تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ۔۔۔۔ ایک عورت ایک کہانی ۔ آخری قسط

0
  • 5
    Shares

ایک عروسِ نو کی آ بلہ پائی کی سچی، خود نوشت داستان ۔۔۔۔۔ جو بہت سے نشیب و فراز سے گزر کر اب ایک ملکہ کہ طرح اپنی راجدھانی کی حکمران ہے مگر عمرِ گذشتہ کے کچھ روگ اب بھی ہمراہ ہیں جو کہانی لکھنے کا محرک بنے۔
پانچواں حصہ۔


ہمیشہ سے ایک بات سن رکھی تھی کہ دکھ سکھ ساتھ ساتھ چلتے ہیں مگر مجھے لگتا تھا کہ دکھوں نے مجھے چن لیا ہے ایک مصیبت ختم ہوتی نہیں تو دوسری مصیبت سر اٹھاکر میرے سامنے کھڑی ہوجاتی۔۔۔ایک دن ساس سسر جی اپنی بیٹی کے گھر گئے ہوئے تھے میں اپنے کمرے میں تھی بھابھی کی بیٹی بچوں کو نیچے لے گئی میں کمرے کی صفائی کرنے لگی کچھ ہی دیر گزری تھی آگ آگ کا شور سنائی دیا یقیناً یہ بھابھی کی آواز تھی پہلا خیال مجھے بچوں کا آیا یا اللہ میرے بچوں پر رحم کرنا یہ دعا مانگتے ہوئے نیچے بھاگی کیونکہ بھابھی کی آواز نیچے سے آئی تھی نیچے پہنچ کر بھابھی سے میرا پہلا سوال تھا کہ بچے کہاں ہیں بھابھی نے غصے سے جواب دیا بچوں کو چھوڑو اندر آگ لگی ہوئی ہے میں ساس صاحبہ کے کمرے میں گئی تو کیا دیکھتیں ہوں کہ ساس صاحبہ کا بیڈ جو کہ دیوار کے ساتھ تھا اس دیوار میں ایک الماری تھی جس میں تالہ لگا رہتا تھا تالے کی چابی ساس صاحبہ کے ازار بند میں بندھی رہتی تھی ہر قیمتی چیز اسی الماری میں ہوتی تھی اس وقت اس الماری کے اندر آگ لگی ہوئی تھی شعلے بھڑکتے ہوئے الماری سے باہر آرہے تھے پانی سے بھر بھر کر بالٹیاں ڈالنی شروع کی مگر تالہ بند الماری میں پانی ڈالنا بہت مشکل ہورہا تھا کچھ ہی دیر میں ساس صاحبہ کو بلالیا گیا تالہ کھولا اور پانی ڈال ڈال کر آگ بجھائی۔۔۔۔ساس صاحبہ کا زیور نندوں کا زیور نندوئی کی نوٹوں کی گٹھیاں اور بہت کچھ جل گیا تھا ایک طرف فائلیں پڑیں تھیں وہ بھی جل کر راکھ ہوگئیں تھیں حیرت کی بات تھی کہ ساس صاحبہ کے پلنگ کو بالکل بھی آگ نہیں لگی تھی جبکہ الماری اور پلنگ میں ایک انچ کابھی فرق نہیں تھا ساس صاحبہ کا بہت بُرا حال تھا اس سے بڑھ کر نند و نندوئی کا بُرا حال تھا اس بات سے میں بالکل بے خبر تھی کہ میرا بھی بُرا حال ہونے والا ہے عدالت لگی اور گڈے پر الزام لگا اور ہمیشہ کی طرح گواہی بھابھی جی نے دی کہ گڈے کے ہاتھ میں ماچس تھی میں حیران و پریشان تھی بچے تو انکی بیٹی کے پاس تھے پھر کیسے گڈے نے تالہ بند الماری کے اندر آگ لگائی آگ اتنی جلدی کیسے لگی یہ سوال میں نے سب کے سامنے بھی رکھے مگر میری بات پر کسی نے توجہ نہیں دی بھابھی جی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ گڈے کے ہاتھ میں اکثر ماچس ہوتی ہے گھر میں اک کہرام مچ گیا تھا بہت زیادہ نقصان ہوا تھا ہر ایک مجھے اور گڈے کو بُرا بھلا کہہ رہا تھا مجازی خدا تو غصے سے سرخ ہورہے تھے انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا گڈے کو کیا سزا دیں گڈے کو میں نے گود میں اُٹھائے رکھا تھا اور صاف صاف کہہ دیا کہ اگر مجھے اور گڈے کو کسی نے کچھ کہا تو میں اپنے ابا جی کو بلالونگی۔۔۔۔ گڈے کو اوپر لائی اور پیار سے پوچھا کہ تم نے آگ لگائی تو جھٹ سے انکار میں گردن گمادی گڈا بول نہیں سکتا تھا لیکن سمجھ لیتا تھا مجھے بھابھی کی بیٹی کا خیال آیا تو میں گڈے کو لے کر تیسری منزل پر گئی بھابھی کا دروازہ بند تھا اندر سے بھابھی کی بیٹی روتے ہوئے کہہ رہی تھی جتنا مارنا ہے مار لو مگر میں سب کو بتادونگی کہ آگ کس نے لگائی ہے۔۔۔۔ سب کو میں یہ بات نہیں بتاسکتی تھی میری بات کا کسی نے یقین نہیں کرنا تھا اگر بتا بھی دیتی تو بھابھی جی کو بچانے کے لیے انکی بیٹی میری بات سے انکار کردیتی ایسے میں سب کے سامنے میں جھوٹی بن جاتی ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ گڈے یا مجھ سے بھابھی کی کیا دشمنی تھی جو وہ موقعہ ملتے ہی نکال لیتیں تھیں میرے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں تھیں مجازی خدا کو میں پہلے ہی دھمکی دے چکی تھی اب مجھ میں کچھ ہمت پیدا ہوچکی تھی کچھ دنوں کے بعد اباجی آئے تو میں نے آگ کا واقعہ بتانا چاہا مجازی خدا نے ایک گھوری ماری مجھے لگا کہ اباجی نے دیکھ لیا اباجی بولے میرا بیٹے کو کچھ نہ کہنا یہ میرا بہادر بیٹا ہے یہ سننا تھا کہ میرے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اباجی نے دیکھا تو تڑپ کر مجھے سینے کے ساتھ لگالیا سینے میں لگانے کی دیر تھی کہ میری ہچکیاں بندھ گئی ابا جی کہنے لگے لگتا ہے میرا بیٹا اداس ہوگیا ہے پھر سسر جی کو کہنے لگے میں چند دنوں کے لیے اپنے بیٹے کو لے جاؤں اگر آپ اجازت دیں تو۔۔۔مجازی خدا نے غصے سے مجھے دیکھا مگر اب مجھے ان کے غصے کی پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔میکے میں رہنا میرے لیے پرفضا مقام میں سانس لینے کے برابر تھا بچے بھی چند دن میں صحت مند ہو جاتے تھے مجازی خدا کے فون آنے لگے کہ واپس کب آرہی ہو میں ہر مرتبہ ٹالنے جاتی۔ ایک دن موڈ دیکھ کر بول پڑی کہ آنے کا کیا فائدہ آپ نے تو اوپر سونا ہے مجازی خدا جھٹ بولے تم آجاؤ جیسے کہوگی کرلونگا پکا وعدہ لیا پھر میں سسرال آگئی مجازی خدا بچوں کی پیدائش کے بعد سے اوپر ہی سوتے تھے اب میرے پاس سونے لگے میں بچوں کو نیند کا سیرپ پلاکر سلادیتی تھی پھر مجازی خدا کی ٹانگیں و جسم دباتی تھیں اب میں ہروقت چوکنا رہنے لگی تھی مجازی خدا کےساتھ سائے کی طرح رہتی تھی اگر اوپر جاتے تو میں ساتھ جاتی ایک دن کچھ مہمان آئے تو میں چائے کا انتظام کرنے لگی مجازی خدا نے کہا میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر اوپر چلے گئے میں نے جلدی جلدی چائے رکھ کر مہمانوں سے اجازت مانگی سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی تیسری منزل پر پہنچ گئی تیز آوازوں سے میرے قدم آہستہ ہوگئے بھابھی جی کے کمرے سے بھابھی کی غصے سے بھری آوازیں آرہیں تھیں تم اچھا نہیں کررہے ہو تمھیں بھگتنا پڑے گا یہ سنتے ہی میرے قدم وہیں جم گئے مجھے لگا جیسے میں پتھر کی بن گئی ہوں اب میں کبھی ہل نہیں سکوں گی۔۔۔۔

مجھے اپنا جسم بے جان محسوس ہورہا تھا اپنے جسم کو گھسیٹنا پڑرہا تھا ایک ایک قدم من من کا ہورہا تھا کس مشکل سے اپنے کمرے تک پہنچی یہ میں ہی جانتی تھی ماما ماما معصوم بچی میری ٹانگوں سے لپٹی مجھے جھنجوڑ رہی تھی گڈا بھی رورہا تھا۔۔۔۔ بھابھی جی کے الفاظ کا کیا مطلب تھا یہ میں کس سے پوچھوں کس کو بتاؤں جسے میں نے اپنا سمجھا تھا اب وہ بھی اپنا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔کچھ دنوں سے دیکھ رہی تھی کہ مجازی خدا میرا خیال رکھ رہے تھے اور بھابھی نجانے کیوں غصے میں رہنے لگیں تھی کچھ باتیں مجھ پر واضح ہونے لگیں تھیں اور کچھ باتیں بہت الجھ گئیں تھیں۔ ایک دن مجازی خدا کمرے میں تھے اور میں نیچے تھی نیچے سے مجھے ایک سایہ کمرے میں جاتا ہوا دکھائی دیا گڈے والا واقعہ یاد آنے لگا تو جلدی سے اوپر کمرے میں گئی۔ بھابھی کا جملہ جو میں نے سنا آج انتظار کرونگی تھا میری آہٹ سے کمرے سے نکل گئیں میں نے کیا سنا اور کیا نہیں سنا مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا مجازی خدا سے پوچھا کہ بھابھی کیا کہہ رہیں وہ بولے کچھ کام کا کہہ رہی تھیں خیر تم بتاؤ کھانا تیار ہوگیا ہے ؟ میں نے جلدی سے کہا جی آپ نیچے آجائیں۔۔۔۔ یہ سب کچھ کیا ہورہا تھا میری عقل جواب دے رہی تھی سوچ سوچ کر میں تھک ہار گئی تھی شام ہوئی پھر رات ہوئی مجازی خدا اپنی لوہے کی چارپائی بچھاکر سو گئے جب تسلی ہوگئی کہ مجازی خدا سو گئے تو چپکے سے اُٹھی اینکر کے دھاگے کی گچھیاں نکالیں گانٹھیں باندھ کر لمبی رسی بنائی پھر دروازے سے باندھ کر اپنے پاؤں کی انگلی میں باندھ لی رسی اس طریقے سے باندھی تھی کہ دروازہ کھولا جائے تو میری انگلی کھنچ جائے جاگتے جاگتے نجانے کب تھکے ہوئے جسم کو نیند نے آلیا انگلی کے کھنچنے پر آنکھ کھل گئی ہلے بغیر ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا تو دروازہ کھلا تھا مجازی خدا جاچکے تھے دبے قدموں ننگے پاؤں انکے پیچھے پیچھے اوپر گئی بھابھی کے کمرے سے بھابھی کی دبی دبی آوازیں آرہی تھی ان کا لب و لہجہ بالکل بدلا ہوا تھا وہ کیا کہہ رہی تھیں مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا مجھے لگا کہ کالی اندھیری رات میں آندھیاں چلنے لگیں ہیں ہر طرف مٹی ہی مٹی ہے۔ عجیب خوفناک آوازیں سنائی دینے لگی میرا دل کررہا تھا کہ میرا جسم اس مٹی میں تحلیل ہوجائے میرا جسم بےجان ہوگیا تھا میں نے اپنے جسم کو گھسیٹا اور کمرے تک پہنچایا بیڈ کے قریب جاتے ہی بیڈ پر گر گئی گڈا نیند میں ڈر کر رونے لگا میرا دل کررہا کہ گڈا اور زور زور سےچیخیں مار مار روئے حتٰی کہ سارا گھر جاگ جائے گڈا روتا رہا میں اسے دیکھتی رہی اتنے میں مجازی خدا آگئے آنکھیں ملائے بغیر کہنے لگے یہ کیوں رو رہا ہے چپ کراؤ میں نے صبح آفس جانا ہے۔۔۔۔۔۔میرے دانت میں درد ہو رہا تھا ہر ٹوٹکہ آزمایا مگر درد دور نہیں ہوا مجازی خدا نے میری تکلیف کو دیکھ کر صبح ہی کہدیا شام کو ڈاکٹر کے پاس چلیں گے ڈاکٹر کا کلینک گھر سے بہت نزدیک تھا مجازی خدا آئے میں نے بچوں کو سمجھاکر دادی کے پاس بٹھایا اور چلی گئی آگے کلینک بند ملا سامنے ہی جیٹھ کا گھر تھا نہ چاہتے ہوئے مجھے جانا پڑا آج میرا دل بہت گھبرا رہا تھا مجھے بچوں کی پریشانی ہورہی تھی مجازی خدا کو دیکھے بغیر جٹھانی صاحبہ سے اجازت لی اور برقعہ پہن کر باہر آگئی میرے قدم تیز تیز تھے مجازی خدا خلاف معمول خاموشی سے میرے پیچھے پیچھے آرہے تھے گھر کے قریب پہنچ کر اپنے کمرے کی کھڑکی پر نظر پڑی تو اس میں سے دھواں نکل رہا تھا میرے بچے کہاں ہیں میرے بچے کہاں ہیں میں چیختی ہوئی اندر گئی بھابھی کی بیٹی نے جلدی سے بچے میرے حوالے کردیے جیسے اسے میرا ہی انتظار ہو میں نے بچوں کو پیار کرتے ہوئے سینے کے ساتھ لگالیا کمرے میں آگ لگی ہوئی تھی میرا سب کچھ جل رہا تھا لیکن میں پرسکون تھی بلکہ دل کررہا تھا کہ آگ کبھی نہ بجھے آگ سارے گھر میں پھیل جائے سب کچھ جل جائے۔۔۔جیٹھ جیٹھانی نند نندوئی دیور سب آگئے تھے عدالت لگی الزام گڈے پر لگا گواہی بھابھی جی نے دی مجھے بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی اس مرتبہ میں نے کوئی صفائیاں پیش نہیں کیں بچوں کو گود میں لیا اور ساس صاحبہ کے ساتھ والے کمرے میں چلی گئی اللہ اللہ کرکے صبح ہوئی تو مجازی خدا نے اوپر آنے سے منع کردیا کچھ دیر بعد جیٹھ جی آئے اوپر کمرہ دیکھنے جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ چلی گئی کمرے کی دیواروں پر دیور سفیدی کررہا تھا دوسری طرف مجازی خدا رگڑ رگڑ کر جلے کی کالک اتار رہے تھے پانی بہہ رہا اس پانی کے اوپر مٹی کا تیل تیر رہا تھا میں نے جیٹھ صاحب کو دکھایا تو انھوں اس تیل کو ہاتھ لگایا اور بول پڑے کہ یہ تو مٹی کا تیل ہے اس کا مطلب مٹی کے تیل سے آگ لگائی گئی ہے۔۔۔۔ابا جی کا فون آیا میں نے ہی فون اٹھایا تھا سلام کے بعد ابا جی کو بتایا کہ میرے کمرے میں آگ لگ گئی ہے ابا جی گھبراکر بولے تم ٹھیک ہو بچے ٹھیک ہیں میں بولی جی مگر اباجی نے کہا کہ باقی باتیں آکر کرونگا تین گھنٹے بعد کراچی سے اباجی آگئے سلام دعا کے بعد سسر جی سے پوچھا کہ آگ کیسے لگی سسر جی کہنے لگے آگ کس نے لگائی یہ نہیں پتا۔ ہوسکتا ہو آگ آپ کی بیٹی نے لگائی ہو یہ سننے کی دیر تھی اباجی بولے میں اپنی بیٹی کو لیکر جارہا ہوں کیا پتہ کل کو یہ آپ کو بھی آگ لگادے مجھ پر پولیس کیس بن جائے گا یہ کہہ کر مجھے کہا کہ بچوں کو لے کر آؤ پھر کہا کہ گاڑی میں بیٹھو۔۔۔میں اباجی کے ساتھ ان کے گھر آگئی دوسرے ہی دن مجازی خدا لینے آگئے کہ گھر چلو میں تمھیں گھر جاکر سب کچھ بتا دونگا بس تم گھر چلو انکے پیار میں آکر پھر سسرال چلی آئی آتے ہی میرا اسرار تھا کہ مجھے پہلے وہ سب کچھ بتائیں جو آپ نے مجھے بتانا تھا میرے مجبور کرنے پر بولے میں بھابھی سے نکاح کر چکا ہوں تمھارے حقوق اپنی جگہ اور بھابھی کے حقوق اپنی جگہ ہونگے وہ اور کیا کچھ بولتے رہے مجھے نہیں معلوم کیونکہ میں حواس کھو بیٹھی تھی رات گزری صبح امی جی کا فون آیا مجازی خدا نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ ابھی سوئی ہوئی ہے شام کو پھر امی جی کا فون آیا مجازی خدا نے پھر یہ کہہ دیا کہ سر میں درد ہے بات نہیں کرسکتی یہ سن کر امی جی اباجی پریشان ہوگئے پندرہ منٹ میں سسرال آگئے اباجی نے سسر جی سے سلام کے بعد کہا میرا بیٹا کہاں ہے اسے بلائیں سسر جی نے کہا کہ وہ اوپر ہے نیچے نہیں آسکتی امی جی اباجی پہلی مرتبہ میرے کمرے میں آئے گڑیا نے میرے منہ پر پیار کرتے ہوئے کہا کہ ماما آنکھیں کھولیں امی جی آئیں ہیں میں اول فول بول رہی تھی اباجی نے مجازی خدا سے پوچھا اسے کیا ہوا ہے تو بولے یہ خود ہی بتائے گی اباجی نے مجھے گود میں اٹھایا اور گھر لے آئے۔۔۔۔

اس داستان کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں     اس داستان کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: