قبرستان ڈاٹ کام : اسامہ ثالث

1

حضرات! ترقی کا زمانہ ہے اور نت نئے کاروباری منصوبے ہی ترقی کی منزل کے حصول میں مدد گار ہو سکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بزنس آئیڈیے سے آج آپ کو متعارف کروانے جارہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اس عظیم الشان خرافاتی منصوبہ پہ مجھے کوئی تبصرہ نہیں کرنا پڑے گا۔ البتہ اتنا کہنا کافی ہو گا کہ جب میں نے یہ منصوبہ اپنی زندگی میں پہلی بار سنا تو میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ اس پہ خوشی کا اظہا ر کیا جائے یا آنس بہائے جائیں خیر تو سنئیے قبرستان ڈاٹ کام کی کہانی۔

پروفیسروں سے مجھے ہمیشہ ہی چڑرہی ہے۔ کچھ عرصہ سے ایک امریکی پروفیسر سے پڑھنے کا شرف بھی حاصل کر رہا ہوں۔ ایک دن یہ صاحب مجھے کہنے لگے کہ یار میرے پاس ایک منصوبہ ہے۔ اگر ہم دو تین کروڑ روپے کی سرمایہ کاری فراہم کر سکیں تو کاروبار کوچار چاند لگنے کے امکانات نہایت روشن ہیں۔ ۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔ میرے پاس اس کا ایک طریقہ ہے۔ اس سے کوئی بھی شخص مر کر بھی زندہ رہے گا۔ بغیر آبِ حیات کے حیاتِ جاودانی پائے گا۔ اور ہم اس کی اس خواہش سے نہ صرف پیسہ کمائیں گےبلکہ انسانوں کی ایک دیرینہ خواہش کو حقیقت میں بھی بدلیں گےاور اس منصوبے کے ذریعےہزاروں بے روزگار افراد کو روزگار بھی مہیا کریں گے۔

منصوبہ یہ ہے کہ ایک ماڈل کمپیوٹرائزڈ قبرستان بنایا جائے۔ جس کی ‘خصوصیات’ کچھ ایسی ہوں۔

تمام قبروں کا درمیانی فاصلہ یکساں ہو گا۔
آمدورفت کے لئے بہترین نظام ہو گا کہ کوئی بھی کسی بھی وقت کار پہ اپنے پیارے کی قبر پہ پہنچ جائے۔
معزور مہمانوں کے لئے وہیل چئیرز کا اہتمام ہوگا۔
قبرستان میں کسی قبر پہ کوئی روایتی قسم کا کتبہ نہیں لگے گا بلکہ ہر قبر کو ایک نمبر الاٹ کیا جائے گا۔ پھر اس نمبر کی مکمل معلومات کمپیوٹر میں محفوظ ہوگی۔

ہمارے ہرطرح کی سہولیات سے مزین جدید کمپیوٹرائزڈ قبرستان میں کوئی بھی شخص اپنے لیے جگہ مختص کروا سکے گا مگر اس کے لیے اسے ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرنا ہو گی۔ ابھی یہ شخص زندہ ہے مگر ظاہری بات ہے مستقبل کے کسی نامعلوم لمحے میں ضرور مر جائے گا۔ اس شخص سے درج ذیل معلومات حاصل کی جائیں گی۔

  • مثلاََ قبر نمبر 142، نام فلاں بن فلاں
  • چند تصاویر(بیٹھے، کھڑے، پاسپورٹ سائز کی وغیرہ وغیرہ)
  • مختصر حالاتِ زندگی (اردو اور انگریزی ہر دوزبانوں میں)
  • ایک ماڈل ویڈیو انٹر ویو، (جو ہمارے نمائندے مذکورہ شخص (کسٹمر) کی زندگی ہی میں ریکارڈ کر لیں گے کے لوازمات کچھ اسطرح ہوں گے

السلام علیکم
آئیے جناب۔ تشریف رکھئیے۔ میرا نام فلاں بن فلاں ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ اپنے قیمتی وقت میں سے فرصت پاکر مجھ سے ملنے کے لئے تشریف لائے۔ میں آپکو اپنی زندگی کی کہانی سناتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ میں ایک سادہ آدمی تھا۔ میری زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ (یا کہانی کچھ بھی ہو سکتی ہے، یہ کسٹمر خود فیصلہ کرے گا کہ اس نے اپنی زندگی کے کن کن حقائق سے پردہ اٹھانا ہے)

(مطلوبہ شخص کی پروفائل میں بہت سے سرچ آپشن ہوں گے،

مثلا آگے جانے کے لئے ایک دبائیے۔
دوبارہ سننے کے لئے دو دبائیے۔ زبان کی تبدیلی کے لئے تین دبائیے۔
بائیو گرافی کا مزاحیہ حصہ سننے کے لئے چار دبائیے۔
بائیو گرافی کا عبرت انگیز حصہ سننے کے لئے پانچ دبائیے۔
شادی کی روداد سننے کے لئے چھ دبائیے۔
میری زندگی سے سبق لینے کے لیے آٹھ دبائیے۔
میری پہلی محبت کے بارے میں جاننے کے لئے نو دبائیے۔ وغیرہ وغیرہ۔

الغرض مطلوبہ معلومات کی تلاش اور ان تک فوری رسائی کو ہر طرح سے ممکن بنایا جائے گا۔ جن میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتری لانے کی کوشش ہمیشہ جاری رہے گی۔

طریقہ کار۔
ہم ایک جدید آن لائن سوفٹ وئیر تیار کروائیں گے۔ جس پہ کسٹمرز (مستقبل میں مرنےوالےافراد) کا ایک اکاؤنٹ آن لائن کھولا جائے گا۔ جیسا کہ فیس بک یا ٹویٹر کا اکاؤنٹ ہوتا ہے۔ کسٹمراپنی پروفائل میں داخل ہو کر ضروری معلومات مہیا کر سکے گا۔ یہ کام انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کے سر انجام دیا جا سکے گا۔ مثلا اپنی زندگی کا کوئی اہم واقعہ (اگر اس کی ویڈیو موجود ہوتو وہ بھی ساتھ لگائی جا سکے گی ورنہ زبانی ویڈیو پیغام کے ذریعے)۔ بعض کسٹمرز اکاؤنٹ بنانے کے بعد بھی برسوں زندہ رہیں گے پس اگر کسی کسٹمر کو لگے کہ میں نے اپنی پروفائل پہ کچھ غیر ضروری یا غیر مناسب معلومات دے دی ہیں تو کسٹمر جب چاہے انہیں حذف بھی کرسکے گا۔ مثلا اپنی پہلی محبت کی روداد کو ختم کرنا یا اپنی شادی کے متعلق دی گئی معلومات کو ہٹانا وغیرہ۔ اس طرح روزانہ کی بنیاد پہ نئے نئے آپشنز کا اضافہ ہوتا رہے گا۔ ہر نیا کسٹمر کسی پرانے کسٹمر کی پروفائل کے جائزے سے اندازہ لگا لے گا کہ اسے اپن ی پرو فائل پہ کون کون سی معلومات دینی ہے۔ اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

بکنگ کا طریقہ کار:
بکنگ کے مختلف پیکجز ہوں گے۔ مثلاَ روڈ کے ساتھ والی قبر کے چارجز زیادہ ہوں گے۔ قبر کی اضافی تزئین و آرائش و زیبائش کے چارجز بھی زیادہ ہوں گے۔ قبر پہ کسٹمر کی ہدایت کے مطابق ایک خاص پودا لگایا جائے گا۔ جس کی حفاظت اور پرداخت کا ذمہ کمپنی کے مالیوں کے سر ہوگا۔ جو اس پودے کو قائم رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ اور پودےکے خراب ہوجانے کی صورت میں اسے بدل دیا جائے گا۔

پیکج کی کچھ دیگر خصوصیات :
اگر کسٹمر چاہے کہ میرے جنازے میں ایک ہزار افراد آئیں تو اس کا بندوبست بھی کیا جائے گا(جس کے اضافی چارجز ہوں گے)۔ یاد رہے کہ کسٹمر کوغسل دینے سے لیکر تدفین تک کے تمام فرائض کمپنی کے نمائندے ادا کریں گے۔

ایک ماڈل جنازے میں کمپنی چالیس افراد کی شرکت کی ذمہ دار ہوگی(اس کے علاوہ میت کے عزیزواقارب اور دوست وغیرہ آئیں توکمپنی ان کے ہینڈل کرنے کی ذمہ دار نہ ہوگی)۔

کسٹمر کی خواہش کے مطابق اس کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ بھی کی جا سکے گی۔ فوجی انداز میں سلامی دینے کے لیے کمپنی کے پاس لائسنس یافتہ اسلحے کے مالک گارڈز ہوں گے۔ البتہ کسٹمر کو اس کے اضافی چارجز دینا ہوں گے۔

کمپنی کسٹمر کو یہ سہولت بھی فراہم کرتی ہے کہ اس کے جنازے میں علاقہ کی معزز شخصیات تشریف لائیں۔ اس کے علیحدہ چارجز ہوں گے۔

کمپنی کسٹمر کے مذہبی عقائد کا احترام کرتے ہوئے اسی کے مسلک کے مولوی سے جنازہ پڑھوائے گی۔ نیز کمپنی کسٹمر کو یہ سہولت بھی فراہم کرے گی کہ کسٹمر کی قبر پہ کسٹمر کے مسلک کا مولوی ہر جمعرات/ہر پندرہ دن بعد/ہر مہینے بعد قرآن خوانی اور عا ئے مغفرت کرے(یہ صدقہ جایہ کی ایک نئی قسم ہوگی)۔ کمپنی سال میں ایک بار کسٹمر کے مولوی کو دعا کا پابند کرے گی۔ اضافی دعا اور قرآن خوانی کے چارجز کسٹمر کو علیحدہ ادا کرنے پڑیں گے۔

کسٹمر کی سہولت کے لئے کمپنی کسٹمر سے رقم آسان قسطوں میں بھی وصول کرسکتی ہے۔ نیز کسٹمر جب چاہے اپنا پیکج تبدیل کروا سکتا ہے۔

ہمارے پاس جو دستیاب پیکج ہوں گے ان کی ایک امکانی شکل کچھ یوں ہے۔
پریمییم پیکج دس لاکھ روپے
سلور پیکج بیس لاکھ روپے
گولڈن پیکج پینتیس لاکھ روپے۔

اس کے علاوہ اضافی سہولیات کے چارجز علیحدہ ہوں گے۔ پیشگی بکنگ پہ کمپنی پانچ فیصد ڈسکاؤنٹ دے گی۔ نیز موسمِ مرگ میں (یعنی جن دنوں حادثات ہورہے ہوں یا کوئی وبا پھیلی ہو) کمپنی اس بات کا خاص خیال رکھے گی کہ اس کے رجسٹرڈ کسٹمرکی تدفین کوپہلی فرصت میں یقینی بنائے۔ ۔ لہذا پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پہ آن لائن بکنگ کروائیں تاکہ موت کی صورت کسٹمر کی میت کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. طیب علی تگہ on

    اس خرابہ آباد، جسے یار لوگ دنیا کہا کرتے ہیں، پر زمانے نے یہ کروٹ بھی لینی تھی کہ ہمارا سابقہ اس عہدِ خراب سے ہوا، جہاں ہر جذبہ، ہر عمل، ہر خیال، ہر سوچ، ایک “کموڈیٹی” میں ڈھل چکی ہے، ہر چیز بکاؤ ہے، ہر چیز خریدی جا سکتی ہے اور بیچی جا سکتی ہے، پہلے پہل بازار “مارکیٹائز” ہوئے اور اب جذبے، رشتے اور تعلقات بھی ” مارکیٹ” کے “حسیں جبر” کے دام کے اسیر ہوئے۔ کوئی دن ہونے کو ہے جب یہاں ایسا کچھ چلن ہی عام ہوگا، جس کی طرف عزیز القدر اسامہ نے ہلکے پھلکے انداز میں توجہ دلائی ہے۔ ‘دانش” پر ہم اپنے اس دوست کو خوش آمدید کہتے ہیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: