دسمبر کی سرد یادیں اور پرینہ : عابد آفریدی

1
  • 64
    Shares

بچپن کی دوستی کو صرف دوستی کہنا درست نہ ہوگا، اس عمل کو معصوم اور شفاف محبت سے تعبیر کرنا چاہیے۔ میں جب دس سال کا تھا اس وقت ہماری گلی میں ایک افغان گھرانہ رہائش پذیر تھا، ان سے متعلق ساری باتیں بھول چکا ہوں سوائے ان باتوں اور یادوں کے جو اس گھر میں میری ہم عمر ایک لڑکی، پرینہ سے وابستہ ہے۔

سنہری بال،سرخ گال، معصوم نین نقش، ورثے میں ملی پیدائشی حیاء ہر وقت روائتی افغانی لباس میں ملبوس گڑیا، مجھے نہیں معلوم  ہماری دوستی کب شروع  ہوئی تھی۔ بس اتنا جانتا ہوں ہم گھنٹوں ساتھ کھیلتے تھے، ساتھ کھاتے ساتھ پیتے اور گھنٹوں باتیں کیا کرتے تھے.

ہمارے گھر نیم کے درخت میں ایک جھولا تھا ہم دیر تک اس جھولے میں جھولتے، اس درخت میں پرندوں کے آشیانے تھے۔ اوپر ان کی چہچہاہٹ رہتی نیچھے ہم بلبلوں کے گیت گاتے،  دیوار سے جڑی کیاری میں روز پھول اور غنچے گننا، ہمارے مشاغل کا حصہ تھا. ایک دوسرے کو اپنے دادوں اور پر دادوں کی کرامات کے قصے سناتے. سناتے، اپنے والدین کے شجاعت کے خودساختہ واقعات سناتے۔

سہ پہر کے وقت قلفی والا بابا اپنی تین پہیوں والی بکس نما آہنی ریڑھی دھکیلتے ہوئے، ہماری گلی میں آجاتے.  زور سے ریڑھی میں بندھی گھنٹی بجاتے، جس کی آواز سنتے ہی ہم باہر کو دوڑ لگادیا کرتے۔ سرخ،  زرد، نیلی اور جامنی قلفیاں کھاتے اور بابا سے گھنٹی بجانے کی فرمائش کرتے، شام کے وقت اس کی امی اپنے ہاتھ سے تیار کردہ افغانی بسکٹ ہمیں کھلاتی تھیں۔ پرینہ کی دوستی نے مجھے تقریبا دیگر تمام دوستوں سے کاٹ دیا تھا۔ میں اسکول کے بعد شام تک کا تمام وقت اس کے ساتھ گزارا کرتا۔

ہمارے خاندان میں مرد بچے کا کسی بچی کے ساتھ کھیلنے کے شوق کو بچے کے لئے نیک شگون تصور نہیں کیا جاتا تھا. کہتے ہیں آگے جاکر لڑکے کی چال ڈھال میں نسوانیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایک دن میری امی نے  مجھے ڈانٹتے ہوئے پرینہ کے ساتھ کھیلنے سے منع کیا۔ کہا مرد بچوں کے ساتھ کھیلا کرو۔ امی کی بات پر عمل کرتے ہوئے اس معصوم افغان کلی کو اس بے دردی سے نظرانداز کیا کہ آج بھی دل پہ اس رویئے کا ایک سیاہ دھبہ موجود ہے۔

اگلے دن جب وہ مجھ سے کھیلنے ہمارے گھر آئی مجھے دیکھتے ہی اس کا چاندی جیسا چہرہ کھل گیا۔ مگر میں اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس کے پاس سے گزر گیا اور  باہر گلی میں موجود  لڑکوں کے ٹولے میں جا گھسا۔

 وہ بیچاری دیر تک میرے انتظار میں اس جھولے میں تنہا جھولتی رہی. جب میں واپس آیا تب بھی وہ مجھے دیکھ کر خوشی کے عالم میں جھٹ سے جھولے سے اتر کر کھڑی ہوگئی۔

مگر میں نے …. ہائے ہائے وہی رویہ اپنایا اور آگے گزر گیا۔ کچھ دنوں تک  وہ روز آتی رہی اور میں لاپروائی دکھاتا رہا. میرے اس پے در پے نظر انداز کرنے سے بالآخر اس نے اپنے نادان جذبات کو مایوسی کی ننھی سی چادر میں سمیٹ کر خود  کو اپنے گھر کے دروازے تک ہی محدود کردیا۔ آتے جاتے مجھے بس خاموش نظروں سے دیکھا کرتی تھی۔ اس کی وہ آنکھیں…. ان آنکھوں میں کئی سارے معصوم سے سوال!! وہ سب وہ  میری آنکھوں میں محفوظ ہیں۔

ایک شب میں رات بھر اپنی چارپائی پر پڑا  معصوم سی انگڑائیاں اور جمائیاں لیتا رہا۔ اپنے اس جابرانہ روئیے پر خود کو کوسنے دیتا رہا۔ میری بے کلی دیکھ کر ابو جان نے پوچھا “بیٹا!  نیند نہیں آرہی کیا ؟” امی نے جواب دیا “اسے شاید اپنی گل بانو کی یاد ستا رہی ہے.”

اسی رات ہم نے امی جان کے حکم سے بغاوت کا فیصلہ کیا۔ خود سے کہا یہ تو نسوانیت ہے اگر پرینہ کی دوستی میں مجھے خواجہ سرا بھی بننا پڑے تب بھی میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔

 اگلے دن اسکول سے سیدھا اس کے گھر گیا اسے ہاتھ سے پکڑے لاکر جھولے میں بیٹھا دیا اپنے کئے پہ خوب معافیاں مانگیں، خوب دلاسے دیئے، اور دوبارہ سے یادوں کے  اس چمن کو اباد کیا، جو ویران پڑ گیا تھا۔ اس جھولے کو روا کیا، بابا قلفی والے کی گھنٹی پہ دوڑ لگائی سب ڈھنگ سے چلنے لگا اور چلتا ہی رہا۔

بس پھر دسمبر کا مہینہ آگیا اور یہ مہینہ بڑا ظالم مہینہ ہوتا ہے .اکثر و بیشتر جتنے بھی اچھے لوگ ہوتے ہیں. وہ اسی مہینے ہم سے دور ہوجاتے ہیں۔  اتوار کی ایک صبح معلوم نہیں کس نے مجھے جگایا کہ ” جاؤ دیکھو! تمھاری وہ دوست جارہی ہے۔ ” میں اٹھ کر دوڑتا ہوا دروازے پر پہنچا دروازہ کھول کر دیکھا تو ایک چھوٹے لوڈنگ ٹرک پر گھر کا سارا سامان لاد دیا گیا تھا۔ گھر کے افراد بھی گاڑی میں سوار ہوچکے تھے، پرینہ گاڑی کے پچھلے حصے میں بیٹھی نظریں ہمارے دروازے پر جمائے ہوئے تھی۔

 گاڑی اسٹارٹ تھی ڈرائیور نے ایکسیلیٹر دبایا، انجن نے سیاہ دھواں خارج کیا،  جس کی وجہ سے یکدم سیاہ پردہ ساحائل ہوا، دھواں ختم ہوا تو دیکھا گاڑی دور تک نکل چکی تھی، نجانے کونسی کفیت تھی۔ جو مجھ پر حاوی ہوئی اور دیوانہ وار پاگلوں کی طرح اس گاڑی کے پیچھے دوڑ لگائی چیختے چلاتے پرینہ کو آوازیں دی، بلاتا رہا رکنے کے اشارے کئے. مگر نہیں انھیں جانا تھا…. انہوں نے اپنے وطن جانا تھا. کئی دنوں تک نڈھال رہا. اسکول سے آکر جھولے میں تنہا بیٹھ کر گردن جھکائے سوچوں میں گم آہستہ آہستہ جھولتا رہتا۔ زیادہ اکتا جاتا تو ان کے گھر پڑے تالوں کو دیکھ آتا.

اج کوئی بیس سال بعد  دسمبر کی اس سرد خاموش شام میں بیس سال پرانے دسمبر کی یاد آئی. میں جس مقام پر موجود ہوں وہ افغانستان و پاکستان کے بیچ برف پوش پہاڑی سلسلے کا دامن ہے۔ پہاڑی چوٹیوں میں پیوست چٹانیں برف کی چادر سے نکل نکل کر مجھے یوں گھور رہی ہیں، جیسے کسی غریب عورت کے بچے سردی کے مارے سفید زردی مائل کمبل میں دبک کر میری کہانی سن رہے ہوں۔

اس پہاڑ کی پشت پر پرینہ کا دیس ہے۔ وہ دیس جس پر سے باد امن کو گزرے زمانے بیت چکے، جہاں زمین کی گرج، آسمان کی گرج کو دبا چکی، جہاں کے چہروں کو اب مسکرانا زیب نہیں دیتا۔

آج کئی سوال و خیال لیکر میں اس پار کھڑا ہوں، پرینہ کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟ کیا اس کے گھر والے جنگ کی نذر ہوگئے ہونگے؟  پرینہ کسی فوجی یا  کسی جنگجو کے ہوس کا نشانہ بن گئی ہوگی؟

کیا وہ لڑکی پرینہ تو نہ تھی؟  جسے امریکی فوجیوں نے گھر کی آنگن سے اٹھالیا اور اگلے ہی لمحے اس کی شلوار ہوا میں ڈولتے فوجی ہیلی کاپٹر سے نیچے آگری تھی..

 یا وہ افغان لڑکی جسے متاثرہ پاکر افغان دلالوں نے یورپ کی منڈی میں فروخت کردیا اور اس لڑکی نے افغانوں کو ایک خط کے زریعے اپنی حالت  سے آگاہ  کرتے ہوئے بتایا کہ “جب دن میں 100 مردوں کو سہتی ہوں تو کھانے کو صاف اور پہننے کو اچھا ملتا ہے”۔ ہائے رے عورت تیری بے بسی! ہائے رے ماضی تیرے یادیں کس کس کو روئیں ہم یار۔

میرے دل نے چاہا کہ چیخوں چلاوں، ان گزرے وقتوں کو آواز دوں، نیم کا وہ درخت جو کاٹ کر گرا دیا گیا تھا۔  وہ پھر آگ جائے۔ وہ میری امی، جسے خاک ہوئے پندرہ سال ہوگئے ہیں انہیں اک آواز دوں جو میں اکثر رات سوئے ہوئے پیاس کے عالم دیا کرتا تھا۔  وہ قلفی کی آہنی ریڑھی پھر سے گھنٹی بجائے، شہر کراچی سے کوچ کئے ماضی کے وہ بلبل، مینا اور کوئل پھر سے میرے گھر کے آنگن میں چہکائیں۔ یادوں کا وہ جھولا ہو پرینہ کی کھلکھلاہٹ سے جھولتا تھا۔

کاش! وقت ہمیشہ کے لئے اس جگہ ٹھہر جائے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: