احوبہ ——– جیلانی بی اے — 3

0

(3)
ان دنوں وادئ بطحا میں یہ خبر آگ کی طرح دوڑ گئی کہ فاران کے سایہ تلے ایک ایسی عورت خیمہ زن ہے، جو بیت المقدس سے آئی ہے، اور اپنے سیم وزر کو خاک کی طرح اڑا رہئ ہے “یہ عورت کون ہو سکتی ہے؟” لوگ سوچ رہے تھے۔ “یہ ضرور کوئی ملک بدر شہزادی ہے یا شاہ حیرہ کی جاسوس” ! لوگوں نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دے دیا۔ اعرابی اور بدو اپنے ٹٹووں پر سوار ہو کر اس کے خیمے کے سامنے سے گزرتے، لیکن اس عورت کی نگاہ میں انکی بھی اتنی حیثیت تھی، جتنی کہ اس شہسوار کی کہ جس کے سر پر ایک سیاہ عمامہ بندھا ہو، جس کے گھوڑے کی ٹاپوں سے پہاڑیاں گونج اٹھی ہوں، اور جس کے بھالے کی انی ان گنت سینوں کا خاص خون چوس آئی ہو، ہر راہ گیر اس کے مال و دولت میں برابر کا شریک تھا۔ اگر وہ یوں لینے پر انکار کرتا، تو وہ ہدیہ قبول کرنے پر اصرار کرتی۔ لیکن ایک دن ایک ایسا عرب بھی آ پہنچا جس نے اصرار کے باوجود ہدیہ قبول کرنے سے انکار کر دیا، وہ سفید گھوڑے پر سوار تھا، اور اس کی سنہری تلوار اس کی کمر میں لٹک رہی تھی، وہ معمر تھا، لیکن اس کے خال و خط، چہرے کی درخشاں رنگت، پر جلال نگاہیں اور بامتانت بولی، اس کی مزاری کی چغلی کھا رہی تھیں۔ احوبہ نے سونے کا طشت چاندی سے بھر سمیہ کو دیا اور کہلا بھیجا کہ ایک بار وہ شیخ اس کے سامنے سے گذرے۔ جب سمیہ سونے کی طشتری لیکر اس کے سامنے گئی، تو اس نے آنکھ اٹھا کر سمیہ کی طرف دیکھا، سمیہ کا ہاتھ لرز گیا، اور طشتری چھن سے روپہلی اور سیمیں ٹکلیوں سمیت زمین پر آ رہی۔”

تم نے مجھے کسان جانا تھا، جاو اپنی مالکہ سے جا کر کہہ دو کہ اس نے آج تک کسی عربی گھوڑے کی ہنہناہٹ نہیں سنی “۔ شیخ کی آنکھیں آفتاب کی حدت سے چمک اٹھیں، اس کے ہاتھ گھوڑے کی عنان پر مضبوط ہو گئے۔ جب سمیہ نے احوبہ کو شیخ عرب کا پیغام دیا، تو اس نے خیمے کی جالی میں سے اسکی طرف دیکھا، وہ بلا شبہ سردار قوم تھا۔  احوبہ نے پیغام بھیجا۔ ” اے محترم شیخ ! یہ درخواست کسی دل خراشی کے لیے نہ تھی، بلکہ ایک اجنبی کا دست صلح و امن تھا، کیا وہ عورت کی قدر نہیں کرتے؟ “شیخ نے جواب دیا :” بے شک ہم مسافر اور عورت کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس نگاہ سے ہم چراگاہ کے درخت پر انڈے دینے والی کبوتری کو دیکھتے ہیں۔ “یہ سن کر احوبہ باہر نکل آئی۔ اس کے چہرے پر سیاہ نقاب چاند پر بادل کے کسی لطیف ٹکڑے کی طرح لٹکی ہوئی تھی۔ اسکی عبرانی آنکھیں نقاب کی جالی میں سے شیخ کو گھور رہی تھیں۔ اس کے مرمریں گلے میں سرخ موتیوں کی مالا جگمگا رہی تھی اور اس کا لباس سونے کی تاروں سے گندھا ہوا تھا۔ شیخ نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا، پھر دور افق کی طرف دیکھنے لگا۔  میں بیت ابراہیم اور اس کے ساکنان کی خدمت میں اپنی نذر لیے پیش ہوئی ہوں، کیا محترم شیخ میرا یہ حقیر تحفہ قبول نہ فرمائے گا۔ ؟” میں تمہیں نگاہ حرمت سے دیکھتا ہوں خاتون! اگر تمہیں ایسا ہی کرنا ہے تو تم اسے کعبہ کی نذر کر سکتی ہو، تم مجھ کو وہیں پاو گی، میں ہاشم کا بیٹا ہوں۔ “اس شخص کے سوا ہر راہگیر وہاں سے جھولی بھرے گزرتا، وہ اس کے جالی دار خیمے کے سامنے سے گزرتے اور نذرانہ لیتے وقت اپنے چہرے پر پس پردہ دو سیاہ زیتونی آنکھیں گڑی پاتے۔  ان دنوں مکہ میں جوئے اور شراب کی خوب گرم بازاری ہو گئی۔ عرب شہسوار سونے کی ٹکلیوں پر شرطیں باندھتے، ہر صبح و شام میدان عرفات میں اونٹوں اور گھوڑوں کی دوڑیں ہو رہی تھیں، نیزے چل رہے تھے اور قتل کی وارداتیں پہلے سے کچھ بڑھ ہی گئی تھیں۔ کچھ بھی ہو۔ عربی خون تمازت آفتاب اور طعن آمیز چرکے پر کھول اٹھتا ہے۔ عورت، شراب اور دولت محض تفریحات تھیں۔

کچھ دنوں کے بعد حرم کعبہ میں شاعروں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا، مضبوط پٹھوں والے گھوڑوں کی ہنہناہٹ سے وادئ بطحا گونج اٹھی، عربی گھوڑوں کی ایالیں پرگوشت گردنوں پر شاہی خلعت کی طرح جھول رہی تھیں، اور دراز قد اونٹ اور اونٹنیاں اپنی لمبی لمبی گردنیں جھکا جھکا کر حرم کعبہ کے اندر دیکھ رہی تھیں۔ جس کے صحن میں ہوا سے پھولی ہوئی فرغلیں کعبہ کے گردا گرد طواف کر رہی تھیں اور میدان جنگ میں موت سے کھیلنے والے شاعر اپنے پر افتخار اشعار قرطاس یاد سے پڑھ رہےتھے۔ “اے لیلی! اگر تو اپنے جام کو گردش دینا چاہتی ہے تو اسے دائیں ہاتھ سے شروع کر، ہم بھی تشنہ لب منتظر ہیںاور جب ہم جنگ کی چکی کسی قوم کی طرف لے جاتے ہیںتو اس میں اس طرح پس جاتی ہے، جیسے آٹا ہم میں سے کوئی سردار اس وقت تک مرتا نہیںجب تک کہ اس کی جگہ لینے کو ایک اور نہ تیار ہو جائے جنگ کے زمانہ میں ہمارا خون پانی کی طرح سستا ہوتا ہے لیکن عہد امن میں وہی خون کسی قیمت پر بھی نہیں مل سکتا۔ ”   (عمرو بن کلثوم)وہ خالص عربی فطرت کو بے نقاب کر رہے تھے۔ ان عربوں کی فطرت، جن کا خون ریت کے ذروں کی طرح چمکیلا اور سورج کی طرح گرم تھا۔ ان کے اشعاع میں آگ تھی، اور شعراء کی آنکھیں انتہائی خودداری اور مردانہ انانیت سے دہک رہی تھیں۔ کعبہ کے گردا گرد ملمع پانی سے اشعار مرقوم تھے۔ احوبہ یہ سب کچھ دیکھتی ہوئی گذر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں ہر راہ رو، ہر گھڑ سوار کو تک رہی تھیں حتی کہ بعض نوجوانوں کو کچھ وہم سا ہونے لگا، لیکن وہ ایک نظر ہر ایک کو دیکھتی ہوئی آگے نکل گئی، گویا وہ تکاش گمشدہ میں محو تھی۔ لیکن وہ کہاں تھا ؟ وہ اپنے دل سے بار بار یہی سوال پوچھ رہی تھی۔ ” وہ کہاں ہے؟”دن کی گہما گہمی ٹھنڈی پڑ رہی تھی اور شعراء اپنے خیموں کے اندر شراب کے مٹکوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ منتخب اشعار کی مذہب تختیاں کعبہ کی دیواروں پر لٹکی، ہوا کے جھونکوں سے ہل رہی تھیں اور ہجوم اپنے بازگشت کی تیاری کر رہا تھا، دل برداستہ احوبہ نے بھی اپنے ساربان کو واپسی کا حکم دیا۔ جونہی وہ لوٹ رہی تھی، کہ اس نے کعبہ کی بستی سے باہر ببول کے درخت کے نیچے ایک جواں سال لڑکی کو دیکھا جو درخت سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ صحرائی آفتاب کی آخری کرنیں اس کے چہرے کو اپنی طلائی تابش سے ملمع کر رہی تھیں۔

وہ ایک سیاہ لبادے میں ملبوس تھی۔ اسکی غزالی انکھیں پانی کے اس شفاف چشمے کی طرح چمک رہی تجیں جس کی تہ تک کے سنگریزے روشنی میں نظر آ جاتے ہیں یا گویا اس کی آنکھیں آسمانی نغموں کی شبنم سے پرنم تھیں۔ وہ مریم ام عیسی کی طرح خاموش کھڑی تھئ۔ ” اونٹنی بٹھا دو۔ ” احوبہ چلائی۔ جب اونٹنی بیٹھ گئی تو وہ ایک بے اختیار جذبے کی ماتحت پردے سے نکل آئی اور اس کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ ” تم آل بنی اسرائیل ہو؟””نہیں ” اس نے معصومانہ انداز میں ملائم و شیریں آواز میں جواب دیا۔ ” میں خاندان پاسبان حرم سے ہوں۔ “” تمہارا نام ؟”” آمنہ “احوبہ کے نہاں خانہ دل میں یہ نام دوبارہ گونجا، اسے ایسا محسو ہوا گویا یہ نام ااس کے لیے معانی کی ایک آباد دنیا اپنے اندر رکھتا تھا۔ اس نے سمیہ کو آواز دی، اور وہ سونے کی طشتری لیے آ گئی، کسی عورت کی خدمت میں اس کا سب سے پہلا ہدیہ نیاز تھا۔ ” میرے لیے اونٹنی کا دودھ کافی ہے۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ مڑی اور چلی گئی۔ خیمہ میں آتے ہی اس نے اپنا ضدی آئینہ نکالا اور اپنی صورت دیکھی، اس نے چہرے کو ہر طرف سے گھما کر دیکھا لیکن اس میں فطرت کی سادہ گلکاریوں پر انسانی صفت کے نقوش بھی تھے۔ فطرت کے نرم وملائم بھولے پن پر عزم و ارادہ کی صلابت بھی موجود تھی۔ اپنے دل کے اندر اس نے کچھ محسوس کیا، ایسا کچھ جو اس کی زبان تک نہ آسکتا تھا۔ آسما پر سورج کی آخری سرخی بھی غائب ہو گئی تھی اور قسمت بھرے ستارے آسمان کی سدا بہار آنکھوں کی طرح روشن تھے، وہ اب کافی قریب آ چکے تھے، احوبہ کا دل بے اختیار دیوانی ہوا چاہتا تھا۔ اس نے سیاہ افق کی طرف دیکھا اور حسرت آگیں آنسو اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرنے لگے، د ن چڑھتا اور رات کے اندھیرے میں گم ہو جاتا۔ رات پھیلتی اور دن کے اجالے میں سمٹ جاتی۔ لیکن احوبہ کا نجم آرزو ابھی تک دکھائی نہ دے رہا تھا۔ مکہ اور منی کے درمیان سینکڑوں آدمی بستے تھے، ہزاروں گزرتے تھے لیکن سب کی پیشانیاں اس نور سے خالی تھی جس کی تلاش میں وہ سرگرداں تھی۔ ایک صبح اس کے خیمے کے سامنے ایک اک چشم راہب کھڑا تھا، جو احوبہ سے ملاقات کا متمنی تھا، جب سمیہ نے اس کی اطلاع کی تو احوبہ اس وقت دعا کر رہی تھی۔” وہ کون ہے؟ ” احوبی نے سمیہ کی طرف رخ کئے بغیر پوچھا۔ ” وہ کہتا ہے، میں یہودی ہوں”۔ “تو پھر اسے اندر بلا لاو۔ “دوسرے لمحے وہ راہب احوبہ کے عین سر پر کھڑا تھا اس کی ایک آنکھ خراب کنویں کی طرح بند تھی اور دودری قطب ستارے کی طرح روشن۔ وہ اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔” میں نے سنا ہے، تم آل یعقوب کا سرمایہ حیات لٹانے آئی ہو۔” احوبہ کا رنگ پیلا پڑ گیا، وہ کیسے جان گیا؟ اس نے سرد نگاہوں سے راہب کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ باچھوں سے پھیلتی ہوئی اندھی آنکھ تک پہنچ گئی تھی، اور اس کی روشن آنکھ اسکی طرف یوں دیکھ رہی تھی، جیسے باز قابو میں آئے ہوئے شکار کو۔ ” میں معلوم کر سکتا ہوں، مجھکو آسمانی علم سے نوازا گیا ہے، میں ہر چیز جان سکتا ہوں، لوگوں کی زبانوں سے بات سن کر ایک شخص کی صحیح صحیح تصویر اپنی نگاہوں میں اتار لیتا ہوں، اور کسی کے پھبن سے اس کی نیت بھی تاڑ لیتا ہوں۔ ” احوبہ اس کی طرف خاموشی سے تک رہی تھی، وہ ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا: “میں تمہیں ایک نوید سنانے آیا ہوں۔” احوبہ کا بجھتا ہوا چہرہ روشن ہو گیا “تم یقینا اپنے مقصد میں کامیاب ہو گی”۔

“خدا تمہار منہ آسمانی شہد سے میٹھا کرے۔” احوبہ خوش ہوتے ہوئے بولی۔ “تمہارا نام ہر اس زائچہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے، جو بنی اسرائیل کی قسمت پر ڈالا جائے۔” احوبہ کا دل مسرت سے جھومنے لگا، اس نے سمیہ کو پکار کر سونے سے بھری تھالی لانے کا حکم دیا۔ ” لیکن میں تو ابھی تک اپنا گوہر مقصود پانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ” ” اسی لیے تو میں آیا ہوں۔ “کیا ؟” احوبہ چلائی۔ “ہاں ہاں۔ میں اسے تمہارے پاس لا سکتا ہوں۔” “سمیہ ! سونے کا ایک اور توڑا لاو” یک چشم راہب زیرلب مسکرا رہا تھا، وہ اپنی ڈاڑھی پر تیزی سے ہاتھ پھیر رہا تھا اوراحوبہ خوشی میں ڈوبتی جا رہی تھی۔ جب راہب چلنے لگا، تو اس نے اس کا دامن پکڑ لیا۔ ” یہ راز کسی پر فاش نہ ہو، تم جانتے ہو، انسانی دنیا کا پانسہ الٹنے والا ہے۔ “تم مجھے نادان سمجھتی ہو، ہرمقس کی بیٹی! “احوبہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔” ہاں ہاں “اس نے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔” میں ایک شخص کا نام۔ معلوم کر سکتا ہوں، میں اسے کل تمہارے پاس لاوں گا۔ ” یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی پشت پر سونے کے توڑے رکھ لیے، چلتے ہوئے اس نے کہا: “صرف تمہاری دل شکنی کا خیال دامن گیر ہے، ورنہ میں تمہاری یہ دولت کبھی قبول نہ کرتا۔ راہب کا دھن سے کیا کام۔” دوسرے دن اسکے خیمے کے باہر ایک سفید خچر اچھل کود کررہا تھا۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: