتا ہوں۔

گرفتم سہل سوزِ عشق را اوّل، ندانستم
کہ صد دریائے آتش از شرارے می شود پیدا

اول اول میں نے سوزِ عشق کو آسان سمجھا اور یہ نہ جانا کہ اسی ایک چنگاری سے آگ کے سو سو دریا جنم لیتے ہیں یعنی آئے دن ایک نیا جذبہ اور اک نیا معرکہ درپیش ہوتا ہے۔

حافظ شیرازی

عَلی الصباح چُو مردم بہ کاروبار رَوند
بلا کشانِ محبّت بہ کوئے یار روند

صبح صبح جیسے لوگ اپنے اپنے کاروبار کی طرف جاتے ہیں، محبت کا دکھ اٹھانے والے عشاق بھی ایسے ہی اپنے دوست کے کوچے کی طرف نکل جاتے ہیں۔

آن دم کہ دل بہ عشق دہی خوش دمے بود
درکارِ خیر حاجتِ ہیچ استخارہ نیست

وقت وہی اچھا ہے جب دل کو عشق میں لگا دیا جائے کیونکہ کارِ خیر کیلئے کسی اجازت و استخارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بحریست بحرِ عشق کہ ہیچش کنارہ نیست
آ نجا جزانیکہ جاں بسپارند چارہ نیست

عشق کا سمندر ایسا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں بجز اس کے کہ بالآخر اپنی جان دے دیں، اس کے علاوہ وہاں کوئی اور چارہ بھی نہیں، یعنی اطاعت آخری دم تک۔

میانِ عاشق و معشوق ہیچ حائل نیست
تو خود حجابِ خودی حافظ از میاں بر خیز

عاشق اور معشوق کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے، اے حافظ تو خود اپنے لیے اپنا پردہ ہے سو درمیان سے اٹھ جا یعنی اپنی اغراضِ ہستی کو ترک کر دے اور جو محبوب کے تقاضے ہیں انہیں من و عن پورا کرتا جا۔

قلبِ اندودۂ حافظ برِ او خرج نَشُد
کہ معامل بہمہ عیبِ نہاں بینا بود

حافظ کے دل کا کھوٹا سکہ اُسکے سامنے نہ چل سکا، اس لئے کہ معاملہ کرنیوالا تمام پوشیدہ عیبوں کا دیکھنے والا تھا۔

اوّل بہ وفا جامِ وصالم در داد
چوں مست شدم دامِ جفا را سر داد
با آبِ دو دیدہ و پُر از آتشِ دل
خاکِ رہِ او شدم بہ بادم در داد

پہلے تو وفا سے مجھے وصال کا جام دیا، جب میں مست ہو گیا تو جفا کا جال ڈال دیا، دو روتی ہوئی آنکھوں اور آگ بھرے دل کے ساتھ، جب میں اس کی راہ کی خاک بنا تو مجھے ہوا میں اڑا دیا۔

میرزا عبدالقادر بیدل:

بستہ ام چشمِ امید از الفتِ اہلِ جہاں
کردہ ام پیدا چو گوھر در دلِ دریا کراں

میں نے دنیا والوں کی محبت کی طرف سے اپنی چشمِ امید بند کر لی ہے اور گوہر کی طرح سمندر کے دل میں اپنا ایک الگ تھلگ گوشہ بنا لیا ہے۔

شاہ نیاز بریلوی:
اے نیاز مجھے قطعی اس بات کا لالچ نہیں کہ لوگ مجھ پر فاتحہ پڑھیں اس لئے کہ خود میرا عشق میرے بعد مجھ پر فاتحہ خوانی کرنے کیلئے باقی رہے گا۔

شیخ فخرالدین عراقی:

مستِ خراب یابد ہر لحظہ در خرابات
گنجے کہ آں نیابد صد پیر در مناجات

مے نوش کو میخانے میں ہر لحظہ جو خزینے ملتے ہیں، وہ سینکڑوں بزرگوں کو مناجات میں بھی نہیں ملتے، یعنی بارگاہ میں حضوری کا سرور۔

حکیم سنائی غزنوی:

آغازِ عشق یک نَظَرش با حلاوتست
انجامِ عشق جز غم و جز آہِ سرد نیست

عشق کا آغاز اس محبوب کی ایک نظر کے ساتھ کتنا شیریں ہوتا ہے، لیکن عشق کا انجام بجز غم اور بجز سرد آہ کے کچھ بھی نہیں ہے۔

چوں دردِ عاشقی، بجہاں ھیچ درد نیست
تا دردِ عاشقی نَچَشَد، مرد، مرد نیست

جیسا عشق کا درد ہے، دنیا میں کوئی اور درد ویسا نہیں اور جب تک کوئی انسان یہ دردِ عشق چکھ نہ لے وہ مرد کہلانے کے قابل بھی نہیں ہے۔

حضرتِ رومیؒ:

حاصلِ عُمرَم سہ سُخَن بیش نیست
خام بُدَم، پختہ شُدَم، سوختَم

میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں، میں خام تھا، پختہ ہوا اور جل گیا۔

چو عشق را تو ندانی، بپرس از شب ھا
بپرس از رُخِ زرد و ز خشکیِ لب ھا

چونکہ تو عشق کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا سو پوچھ ان راتوں سے جو عشاق پر گزرتی ہیں، عشاق کے ان زرد چہروں اور لبوں کی خشکی سے پوچھ کہ عشق کیا چیز ہے۔

ہر کہ اُو بیدار تر، پُر درد تر
ہر کہ اُو آگاہ تر، رُخ زرد تر

ہر وہ کہ جو زیادہ بیدار ہے اسکا درد زیادہ ہے، ہر وہ کہ جو زیادہ آگاہ ہے اسکا چہرہ زیادہ زرد ہے۔

ہزار گونہ ادب، جاں ز عشق آموزَد
کہ آں ادب نتواں یافتن ز مکتب ھا

جان، عشق سے، ہزار قسم کے ادب آداب سیکھتی ہے اور یہ ایسے ادب آداب ہیں کہ کسی مکتب میں نہیں سکھائے جاتے۔

مردہ بدم زندہ شدم، گریہ بدم خندہ شدم
دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شدم

میں مُردہ تھا زندہ ہو گیا، گریہ کناں تھا مسکرا اٹھا، دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گیا۔

باخدا خبر نہ دار م، چوں نماز می گزارم
کہ رکوع شد تمامے، کہ امام شد فلانے

بخدا حضوری میں، جلوہ دیدار میں، یہ خبر نہیں رہتی جو نماز میں پڑھتا ہوں کہ رکوع کب ہوا ہے اور امام کون سا ہے​۔

بوعلی قلندرؒ پانی پتی:

من مستِ خرابات نمازے کہ گذارَم
بانگے نہ قیامے نہ رکوعے نہ سجودے

میں جلوہ جاناں میں گم ہوں اسلئے نماز کیا ادا کروں، نہ اذان ہے، نہ قیام، نہ رکوع، نہ سجدہ، حضوری کے دوران مجھے ان سب کی خبر ہی نہیں رہتی۔

ہاتف اصفہانی:

جاں بہ جاناں کی رسد، جاناں کُجا و جاں کُجا
ذرّه است ایں، آفتاب است، ایں کجا و آں کجا

اپنی جان، جاناں پر کیا واروں کہ جاناں کہاں اور میری جان کہاں، یہ جان ذرہ ہے اور وہ جاناں آفتاب ہے، یہ کہاں اور وہ کہاں۔

محمد رضا عشقی:

من عاشقم، گواہِ من ایں قلبِ چاک چاک
در دستِ من جز ایں سندِ پارہ پارہ نیست

میں عاشق ہوں اور میرا گواہ یہ دلِ چاک چاک ہے، میرے ہاتھ میں میرے پاس اس پارہ پارہ سند کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔

جگر مراد آبادی:

آں کیست نہاں در غم؟ ایں کیست نہاں در دل؟
دل رقص کناں در غم، غم رقص کناں در دل

وہ کیا ہے جو غم میں چُھپا ہے، یہ کیا ہے جو دل میں چُھپا ہے، یہ دل اس غم و الم میں رقص کر رہا ہے، اور وہ غم اس دل میں رقص کر رہا ہے۔

عشق میں ایک خاص بات یہ ہے کہ بندے کے ساتھ یہ خود چاہے جو بھی سلوک کرے مگر اس کی عزت و وقار کا بڑا سخت محافظ بنتا ہے، یہ عاشق صادق کا رعب، احترام، اور دوام اس جریدہء عالم پر ہمیشہ کیلئے ثبت کر دیتا ہے، عشق سچا ہو تو اپنی آبرو کی حفاظت یہ خود کرتا ہے۔

ایک بندے نے عشق کی راہ پر قدم رکھا، ابھی خام تھا، پکا درویش نہیں تھا، وہ جس راستے پر تھا اسی راستے پر حاکم کی سواری آگئی، پیادوں نے اسے ٹھوکر مار کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی تو وہ بگڑ گیا، کہا میں درویش ہو، یہ میرے ساتھ اچھا نہیں کیا، بات بڑھ گئی، حاکم کو خبر ہوئی تو کہا اسے سڑک پر لٹاؤ اور سارا قافلہ اس کے اوپر سے گزارو، یہ سچا ہوا تو بچ جائے گا، جھوٹا ہوا تو اچھا ہوگا کہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا، حاکم کا قافلہ اس کے اوپر سے گزر گیا تو وہ کپڑے جھاڑ کر اپنی راہ چل پڑا۔

شاہ کمالؒ کی سوانح حیات الکمال میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ دیکھنے والا ایک شخص کیتھل شریف میں شاہ کمالؒ کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں وہ کامل درویش نہیں ہے پھر بھی اتنے بڑے لشکر کے نیچے سے صاف بچ کیسے گیا؟

شاہ کمال نے اپنی کمر سے جبہ ہٹایا تو وہاں زخموں کے متعدد نشان تھے، فرمایا بیٹا، ہم نے بھی وہ واقعہ دیکھا تھا، وہ بندہ واقعی خام تھا مگر اس نے درویشی کا دعویٰ کیا تو اسے بچانا مجھ پر لازم ہو گیا تھا ورنہ وہ مارا جاتا اور آئیندہ اس حاکم کے سامنے کوئی سچا درویش بھی آ جاتا تو یہ اس کے ساتھ تفریحاً بدسلوکی ضرور کیا کرتا لیکن اب وہ نہ صرف حیرت زدہ ہے بلکہ اس واقعے کے بعد درویشوں کی عظمت سے خائف بھی ہے۔

ہماری قوم میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کے جذبے بڑے سچے اور کھرے ہیں، اسے جب بھی کوئی، قوم، ملک، سلطنت، ناموس حق و دین اور ایمان کی سرحدوں پر پہرہ داری کیلئے بلاتا ہے یہ قوم صمیم قلب کیساتھ اس کے پیچھے چل پڑتی ہے اس امید پر کہ ہمارا کل سنور جائے گا لیکن ہوتا ہمیشہ اس کے برعکس ہے، آپ نے روٹی کپڑے کا نعرہ لگایا یا تبدیلی کا، اسلامی نظام یا سوادِ اعظم کا، راہ سلوک ہو یا سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ، یہ قوم تو آپ کیساتھ کھڑی ہو گئی، بلآخر مگر ہوا کیا، ہمیشہ فریقین میں فقط ایک ڈیل، غربائے وطن کی چند لاشیں اور سب کچھ بیک فٹ پہ چلا گیا، جہاں سے چلے تھے واپس وہیں پہ جا کھڑے ہوئے۔

والیانِ ملت آپ نے جہاد کو لبیک کہا یا طریقت کو، ناموس حق کو لبیک کہا یا سماجی خدمت کو، جس محاذ پر بھی آپ نے ڈیرے ڈالے اسی کے ہنر کو گہنا کے رکھ دیا۔

میں نے ایک دن شیخ سے پوچھا…
اوئے توجہ…… خاموش…!
بیٹھ جاؤ نیچے …
توجہ میری طرف …

میں نے شیخ سے پوچھا…
کیا وجہ ہے حضرت کہ اس عشق میں اب کوئی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی؟

فرمایا اوئے جھلیا اے کوئی عشق تھوڑا اے
گل وچوں ہور اے

جن کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو ان کا کردار عشاق کے ان دو گروہوں سے زرا میچ کر کے تو دیکھو، کسی میں ان قافلہ سالاروں کے انداز و اطور کسی میں ان کی کوئی خوُ بُو ہے کہ نہیں، اوئے جھلیا، جس کسی نے خوشبو لگا رکھی ہو اسے بتانا نہیں پڑتا کہ اس نے خوشبو لگائی ہے، یہ چیخ چیخ کے بتاتے ہیں کہ ہم اگلوں کے پیروکار ہیں مگر حق یہ کہ ان سے اگلوں کی کوئی خوشبو نہیں آتی۔

شیخ نے مجلس پر ایک نظر ڈالی اور پھر کہا:
اس راہ میں قافلے دو ہی بامراد رہتے ہیں، ایک وہ جو سچائی پر پہرہ دیتے ہوئے جام شہادت پا جائے، دوسرے وہ جو اس راہ کا سوز و گداز جھیلتے اور لکھتے رہے تاکہ اس اندھیری راہ پر روشنی رہے، تیسرا کوئی بھی گروہ جو نام و نمود کا حریص ہو یا مال و متاع کا پجاری وہ اس راہ میں دُھنک کے رکھ دیا جاتا ہے، فتویٰ نویسوں کو پتا نہیں کہ یہ قاضی ازل کا فتویٰ ہے، عشق اپنے متولیوں کو کبھی رسوا نہیں کرتا اور اپنے مجرموں کو کبھی مہلت نہیں دیتا۔

یہ جو گلی گلی رسوائی کے طوق پہنے گھوم رہے ہیں، تو ہی بتا ان کا مقدر رسوائی کے علاوہ اور کیا ہونا چاہئے، ان کی خاک خوامخواہ نہیں اڑائی جا رہی، یہ اپنے پیروکاروں کے سچے جذبوں سے کھیلواڑ کرتے ہیں، ان کے جھوٹے دعووں کو، مغلظ لہجوں، موہ لوبھ، کرودھ، اھنکار اور چُترائی کو حسب دستور دُھنکا جا رہا ہے۔

شیخ نے کہا، یہ عشق کی راہ بڑی خطرناک ہے بیٹا، اس میں جس نے عزت پانی ہے وہ مصفا اور صمیم قلب کیساتھ آئے اور پھر پہلی صف میں کھڑا رہے، مسند، مچان اور دیوان خانوں میں بیٹھ کر دوسروں کے بچوں کو آگ میں جھونکنے سے کوئی رہنمائی ہوتی ہے نہ منزلیں ملتی ہیں۔

شیخ سے مایوس ہو کے میں نے کہا:
مرشد آپ ہی کوئی راہ بتاؤ، کہاں جائیں کیسے چلے، اقبالؒ نے کہا، اوئے جھلیا … گل وچوں ہور اے

تیر و سناں و خنجر و شَمشیرَم آرزوست
با من مَیَا کہ مسلکِ شبّیرَم آرزوست

مجھے تیر و سناں و خنجر و شمشیر کی آرزو ہے، اے آسائش پسند میرے ساتھ مت آ کہ میں مسلکِ شبیرؑ کا شیدائی ہوں۔

میں نے کہا مرشد اقبالؒ لوگ پہلے ہی آپ کو شدت پسندی کا طعنہ دیتے ہیں، آپ کوئی آسان اور لبرل سا راستہ بتاؤ تاکہ بات بنے، مرشد نے کہا اوئے جھلیا… گل وچوں ہور اے

قلندر مَیلِ تقریرے نَدارَد
بجز ایں نکتہ اکسیرے ندارَد
از آں کشتِ خرابے، حاصلے نیست
کہ آب از خونِ شبّیرے ندارَد

اس قلندر کو تقریریں کرنے کا کوئی شوق نہیں، لیکن جو اکسیری نکتہ میرے پاس ہے وہ ضرور بتاؤں گا کہ اس بنجر و ویران سر زمین سے کچھ حاصل وصول ہونے والا نہیں جب تک کہ اس کی آبیاری خونِ شبیرؑ سے نہ کی جائے۔

میں نے کہا مرشد ایسا کوئی لیڈر ہمارے پاس نہیں جو مقدس جرنیلوں اور اماموں کی طرح فرنٹ پہ کھڑا ہو کے لیڈ کر سکے، ہمارے پاس سب وائیٹ کالر ہیں یا دستار فضیلت یافتگان ہیں۔

منیر لاہوری نے کہا اوئے جھلیا گل وچوں ہور اے،

صُوفی و غمِ جبّہ و دستار و دگر ھیچ
ما و ہوسِ دیدنِ دلدار و دگر ھیچ

جو صوفی ہے اسے صرف جبہ و دستار کا غم ہے کہ یہ کسی طرح سے بلند رہیں اور کچھ بھی نہیں، ہم ہیں اور صرف دلدار کی دید کی ہوس ہے، باقی سب کچھ ہیچ ہے۔

میں نے کہا شیخ یہ اتنے نادان تو نہیں ہیں کہ ان امور کو نہ جانتے ہوں، اور رائیگانی سے اپنا پلو نہ بچاتے ہوں، تو شیخ سعدی نے کہا اوئے جھلیا گل وچوں ہور اے

گر از بسیطِ زمیں عقل منعدم گردد
بخود گماں نبرد ہیچ کس کہ نادانم

اگر روئے زمین سے عقل معدوم بھی ہو جائے تو پھر بھی کوئی شخص اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرے گا کہ میں نادان ہوں۔

میں نے کہا شیخ، کیا ان سے اچھے کی امید لگانا چھوڑ دی جائے؟ شیخ سعدی نے کہا

خرما نتواں یافت ازاں خار کہ کشتیم
دیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتیم

جو کانٹا ہم نے بویا ہے اس سے کھجور حاصل نہ ہو گی اور اون کات کر ہم ریشم نہیں بُن سکتے۔

میں نے کہا شیخ ایسے نکتے تو ہمارے رہنما بھی خوب بیان کرتے ہیں تو حافظ شیرازی نے کہا اوئے جھلیا گل وچوں ہور اے

ہزار نکتہ باریک تر ز مو اینجاست
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند

اس مقام میں ہزارہا نکتے ایسے ہیں جو بال سے بھی باریک ہیں، صرف سر منڈا لینے سے قلندری نہیں آتی میاں۔

میں نے کہا مرشد پھر کوئی راہ بتاؤ، اب کیا کریں، مرشد اقبالؒ نے کہا اوئے جھلیا گل وچوں ہور اے

تا شعارِ مصطفی از دست رفت
قومِ را رمزِ حیات از دست رفت ​

جب مصطفوی طور طریقہ ہاتھ سے چھوٹ جائے تو ایسی قوم کے ہاتھ سے سمجھو کہ اصول زندگی بھی چھن جاتا ہے۔

میں نے کہا مرشدو دنیا ہمیں فتح کرنے نکلی ہے، اندرونی خلفشار ایک علیحدہ مسئلہ ہے، اب تو ہم اس قدر جھلا گئے ہیں کہ بات بات پر طیش میں آجاتے ہیں، جھنجھلاہٹ کے باعث ہماری گفتگو میں مغلظات تک در آئی ہیں۔

یہ سن کر مرشدی حکیم سنائی نے فرمایا برخوردار…!

بر خود آنرا کہ پادشاہی نیست
بر گیاہیش پادشاہ شمار

جس شخص کو اپنی ذات پر حکمرانی نہیں تو اسے صرف گھاس پر بادشاہ شمار کر وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جسے ایک تنکے پر بھی اختیار نہیں۔

مسعود سلمان نے کہا اے دوست…!

ہمہ از آدمیم ما، لیکن
او گرامی تر است کُو داناست

ہم سب ہی انسان ہیں لیکن زیادہ معتبر و معزز وہ ہے جو ہم میں زیادہ دانا ہے۔

اس موقع پر سیدی عرفی شیرازی کہاں چپ رہنے والے تھے یوں گویا ہوئے کہ عزیز من، گفتار میں، کردار میں، زبان میں، اختیار اور بے باکی میں حد سے تجاوز اچھا نہیں ہوتا یہاں تک کہ دوست کا دیدار بھی اس کی منشا سے زیادہ نہیں کیا جاتا چہ جائیکہ ان امور میں تم اپنی حدود خود طے کرنے لگ جاؤ۔

قبولِ خاطرِ معشوق شرطِ دیدار است
بحکمِ شوق تماشا مکن کہ بے ادبی است

دوست جس حد تک پسند کرے اسی حد تک نظارہ کرنا چاہیئے، اپنے شوق کے موافق نہ دیکھ کہ یہ بے ادبی ہے۔

عمر خیام نے ایک سرد آہ بھری اور کہا اے پسر تو بھی کوئی بلانوش ہے جو کہیں دم لینے کو تیار نہیں، رک جا زرا، اب دم لے لے اور قصہ کوتاہ کر، اگر تیرے پاس مناسب الفاظ نہیں تو اپنے سماج میں میرے الفاظ میں یہ پیغام نشر کر دے۔

اے مفتیِ شہر از تو پُرکار تریم
با ایں ہمہ مستی از تو ہشیار تریم
تو خونِ کساں خوری و ما خونِ رزی
انصاف بدہ، کدام خونخوار تریم

اے مفتیِ شہر ہم تجھ سے زیادہ کارآمد ہیں، اس تمام تر مستی کے باوجود تجھ سے زیادہ ہوش مند ہیں، تو لوگوں کا خون پیتا ہے اور ہم انگور کا، تُو خود ہی انصاف کر ہم میں سے زیادہ خونخوار کون ہے۔

پیر رومیؒ نے کہا، گویا کہ تمہارے ہاں قحط الرجال کا موسم اپنے عروج پر ہے لیکن مایوس مت ہونا، ہوتا ہے بلکہ بارہا ایسا ہوا ہے۔

دی شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست

ابھی کل ہی کی بات ہے ایک شیخ چراغ لیئے سارے شہر کے گرد گھوما کیا اور کہتا رہا کہ میں شیطانوں اور درندوں سے ملول ہوں اور کسی انسان کو دیکھنے کا آزرو مند ہوں۔

نظیری نیشاپوری نے محفل پر ایک پرخیال نظر ڈالی اور مدھم سی آواز میں کہا، ہوووووں… تمہارا مسئلہ اب کچھ کچھ سمجھ میں آیا ہے، تم لوگوں نے دراصل نااہلوں اور ہوس پرستوں کو بجان و دل اپنا پیشوا بنا رکھا ہے اور ان کے پیچھے مست الست پھرتے ہو۔

ایں رسمہائے تازہ ز حرمانِ عہدِ ماست
عنقا بروزگار کسے نامہ بَر نہ شُد

یہ تازہ رسمیں ہمارے عہد کی حرماں نصیبی کی پیداوار ہیں ورنہ اس زمانے میں بھلا کسی نے عنقا کو بھی اپنا نامہ بر بنایا ہے کبھی۔

میں نے کہا اے محفلِ مرشدانِ ذیشان، ہماری حالت واقعی کچھ ایسی ہے کہ ہم زبان حال سے اس شعر کے مصداق فریاد کناں ہیں، اس دقت کا کوئی علاج تجویز فرماویں تو سوزِ جان کچھ ہلکا ہو۔

ہر کجا رفتم غبارِ زندگی درپیش بُود
یارب این خاکِ پریشاں از کجا برداشتم

میں جس راہ پر بھی چلتا ہوں زندگی کا غبار میرے آڑے آتا ہے، یارب ایسی خاکِ پریشاں کو مجھے کب تک جھیلنا پڑے گا۔

میرزا بیدل اس بے بسی پر جلال میں آگئے، فرمایا اے عزیز من، گل وچوں ہور اے

بسازِ حادثہ ہم نغمہ بُودن آرام است
اگر زمانہ قیامت کُنَد تو طوفان باش

سازِ حوادث کے ساتھ ہم نغمہ ہونے اور سُر ملانے میں ہی آرام ہے، اگر زمانہ قیامت برپا کرتا ہے تو تُو اس کے آگے طوفان بن جا۔

مگر اس سے پہلے عشق کا وہ سارا اخلاص اپنے اندر جذب کرلے جو اس مجلس عشاق کا طرہء امتیاز رہا ہے، دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ سوز عشق صرف اپنے وفاداروں کا وقار پالتا ہے اور شاہ کمال جیسے باکمال نہ سہی پھر بھی بہت کمال رکھنے والے اس جہان میں ہر دم رواں دواں رہتے ہیں مگر وہ ان جھوٹوں کی پیٹھ پر اپنا دامن بچھانے کو تیار نہیں جو اپنی چترائیوں سے اپنے دعویٰ عشق کا وقار کھو بیٹھے ہیں ورنہ کوئی شاہ کمال کسی محاذ پر ڈٹے ہوئے درویشوں کو کسی حاکم کی تضحیک کا نشانہ کبھی نہ بننے دیتا۔

مرشد اقبالؒ نے فرمایا
ایک اور بات کا بھی خیال رکھنا

آں عزم بلند آور، آں سوزِ جگر آور
شمشیرِ پدر خواہی، بازوئے پدر آور

پہلے وہ عزم بلند کر، وہ سوز جگر پیدا کر جو تمہارے آباء کا لازمہ تھا، اگر باپ کی تلوار اٹھانے کی خواہش ہو تو پہلے اپنے باپ کے سے بازو لاؤ ورنہ بات نہیں بننے والی۔

گماں مبر کہ بپایاں رسید کارِ مغاں
ہزار بادۂ نا خوردہ در رگِ تاک است

اور مایوسی گناہ ہے، تم یہ خیال نہ کرنا کہ کارِ مغاں کا کھیل اب ختم ہو چکا، اسلئے کہ ابھی تک ہزاروں قسم کی نہ پی گئیں شرابیں انگور کی بیل میں موجود ہیں۔

امیر خسرو نے میرے جھکے ہوئے شانوں پر تھپکی دی اور کہا دل چھوٹا نہ کر بیٹا۔

ناخدا در کشتیٔ ما گر نباشد گو مباش
ما خدا داریم، ما را ناخدا درکار نیست

اگر ہماری کشتی میں ناخدا نہیں ہے تو کوئی ڈر فکر نہیں کہ ہم ایک خدا رکھتے ہیں اور اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی ناخدا کی محتاجی درکار بھی نہیں وہ مسبب الاسباب ہے کوئی راہ کوئی راہنما ضرور دے گا، کاطر جمع رکھ، ایسے موقعوں کیلئے ہی سوز عشق کا در کھولا گیا تھا تاکہ اندھیروں سے لڑنے والے عشاق پیدا ہوں۔

یوں تو مرشدوں نے اپنے فیض کے دریا بہا دئے مگر جہاں اس مجلس سے نکلتے ہوئے مجھے شاہ خسرو کی بات سے کچھ ڈھارس بندھی ہے وہیں میرزا بیدل کی اس خدا لگتی سے بھی صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔

مرا ز روزِ قیامت غمے کہ ہست،اینست
کہ روئے مردُمِ عالم دوبارہ باید دید

روزِ قیامت کا مجھے جو غم ہے وہ یہی ہے کہ دنیا کے ان بے فیض لوگوں کا چہرہ مجھے دوبارہ دیکھنا پڑے گا۔

امید تو اچھے کی ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ گھوم پھر کے اس دنیا میں وہی بے فیض لوگ پھر سے ہماری رہنمائی کو دوبارہ سامنے آجاتے ہیں جو پہلے بھی ہمیں کئی بار لوٹ چکے ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: