پاکستان دُنیا سے پیچھے کیوں ہے؟ حُنین خالد

0
  • 34
    Shares

 دُنیا کے تمام جمہوری ممالک میں پارلیمان وہ جگہ ہے جہاں کُل آبادی کے بہتر، ذہین، محنتی اور قابل شہری منتخب کرکے بھیجے جاتے ہیں۔ مہذب ممالک کے شہری اپنے انتخاب میں خُوب سے خُوب کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ انتخابات سے قبل انکی ذہانت،سوچ اور قابلیت کو ٹاک شوز یا مباحثوں سے پرکھا جاتا ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں معاشیات، نفسیات، عمرانیات، ادب اور سماجیات کے بڑے بڑے دماغ پارلیمان تک پہنچتے ہیں۔ ان ممبرز پر مشتمل پارلیمان کا کام اپنے مُلک میں بسنے والے عوام کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انکی فلاح و بہبود کے لیے قوانین وضع کرنا ہوتا ہے۔ ان قوانین کو بنانے یا ان میں ترمیم کرنے کا قانون ساز عمل باقاعدہ ایک بحث کے ذریعے تکمیل کو پہچتا ہے۔ حُکومتی نمائندگان اور اپوزیشن ارکان کو اپنی اپنی بات کرنے کا برابر حق حاصل ہوتا ہے۔ بحث کے نتیجے میں نئے نئے نقاط اور پہلو سامنے آتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہوئے ایک بہتر پالیسی مرتب کی جاتی ہے۔

 آسٹریلین پارلیمنٹ میں خاتون سینیٹر پالن برقع میں ملبوس ہو کر آتی ہیں۔ اور برقع اتارتے ہوئے سپیکر سے کہتی ہیں کہ مُلک میں بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے خدشات کے پیش نطر وہ آسٹریلوی شہریوں کیطرف سے برقع پر پابندی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل جارج برینڈس سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے مُلک میں پانچ لاکھ کے قریب مسلمان آباد ہیں جو کہ مُلکی قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک اچھے شہری ہیں۔ میں خُود فیڈرل پولیس کے ساتھ کام کر چُکا ہوں اور ہماری کوئی بھی سیکورٹی پالیسی ہمیں یہ حق نہیں دیتی کہ کسی شہری کے مذہبی جذبات کو مجروح کریں۔

 سکاش پارلیمنٹ میں اڑھائی گھنٹے لگاتار بیس سے زائد پارلیمنٹیرین موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ پر گفتگو کرتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے مسائل اور ممکنہ کوششوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ماحولیاتی چیلنجز پر درکار حُکومتی سطح کے اقدامات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ کینیڈین اپوزیشن لیڈر اور ارکان اپنے منخب وزیراعظم سے بجٹ کے متعلق براہ راست سوال کرتے ہیں اور اُنہیں جواب دینا پڑتا ہے۔ دوبارہ سوال ہوتا ہے پھر سے جواب میں حُکومتی کارکردگی بتا کر مطمئن کرنا پڑتا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے کہ ٹرمپ کے متعصب رویے اور انکی طرف سے نفرت انگیز تویٹ شیئر کرنے کے سبب انہیں برٹش پارلیمنٹ میں تقریر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر انہیں مدعو کیا گیا تو وہ انگلش جُمہوری روایات کے خلاف ہوگا۔ سنگاپور کے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مُلکی مسائل اور حُکومتی کارکردگی پر براہ راست بحث کرتے ہیں۔ دونوں فریق اپنی اپنی بات انتہائی مہذب اور شائستہ طریقے سے قوم تک پہچاتے ہیں۔ ایسا ہی دُنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے پارلیمان میں ہونا معمول کی بات ہے۔

 اب آتے ہیں ہم، پاکستان کے پارلیمان کی طرف۔ پارلیمان یا مقننہ دو حصوں پارلیمنٹ اور سینیٹ پر مشتمل ادارہ ہے۔ جس کا کام قانون سازی ہے۔ پاکستان کو درپیش بڑے مسائل لوڈشیڈنگ، دہشتگردی، کرپشن، دھاندلی، معاشی بحران، قیادت کا فقدان، اداروں کی بدحالی اور بیروزگاری ہیں۔ اب آپ گزشتہ دس سال کے پارلیمانی اجلاس کی تفاصیل کا تقابلی جائزہ لیں۔ غیرآئینی اقدام کو ترمیم کے ذریعے آئینی حیثیت دینا، دھاندلی دھرنا کے مظاہرین سے حُکومت بچانا، کرپٹ وزیراعظم سے اظہار یکجہتی کرنا ہو، ختم نبوت جیسی حساس شقوں میں چھیڑچھاڑ کرنا ہو یا نا اہل شخص کو پارٹی صدر بنوانا ہو۔ اسی صورت ہمارے ممبر پارلیمان تشریف لیجاتے ہیں۔ کب کب عوام کے مسائل یا ان کو ریلیف دینے پر بحث ہوئی۔ آئندہ چند سالوں میں ہمیں کن مسائل کا خدشہ ہے ان کے لیے منصوبہ بندی پر کب سوچ بچار ہوئی؟ جواب ندارد۔

 وزیر مملکت نے قومی اسمبلی میں شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہا۔ وزیربجلی و پانی سے جب محکمانہ ذمہ داری کے متعلق سوال کیا گیا تو وہ انگریزی کی چند سطریں پڑھنے سے قاصر تھے۔ سندھ اسمبلی میں نیلوفر طوفان کے حوالے سے خاتون ممبر نے بات کی تو سپیکراسمبلی نے مذاق اڑا دیا، اور کہا نیلوفر کسی خاتون کا نام لگتا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں کورم کی نشاندہی کرنے پر اسلم اقبال کو سپیکراسمبلی نے شٹ اپ کہہ دیا۔ نصرت سحر اور شہلا رضا کی آپسی امی بیٹا بحث تو دُور کی بات نہیں۔ جن تک ایسے نمونے ہماری اسمبلیوں میں موجود ہیں تب تک ہم دوسری دُنیا سے پیچھے ہیں۔

 

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: