رحمت اللعالمین ﷺ : ڈاکٹر اصغر علی بلوچ

0
  • 24
    Shares
جوں جوں میلادالنبی ﷺ کی پر نور ساعات قریب آ رہی ہیں توں توں دل و روح پر عجب سرشاری کا عالم ہے.  چشمِ تصور بار بار وادیِ بطحا کی طرف اٹھتی ہے جہاں آپ کا وردود مسعود ہوا۔ وہ کیسی مبارک گھڑی تھی جب آپ نے خزاں زدہ ماحول کو ابدی بہار سے آشنا کیا ‘ وہ کیسا پر کیف لمحہ تھا جب صحرائے عرب گلہائے رنگا رنگ سے مہک اٹھا۔ آپ کی ولادتِ باسعادت نے پژمردہ ماحول کو شادابی ‘ تشنہ روحوں کو سیرابی اور تاریک دلوں کو تابناکی  عطا فرما دی ۔ آپ آئے تو زمین پر خیر و برکت آئی ‘ آپ آئے تو اپنے ساتھ نویدِ رحمت لائے ‘ آپ صلعم آئے تو امن و سلامتی نے آپ کے قدم چومے ‘ آپ آئے تو عدل و انصاف کی چہرے پر بشاشت کے پھول کھل اٹھے ‘ آپ آئے تو روشنی کو زبان مل گئی ‘ صداقت کو پہچان مل گئی ۔ آپ کی آمد تاریخ ِ انسانی کا ایک روشن باب ثابت ہوئی ۔ آپ نے حضرت آمنہؓ کی گود میں آنکھ کھولی تو ملائکہ نے درود و سلام کی مشعلیں جلا کر پوری کائنات کو بقعہءنور بنادیا.  آپ آئے تو خالق نے اپنی مخلوقات پر اپنا احسان جتایا اور آپ سے محبّت کو اپنی محبّت سے تعبیر کیا-  آپ آئے تو الفاظ معنی آشنا ہوئے ‘  قلم اور کاغذ کو حرمت نصیب ہوئی ۔

یہ ولادتِ مصطفٰی ﷺ کا معجزہ ہے کہ دنیا تہذیب آشنا ہوئی اور تمدن کو پیراہنِ تازہ نصیب ہوا۔ آپ یتیم پیدا ہوئے لیکن یتیموں اور مسکینوں کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔ آپ نے حلیمہ سعدیہؓ کی کٹیا کو رشکِ قمر بنا دیا ‘ بکریاں چرائیں ‘ دودھ دوہا ‘ اپنے جوتے خود گانٹھے ‘ اپنے کپڑوں کو خود پیوند لگایا ‘ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ‘ خندق کھودی ‘ غزوات میں حصہ لیا ‘ مسجد کی تعمیر کے لیے گارا ڈھویا ‘ حلف الفضول سے قبائل کو جنگ و جدل سے بچایا ‘ غارِ حرا میں عبادت کی ‘ مقصدِ کائنات پر غوروفکر کیا اور انسان کو انسانیت سے سرفراز کیا ۔ آپؐ نے اپنے حجرے کو یاد خدا سے آباد کیا ‘ آپؐ کی بوریا نشینی نے گداؤں کو تختِ شاہی بخش دیا ‘ آپؐ کی حلیمی نے سنگدلوں کو موم کر دیا ‘ آپؐ کی رحمت اللعالمینی نے سر پر کوڑا پھینکنے والی بڑھیا کی تیمارداری کی ‘ کفارِ طائف کے حق میں دعا فرمائی اور دوست  ددشمن سب  کے لیےکلمۂ خیر فرمایا۔ عورت کو اس کا حق دیا ‘ غلاموں کو آزادی کی بشارت دی اور ایک صالح ضابطۂ حیات دے کر دنیا کو انسان ‘ خدا اور کائنات کی فکری و روحانی جہات سے آشنا کیا۔

ہم آپ عشقِ ِ رسولؐ کے دعویدار ہیں ۔ ایک دوسرے کو آیات و احاديث کی  من پسند تعبیرات سے کافر ثابت کرنے پر مصر ہیں ۔ عدم برداشت اور تشدّد کی روش پر عمل پیرا ہیں۔ اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے دوسروں کی عیب جوئی پر کمر بستہ ہیں اور اپنی تمام تر نکبت ‘ جہالت ‘ بد عملی اور پسماندگی کے باوجود ایک خاص نوع کی تہذیبی نرگیسیت کا شکار ہیں ۔ کیا یہی وہ اسلام ہے؟

اگر یہی وہ اسلام ہے جس کی حضورِ اکرم ﷺ نے تبلیغ فرمائی تھی اگر آپ کا جواب نہیں میں ہے تو پھر اپنا انفرادی اور اجتماعی رویہ تبدیل کر کے اس عید میلادالنبی ﷺ کے پر انوار موقع پر سچے دل سے آپؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے کا عہد کر لیں کیونکہ آپؐ رحمت اللعالمین ہیں اور ہمہ وقت اپنی کریمی کے دروازے کھول کر اصلاح یافتگان کے منتظر ہیں۔ آپؐ کی سیرت و کردار کے آئینے میں اپنے اپنے خد و خال سنوار کر ہی ہم آپ خوب صورت ہو سکتے ہیں اور ایک خوب صورت دنیا کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں. اللہ کریم آپؐ کی رحمت اللعالمینی کے صدقے ہم سب پر اپنی رحتموں کا نزول فرمائے اور اس پر آشوب دور میں بنی نوع اِنسان کے لیے امن و محبت عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! ( آمین)
آخر پراپنی تازہ نعت کا مطلع

دشتِ دنیا میں ہے چھاؤں آپؐ سے
آپؐ سے سب  شہر ‘ گاؤں آپؐ سے

Leave a Reply

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: