سول بالادستی کا خوشنما نعرہ اور کرپشن کی پردہ داری : عماد بزدار

0
  • 59
    Shares

مجھے ایف بی آر سے اسسٹنٹ کمشنر صاحب کا نوٹس ملا کہ آپ کو فلاں سال میں آٹھ لاکھ ٹیکس کاٹ کر گورنمنٹ کھاتے میں جمع کرانا تھا جو کہ آپ نے نہیں کیا اس لیئے بتا تیری رضا کیا ہے؟ کیوں نہ آپ سے اصل زر مع سود کے وصولی کی جائے۔۔۔ نوٹس میں تمام انوایئسز ان پر ٹیکس کی اماؤنٹ، نمبر اور تاریخ درج تھی۔۔ اسی وقت میں ایف بی آر کی ویب سائٹ سے لاگ اِن ہوا اور سی پی آر یعنی چالان (CPR – COMUTERIZED PAYMENT RECEIPT) ڈاؤنلوڈ کیئے جن کے مطابق میرے اس متعلقہ یونٹ نے “جس سال کے لیئے اسے آٹھ لاکھ کا ڈیفالٹر بتایا جا رہا تھا” نے پچیس لاکھ سے اوپر ٹیکس کاٹ کر جمع کرایا تھا۔
۔
میں نے ” محبت نامے” کا جواب تیار کیا متعلقہ چالان ساتھ لگا دیئے کہ میں تین گنا زیادہ ٹیکس ادا کر چکا جتنا آپ بتا رہے ہیں۔۔۔اور ٹیکس آفس کی راہ لی۔۔ انہیں بتایا کہ بھائی لوگو! نوٹس بھیجنے سے پہلے اپنا ریکارڈ تو اچھی طرح چیک کرلو۔۔ اسسٹینٹ کے اسسٹینٹ نے یہ بتا کر اپنی معذوری کا اظہار کیا کہ ہمیں پیچھے سے یہی ڈٰیٹا ملا۔ ساتھ اپنی مجبوریوں کا رونا بھی رویا کہ کام زیادہ ہے۔۔۔میں نے پوچھا نوٹس بھیجنے کا کیا کرایئٹیریا ہے؟ بتانے لگا ” کارکنانِ قضا و قدر” نے آسان سا نسخہ دریافت کر لیا۔ پچھلے سال کتنا ٹیکس جمع کرایا اس کے مقابلے میں اس سال کتنا جمع کرایا اگر اس سال کا ٹیکس پچھلے کے مقابلے میں 50 روپے بھی کم ہوا تو اس بندے یا کمپنی کو نوٹس بھیجتے ہیں کہ یہ منفی رحجان کیوں نظر آ رہا ہے؟ ثبوت کے طور پر اس نے مجھے اپنی لسٹ بھی دکھائی میں نے اسے کہا “بھائی صاحب یہ تو مفت میں آپ کا بھی کام بڑھانے والی بات ہوئی”۔ اب ہو سکتا ہے پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال کم ادایئگیاں کسی نے کی ہوں، جس کی وجہ سے اسے کم ٹیکس کاٹنا پڑا ہو اور یہ پچاس پچاس کے فرق پر نوٹس بھیجنا تو ظلمِ عظیم ہے۔ خیر میں وہاں سے نکل اپنے آفس چلا گیا۔

اگلے دن اسی اسسٹینٹ کی کال آئی کہ آپ نے جو چالان دیئے اس میں TAX WITHHELD کے بجائے TAX DEDUCTED لکھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ” یہ چالان میرا بنایا ہوا نہیں ہے یہ جو TAX DEDUCTED آپ کو لکھا ہوا نظر آ رہا ہے یہی TAX WITHHELD ہے۔” بیچارے نے شرمندہ ہو کر کال کاٹ دی۔

میرے اندازے کے مطابق بندہ نیا ہی معلوم ہو رہا تھا، اس لیئے اسے مکمل دسترس نہیں ہوگی۔ لیکن کچھ دن بعد اسی نوٹس کی بابت ٹیکس آفس جانا پڑا اور اسسٹینٹ کمشنر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ جرمانے سے متعلق ایک شق پر جب اس کے دیئے گئے حوالے کو میں نے جوابی آرگیومنٹ سے غلط ثابت کیا تو محترم نے ایمانداری سے اعتراف کرتے ہوئے کہا مجھے سیلز ٹیکس کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ میں اس معاملے میں اپنے کسی سینئیر سے ڈسکس کرونگا۔

اس کہانی کو یہیں پر روک کرجاوید چوہدری کی طرح میں آپ کو ایک اور جگہ لیکر جاؤنگا۔
2013 کے ویلتھ سٹیٹمنٹ کے مطابق میاں محمد نواز شریف، جو کہ تین دفعہ پاکستان کے وزیرِ اعظم بنے، نے مسلم لیگ نون کو دس کروڑ کا عطیہ دیا۔ اس دس کروڑ میں سے ساڑھے پانچ کروڑ رکھ کر مسلم لیگ نے ساڑھے چار کروڑ واپس کر دیا۔ لیکن اس ساڑھے چار کروڑ کے بارے میں سب خاموش ہیں کہ وہ کہاں گیا؟

ٹیکس ائیر 1994-95 میں میاں صاحب کی کل آمدنی 5000 تھی اور اس سال گھر کے اخراجات میاں صاحب کی سالی محترمہ صبیحہ عباس نے ادا کیئے۔2012-13 کی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں میاں صاحب نے تقریبا چھ کروڑ 30 لاکھ کی پراپرٹی کلثوم نواز کے نام پر دکھائی ہے جبکہ کلثوم نواز کی ویلتھ سٹیٹمنٹس میں 2013-14 اور 15-16 ایسی کسی پراپرٹی کا کوئی ذکر نہیں۔
مریم صفدر کو یو اے ای رائل فیملی نے ایک بی ایم ڈبلیو کار گفٹ کی۔ 2009-10 میں اس کار کی ویلیو مریم نے 35 لاکھ ڈیکلئیر کی۔
ٹیکس ریکارڈ کے مطابق وہی کار 2011-12 میں مریم صفدر نے تقریبا دو کروڑ کے منافع پر بیچ دی۔
2011-12 میں اس کار کے بیچنے کے بعد 2012-13 میں وہی کار مریم صفدر کے ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ایک بار پھر نظر آتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ 2008 میں اس کار کی قیمت محترم صفدر صاحب نے الیکشن کمشن کو بھیجے گئے اپنے کاغذات میں ساٹھ لاکھ دکھائی۔
وہی کار,جو مریم صفدر نے 2011-12 میں دو کروڑ کے منافع پر بیچ دی, الیکشن کمشن کو بھیجے گئے محترم کیپٹن صفدر کے کاغذات کے مطابق 2013 تا 16 اس کی ملکیت میں ہے۔
صفدر صاحب کے الیکشن کمشن کو بھیجے گئے کاغذات کے مطابق مریم صفدر نے اس کار کی ڈیوٹی تقریبا 35 لاکھ ادا کی جبکہ اس سال مریم کی ٹوٹل آمدنی تقریبا 12 لاکھ ہے باقی پیسے کس فرشتے نے ادا کیئے،کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
2010-11 کی سٹیٹمنٹ میں میاں صاحب نے مریم صفدر کے نام تقریبا دو کروڑ پچاس لاکھ لکھ کی زمین دکھائی ہوئی مریم کی ویلتھ میں اس زمین کا کہیں بھی ذکر نہیں۔
حسین نواز نے 2001-02 میں اپنے شئیرز پانچ کروڑ سے زائد کے بیچے جن کا کوئی تذکرہ ٹیکس ریکارڈ میں کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔
کیپٹن صفدر نے ٹیکس ایئر 2013-14 سے این ٹی این لیا اور گوشوارہ فائل کرنا شروع کر دیا۔

اس بات کو بھی یہیں روک کر آپ کو ایک اور جگہ لیکر جاؤنگا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے پچھلے دنوں کے خبر میں جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں۔ جس میں محاصل کی کل مالیت 824 ارب روپے ہے جس میں سے 4۔445 ارب قرضوں کی واپسی پر اور 182 ارب دفاع پر خرچ ہوئے۔ اگر اوسط رقم دیکھی جائے تو سال کو قرضوں کی واپسی کی مد میں ہمیں تقریبا 1800 ارب کی ضرورت ہو گی گویا قرضوں کی واپسی کل محاصل کا تقریبا 54 فیصد کھا جاتے ہیں اور دفاع پر کل محاصل کا 22 فیصد خرچ ہوتا ہے۔

اب ان تمام کہانیوں کو جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کریں۔ پاکستان کا طاقتور اور امیر ترین خاندان جو گذشتہ چار دہایئوں سے کسی نہ کسی شکل میں ہم پر حکمران ہے، کا دامن کس قدر داغدار ہے یہ چند چھوٹے چھوٹے مثالین تھیں جو میں نے اپنی تحریر میں یہ سمجھانے کے لیئے بیان کی ہیں کہ یہ لوگ ملک کی اکانومی بہتر بنانے میں کس قدر دلچسپی رکھ سکتے ہیں؟ کیا ایسی ہیرا پھیری کرنے پر انہیں ملٹری ایسٹیبلشمنٹ نے مجبور کیا؟
اسے میں کیا توقع رکھی جا سکتی ہے کہ یہ ایف بی آر جیسے ادارے کو بہتر بنا سکیں گے، جو خود دیدہ دلیری سے قواعد ضوابط کو توڑتے ہیں ، اپنے اثاثے چھپاتے ہیں ایسے میں عام آدمی کو کیسے قائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرے؟

اب سابق حکمران کس منہ سے آیئن، قانون اور جمہور کی بات کرتے ہیں؟ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ سویلین سپرمیسی کا خوشنما نعرہ لگا کر یہ استحصالی اپنے ڈاکے چھپانا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: