ہے کوئی محمد عربی جیسا؟ عابد آفریدی

0
  • 7
    Shares

خانہ کعبہ کے اردگرد ایک ہجوم جمع ہے، لوگوں کے چہروں پر تفکرات کی دبیز تہہ جمی ہوئی ہے۔
شہر کے چاروں جانب، ہر حصے، مضافات سے بچے بوڑھے سب کے سب شہر کے داخلی راستوں کے قریب جمع ہوگئے تھے۔
عورتیں گھر کی چھتوں پر کھڑی مکہ شہر کی تاریخ میں وقوع پذیر ہونے والے اس موڑ کے نظارے سے آنکھوں کو سینک رہی تھیں۔
مست طوفانی گھوڑوں پر سوار پہرے دار بیت اللہ کو اپنے حصار میں لے چکے تھے، یہ وہی گھوڑے تھے جن کی ٹاپوں سے اٹھتی چنگاریوں کی رب کریم نے قسم کھائی تھی۔ ان کے سوار وہی برگزیدہ لوگ تھے جن کی ثابت قدمی اور غیرت ایمانی نے فتح کی دیوی کو قدموں میں گرنے پر مجبور کیا۔
آج کے دن اللہ نے اپنے بندوں سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا تھا۔ فتح لشکر اسلام کی ہوچکی تھی۔
خدا کا وہ گھر جسے تسخیر میں لانے کی خواہش نے بادشاہوں کو لشکروں سمیت بھوسہ بنادیا تھا “وہ گھر آج اہل ایمان کی تصرف میں دے دیا گیا”
کعبہ میں موجود صدیوں پرانے بت بس اب کچھ ہی لمحوں کے مہمان تھے۔ اندر پڑے بت اور باہر کھڑے بت پرست آج آپس میں ہی بے یار و مددگار تھے۔
لوگ اب بس ایک ہستی کی آمد کے منتظر تھے !!!
وہ ہستی جسے اس شہر کے لوگوں نے محض اس لئے نکال دیا تھا، کہ وہ ایک اللہ کو ماننے کی دعوت اور راستی کی نصیحت کرتا تھا، یتیموں پر رحم اور ناتواں پر شفقت کی بات کرتا تھا۔
اللہ اکبر!!!! اللہ اکبر!!!!
فضاء اچانک تکبیر کے نعروں سے لرز اٹھی چاروں جانب ایک ارتعاش پھیل گیا ہے، منتظر گھبرائے ہوئے لوگ مذید وحشت زدہ ہوئے، نظریں سب کی آنے والے راستے پر لگ گئی،
توحید کے پروانوں کے جھرمٹ کے درمیان اونٹ پر سوار ایک نورانی پیکر، نورانیت سے بھرپور چہرا، بغیر کسی فاتحانہ مسکراہٹ کے، ہر قسم کے احساسات سے پاک صاف پرسکون صورت، سر جکائے سورہ الفتح کی تلاوت
“اِنَّا فَـتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “
“بے شک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح دی”
کرتے ہوئے محمد عربی صل اللہ علیہ وسلم ہجوم میں داخل ہوتے ہیں۔ مجمع کے بیچ و بیچ راستہ بنتا ہے جیسے جیسے آپ آگے بڑھتے، لوگ راستہ چھوڑتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں، جو کبھی آپ کی راہ میں کانٹے بچھایا کرتے تھے۔ آپ اطمینان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوئے۔۔۔

آہ!!!!
آگے کیا منظر آنے کو تھا ” غرور کا سرنیچا اور عظمت کردار کے بلندی کا ایک اور عملی نمونہ پیش ہونے کو تھا۔
فرمایا عثمان بن طلحہ کو بلاو،
وہی عثمان۔۔۔۔ وہ خانہ کعبہ کا کلید بردار!! جس نے ابتدائی دور میں نبی کریم کو بے یار مددگار جان کر در کعبہ کھولنے سے انکار کردیا تھا”
جس پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا۔
“عثمان ایک دن آئے گا جب تم یہ کنجیاں میرے ہاتھ پر رکھ دو گے، اور اس دن ہم جسے چاہیں یہ کنجیاں تفویض کریں”
کم عقل تھا، کہنے لگا “اس دن کیا قریش کے مرد مر گئے ہوگے؟”
آج عثمان بن طلحہ اصحاب رسول کے حصار میں گھرے، نادم اور نظریں جھکائے، حضور کے روبرو تھے، اور وہ قریش زندہ و موجود تھے مگر کھڑے کٹہرے میں تھے۔
سیدالالنبیاء بنا کچھ کہے۔۔۔ بنا کوئی طعنہ دئیے۔۔۔ خاموشی سے ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں، عثمان بن طلحہ رحم طلب نگاہوں سے آپ صلعم کو دیکھتے ہوئے کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھ دیتے ہیں”
آج خانہ کعبہ سے اصنام پرستی کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے صفایا ہوتا ہے، سارے بت پاش پاش کئے جاتے ہیں، آج کے دن صرف کعبہ ہی کے بت نہیں بلکہ اور بھی ڈھیر سارے بت گرائے جاتیں ہیں، قوم پرستی، سرداری معیارات، اونچ نیچ کی تقسیم، خاندانی غرور، دولت کا مکر، ان سب کے اصنام بھی دھڑام سے گر جاتے ہیں۔
خانہ کعبہ کو غسل دے کر آپ صلعم نےطواف کیا، نماز ادا کی آج کے دن قریش میں کوئی نہیں تھا۔
جو آپ پر اوجھڑی ڈال سکے۔
آج کے دن کوئی نہیں تھا۔
جو دوران عبادت آپ کے گلے میں پھندا ڈال کر گلہ گھوٹنے کی کوشش کرے۔
” آج وہ سب فقط دیکھ کر ہضم کرنے والے لوگ تھے۔
عبادت سے فارغ ہوئے تو آپ نے کنجیاں عثمان بن طلحہ کو یہ کہہ کر واپس کردی ” یہ ہمیشہ کے لئے تمھارے پاس رہیں گی” یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ تاحال اسلام نہیں لائے تھے۔
مسجد کے سامنے لوگوں کا ہجوم اپنی قسمت کا فیصلہ سنے کے لئے مضطرب تھا۔
آپ صل اللہ علیہ وسلم ان سب سے مخاطب ہوئے۔
“تم کو معلوم ہے میں تم سے کیا سلوک کرنے والا ہوں؟؟؟
آپ صلعم جن سے مخاطب ہوئے یہ سب وہی سنگدل لوگ ہیں، جن لوگوں نے آتشیں ریگستان کی تپتی ریت پر بلال حبشی رض کو گرم گرم پتھروں تلے دبائے رکھا تھا، بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے سینے سے نکلتے “احد احد” کے وہ دہکتے نعرے آج بھی ان ہواؤں میں متحرک تھے،
یہ ان ہی تماشائیوں کا تو ہجوم تھا، جس ہجوم کے بیچ صلیب تلے بندھے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا سینہ نیزے کے واروں سے چھلنی کردیا گیا تھا اور اس چھلنی سینے سے نکلے ان کے الفاظ
” انہوں نے کہہ دیا کہ کفر اختیار کرنے سے مجھے آزادی مل سکتی مگر اس سے موت میری لئے بہت سہل ہے”
آج بھی یہ الفاظ ان فضاؤں میں موجود تھے”
اپنی خون آشاموں کی ایک فلم لازم اہل قریش کی نگاہوں میں سے گزر گئی ہوگی، لیکن بے بسی اور ندامت کے عالم میں پکار اٹھے!!!
“تو شریف بھائی ہے، اور ایک شریف بھائی کا بیٹا ہے’
آپ صل اللہ علیہ وسلم نے بھی جواب دیا۔
تم پر آج کچھ گرفت نہیں۔ جاو تم سب آزاد ہو”
جب مکہ کی فتح یقینی ہوئی تو اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ ابوسفیان کو اپنی حفاظت میں لیکر حضور کی خدمت میں پناہ کے واسطے پیش ہوئے چونکہ آپ مکہ میں موجود اس لمحے تک اسلام کے سب بڑے دشمن تھے۔ اور اس وقت مکہ اسلامی لشکر کے مکمل گھیرے میں آچکا تھا، قریش کے پاس اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس لشکر کا مقابلہ کرسکے۔
ان سے بات چیت کرتے ہوئے آپ صلعم نے فرمایا؟
کیوں ابوسفیان! کیا اب بھی تم کو یقین نہیں آیا کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں؟
یہ شان تھی میرے نبی کی۔۔۔
آج کے دور کا کوئی راہنما ہوتا تو کہتا دیکھ لی ہماری طاقت ؟؟؟ مان لیا ہمارے زور بازو کو؟ مفتوحہ علاقوں میں بدلے کی اگ لگا دی جاتی عورت کو نیلام کرنے
کے منصوبے بنتے، اللہ کے محبوب کی یہی تو وہ ادائیں تھیں یہ ہی تو ان کی شخصیت تھی جو بلند ہوتے ہوتے اتنی بلند ہوئی کہ ایک مقام پر فرشتوں کے سردار جبریل امین رک جاتے ہیں اور عرض کرتے ” اس حد سے آگے صرف آپ جاسکتے ہیں میں ایک قدم بھی آگے بڑھا دوں تو میرے پر جل جائیں گے”
جس راہنما کے پیروکار ابو بکر، عمر، عثمان، علی، جیسی ہستیاں ہوں، سوچو اس راہنما کا کیا مقام ہوگا،
آپ کی بیٹیاں صرف بغض اسلام میں آکر چھوڑ دی گئی تھیں، آپ اپنے گھر سے نکال دئے گئے تھے” آپ پر پتھر برسائے گئے، عزیز و اقارب شھید کئے گئے ”
وہ تمام ظالم آج محکوم تھے اور آپ حاکم، وہ تمام آج مجرم تھے اور آپ منصف، بجائے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے خونخوار جانوروں کو کھلائے جاتے، ان کے خون کی ندیاں بہائی جاتیں، آپ نے صرف اتنا کہا۔
“جاو آج کے دن سب کو معاف کردیا سب کو آزاد کردیا،”
آپ صل اللہ علیہ وسلم زمین نہیں دلوں کو فتح کرنے نکلے تھے، آپ نے دھرتی پر بنگلے نہیں دلوں میں عقیدت کے محل آباد کئے”
آپ کے کردار اور قول و فعل سے دنیا واقف اور متعرف ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی اگر کوئی آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو کم از کم میرے نزدیک وہ انسان صرف اور صرف موت کا ہی حقدار ہے۔
مکہ میں صدیوں پرانی بت پرستی کی ریت اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی، کفر کا سورج مغربی پہاڑوں میں اپنی سرخی میں لپٹا اندھیروں میں غروب ہورہا تھا، اس ڈوبتے منظر کے پیش منظر کعبہ کی عمارت کھڑی تھی جس پر ایک انسانی شبیہہ نمودار ہوتی ہے اور اذان بلال کی صدا بلند ہوجاتی ہے۔

اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ
اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه
ُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ
اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: