ذکر محبت رحمت العالمین: سحرش عثمان

0
  • 6
    Shares

کہانیوں کی پہلی کتاب تھی جسے پڑھ کے نہ آنسو تھم رہے تھے نہ شرمندگی ہی ختم ہو رہی تھی۔

پتا نہیں اتنے زیادہ آنسو کہاں سے جمع ہوگئے تھے۔ احساسات سمجھانے کی چیز نہیں ہوتے۔ ۔ وگرنہ شائد سمجھا ہی لیتی کبھی نا کبھی کسی نا کسی طرح۔

خیر اس دن شائد زندگی میں پہلی بار محبت لفظ کا مطلب سمجھ آیا ہوگا۔

ذہن نے پہلی دفعہ محبت کے وجود کو تسلیم کیا تھا۔

کہانی کیا تھی جیسے کسی نے سارے ہی مسائل کا حل تھما دیا تھا۔

طائف کے بازار میں رب کا پیغام سناتے رحمت للعامین تھے۔

پتھر مارتے شقی القلب کافر ،مدد کو آتے جبرائیل اور رب کے محبوب کا انکار۔

انکار ناں۔ ۔ ۔ اس دن مجھ پر انسانوں میں ان کی برتر حثیت کا راز کھلا۔ ہم آپ تو نسلوں تک پرکھوں کی لڑائیاں یاد رکھنے والے عامی عاصی۔ اور وہ خود پر صریخ زیادتی کرنے والوں کو بھی اس لئے معاف کر دینے والے کی آنے والی نسلوں میں سے شائد کوئی راہ راست پا لے۔ عجیب ہی کہانی تھی پتھر مارنے والوں کے لئے دعا جاری تھی۔ میں یہاں تک پڑھ کے ساکت ہوجاتی ہوں آج بھی۔

ذرا ذرا سا اختیار رکھنے والوں کو اپنے ارد گرد چلتے پھرتے زمینی خدا بنتے دیکھتی ہوں اور پھر یہ قصہ پڑھتی ہوں۔

کوئی میرے اندر شرمندگی سے سر جھکا لیتا ہے۔ کیا یہ طرز یہ رنگ ہمیں شفاعت کے قابل بنا پائے گا؟ جب جب سوچتی ہوں الجھتی جاتی ہوں۔ میں کسی بحث کا حصہ نہیں بننا چاہتی نہ ہی ناصح بن کر اوروں کے اعمال ترازو میں تولنا ہیں مجھے۔

میں تو بس محبت بیان کرنا چاہتی ہوں۔

وہ جو خالص محبت تھی/ہے۔ وہ جس کی مثال رب نے دی۔

پتا نہیں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اور کس راہ سے بھٹک چکے ہیں۔ کیونکہ محبت کا جو اعلی ورثہ ہمارے لئے چھوڑا گیا تھا۔ ہم تو آج اسے اون نہیں کرتے۔ وہ محبت جسمیں فاطمہ رضی اللہ کے لئے رب کا محبوب کھڑا ہوتا تھا۔ وہ جس کے لئے دنیا تخلیق کی گئی وہ میل بے بی اوبسیسڈ سوسائٹی میں بیٹی کے لئے بہن کے لئے رضاعی بہن کے لئے کندھے سے اتار کے چادر زمین پر بچھا دیتا ہے۔ جس چادر سے رب نے پکارا تھا۔ اسی کو زمیں پر بچھا کر رب کے رسول صلی علیہ وسلم نے بتایا چیزیں اہم نہیں ہوتیں۔ لوگ اہم ہوتے ہیں۔ رشتے مقدس ہوتے ہیں چیزیں نہیں۔ وہ محبت جسمیں حسنین کو کندھوں پہ بٹھائے رکوع و سجود کرتے تھے نماز کا حکم جن کے ذریعے ہم تک پہنچا وہ رسول اللہ۔ کیا ہم اس محبت کی لیگیسی کو نبھا رہے ہیں ؟ ہمیں تومسجد میں آنے والے بچوں کی ہنسی مسجد کے تقدس کو پامال کرتی ہوئی لگتی ہے۔ اور وہ جنہوں نے بلی کے ماں بننے پر مسجد کو اس کا اور اس کے بچوں کا گھر قرار دے دیا تھا۔

آپ سب سے بس ایک سوال کیا یہ بچے بلی کے بچے جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتے؟

وہ محبت جس میں خدیجہ رضی کی وفات کو زندگی کا سب سے بڑا صدمہ قرار دیا۔ ہے کوئی جو ایسی محبت کا دعویدار ہو؟؟

وہ محبت جسمیں عائشہ صدیقہ رضی کی خفگی ان کے شوہر بخوشی دور کرتے تھے۔ ہے کوئی جو ایسی کسی محبت کی روایت کو پبلک میں تسلیم کر سکے؟

محبت کا وہ معیار کہ ہندہ کو بھی معافی مل جائے اور وحشی کو بھی۔

———

پتا نہیں میں۔ کیا کہنا چاہ رہی ہوں اور کیا کہہ رہی ہوں۔ پر مجھے یہ پتا ہے کم از کم میں محبت کے ایسے کسی درجے کی دعویدار نہیں۔ اور میں اس پر شرمندہ ہوں۔ میں چاہتی ہوں روز حشر میرے یہ لفظ میری شرمندگی کی گواہی دیں۔ تاکہ میرا نام ان میں شمار نہ ہو جن کے دل میں محبت نے رحم کی جوت نہ جگائی ہوگی۔

میں بات ختم کرتی ہوں۔

کیونکہ اس سے زیادہ لکھنا میرے بس میں نہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: