نکلے اپنی تلاش میں: سحرش عثمان

0
  • 62
    Shares

بوریت سے بھرپور دن رات چل رہے تھے۔ نہ کوئی امتحان ہو رہے تھے نہ نتیجہ کا خوف دہلائے دے رہا تھا۔ ہمارا حال بھی اس بہو سا تھا۔ جس کی جھگڑالو ساس جب دو چار دن لڑائی جھگڑا فساد نہیں کرتی تو وہ دہل دہل کے میکے فون کرتی ہے کہ۔۔۔ خیر ہو چار دن سے لڑی نہیں خدا جانے کونسی کھچڑی پکا رہی ہے۔ ہمیں بھی دن رات کے سمودھلی آنے جانے سے الجھن بلکہ وحشت ہونے لگی۔

اندر کا، آوارہ گرد روز صبح اٹھ کر دہائیاں دینے لگتا۔ بلکہ صبح کہاں۔ وہ تو سر شام دہائیاں شروع کرتا تو پو پھوٹنے تک ایسی ایسی بکواسیات کرتا کہ جو ہم آپ کو سنانے لگیں تو آپ سب کے آنسو نکل آئیں۔

دن رات تو ہمارے بچپن سے ہی الٹے ہیں چاند کے ساتھ ساتھ ہماری فسادی طبیعت پر جوبن آتا ہے اور سورج کی روشنی جوں جوں کم ہوتی ہے توں توں ہماری آنکھیں کھلتی ہیں۔

جی بالکل یہ بھی ایسے ہی دن تھے راتیں جاگتی اور دن اونگھتے تھے کیونکہ دن میں سونے سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں جن پر ہماری اماں عنقریب ایک کتاب لکھنے والی ہیں۔

سو بوریت اندر باہر دھرنا دیئے بیٹھی تھی کہ ہم نے بوریت کے تالاب میں آوارگی کا پتھر مارنے کا فیصلہ کر لیا۔ یعنی دھرنے کے خلاف آپریشن کے عدالتی احکامات دے ڈالے ہم نے۔
یوں چار پانچ لوگوں کا ٹولہ بلکہ مختصر سی ٹولی عازم سفر ہوئی۔

پہلے تو صبح ہی صبح دھند ٹھنڈ بادل نے ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ مرد ہی کیا جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر کے مصداق ہم نے مقتدر حلقوں کے سامنے موسم کی انتہائی غیر شادی شدہ تشریح کی۔۔ ہم نے کہا آج موسم بڑا بیمان ہے بڑا بیمان ہے۔ وہ تو شکر ہوا مقتدر شخصیات نے ہم سے موسم کا ایمان جانچنے والا آلہ نہیں مانگ لیا۔ وگرنہ کہاں ثابت کر پاتے۔ لہذا ہمیں سفر کی اجازت مل گئی۔

ہم نے رخت سفر باندھا اور بذریعہ جی ٹی روڈ اپنے شہر سے اسلام آباد سے ہوتے ہوئے ایبٹ آباد پہلی منزل پر جانے کا فیصلہ ہوا۔ جی ٹی روڈ سے گجرات کے قریب پہنچے تو بہن نے پڑھ کے بتایا کہ انتہائی خطرناک موڑ ہے۔ یہیں سے لوٹ چلو۔ پر ہم اپنی پیدائش کی بستی سے کہاں لوٹنے والے تھے۔ لہذا وہ خطرناک موڑ بھی کاٹ ہی لیا ہم نے۔ چناپ پر پانی میں دیکھتے ہوئے ہمیشہ مجھے سوہنی کا گھڑا یاد آتا ہے۔ اتنے چوڑے پاٹ والے دریا کوگھڑے سے پار کرتی ہوئی سوہنی کے دل میں عشق پر ایمان کتنا مضبوط ہوتا ہوگا نا۔

ہم آپ بھی تو آج کی دنیا میں رسموں رواجوں ٹیبوز کے دریا اپنے اپنے گھڑے پر ہی پار کرنے کی کوشش کررہے ہیں نا۔
ہم آپ بھی تو اپنے اپنے حصے کا دریا پار کر ہی رہے ہیں نا۔ ہے تو سخت بات لیکن یے سچ زندگی بہت سی باتیں آسانی سے نرمی سے محبت سے نہیں سیکھاتی۔ زندگی کے بہت سارے سبق پڑھنے کے لئے کئی رویوں کے دشت دیکھنے پڑتے ہیں۔ کئی لہجوں کے صحرا پار کرنا پڑتے ہیں۔ سو جب یہ طے ہے کہ زندگی میں اپنے چراغ خود ہی جلانا پڑیں گے۔ اپنی کشتی کا بادبان خود ہی سینا پڑے گا تو پھر شکایت کیسی؟

لہذا فلسفے کو ہولڈ پر لگا کر واپس چلتے ہیں سفر کی روئیداد پر۔ کھاریاں تک تو ہم نے نمکو بسکٹ کھا کہ پاپی پیٹ کی آگ بجھائی پھر جہلم تک ہم اچھے دنوں کی آس لگائے چپ چاپ بیٹھے رہے۔ پر دینہ سے پہلے ہم نے بھوک کا، اعلان کرنا چاہا۔ لیکن چونکہ ہم ایک عدد انتہائی “مذہبی” انسان واقعہ ہوئے ہیں لہذا ہم نے انتہائی شائستگی۔۔۔ کسم لے لیں وہ شائستگی ہی تھی جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم نے نماز ظہر ادا کرنے کی طرف اشارہ کیا۔

ہمارے اشارے کو تحسین پیش کرتے ہوئے ایک خوبصورت مسجد والے سی این جی اسٹیشن کے سامنے قافلہ رکا۔ ہم نے نماز پڑھی اور خدا سے من و، سلوی کی درخواست کی جو فورا قبول ہوئی ہماری بہت سی دعاؤں کی طرح۔
ایک ڈھابے پر کھانے کے لئے جب دال اور چکن آرڈر کیا تو قطعی اندازہ نہ تھا کھانے کا ٹیسٹ اتنا اچھا ہوگا۔ کھانا واقعی بہت اچھا تھا۔ برتن زیادہ صاف نہی تھے اور آپ کو چھری کانٹے کے ساتھ چھوٹی سرونگ نہیں ملی تھی وگرنہ میوزک تو یہاں بھی بج رہا تھا۔ چانجر پھبتی نہ مٹیار بنا۔۔ طاہرہ سید سر بکھیر رہی تھیں اور ہمیں دیکھے بنا بھی یقین تھا انہوں نے اپنی ناک بھی سکوری ہوگی اور آنکھ سے ادائے دلبرانہ کا مظاہرہ بھی کیا ہوگا۔

اور پرائویسی بھی خوب میسر تھی لہذا ہم فائیو نہیں تو فور سٹار لنچ تو کر ہی رہے تھے۔
چائے میں اگر چینی تھوڑی سی کم ہوتی تو ہم سمجھتے ہم لیکوئیڈ فام میں گلاب جامن کھا رہے ہیں۔
جی چائے میں چینی تھوڑی سے کافی زیادہ تھی۔
لنچ کے بعد ہم پھر سے عازم سفر ہوئے۔
سوہاوہ سے پہلے ہی اماں کو کہہ بیٹھے ہم پنڈی پہنچ گئے۔
بعد میں گوجر خان کو دیکھ کر دنیا پر اعتبار نہ کرنے کی ٹھانی ہی ہی ٹھانی سڑکوں پر بھی اعتبار نہ کرنے کی ٹھانی ہم نے۔

راستے میں سڑک کے ساتھ ساتھ چلتی آبادیاں ہر شہر کا اپنا رنگ۔
اور ہر رنگ میں جھلکتی الگ تہذیب خوبصورتیوں کو بڑھا رہے تھے۔ سپہر ہو رہی تھی ہم پنڈی پہنچے۔
پنڈی والی بڑی سرکار کے متعلق تو سنا ہوگا۔۔ پر یہاں تو ہم چھوٹی اور نقلی سرکار کے پروٹوکول میں پھنس گے۔
اور تیس منٹ تک سڑک پر کھڑے گاڑیاں دیکھتے رہے۔ خیر تیس منٹ بعد پروٹوکول والوں کی سواری باد بہاری گزری اور ہمیں اذن رخصت ملی۔

اس سارے عرصے میں ہم سڑک پر پھنس جانے والے لوگوں کے متعلق سوچتے رہے۔ وہ جنہیں ایمرجنسی میں کہیں پہنچنا ہوتا ہے۔ وہ جن کا کوئی بیمار ہوتا ہے۔ یا جس کو ہواؤں میں سفر پر روانہ ہونا ہو۔ ان پر روز کیسی کوفت گزرتی ہوگی۔ پھر کوئی اٹھ کر اسی جھنجھلائے ہوئے انسان کو جمہوریت کا حسن بتانا چاہے گا تو وہ تو پھر وہ غنچۂ دہن شیریں بیاں نہ بنے گا تو یقینا ولی ہوگا۔

اسلام آباد میں داخل ہوتے ہوتے سپہر ڈھل کر شام میں بدل رہی تھی۔
ہم سڑک کے دونوں طرف ڈھلتی شام میں اترتی خاموشی محسوس کرتے ایبٹ آباد کی طرف رواں تھے۔
حویلیاں کے اردگرد پہنچے تو کسی نے دل میں چٹکی بھری۔۔ سنو!!! ہم نے اونہوں کہہ کے اگنور کرنا چاہا۔۔ پر ہمارے اندر بھی ہم سا ہی ایک عدد ڈھیٹ انسان بیٹھا ہے۔ زبان کو تالو سے چپکاتے اتارتے۔۔ چچ کی آواز کے ساتھ پوچھا کیا ہے۔ ؟
سنو! حویلیاں کو وہ آسٹریلوی سیاح جوڑا محبت کی خوبصورتی کا شہر کہہ گیا تھا۔

ہم:کیوں ؟
سنا ہے اس کی وادیوں میں سبزہ چوٹیوں پر آبشاریں ہیں۔
ہم: تووو؟
جواب: دسمبر میں بھی سبزہ اگتا ہے۔
ہم: دھیمے پڑتے ہوئے۔۔ سدا بہار ہوگا۔۔
تو کیا سدا بہار زندگی کو دیکھنا نہ چاہا گی؟
ہم رات سے پہلے ایبٹ آباد پہنچ جانا چاہیے۔
وادی سون سکیسر کا حصہ بھی رہا ہے حویلیاں۔
ہم: چپ چاپ سن رہے تھے۔ اپنے اندر چلتی انسٹی گیٹو ایڈورٹیزمنٹ سن رہے تھے۔
سوال آیا۔ سکیسر نام کیسر سے نکلا ہے نا؟ یا کیسر سکیسر سے نکلا ہے؟
دنیا کا بہترین کیسر ( زعفران) جو پیدا ہوتا ہے یہاں۔
ہم: ہار مانتے ہوئے۔۔۔۔
حویلیاں میں رکنا ہے۔

گاڑی ذیلی سڑک پر مڑتی ہے۔ ہمارے اندر سکون اترنے لگتا ہے۔ ڈور مرر نیچے گرائے فضاء میں بسی خوشبو سانس کے ذریعے اندر اترنے لگتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: