خونی لبرلز اور عمران خان کا بیان – محمود فیاض

0
  • 41
    Shares

خونی لبرلز کون ہیں؟

عمران خان صاحب نے حسب معمول پاکستان کے معاشرتی و سیاسی ماحول میں ایک اور طبقے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو انکے خیال میں غلط کر رہا ہے۔ اور اس سے ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ اس مرتبہ خانصاب کا نشانہ لبرلز بنے ہیں کیونکہ بقول خانصاب لبرلز چاہتے ہیں کہ خون خرابہ ہو، اس لیے انہوں نے لبرلز کو خونی لبرلز کا خطاب دے دیا ہے۔ اس کے جواب میں اب وہ لبرلز جو اپنے آپ کو خونی نہیں سمجھتے عمران خان کو مسکت جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور دے بھی رہے ہیں۔ اس وجہ سے میں نہیں سمجھتا کہ انکو میری کسی وکالت کی ضرورت ہے۔

البتہ میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ لیفٹ رائٹ کی “ازلی” بحث کے پاکستانی پس منظر میں کچھ باتیں گوش گذار کر دوں جس کی وجہ سے عمران خان کو یہ بات کرنے کی نوبت آئی۔ اصلی لبرلز چاہیں تو ان گذارشات کی مدد سے اپنی “منجی تھلے” جھانک کر وہ خونی لبرلز تلاش کر لیں جن کی طرف عمران خان نے اشارہ کیا ہے۔

آپ مانیں یا نہ مانیں پاکستانیوں کی اکثریت آج بھی شدت پسند نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ضیا دور سے شروع ہونے والا جہاد، مذہبی تنظیموں کی موقع شناسی، اور طالبان کی اچھے اور برے طالبان میں تقسیم جیسی بحثوں کی وجہ سے آج ملک میں مذہب کے نام پر بہت سے شدت پسند رویے موجود ہیں اور ان رویوں کو استعمال کرنے والے گروہ کسی نہ کسی طرح اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ چاہے وہ سیاست میں وزاتوں کی بندر بانٹ میں حصہ ہو، یا علاقائی اثرورسوخ میں پٹواری، تھانیدار کے بعد امام مسجد یا مدرسہ ہولڈر کی پہنچ ہو، اہل مذہب میں موجود موقع شناس وقتاً وفوقتاً اس کا فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر گذرتے دن، ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثر، اور غلط مذہبی تاویلوں کے جال کے پرانے ہونے کے باوصف مذہب کے نام پر لوگوں کا استعمال مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ شکاری مگر نئے جال بھی تلاش کر ہی لیتے ہیں۔ حال ہی میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ مذہبی گروہ بندی اور فرقہ پرستی کو بیچنے والے مایوس ہو کر پیچھے ہٹتے ہٹتے یکدم ایک نئے جوش سے میدان میں آچکے ہیں۔ اور ان کو کچھ ایسے جذباتی نعرے ملے ہیں کہ جن کی بنا پر وہ اگلے الیکشن میں جانے کے لیے بھی پر عزم نظر آنے لگے ہیں۔

بات دوسری طرف نکل گئی، کہنا میں یہ چاہتا تھا کہ پاکستانی اپنی اصلیت میں شدت پسند مذہبی نہیں ہیں۔ اس لیے جیسے ہی کسی جماعت یا گروہ کی شدت پسندی ظاہر ہوتی ہے وہ اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ طالبان کو ہماری مذہبی اصلاحی سوچ کی فکری کمک حاصل تھی اور افغان جہاد کا پس منظر ان کو کافی حد تک سہارا دیتا رہا۔ مگر انکی سوچوں کی شدت پسندی دن بدن واضح ہوتی گئی۔ اور ایک وقت آیا کہ بظاہر طالبان کی حمائت موجود ہوتے ہوئے بھی جب فوج نے ان کے خلاف آپریشن کیا تو کوئی توانا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ میں مدرسوں کے طالبعلموں کی بات نہین کر رہا جو آج بھی ڈنڈے اٹھائے اپنے امیر کی سربراہی میں کسی بھی سڑک پر نکلنے کو تیار ہیں۔ میں تو عام پاکستانی کی بات کر رہا ہوں، جو کبھی عدلیہ کی آزادی کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ نکل آتا ہے اور کبھی اپنا وزن ختم نبوت جیسے حساس معاملے میں مذہبی لوگوں کے پلڑے میں ڈال دیتا ہے۔

اب آئیے ہمارے بائیں جانب والے بھائیوں کی طرف، جن کو ہم لبرلز، دیسی لبرلز کہتے ہیں۔ یا کم از کم وہ ہمیں یہ جتاتے ہیں کہ دنیا میں موجود لبرلزم کے اصلی نمائندے وہی ہیں۔ پاکستان میں جو لوگ انسانی آزادی، برابری، مذہبی آزادی، اور جنسی آزادی کا علم اٹھائے ہوئے ہیں وہ یہی لوگ ہیں۔ میرے جیسے عام پاکستانی انکی سوچ کی بھی بہت پذیرائی کرتے ہیں اور گاہے انکے اٹھائے گئے سوالات پر غور کرتے اپنے رویوں میں تبدیلی بھی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ بات کہیں اور نہ نکل جائے، مگر بتانا پڑے گا کہ ملک میں موجود فن و ثقافت، تخلیقی فکر، اور جدید مغربی اطوار کی آبیاری زیادہ تر انہی لبرلز کے حلقوں سے ہوتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں ادب، موسیقی، ڈرامہ، اور دیگر فنون کے سرخیل بھی آپ کو انہی لبرلز میں سے ہی ملیں گے۔ ہمارے ادیبوں اور شاعروں کی اکثریت بھی لبرلز کے ساتھ فوٹو کھنچواتی فخر محسوس کرتی ہے۔ یہ پاکستانی معاشرے کا وہ جزو لا ینفک ہیں کہ جن کے بغیر ہماری سماجی زندگی بے رنگ ہو جاتی۔

تو کیا وجہ ہے کہ آج ان میں سے کچھ کو خونی لبرلز کہا جا رہا ہے؟ میں نے جہاں تک اس مسئلے پر غور کیا ہے مجھے اس میں بھی طالبانی رویوں کی ایک جھلک ہی دکھائی دیتی ہے۔ جیسے طالبان مذہبی فکر کو شدت پسندی سے گھسیٹتے ہوئے عدم برداشت، طاقت کے استعمال، اور بالاخر دہشت گردی تک لے گئے تھے کہ جہاں ہم پاکستانیوں نے انکو ہمارے ہی سروں سے فٹ بال کھیلتے دیکھا، بالکل اسی طرح ان لبرلز حلقوں میں کچھ “شدت پسندوں” نے لبرلزم کو طالبان کے اسلام کی طرح نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

جس طرح طالبان ہر اس علاقے میں اپنی شریعیت نافذ کردیتے تھے جہاں تک انکی بندوق کی گولی پہنچتی تھی، بالکل اسی طرح ان شدت پسند لبرلز (دیسی لبرلز کہہ لیں) نے جہاں ان کا بس چلا بغیر عوام کی پسند نا پسند کا خیال کیے اپنے ایسے خیالات کا پرچار شروع کر دیا جو ہماری علاقائی تہذیب، تاریخ اور برصغیر کے قدیم باشندوں کی موجودہ نسل کے مزاج سے لگا نہیں کھاتا تھا۔ نہ صرف خیالات کا پرچار، بلکہ سماج میں جہاں کچھ موقع ملا ایسے رویوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جس کو دیکھ کر عام پاکستانی ان لبرلز کے اصل ایجنڈے کے فرق کو محسوس کرنے لگا۔

قدرتی طور پر لبرلز کو مذہبی شدت پسندی کے مخالف ہونا تھا، بلکہ بعض حالات میں وہ مذہب ہی کے مخالف ہیں۔ تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ اگر ملک میں مذہبی شدت پسندی کے خلاف آپریشن میں عام پاکستانی کے ساتھ لبرلز کی آواز ملتی دکھائی دیتی ہے۔ فوجی آپریشن ہو، مدرسوں کی رجسٹریشن ہو، مسجدوں کا ریکارڈ ہو، یا دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کوئی اور کارروائی ہو، اس میں لبرلز اور پاکستانی ایک صفحے پر دکھائی دیتے ہیں اور عام مذہبی حلقوں کی نسبت زیادہ جوش سے ایسے اقدامات کی حمائت کرتے نظر آتے ہیں۔

یہیں کہیں سے اس ذہنی و فکری خرابی کا آغاز ہوتا ہے کہ جہاں کچھ لبرل حلقے یہ سمجھنے لگے کہ پاکستان سے مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کا مطلب ان کے بیانیے کی مکمل حمائت ہے۔ اور یہ کہ اب مستقبل قریب میں پاکستانی معاشرے کے خدوخال کس طرح کے ہونا چاہیں، اسکو طے کرنے کا حق صرف انکا ہے۔ یہیں سے وہ اپنے آپ کو ایک نظریاتی رہنما کی بجائے ایک سیاسی قوت سمجھنے لگے۔ اور پھر ظاہر ہے کہ جیسا سیاست میں ہوتا ہے، آپ کی پارٹی کی ہر بات سچ ہوتی ہے اور مخالف کی ہر بات لغو۔

پاکستانی لبرل جب پارٹی بن کر سوچنے لگے تو لامحالہ انکو اپنے مخالفین کے کچلے جانے کی خوشی ہونا تھی۔ اس لیے ہر ایسا موقع جہاں پاکستانی ریاست مذہبی شدت پسندوں کے سامنے دیوار بنی، لبرل پارٹی کی خواہش یہ تھی کہ ان شدت پسندوں کو پوری طاقت استعمال کر کے کچل دیا جائے، ؎ گلیاں ہوجان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔

ایسے میں ہی پاکستانی قوم نے وہ دن دیکھے جب ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر جہاں لبرلز کو آواز اٹھانا چاہیے تھی ،وہ صرف اس لیے خاموش بیٹھے رہے کہ مرنے والے، قید ہونے والے، یا لاپتہ ہوجانے والے انکے مخالفین کے کیمپ سے تھے۔ پاکستانی لبرل نظریاتی طور پر تو انسانی آزادی کی بات کرتا تھا مگر حقیقی طور پر وہ اپنی “پارٹی” کی آزادی کی بات کرتا نظر آیا۔

چار دہائیوں سے دہشت گردی کے شکار ملک میں یہ فیصلہ کرنا کہ کونسے عناصر دہشت گرد ہیں اور کونسے محض وقتی جبر، پروپیگنڈے، یا اپنی مذہبی تعبیروں کے زیر اثر ان دہشت گردوں سے متاثر ہیں، بہت ہی مشکل تھا۔ مگر پاکستانی فوج، اور عام پاکستانی اس مشکل کو سمجھتا ہے اور ایسے ہر موقعے پر جب انسانی جان بندوق کی گولی کے سامنے آ جائے تو بہت ہی احتیاط سے فیصلہ کرنے کے حق میں ہوتا ہے۔ کراچی میں رینجرز کا آپریشن ہو، بلوچستان میں باغی گروپوں کے خلاف آپریشن ہو، وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن ہو، یا لال مسجد میں مولانا عبدلعزیز کے خلاف کارروائی ہو، عام پاکستانی ہمیشہ عام پاکستانی کی زندگی بچانے کے حق میں فیصلہ دیتا آیا ہے۔

مگر یہ بھی ہمارے سامنے کی بات ہے کہ برما، شام، فلسطین، اور مغربی ممالک میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں مرنے والوں کے لیے سوگوار ہونے والے ہمارے لبرلز نے کبھی پاکستان میں ہونے والے آپریشنز میں ایک پاکستانی کی طرح بات نہیں کی۔ انکے لہجوں میں “مسٹر کرسٹان” کی وہ نخوت ہمیشہ رہی جو مقامی بغاوتوں کو کچلنے والے ایسٹ انڈیا کمپنی کے صاحب بہادروں کا خاصہ تھی۔ “مار ڈالو ان باغی انڈینز کو، یہ ہمارا کوئین کے خلاف بگاوت کرتا ہے”۔

شائد ۔ ۔ ۔ ۔ شائد یہی وہ رویے ہیں جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عمران خان کو کہنا پڑا کہ ہمارے لبرلز کو بس خون چاہیے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: