کلچر کے مباحث اور ہمارا کلچر : قاسم یعقوب

0
  • 44
    Shares

(یہ مضمون اپریل۲۰۰۲ء میں لکھا گیا ۔اس بحث کے مندرجات کو کسی تبدیلی کے بغیر پیش کیا جا رہا ہے۔ کلچر اور خصوصاً پاکستانی کلچر کے تشکیلی عناصر کی کھوج اب پہلے سے زیادہ ضرورت کی متقاضی ہے۔)

انسانوں اور حیوانوں میں نوعی انفرادیت کے ساتھ ساتھ بہت سی مشترک جبلی خصوصیات بھی پائی جاتے ہیں۔ ان میں سب سے بنیادی صفت دونوں کا طرزِ اظہار ہے یعنی ہر جاندار نوع جبلی ضروریات کی تکمیل کے لیے زندگی کی مختلف تحریکات میں مصروف رہتے ہیں۔ عمل کی یہ تغیر پسندی جانوروں میں ایک جیسی جب کہ انسانوں میں مختلف ہوتی ہے یہ مختلف طرزِ اظہار ہر انسان میں مختلف ہوتا ہے۔ مگر سماجی تعاون کے قاعدوں کے زیرِ اثر یہ اختلاف کچھ انسانوں میں اشتراک پیدا کر لیتا ہے یوں طرزِ عمل کی وحدت مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر مشترک کلچر کی بنیاد رکھتی ہے۔حیوان چوں کہ طرزِ عمل میں فطری تقاضوں سے ہٹ کر تخلیقیت سے دور ہوتے ہیں لہٰذا اُن میں کلچر موجود نہیں ہوتا۔مارکس کہتا ہے کہ انسان نیچر کا سہارا لیتے ہوئے بھی نیچر پر انحصار نہیں کرتا وہ نیچر کے پہلو بہ پہلو اپنی تخلیقی دنیا بنا لیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ تخلیقیت جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے مثلاً پرندوں کا گھونسلوں کی شکل میں رہنا، شہد کی مکھیاں اور بھڑوں کا چھتے بنانا، وغیرہ۔ مگر میرے خیال میں یہ تخلیقیت نہیں بلکہ جبلی طرزِ اظہار ہی کی ایک شکل ہے اگرجانوروں میں ذرا برابر بھی تخلیقی صفت ہوتی تو بھڑیں اور شہد کی مکھیاں جدید طریقوں سے شہد بنانے کی نئی کوششوں میں مصروف ہوتیں یاصدیوں سے چھتّوں ہی کی شکل میں کیوں رہتیں؟

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو وہ سماجی و معاشرتی آداب اپنے ساتھ لے کر نہیں آتا بلکہ ایک دوسرے کے طرزِ عمل کے ٹکراؤ سے تہذیبی عناصر کی تشکیل کرتا ہے۔ یہ عناصر اُس کو خوبصورت زندگی کی تعمیر میں تخلیقی صفات کے ساتھ شریکِ کار رکھتے ہیں۔انسان کا حواسِ خمسہ کے ذریعے ادراک، اُس کی خواہشات، احساسات، ضروریات اور خیالات کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ چناں چہ وہ پتھر کے بُت تراشتا اور اپنے اعمال کو کسی ماورائی قوت سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ طرح طرح کے رسم و رواج اور طور طریقے برت کے زندگی کے معیارات قائم کرتا ہے جن پر پورا اُترنے کی کوشش میں وہ اپنے کردار کی تشکیل کرتا ہے۔اپنی جبلی ضرورتوں میں انفرادیت پیدا کرتا، بھوک مٹانے کے لیے صرف کھانا کھانے ہی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ خوردونوش کی اشیاء میں تنوّع پیدا کر کے اپنے ذوق کو بھی تسکین فراہم کرتاہے۔ وہ اپنے احساسات کو اظہار کے سانچوں میں ڈھالتا ہے۔ لفظ تراشتا ہے، تصویر بناتا ہے، مجسمے کاٹتا ہے، خیالوں کی جولاں گاہ میں قیام کرتا ہے۔ اخلاق و فلسفہ، معیشت وسیاست اور عقائد و آداب کے گھروندے تعمیر کرتا ہے۔ یہ سارا طرزِ عمل اُس ’’تخلیقیت‘‘ کے جذبے کا مرہونِ منت ہے جو جانوروں میں نہیں ہوتا۔ یہی وہ فرق ہے جس سے جانور انسانوں کی مجموعی تہذیب کا حصہ تو بنتے ہیں مگر انسان کبھی بھی اُن کے ذہنی احاطے میں مقید نہیں ہو سکتے۔

اقبال نے روحانی پستی کو فرنگی مدنیت کے مماثل قراردیا تھا یعنی مخصوص طرزِ زندگی، جس میں عریانی، مے خواری،بے کاری اور افلاس کی فراوانی ہے۔ لیکن فرنگستان کی بہت سی تہذیبی ترقی کو اقبال ہندوستانی باشندوں کے لیے مشعلِ راہ بھی سمجھتے رہے۔

طرزِ زندگی کے اسی عمل کے لیے ہمارے ہاں کئی الفاظ رائج ہیں جن میں تہذیب، تمدن، ثقافت اور کلچر شامل ہیں۔ میں ان الفاظ کے مأخذات و مصادر کی بحثوں میں نہیں پڑوں گابلکہ ان کے رائج مفاہیم اور ان میں فرق تک اپنا مقصود رکھوں گا۔

تمدن،مدنیت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یعنی سماجی و معاشرتی رہن سہن۔ یہ لفظ کسی قوم کے مجموعی طرزِ عمل کو نہیں ظاہر کرتا بلکہ زندگی کے ظاہری رکھ رکھاؤ کا عکاس ہے۔ اقبال نے روحانی پستی کو فرنگی مدنیت کے مماثل قراردیا تھا یعنی مخصوص طرزِ زندگی، جس میں عریانی، مے خواری،بے کاری اور افلاس کی فراوانی ہے۔ لیکن فرنگستان کی بہت سی تہذیبی ترقی کو اقبال ہندوستانی باشندوں کے لیے مشعلِ راہ بھی سمجھتے رہے۔ گویا مدنیت کے معنی محدود سماجیت کا اظہار ہیں۔ ڈاکٹر ساجد امجد، تمدن کے معنی شہر بتاتے ہوئے ’’شہر‘‘ کی شرط لازمی قرار دیتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:

’’تمدن کے لیے شہر کی شرط لازمی ہے جب کہ یہ ضروری نہیں کہ لوگ شہر آباد نہ کر سکیں۔ ان کی کوئی تہذیب نہ ہو۔ شہروں کی بنیاد پڑنے سے بھی انسانی تہذیب ہمارے معیار پر پوری نہ اُترے۔‘‘ (۱)

ساجد امجد نے گروہوں اور شہروں کی زندگی کو علاحدہ علاحدہ تہذیبیں کہا ہے۔ شہر کی زندگی ’’مدنیت‘‘ ہے۔ گویا تمدن صرف شہری زندگی کے مخصوص معیار پر اُترنے والی تہذیب ہے۔انسانی گروہ کی ذہنی جِلا مجموعی طور پر اس رہن سہن کے معیار پر پورا نہیں اترتی جہاں شہری زندگی موجود ہے۔ شہر سے مُراد ہر قصبہ، دیہات، ٹاؤن وغیرہ بھی ہو سکتا ہے۔ سر سید احمد خان نے تہذیب الاخلاق میں سویلزیشن کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:

’’ سویلزیشن انگریزی لفظ ہے جو مشتق ہے سوِس یا سوئیٹس سے۔جس کے معنی ہیں شہری یا شہر کے۔۔۔اور اصل میں یہ لفظ مشتق ہوا تھا کوٹس سے جس کے معنی ہیں مجمع یا اتفاق کے اور وجہ اس اشتقاق کی یہ ہے کہ شہروں کی بنیاد اس طرح پر قائم ہوئی کہ بہت سے آدمیوں نے ایک مقام پر ایسے عہدو پیمان کے ساتھ مل جل کر رہنا اختیار کیا جو اُن کے باہم خود بہ خود اس نظرسے قائم ہو گئے کہ ان کے باشندوں کے وہ قدرتی اور باہمی حقوق محفوظ رہیں جو اُن کی جان ومال کی حفاظت اور ذاتی آزادی سے متعلق تھے۔‘‘(۲)

سر سید احمد خان کے پیشِ نظر بھی ’’مدنیت‘‘ یعنی شہری زندگی کی ترتیب ہی ہے جس میں انفرادی اور باہمی حقوق مل کر قوانین کی شکل اختیار کرتے ہیں۔گروہوں کی تہذیبی تاریخ پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ گروہ عموماً انفرادی زندگی گزارتے تھے۔اس انفرادی زندگی میں ہر فرد ایک الگ طرزِ عمل کا نمائندہ ہوتا تھا۔مجموعی طور پر کوئی بھی شخص ایک تہذیبی شناخت میں نہیں ڈھل سکتا تھاجسے کسی کلچر کا نام دیا جا سکے۔جب ان گروہوں نے مل کر ایک دوسرے پر انحصار کرنا شروع کیا تو شہروں کا وجود قائم ہوا جس سے تمدنی ترتیب خود بہ خود اُن کی ضرورت بنتی گئی۔

’’ثقافت‘‘ ہمارے ہاں آثارِ قدیمہ کے نقش ونگار میں تلاش کی جاتی ہے۔ عموماًیہ لفظ’’عجائب گھر‘‘، کھدے ہوئے تاریخی شہر یا پُرانی عمارتوں کی طرزِ تعمیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گوتم بدھ کی مورتیاں، قدیم ہڑپہ تہذیب کے سکّے اور Miniature Paintings جیسے ورثے کو ثقافت کا نام دیا جاتا ہے علوم و فنون و ادبیات کے لیے اس کا استعمال کم ہے مگر موسیقی، شاعری، پینٹنگز کے علاوہ ہاتھ سے بنائے جانے والے مختلف فن پارے بھی ثقافتی سرگرمیاں کہلائے جاتے ہیں گویا ثقافت کا لفظ اُن چیزوں کے لیے ہے جن کا تعلق ہمارے ذہن سے ہے مگر خارج میں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ کچھ سرگرمیاں جو صرف طرزِ عمل پر منحصر ہوتی ہیں لباس، مختلف النواع کھانے، آلات، اخلاق ومعاشرت یعنی ہر وہ چیز جو ہمارے خارجی روّیوں کی عکاس ہو ’’تہذیب‘‘ کہلاتی ہے۔ ہمارے مذہبی رویوں کا ردِّ عمل چوں کہ عملی طور پر معاشرے میں ظاہر ہوتا ہے۔اس لیے مذہبی رسومات بھی مذہبی اقدار میں شامل ہوتی ہیں۔ لفظ ’’کلچر‘‘ اپنے مفاہیم میں وسیع تر ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے تہذیب و ثقافت کے لیے کلچر کا لفظ استعمال کیا ہے وہ لکھتے ہیں:

’’میں نے تہذیب وثقافت کے معانی یک جا کر کے ان کے لیے لفظ ’’کلچر‘‘ استعمال کیا ہے جس میں تہذیب وثقافت دونوں کے مفہوم شامل ہیں۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ کلچر ایک ایسا لفظ ہے جو زندگی کی ساری سرگرمیوں کا، خواہ وہ ذہنی ہوں یامادی، خارجی ہوں یا داخلی، احاطہ کر لیتا ہے‘‘(۳)

گویا کلچر ہی ایک ایسا لفظ ہے جو ہمارے ذہنی اور مادی رویوں کے طرزعمل کی نمائدگی کرتا ہے۔کلچر کے مترادفات کے طور پر استعمال ہونے والے لفظوں میں بہت سا ابہام ہے جو ان کے معنوی حدود کو مختلف حصوں میں بانٹ دیتا ہے ڈاکٹر سید عبد اللہ نے ان شکوک کا اظہار اپنی کتاب ’’کلچر کا مسئلہ‘‘ میں کیا ہے مگر وہ حتٰی الاامکان کسی ایک لفظ کے معنی متعین کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’کلچر کے مقبول ترین اُردو (عربی) ترجمہ ثقافت ہے، اس کے علاوہ کبھی کبھی اس کے لیے لفظ تہذیب اور بے خیالی میں تمدن کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر میں نے اس کتاب میں کلچر کی اصطلاح اختیار کی ہے۔۔۔۔۔۔ اگرچہ خود لفظ کلچر میں طرح طرح کے ابہامات ہیں مگر ترجموں میں ابہامات اور بھی بڑھ گئے ہیں، بنا بریں میں نے اصل لفظ ہی اختیار کر لینا مناسب خیال کیا ہے۔ تاہم کہیں کہیں متبادل الفاظ ثقافت، تہذیب اور تمدن بھی مجبوراً آگئے ہیں۔‘‘(۴)

ایسے لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کلچر کو تمام لفظوں کا ماحصل مان لینے کے باوجودتہذیب، ثقافت اور تمدن کے مفاہیم سے چھٹکارا نہیں پایا۔وہ ’’تمدن‘‘ کو کلچر کے معنوں میں نہیں سمجھتے بلکہ تمدن کو تہذیب سے بھی وسیع اصطلاح خیال کرتے ہیں:

’’تمدن (مدنیت) مکمل شہری زندگی کا کمال ہے۔ اس میں شہروں کی مرکب زندگی بنیادی چیز ہے اور انگریزی کے لفظ سویلزیشن کا مترادف ہے اور تہذیب کے مقابلے میں وسیع تر لفظ ہے لیکن بعض لوگوں کی رائے میں صورت بر عکس ہے یعنی تہذیب وسیع ہے اور تمدن محدود۔۔۔‘‘ (۵)

کلچر کی شناخت کے مسئلے پر لفظ کلچر کی معنوی تفہیم بہت ضروری ہے مگر محض اس لفظ کی تشریح اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا اس سے وابستہ مباحث میں سمجھا جاتا رہا ہے۔بعض ناقدین نے تو پورے پورے ابواب کلچر اور اس کے ہم معنی ناموں کی وضاحت میں صرف کر دئیے ہیں۔اصل میں کلچر کسی قوم کا مجموعی یا علاقائی طرزِ زندگی ہے جس میں اُن کے ذہنی اعمال اور معاشرت کا داخلی یا خارجی سطح کا اظہار ہوتا ہے۔ڈاکٹر سید عبداللہ اس کے لیے ایک اور مانوس لفظ استعمال کرنا چاہتے ہیں:

’’یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر دین اور کلچر (ثقافت) کم وبیش مترادف ہیں تو دین (Way of Life) کی متعارف اور پسندیدہ تر اصطلاح کو ترک کرنے میں کون سی مصلحت ہے‘‘(۶)

یعنی کلچر کو دین کہا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے الفاظ میں ’’دین‘‘ صرف مذہب سے منسلک نہیں بلکہ ایک معاشرتی لفظ ہے اور کلچر کے معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔شاید وہ اس طرح کلچر کے اجزاء میں مذہبی بالادستی کا اظہار کرنا چاہ رہے ہیں۔کلچر کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ہمیں صرف مذہب نہیں بلکہ بہت سے اعمال کا جائزہ لینا ہو گا۔زندگی کی مجموعی سرگرمیاں کس سطح پر اپنی انفرادیت بنانا شروع کرتی ہے؟ اعمالِ حسنہ کیا ہوتے ہیں؟ اعمالِ بد کس طرح معاشرتی رویوں میں ڈھل جاتے ہیں؟ کیا ہمارے معاشرتی اعمال ہمارا کلچر ہوتے ہیں؟تہذیبی سرگرمیاں کب اپنی قدریں کھو دیتی ہے؟ کیا کلچر کو جبراً یا شعوری طور پر بدلا جا سکتا ہے؟ ہماری کلچر قدروں کا وادی سندھ کی تہذیب،آریائی اور دراوڑی تہذیب، مسلمانوں کی عربی تہذیب،مغلیہ تہذیب کے ساتھ آنے والی ایرانی اور ترکی تہذیب وغیرہ سے کیا تعلق بنتا ہے؟ یہ ایسے مسائل پر مشتمل بحثیں ہیں جو کلچر کو محض لفظ ’’دین‘‘ کے متبادل سمجھ لینے سے حل نہیں ہو پاتے۔

انسان کی ارتقائی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی انسان آج کی نسبت زیادہ پُر جوش اور جذباتی تھا۔انفرادیت پسند ہونا اُ س کی شخصیت کا حصہ نہیں تھا بلکہ اُس کے ماحول ہی میں انفرادی زندگی کا رنگ غالب تھا یوں اکیلے رہنے اور اپنی جبلی و قدرتی مجبوریوں کو اکیلے ہی سر کرنے سے اُس کے اندر انفرادی جذبات ہی پروان چڑھے۔ دوسروں کے جذبات کے ساتھ Interact نہ ہونے کی وجہ سے ان میں نفاست اور معصومیت کے اثرات کا عمل دخل کم رہا۔ قدیم زندگی رفتہ رفتہ انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف مڑنے لگی۔ چناں چہ یہی جذبات رسموں، تہواروں اور اجتماعی میلوں میں ڈھلنے لگے اور ایک معاشرہ تشکیل پانے لگا۔ معاشرے میں ہر انسان بالواسطہ یا بلا واسطہ دوسرے انسان کا محتاج ہوتا ہے۔ ایک آدمی محنت کر کے اپنا وجود برقرار رکھتا ہے درپردہ وہ کسی اور کے وجود کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے۔مارکس نے اضدادی مادیت (Dilectical Materialism) کی تشریح میں مظاہرِ قدرت کا وجود ایک دوسرے کے بغیر نا قابلِ فہم بتایا ہے۔تمام مدرکہ، حالات و واقعات کی زنجیر میں کڑیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ اس کی مثال میں کہتا ہے کہ کسی بے تحاشا دوڑتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر ہم اس وقت تک کچھ نتیجہ نہیں نکال سکتے جب تک اس کے پیچھے باؤلے کتے،پولیس کے سپاہی، بپھرے ہوئے بھینسے وغیرہ کو بھاگتے نہ دیکھ لیں یا معلوم نہ کر لیں کہ وہ ورزش کر رہا ہے کہ پاگل ہے! معاشرہ بھی اس ناگزیر عمل سے گزرتا ہے جس میں محنتوں کا تبادلہ ہوتا ہے،خیالات نقل مکانی کرکے دوسرے اذہان تک پہنچتے ہیں۔ جذبات واحساسات کا اظہار ہوتا ہے۔شروع شروع میں یہ عمل خود رَو جنگل کی طرح تھا۔ ترقی کرتے ہوئے انسان نے اس کی شاخ تراشی کو ضروری سمجھا۔نفاست و سلیقہ مندی کا احساس جاگا تو جبلی طرزِ اظہار سے ہٹ کر تخلیق کرنے لگا۔ کلچر ہر اُس ظاہری یا داخلی رویے کا نام ہے جو انسانوں کے طرزِ عمل میں اُتر آئے۔ کلچر کی جڑت اُس علاقے کی مٹی سے بنتی ہو یا نہ ہو۔وہ کلچر درآمد شدہ ہو یا مقامی، کلچر کا حصہ کہلائے گا۔یہ الگ بحث ہے کہ یہ کلچر ہمارا نہیں اور اس کلچر کو ختم ہونا چاہیے یا کسی کلچر کو فروغ پانا چاہیے، یہ ساری بحث اضافی ہے۔ہمیں کلچر کی تعریف میں ایسے تمام اعمال کو رکھنا ہوگا جو کسی مخصوص علاقے کے لوگوں کی طرزِ زندگی میں موجود ہیں۔

ایسا کلچر جس کی جڑت مٹی کے ساتھ ہو، جو لوگوں کی مجموعی فکر کا مترادف ہو جس کی تخلیق میں اُس خطے کے صدیوں کے طرزِ عمل نے حصہ لیا ہو اور سب سے بڑھ کر وقت اور جدید سماجی تقاضوں کا ساتھ دے رہا ہو صحیح اور زندہ کلچر کہلائے گا۔ ایسے کلچر میں مذہب کی صحت مند روایات، تہوار، مقامی لباس اور کھانے، شعرو ادب کی روایات، موسیقی اور فنونِ لطیفہ کے پرانے معیارات جو آج بھی رائج اور مقامی مٹی سے سینچے ہوئے ہیں زندہ اور علاقے کا حقیقی کلچر کہلائیں گے۔ایسا کلچر جو در آمد تہذیب سے آیا ہو۔جو صدیوں کے طرزِ عمل سے نہیں بلکہ وقت اور کسی بیرونی ریلے میں بہہ کے چلا آیا ہو اور مقامی سطح پر لوگوں کی مجموعی طرزِ زندگی کو احاطہ نہ کر رہا ہو۔اس کو ارتقا پذیرکلچر کہا جا سکتا ہے۔ کلچر کی نقل مکانی ایک لازمی امر ہے۔کلچر بدلتا ہی تب ہے جب وہ اپنے حصوں کو تبدیل کر تا ہے یا کسی دوسرے کلچر کے حصوں کو قبول کر تا ہے۔۔۔ ہمیں اس کی مثال میں اُن کلچرز کو مدِّ نظر رکھنا ہو گا جو مختلف حملہ آوروں کے برصغیر میں ورود سے بنتا رہا۔ وقت نے مقامی کلچر میں بہت سے اجزا کو شامل کر لیا اور بہت سے کلچرل اجزاء کو مٹی کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے خارج کر دیا۔حتٰی کہ انگریز سامراجیت کے بہت سے کلچرل اجزاء کو مقامی سطح پر بہ خوشی قبول کیا گیا اور جس نے ہمارے مقامی کلچر کو Enrich کرنے میں مدد فراہم کی۔ ایک ایسا بھی کلچر ہوتا ہے جس کی جڑیں مقامی سطح پر اپنی شاخت متعین نہیں کر پاتیں۔ لیکن وہ بہت سے لوگوں کا مجموعی طرزِ اظہار بھی ہوتا ہے اس لیے کلچر ہونے کے باوجود اس کو بیگانہ کلچر کہا جائے گا۔ایسا کلچر طبعی اور معاشرتی اقدار سے میل نہ کھانے کی وجہ سے بہت جلد لوگوں کے طرزِ اظہار کے دائرہ عمل سے خارج ہو کر مقامی کلچر سے غائب ہو جاتا ہے۔

یہاں بہت سے سوالات میں سب سے پہلے یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا کسی ایک تہذیب کا پہلی دفعہ کسی دوسری تہذیب میں داخلہ غلط عمل ہے؟کلچر کس طرح فیصلہ کرے گا کہ وہ اس چیز کو اپنائے یا اس کو ردّکرے۔ جب تک کہ وہ اُس کے اجزاء کو اپنے اندر نہیں سمو لیتا یا اپنے اندر اُسے عمل کی گنجائش فراہم نہیں کرتا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم دوسرے کلچرز کو کتنی جگہ دیتے ہیں اور کسی کلچر کی شمولیت میں سے کتنا اپنے کلچر کا حصہ بناتے ہیں۔ عموماً ایک خاص طرز کا ذہنی فیصلہ ہی ہمارے اچھے اور بُرے کلچر کی بنیادیں فراہم کرتا آرہا ہے اور ہم اُسی دائرے میں چیزوں کو ردّ اور قبول کرتے آرہے ہیں۔ مغربی تہذیب کی بہت سی چیزیں قبول کرنے کے باوجود ہم مغربی تہذیب کومکمل ردّ کرتے آ رہے ہیں کیوں کہ وہ ہمارے ذہنی فیصلوں سے میل نہیں کھاتی اور اسی طرح عربی یا اسلامی تہذیب کی بے شمار ایسی کلچرل قدروں کو اپنے تہذیبی اقدار کا حصہ بنائے ہوئے ہیں جن کا مقامی سطح پر اظہار ناممکن، مشکل یا اجنبی ہے۔

حوالہ جات:
۱۔                                ساجد امجد، ڈاکٹر:اُردو شاعری پر برصغیر کے تہذیبی اثرات،الوقار پبلیشرز، لاہور،ص۱۰
۲۔                                سرسید احمد خان:مقالاتِ سرسید جلد۲،مجلسِ ترقی ادب، لاہور،ص۳۴
۳۔                                جمیل جالبی، ڈاکٹر:’’پاکستانی کلچر‘‘،نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد،ص۱۹
۴۔                                سید عبداللہ، ڈاکٹر:کلچر کا مسئلہ،سنگِ میل پبلشرز، لاہور،۲۰۰۱،ص۱۸
۵۔                                کلچر کا مسئلہ،ص۱۹
۶۔                                کلچر کا مسئلہ،ص ۱۹

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: