یہ کیسی نعت خوانی ہے؟ کبیر علی

4
  • 33
    Shares

ہر شخص، اپنی محبوب ترین ہستی کی تعریف کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے اندر آپﷺ کی ذات بابرکات مرجع تعریف و توصیف ہے۔ نعت کہنے اور پڑھنے کی  روایت کا سلسلہ حضرت حسان بن ثابت رض اور مدینہ کی ان بچیوں تک پہنچتا ہے جنہوں نے آپﷺ کی مدینہ منورہ آمد پہ خوشی کا اظہار  کیا۔

پاکستان بننے کے بعد محافل نعت کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے اور ربیع الاول میں اپنے عروج پہ ہوتا ہے۔ تاہم چھ دہائیاں قبل کی نعت خوانی اور آج کی نعت خوانی میں بہت کچھ فر ق آ چکا ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں نعت خوانی کے میدان میں جن لوگوں کا شہرہ تھا ان میں  بابا محمد علی ملتانی، مستری محمد علی جالندھری، محمد علی نقشبندی، محمد علی ظہوری، سید منظور الکونین، عبدالستار نیازی، بشیر حسین ناظم، مسلم نظامی اور  محمد اعظم چشتی وغیرہ کے اسمائے گرامی سرِ فہرست ہیں۔ با خدا دیوانہ باش و با محمدﷺ ہوشیار کے مصداق حمد کے کلام میں اس قدر احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی، مگر چونکہ نعت کا معاملہ انتہائی نازک ہے اس لیے نعت کے کلام کا انتخاب بہت احتیاط سے کیا جاتا تھا۔ فارسی اور اردو کے ثقہ استاد شعراءاور پنجابی کے صوفی بزرگوں کا کلام خاص طور پہ منتخب کیا جاتا۔ نئے نعت گو شعراء بھی اسی پختہ انداز میں لکھتے۔ان شعراء میں حافظ، جامی، بیدل،غالب،حالی، اقبال، مولانا ظفر علی خان، بابا فرید، خواجہ غلام فرید، میاں محمد بخش، خواجہ مہر علی شاہ، احمد ندیم قاسمی، حفیظ تائب، حافظ مظہرالدین مظہر، مظفر وارثی،محمد علی ظہوری وغیرہ کے نام خاص طور پہ قابلِ ذکر ہیں۔ عوام کا ذوق بھی بلند تھا اور وہ مشکل اشعار کی داد دیتے۔ کئی اشعار پہ پورے مجمعے  کے آنسو بہہ نکلنا کوئی بڑی بات نہ تھی۔

نعت خوانی کا ایک لازمی جزو نقابت یا نظامت بھی تھا۔ نظامت کے فرائض ادا کرنے والے کو چونکہ  ہر رنگ کے ثنا خوان کو پیش کرنا ہوتا تھا اس لیے مطالعہ ضروری ٹھہرا،  نقیبِ محفل کو حمد، نعت، منقبت، سلام کے سینکڑوں اشعار یاد ہوتے، تاکہ نعت خوان جس جگہ بات ختم کرے وہیں سے بات آگے بڑھائی جا سکے۔ اس سلسلے میں ایک بڑا نام  شہریار قدوسی صاحب کا ہے، جنہیں پاکستان میں محافل نعت کی نظامت کا امام سمجھا جانا چاہیے۔ آج کل صاحبزادہ تسلیم احمد صابری کا نام اہم ہے۔

مگر  پھر اکیسویں صدی کے آغاز میں نعت خوانی کے کچھ نئے  انداز متعارف کروائے گئے۔ چونکہ نعت خواں حضرات کو  (کلاسیکل گانے والوں کی طرح) نہ تو سُر قائم رکھنے کا کوئی ساز دستیاب ہوتا ہے یعنی تانپورہ، سُر منڈل یا پھر ہارمونیم اور نہ ہی تال کا کوئی ساز مثلا طبلہ، ڈھولک، پکھاوج وغیرہ دستیاب ہوتے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ  علماء کا ایک حلقہ دف کی اجازت دیتا ہے۔ پس  تال کے ساز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پس منظر میں ایک خاص طرح کے ذکر کو متعارف کروایا گیا۔ میڈیا چینلز کی بھرمار کے باعث نعت خوانوں نے باقاعدہ سٹوڈیوز میں ان ڈور اور آوٹ ڈور ویڈیوز بنانے کی طرف توجہ دی۔ ان ویڈیوز میں نعت خواں حضرات مخصوص طرز کے عمامے، باقاعدہ ڈیزائنرز کے تیار کردہ کرتے پہنے نظر آتے۔ پہلے آڈیو کو ریکارڈ کر لیا جاتا، جس کے بعد یہ نعت گویا اس نعت خواں پہ “پکچرائز” کی جاتی۔ اکثر نعت خواں اپنے نام کے ساتھ قادری یا عطاری کا لاحقہ لگانا شروع ہو گئے۔ ان نعت خوانوں کی ایک طویل فہرست ہے۔اس منہج ِ نعت خوانی میں اویس رضا قادری کو بے انتہا مقبولیت ملی۔ اس کے علاوہ فرحان رضا قادری، عمران شیخ عطاری، سید فرقان  قادری، سید ریحان قادری کے نام بھی قابل ذکر ہیں اور اب تو گویا  عطاری و قادری کے لاحقوں کے ساتھ  ہر شہر میں نعت خواں موجود ہیں۔ ان نئے نعت خوانوں نے نعت کو  گانے کی طرح کی “پرفارمنس” بنا دیا۔  بیک گراؤنڈ ذکر، مصنوعی طور پہ جھومنا، لوگوں  کو ہاتھوں کے جھنڈے بنانے کا کہنا وغیرہ وغیرہ۔  کئی نعت خواں باقاعدہ ہارمونیم  رکھ کے مشق کرتے۔ ساز محافلِ نعت میں لائے جانے لگے مگر اس سب کے باوجود  فن کا یہ حال تھا کہ ان میں اکثر نعت خوانوں کا کھرج تک ٹھیک نہیں تھا۔ ناک سے نکلنے والی بے سُری آواز کو  بیک گراؤنڈ ذکر اور اچھے ساؤنڈ سسٹم کی مدد سے قدرے قابل سماعت بنایا جاتا۔ اکثر نعت خواں باقاعدہ طے کر کے بڑے بڑے معاوضے لینے لگے اور مطلوبہ رقم پیشگی وصول کرتے۔ ایک نوجوان دوست  عبدالرؤف روفی صاحب کو شدید پسند کرتا تھا مگر جب ہمارے شہر میں وہ ایک محفل پڑھنے آئے ۔ طے شدہ رقم میں سے کچھ تو وصول کر چکے تھے مگر نعت پڑھنے سے قبل باقی رقم کا بھی مطالبہ کیا اورجب تک پوری رقم  وصول نہ کی سٹیج پہ نہ چڑھے، یہ صورتحال دیکھ کر وہ نوجوان ہمیشہ کے لیے روفی صاحب سے متنفر ہو گیا۔ جبکہ دوسری طرف سید منظور الکونین ایسے کئی نعت خواں تھے کہ  اپنے منہ سے فقط ٹرین کا کرایہ مانگتے اور پہنچ جاتے، باقی جو محفل میں موجود لوگوں کی توفیق ہوتی خدمت کر دیتے۔ بسا اوقات کرایہ بھی اپنی جیب سے لگا کے پہنچتے۔ ان کے اس طرزِ عمل کے بہت سے گواہ اب بھی موجود ہیں۔

نعت خوانی کا حسن اچھے کلام، خوبصورت طرز اور جذبہء عشق سے معمور انداز پیشکش میں پنہاں ہے۔ ڈیزائنر ز کے کرتے، مخصوص طرز کے عمامے، نعت کا لازمی جزو نہیں۔

بہت سے سنجیدہ فکر لوگوں نے نعت خوانی کے اس نئے منہج پہ شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے خیال میں نعت خوانی کا حسن اچھے کلام، خوبصورت طرز اور جذبہء عشق سے معمور انداز پیشکش میں پنہاں ہے۔ ڈیزائنر ز کے کرتے، مخصوص طرز کے عمامے، نعت کا لازمی جزو نہیں۔ ایک دوسرا اعتراض جو اس حوالے سے کیا جاتا ہے وہ فلمی گانوں کی دھنوں کا استعمال ہے۔ معروف نعت خواں خورشید احمد رحمانی کا اس حوالے سے یہ موقف ہے کہ نعت کی طرز/دھن ایسی بنائی جائے جسے سن کے کسی گانے کی طرف دھیان نہ جائے۔ البتہ موسیقی کے عمومی اصولوں کا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔  پاکستان کے معتبر نعت خواں سیدمنظور الکونین دھن تو ایک طرف، کلام کے انتخاب میں بھی کسی سمجھوتے کے قائل نہیں۔ البتہ  وہ اس بات پہ شکوہ کناں ضرور ہیں کہ عوام تو عوام، نعت خوانوں کا ادبی ذوق بھی  گھٹ گیا ہے۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ جو کلام ان کے دور میں پڑھا جاتا تھا، آج کے اکثر نعت خواں اس کا ترجمہ و مفہوم بتانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ شاہ صاحب کا خیال تھا کہ آواز کے تمام نشیب وفراز اور اس کی خوبصورتیوں کا کوئی سب سے زیادہ حق دار ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی ذات ہے۔ ان کے نزدیک موسیقی کے زیرو بم کو  نعت کے تابع رہنا چاہیے۔ خود وہ شام چوراسی کے معروف کلاسیکل گائیک نیاز حسین شامی سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھتے رہے تھے ۔ ( یاد رہے کہ شامی صاحب سے اکتساب فن کرنے والوں میں استاد سلامت علی خاں جیسے نام بھی شامل ہیں)۔ افسوس شاہ صاحب بھی کچھ عرصہ قبل رخصت ہو گئے۔

نعت خوانی میں موسیقی کے اصولوں اور فلمی دھنوں کے استعمال کے بارے میں بعض لوگ الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ پس  ضروری معلوم ہوتا ہے کہ فنِ موسیقی اور نعت خوانی کا باہمی تعلق جیسا کہ بزرگوں کی باتوں سے میں سمجھ سکا ہوں، اسے مختصرا بیان کر دوں۔

٭ نعت کی کوئی بھی دھن بنانے کے لیے موسیقی کے اصولوں کا استعمال ناگزیرہے۔ ان اصولوں کے بغیر تحت اللفظ تو پڑھا جا سکتا ہے مگر ترنم کے ساتھ نہیں۔

٭ نعت کی طرز کسی ایک راگ یا کئی راگوں میں ترتیب دی جا سکتی ہے۔

٭ ایک ہی راگ میں سینکڑوں دھنیں ترتیب دی جا سکتی ہیں مگر اس کے لیے فن کا علم اور اس پہ دسترس ضروری ہے مگر ہمارے اکثر معروف نعت خواں بھی اس قابل نہیں، اس لیے آسان حل یہ ہے کہ کسی بھی فلمی دھن پہ نعت پڑھ دی جائے۔

٭ ہمارے کئی مشہور نعت خواں تو پہلے تو کوئی تازہ تازہ مشہور فلمی گانا سنتے ہیں پھر کسی سے نعت لکھواتے ہیں کہ جی! یہ میٹر ہے اس میں نعت لکھ دیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ بعد میں اسی گانے کی دھن پہ نعت بھی پڑھ دی جاتی ہے۔ اس کی درجنوں مثالیں ہر باخبر نعت سننے والے کو معلوم ہوں گی۔

٭ فلمی دھن کا استعمال عجز فن کی نشانی اور آدابِ نعت سے بیگانگی کی علامت ہے۔ فلمی گانے کی دھن پہ اگر نعت پڑھی جائے گی تو اکثریت کا دھیان لازمی طور پہ دھیان گانے کی طرف جائے گا، اس لیے فلمی دھنوں کے استعمال کو مکمل طور پہ ترک کر دینا چاہیے۔

٭ نعت جن کی بارگاہ میں پیش کی جاتی ہے وہاں کے آداب اور اپنی اوقات کو ذہن میں رکھنا چاہیے وگرنہ ثواب تو کجا، اعمال کے ضائع ہوجانے کا خدشہ ہے۔

بہرحال اب آثار بتاتے ہیں کہ  نعت خوانی کا سادہ انداز دوبارہ لوٹ رہا ہے۔ پس منظر میں مخصوص انداز کا ذکر بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ نئے نعت خواں سامنے آر ہے ہیں اور  عوام  بھی اس بات سے متنفر ہوتے جار ہے ہیں کہ وہی لوگ جو عام دنوں میں  قوالیاں اور فلمی گیت گاتے نظر آتے ہیں، ماہِ رمضان اور ربیع الاول  میں نعت خوانی کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں۔ امید ہے پاکستان میں جو سفر محمدعلی ظہوری، اعظم چشتی اور سید منظورالکونین نے شروع کیا تھا وہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا۔ سیب زبیب مسعود شاہ اور خالد حسنین خالد جیسے نعت خوانوں کے ہوتے  اس امید کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. اصلا یہ سارا قصور ان منتظمیں اور پیران عظام کا ہے ، جو سستی شہرت کے لیے ان ڈانسر نعت خوانوںن کو بلاتے ہیں ،

    • جی قصور تو سب کا ہے۔ نعت خوانوں کا، منتظمین کا، سامعین کا، سب اس صورتحال کے ذمے دار ہیں۔ پچھلے دنوں اسی موضوع پہ چار گھنٹے پہ مشتمل ایک کانفرنس ہوئی جس میں شہباز قمر فریدی نے فرمایا کہ اگر ہم کوئی غیر مناسب نعت پڑھیں اور سامعین میں سے اٹھ کر کوئی ہمیں ٹوک دے تو ہم آئندہ وہ نعت نہیں پڑھیں گے۔ گویا موصوف ان حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے اور اصلاح کی ساری زندگی سامعین کی ہے، نعت خواں کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ بہرحال توجہ کے لیے شکر گزار ہوں۔

  2. میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ھوں .آیندہ کسی تحریر میں ان “پری پیڈ” مولوی و خطبا حضرات پہ بھی لکھیں جو پیسے لے کر تقریریں کرتے ہیں.شکریہ

  3. جی شکریہ۔ آپ کی تجویز قابلِ غور ہے۔ اس حوالے سے بعض تجربات حاصل ہوئے ہیں، کسی روز موقع ملا تو ضرور لکھنے کی کوشش کروں گا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: