بانجھ پارلیمان : محمد خان قلندر

0
  • 62
    Shares

فرض کیجیئے کہ ایک خاندان میں چالیس سال تک کوئی فطری اولاد نہیں ہوتی چنانچہ وہ ادھر ادھر سے بچے گود لے کے کُنبہ بناتے ہیں. پھر وہ گھرانہ کیسے خوشحال ہو سکتا ہے؟ جب غیر فطری طور پر پوری کی گئی نفری میں اجتماعی یگانگت اور باہمی تعاون کی سوچ کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟

آپ 1977 سے 2017 کے چار عشروں کا جائزہ لیں۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی محمدخان جونیجو کی سربراہی میں پارلیمنٹ بحال کی. جنرل مشرف نے بھی میر ظفراللہ خان جمالی، چوہدری شجاعت حسین اور پھر شوکت عزیز کو پارلیمنٹ سے ہی وزیراعظم بنایا۔ بینظیر بھٹو کو دو مرتبہ اور نواز شریف کو تین بار وزارت عظمی ملی، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو پارلیمان سے ہی وزارت عظمی سونپی گئی اور اب شاہد خاقان عباسی بھی اسمبلی سے اکثریتی ووٹ کے تکلف سے ہی وزیراعظم ہاؤس میں مقیم ہیں.

لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان سب میں سے کوئی ایک بھی جمہوری طریقے سے ارکان اسمبلی کی دیانت دارانہ ذاتی رائے کی اکثریت سے منتخب ہوسکا ہے؟ یا سب کسی مقتدر ہستی اور حلقے کی آشیرباد سے اور اشارہ ابرُو پر لیڈر آف دی ہاؤس بنے. کیا یہ سب انتظام ہمیشہ ہی جوڑ توڑ، جُگاڑ، لین دین موقعہ پرست مصلحت اور مصالحت سے مرتب کیا گیا؟

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ چند درجن مستقل “ریلو کٹے” ہر شیر دار کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ تو ان اور ایسے اجزاء ترکیبی کا مرقع ادارہ اپنا آئینی کردار کیسے ادا کر سکتا ہے؟ جمہوریت تو اس قول کی تشریح ہے کہ “زبان خلق کو نقارہء خدا سمجھو” عوام کی اجتماعی دانش سے ان کے جملہ مسائل کے حل نکل آتے ہیں۔ اس طرح کہ پارلیمنٹ لوگوں کی نمائندگی کا آزاد، خود مختار، بااختیار اور ذمہ دار ادارہ ہو، جو اپنی مجموعی کارکردگی سے ریاست کے سب اداروں میں نظم و ضبط، ڈسپلن، قوائد و ضوابط کی پابندی اور آئین و قانون کے مطابق مملکت کے امور کو چلانا یقینی بنائے، ریاست کے وسائل کی حفاظت، ملکی سلامتی، عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ، امن و امان، اور ملک کی معیشت کی محافظ ہو۔ حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کو جواب دہ ہو۔

پارلیمان،جہاں آئین ساز ادارہ ہے وہیں یہ آئین کی پاسداری کا ذمہ دار اور نگہبان بھی ہے. ہر رکن آئین سے وفاداری کے حلف کا پابند ہے، ریاست سے مشاہرہ یا تنخواہ وصول کرتا ہے تو ریاست کے کل وقتی ملازمت کے قوائد و ضوابط بھی اس پر لاگو ہیں.اس کے بعد کوئء ذاتی کاروبار یا مالی منافعت کا کوئی اور کام نہیں کر سکتا. مقننہ کا رکن ہونے کے حیثیت سے اس نے اپنا فرض ذاتی، خاندانی اور پارٹی مفاد سے بالا تر ہو کر ادا کرنا ہے، اگر سب اراکین دیانت اور خلوص نیت سے اپنے آئینی اور منصبی فرائض ادا کر رہے ہوں تو ہی پارلیمان کی بالا دستی قائم رہ سکتی ہے۔

غور کیجیئے اگر پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی فعال ہوِ، آڈیٹر جنرل اور احتساب کے دیگر اداروں کی نگرانی مستعدی سے کر رہی ہو تو مالی بد عنوانی کے کیسز پر عدالتیں از خود نوٹس کیوں لیں گی؟

ملک کے ہر سیاسی اور انتظامی مسئلے کا حل بھی پارلیمان کے اندر سے ہی نکالا جانا آئینی تقاضا ہے. دیگر انتظامی ادارے، عدلیہ، افواج اپنے فرائض اپنے دائرہء کار میں ادا کرنے اور آئین میں متعین اپنا کردار ادا کرنے کے پابند ہیں۔ غور کیجیئے اگر پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی فعال ہوِ، آڈیٹر جنرل اور احتساب کے دیگر اداروں کی نگرانی مستعدی سے کر رہی ہو تو مالی بد عنوانی کے کیسز پر عدالتیں از خود نوٹس کیوں لیں گی؟ اگر سیاسی تنازعے اور انتظامی امور متعلقہ پارلیمانی کمیٹیاں حل کر لیں تو یہ کیسز عدالت میں کیسے جاسکتے ہیں؟ اگر ڈیڑھ ہزار سے زائد ارکان قومی اسمبلی صوبائی اسمبلیاں اور سینٹ ہمہ وقت حکومت اور انتظامیہ سے تعاون کر رہے ہوں تو امن و امان اور دیگر آفات میں ہر چھوٹے بڑے کام کے لئے فوج کیوں بلانی پڑے؟

لیکن! اگر پارلیمان کسی ایک سیاسی پارٹی کے مفاد کے لئے یرغمال بن جائے، مرکزی حکومت بجائے اس سے رہنمائی لینے کے اسمبلی کے باہر سے ہدایات لے، ایک صوبائی وزیراعلی مرکز کے تمام امور میں دخیل ہو، اور صوبے کو بطور وائسرائے چلائے اور دوسرے صوبائی وزراء اعلی اپنے اپنے سیاسی پارٹی لیڈر کی رضا کے پابند ہوں، ارکان اسمبلی کی حیثیت پارٹی سربراہان کے تابع فرمان کی ہو تو ملکی نظام تو مفلوج ہو گا۔ ریاست میں خلا نہیں رہ سکتا. پھر دوسرے ادارے اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی کے لئے اس خلا کو پُر کر دیتے ہیں۔ ہمارا المیہ اب المناک حد کراس کر کے خطرناک حالت میں داخل ہو چکا ہے۔

پارلیمان اپنی بنیادی ذمہ داری قانون سازی میں جس بری طرح غفلت کا شکار ہوچکی ہے، کہ چند عام سی ترامیم کو بھی انتہائی غیر ذمہ داری اور نااہلی سے اتنے بڑے حساس ایشو میں تبدیل کرنے کے بعد اس سے پیدا ہونے والی صورت حال سے مکمل اتعلق ہو گئی. حکومت کی طاقت تو ہوتی ہی اس پارلیمنٹ سے ہے، تو جو ہوا سب نے دیکھا۔ معاملات آخرکار عدلیہ اور فوج نے ہی سنبھالے، اس پر مُستزاد ارکان اسمبلی اپنی نااہلی اب اگر ان اداروں کے سر تھوپنے پر مصر ہیں تو ایسے ادارے کا اپنا وقار کہاں ہو گا، تمام سیاسی جماعتیں بلا تفریق اس بدترین اخلاقی تنزل کی ذمہ دار ہیں۔

یوں تو ہر ملک میں فوج، قومی سلامتی اور دفاع کی ذمہ دار ہوتی لیکن ہمارے جغرافیائی محل وقوع اور خطے کی صورت حال کی وجہ سے ہماری افواج کی اہمیت دو چند ہے۔ جنرل مشرف کے ابتلاء اور مصیبت کے دور کے بعد ہمارے عسکری اداروں نے بہت جرآت اور دانشمندی سے نہ صرف دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے بلکہ نامساعد اور ابتر سیاسی حالات میں بھی سویلین معاملات میں تعاون اور عدم مداخلت کا ثبوت دیا ہے.

عدلیہ بحالی تحریک کے بعد ہماری عدالتوں میں بھی بہت بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے، بطور ادارہ نظم و انتظام بہتر ہوا پے۔ عدالتیں اب آزاد ہونے کے ساتھ انتہائی ذمہ دار رویہ اپنائے ہوئے ہیں، اب ان دونوں اداروں سے محفوظ حسن ظن یہ ہے کِہ یہ ملکی مسائل کے حل کے لئے اسی طرح ممدد و متعاون رہیں گے. لیکن موجودہ صورت حال میں ان اداروں کو عوامی تائید اور حمایت کی ضرورت بہر حال رہے گی۔

حکومت کی طاقت  اس پارلیمنٹ سے ہے، تو جو ہوا سب نے دیکھا. معاملات آخرکار عدلیہ اور فوج نے ہی سنبھالے، اس پر مُستزاد ارکان اسمبلی اپنی نااہلی اب اگر ان اداروں کے سر تھوپنے پر مصر ہیں تو ایسے ادارے کا اپنا وقار کہاں ہو گا؟

امید رکھنی چاہیئے کِہ ہمارے سیاسی رہنما بھی ان کی طرح سبق سیکھنے کی روش اپنانے کی کوشش کریں گے۔ ماضی کی طرح ہر صحیح وقت پے غلط کام اور صحیح کام ہمیشہ غلط وقت پر کرنے کی روش اب چھوڑ دیں گے۔ جھوٹ پر مبنی سیاست سے ہماری مروجہ جمہوریت میں الیکشن جیت کر اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن حکومت چلائی نہیں جا سکتی۔

پارلیمان کی عزت، تکریم اور بالا دستی اس ادارے کے ارکان کی اخلاقی برتری سے وابستہ ہے، اور سیاسی جماعتوں کے جمہوری رویے جمہوریت کی بنیاد ہیں، شخصیت پرستی اور کُنبہ شاہی ہر گز نہیں، سیاسی جماعت لیڈر کا تعارف ہوتی ہے کہ لیڈر تو بدلتے رہتے ہیں، مر جاتے ہیں، جو پارٹی کسی شخصیت یا خاندان سے ہی منسوب ہو تب نہ اسکی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں، نہ وہ عوامی جمہوری سیاسی پارٹی ہوتی ہے اور نہ اس کی حکومت جمہوری ہو سکتی ہے. البتہ وہ جمہوری لبادے میں بدترین شخصی آمریت ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: