اندھی تقلید : ابن فاضل

0
  • 2
    Shares

ہمارا سب سے بڑا سماجی مسئلہ شاید ‘اندھی تقلید’ ہے۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور ساری مذہبی جماعتوں کے کارکنان اپنے اپنے راہنماؤں کو دیوتا کا درجہ دیے بیٹھے ہیں۔ ہر چاہنے والا ہر طرح کی منطق سے بالا ہو کر اپنے راہنما کے سیاہ و سفید پر سردھننے اور اس کے افکار و اعمال کو باقی ساری دنیا سے افضل و برتر ثابت کرنے پرتلا ہے۔ بلکہ صورتِ حال اس سے بھی دگرگوں ہے کہ کسی راہنما کے قول و فعل کے مقابل کسی قسم کی عقلی دلیل بھی نہ صرف یہ کہ باعثِ نزاع ثابت ہوتی ہے بلکہ بیشتر اوقات انقطاع تعلقاتِ دیرینہ پر منتج ہوتی ہے۔

بہت حیرانی ہوتی ہے جب کوئی اپنے سیاسی راہنما کی بدعنوانی یا بدزبانی کا دفاع کرتا ہے۔ بلکہ اب توایک گروہِ مومنین پر اپنے مرشدین کے بے طرح سب و شتم کے دفاع اور اس عین حلال ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی آن پڑی ہے۔ دراصل یہ کم علمی و کج فہمی کا شاخسانہ ہے۔ بخدا جس اللہ کے ہم ماننے والے ہیں اور جس نبی صلی الله عليه وسلم کے ہم امتی ہیں اور اگر ان کے احکامات و تعلیمات سے تھوڑا بھی لگاؤ اور علاقہ ہوتا تو ایسا غلغلہِ فرومایہ ہرگز بپا نہ ہوا ہوتا۔ دیکھیے قرآن کریم میں اللہ کریم کیا فرما رہے ہیں،

[25:73] Al-Furqān-الْفُرْقَان
(“وَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَمۡ یَخِرُّوۡا عَلَیۡہَا صُمًّا وَّ عُمۡیَانًا ﴿۷۳

اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے (بلکہ غور و فکر بھی کرتے ہیں)۔

اللہ کریم اپنے پسندیدہ بندوں یعنی عبادالرحمن کی جملہ خصوصیات بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر قرآن مجید کی آیات بھی ان کے سامنے نصیحت کے لئے پیش کی جارہی ہوں تو بھی اندھے،بہرے ہو کر ان کو نہیں لیتے بلکہ خوب سوچ سمجھ کر متذکرہ آیات کے حتمی پیغام تک پہنچتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

حیرانی اس بات کی ہے کہ ہمارے سیاسی کارکنان میں سے کون ایسا رہا ہوگا کہ جس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کرتے کا واقعہ نہ سن رکھا ہوگا۔ اور اسلامی تاریخ میں بزرگی، فراست اور انتظامی لحاظ سے کونسا راہنما یا حکمران ایسا ہے یا کبھی رہا ہو گا جو ان کا عشرِ عشیر بھی ہو۔ پھر بھی رعایا یا یوں کہہ لیجیے کہ اسوقت کے سیاسی کارکنان ان کی بات سننے تک پر آمادہ نہیں کہ جب تک وہ اپنے صرف ایک کرتے جی صرف ایک کرتے کا حساب نہیں دے دیتے۔ اور ادھر یہ عالم ہے کہ کسقدر ڈھٹائی سے فرمایا جارہا ہے کہ ‘اگر اثاثہ جات آمدن سے زیادہ ہیں تو تمہیں کیا۔’ اور کارکنان ہیں کہ پھر بھی اک واری فیر کے نعرے لگا رہے ہیں۔

اسی طرح اگر بزعمِ خود اس گروہِ مالکانِ مذہب میں ایک بھی ایسا ہوتا جو سالارِ صندلی چرخدار نشین سے پوچھتا کہ شریعتِ محمدی کی رو سے کونسا ایسا جرم ہے جو بجائے خود اتنا بڑا ہے کہ اس کے تدارک کی خاطر چھ معصوموں کی جان لی جا سکتی ہے، پورے ملک کا نظام تلپٹ کیا جا سکتا ہے۔ کڑوروں کی سرکاری ونجی املاک نذرِ آتش کی جا سکتی ہیں، لاکھوں افراد کو عملی طور یرغمال و محبوس اور بے دست و پا کیا جا سکتا ہے،لاکھوں غریب دہاڑی داروں کو مزدوری اور آمدن،اور کروڑوں بچوں کو دو دن تک تدریس سے محروم کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔مگر حیرت ناک طور پر فی الحقیقت اتنا چھوٹا کہ اس کی پاداش میں کسی کو کوئی سزا دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ تو شاید یہ ہنگامِ خاک وخون نہ ہوا ہوتا۔

خدا کی پناہ کیا مذاق ہے، بھیانک مذاق۔ کیسا خوفناک نظام معاشرت ہے، کیسی عجب تفہیم ہے دینِ حنیف کی۔ گویا کیا ملکی و شرعی قوانین اور کیا اخلاقی و سماجی اقدار سب کے سب کی توضیح آپ کی قزم فکری اور چرب زبانی کی رہینِ منت ہے۔ قابلِ رحم، بے عمل،نادان اور روحِ دین سے نا بلد خلدِارزاں کے خواہشمندوں کی یہاں ویسے ہی بہتات ہے جو متاعِ دین و دنیا لٹانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ پھر کیا عجب کہ بھر پور مجمع نہ جمے، اور زبردست تماشہ نہ ہو کہ جب جادوگر بھی ہو اور تماشائی بھی۔ مگر خدا کا واسطہ ایک ساعت کو تنہائی میں سوچیے گا ضرور جس سرورِ کائنات کی حرمت کے نام پر یہ سب کیا ان کی تعلیمات کیا ہیں اور ان کا اپنا اور ان کے جانثاروں کا عمل کیا تھا۔ اور پھر یہ بھی کہ ہم نے کل روز جزا ان کا سامنا بھی کرنا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: