عمران خان اور لبرلز (نسل پرست نازیوں کے نام) : عمیر فاروق

0
  • 28
    Shares

بالاخر عمران نے بھی وہ کہہ دیا جس کی کسی سیاست دان سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی تھی، یعنی کھل کے سچائی بیان کرنا۔ اور اس پہ لازماً ہمارے دیسی لبرلز یک زباں ہوکے اس پہ ٹوٹ پڑیں گے کیونکہ اس نے صاف بتا دیا کہ ہمارے دیسی لبرلز دنیا کی بدترین مخلوق ہیں۔ ظاہر ہے کہ سب لبرلز کی طرف اشارہ نہ تھا بلکہ ان لبرلز کی طرف اشارہ تھا جو یقیناً بدترین ہیں اور خود لبرلزم کے ماتھے پہ ایک سیاہ داغ سے زیادہ نہیں۔

آخر کیا چیز ہے جو ان دیسی لبرلز کو عالمی لبرلزم سے مختلف کرتی ہے؟ یہ وہی چیز ہے جو دیسی سوشلسٹوں کو عالمی سوشلزم سے جدا اور تنہا کرتی رہی۔ اور یہ ہے رویوں اور اصولوں کا فرق۔

مثلاً عالمی لبرلزم تشدد کے خلاف ہے اور نسل، لسان، مذہب یا ثقافت کے نام پہ ہر قسم کے جبر، تعصب یا نفرت کو مسترد کرتا ہے۔ اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی لکھا ہوا ہے۔

پاکستانی لبرلزم صرف مذہبی تعصب، نفرت اور تشدد کو قابل نفرت گردانتا ہے اور نسلی، لسانی، ثقافتی تعصب اور نفرت سے نہ صرف اغماز برتتا ہے بلکہ اس کی حمایت کرتا ہے اور اسکو پھیلا تا بھی ہے اپنے بیانیہ کی طرح۔ اس کا بیانیہ ان نفرتوں کو نفرت ہی نہیں سمجھتا بلکہ ایک مقدس کاز یا جدوجہد قرار دیتا ہے۔ وہ مذہبی دہشت گردوں کے ہتھیار پھینکے کے عوض ریاست کی طرف سے پیسے دئیے جانے پہ سراپا احتجاج ہوگا اور بلوچ نسل پرست سرمچاروں کو ایسی ادائیگی پہ معترض نہ ہوگا بلکہ پھر بھی ریاست کو ظالم کہے گا۔ اگر ریاست پہ مذہبی حملہ آور ہو تو وہ ریاست کی رٹ نہ ہونے کی دہائی سے گا اور اگر نسل پرست ریاست پہ حملہ آور ہو تو وہ حملہ آور کی بجائے ریاست کو مطعون کرے گا کہ ریاست بذات خود ازلی غلطی کی مجرم تھی لیکن مذہبی کی یہ دلیل نہ مانے گا۔

اس سے قبل اپنے یہی لبرلز سوشلسٹ ہوا کرتے تھے، تب بھی انداز یہی تھا لیکن ان کا سوشلزم عالمی سوشلزم سے آج ہی کی طرح مختلف تھا جس طرح آج انکا لبرلزم عالمی لبرلزم سے مختلف ہے۔

تب اس دور میں انہوں نے لسان، نسل اور ثقافت پہ مبنی قومیت کا سوشلزم کے ساتھ ملغوبہ پکایا تھا۔ یہ کوئی نیا نظریہ نہ تھا۔ عالمی سوشلزم اس کو تیس کی دہائی مین مسترد کرچکا تھا۔ یہ نظریہ پوری دنیا میں نیشنل سوشلزم کہلاتا ہے جو ہٹلر نے پیش کیا تھا جسے نازی ازم بھی کہتے ہیں۔ تب نسل پرست قومیت پرستی کے حق مین دلیل کامریڈ لینن اور روزنبرگ کے مکالمہ سے لاتے تھے لیکن یہ بات تب بھی چھپا جاتے تھے کہ لینن اور روزنبرگ کا عالمی سوشلزم کے ضمن میں جو مکالمہ ہوا اس میں قومیت کا تصور ریاستی تھا۔ نسل ، لسان اور ثقافت پہ قائم قومیت کو سرے زیر بحث ہی نہ لایا۔ اس مکالمہ کو ماضی میں بھی غلط رنگ سے پیش کیا۔ اور یہ نہ بتایا کہ جس نیشنل سوشلزم کا یہ لوگ پاکستان میں پرچار کررہے ہین وہ دراصل ہٹلر کو پیش کردہ تھا اور اس کو عرف عام مین نازی ازم کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ تب بھی نازی تھے لیکن اپنی نازیت چھپا کے چل رہے تھے۔ آج انہوں نے لبرلزم کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے لیکن عزائم اور سوچ وہی ہے کہ مذہبی تعصب، نفرت یا تشدد تو قابل نفرت ہے لیکن لسانی، نسلی اور ثقافتی تعصب اور نفرت مقدس ہے۔

ان لوگوں میں بڑے بڑے نام آتے ہیں ہر ایک کا بتانا بے فائددہ ہے یہ الگ بات ہے کہ یہ لوگ اس عوام دشمن سوچ پہ کیوں چل پڑے؟ انکی تحلیل نفسی کی جائے تو نظر یہ آتا ہے کہ آزادی کے موقع پہ یہ پاکستان کی تخلیق کے ہی خلاف تھے لہذا نفرت کا شکار ہوکے مختلف نظریات کا سہارا لیکر ان نظریات کو مسخ کرکے اپنا کام چلاتے رہے۔ یہ ایک اندازہ ہے وجوہات مختلف بھی ہوسکتی ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ ہر نظریہ کا سہارا لیکر اپنی مرضی سے اس کو مسخ کیا، ذلیل کیا اور اس نظریہ کو گالی بنا کے دم لیا۔

یہ لوگ کسی بھی نظریہ کے علمبردار کبھی بھی نہ تھے بلکہ اپنی جہالت اور نسل پرستی کے دفاع میں ان نظریات کو اسی طرح استعمال کرتے رہے جس طرح ملا مذہب کو استعمال کرتا ہے۔ یہ لوگ دوسرے ملا ہیں جو انکی سیاسی حرکیات سے بھی واضح ہوتا ہے۔

یہ دوست شیخ مجیب کی متشدد سیاست کو کبھی مورد الزام نہ ٹھہرائیں گے بلکہ جوابی تشدد پہ ریاست کو مطعون کرینگے البتہ اگر ریاست گولی نہ چلائے تو ریاست سے گولی کا مطالبہ کرینگے اور گولی نہ چلانے پہ مطعون کرینگے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: