احوبہ ——– جیلانی بی اے — 2

0
  • 34
    Shares

(2)
یہی وہ سوال تھا جو احوبہ کے فکر پر مسلط تھا، اس کا معلم بوڑھا منجم اپنی آنکھوں پر ہاتھ سے سایہ کیے ستاروں کی طرف دیکھ رہا تھا جو بیت المقدس کے گرم آسمان پر بہار کے سفید پھولوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔اس کی بیضوی آنکھیں ستاروں کے اژدہام میں مضطربانہ گھوم رہی تھیں۔احوبہ کھڑی کھڑی تھک گئی۔ اس نے محسوس کیا گویا اس کی پنڈلیوں میں سوئیاں چبھ رہی تھیں۔ وہ رصد گاہ کے کٹہرے سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔ اسکی آنکھیں اندھیرے میں یسوع ناصری کے کلیسا کی بلند صلیب دیکھ سکتی تھیں۔ وہ بوڑھے منجم کی طرف یک بیک جھنجھلا کر مڑی، جس کی نگاہیں ستاروں کے جھرمٹ میں بدستور الجھی ہوئی تھیں۔
“اے حکمت کے باپ !تم کیا دیکھ رہے ہو؟”

اسکا بے گوشت ہاتھ اٹھا، اور خود بخود ڈاڑھی پر پھرنے لگا۔
” وہ دو نئے ستارے ——– وہ یقینا ستارے نہیں، ان کی روشنی اتنی تیز، صاف اور مستعد”
وہ بڑبڑایا، گویا اپنے آپ سے کچھ کہہ رہا تھا۔
احوبہ نے اسکے الفاظ سن لئے، لیکن اس نے اپنے سوال کو پھر دہرایا، اس کے بالوں میں گندھی ہوئی کلیوں کی ہلکی ہلکی خوشبو رات کی گرمی میں تحلیل ہو رہی تھی۔ وہ بے اختیار آنکھیں موند لینا چاہتی تھی۔
“ہو ہو ہو ” بوڑھے نے اپنے گھٹے ہوئے سانس کو آزاد کیا: “یہ دو ستارے اس سے پہلے آسمان پر نہ تھے، عجیب بات ہے۔ سمیہ ! چراغ اور کتاب لاو۔”
“کونسے حکیم السماوات؟”
” وہ دیکھو۔” اس نے اپنی انگلی سے اس طرف اشارہ کیا، جہاں سلیمان کی نابود ہیکل کی یاد میں ایک پہاڑی رہ گئی تھی۔ اس کے عین اوپر دو ستارے چمک رہے تھے۔ کسی مقدس فرشتہ کی آنکھوں کی طرح مستعد یا نو سپید غزال کی آنکھوں سے مشابہ۔

حبشن خادمہ زیتون کا چراغ اور چرمی کتاب لیے آ گئی، اس کے چہرے کی سیاہی زیتون کی سفید روشنی میں اور بھی گہری ہو گئی۔۔۔۔۔۔
“اف ! تو تو شیطان کی کتیا دکھائی دیتی ہے۔” احوبہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
بوڑھا منجم اپنی کتاب کے عتیق صفحات الٹ پلٹ رہا تھا۔وہ کچھ دیکھتا، کچھ پڑھتا۔ پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا لیتا۔ احوبہ اس کی لمبی سفید ڈاڑھی کی طرف دیکھ رہی تھی، جو اس کے عمامہ کے عین نیچے سینے تک لٹک رہی تھی۔اس کی پھیلی ہوئی گھنی بھنویں اس کی آنکھوں پر کھجور کی چھتریوں کی طرح سایہ کر رہی تھیں۔ اس کا سفید جبہ اس کے نحیف جسم پر مانگے تانگے کے لباس کی مانند ڈھیلا ڈھیلا لٹکا ہوا تھا۔
“اس کی سمت”؟ وہ یک بیک چلا اٹھا۔

وہ ستاروں کی طرف ایسے دیکھ رہا تھا گویا کسی کو طوفان کے آثار نظر آجائیں۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں۔ دئیے کی سفید لو اس کی آنکھوں میں مقدس زردشتی آگ کی طرح ناچ رہی تھی۔ یکایک صحرائی ہوا ایک جھونکا آیا، اور دئیے کو بجھا گیا، اور دونوں اندھیرےمیں ستاروں کی طرف تکتے رہ گئے۔
“اے صاحب اسرار نجوم ! حوریں تیری ڈاڑھی میں موتی پروئیں۔ کچھ مجھ کو بھی بتا۔”
منجم نے اس کی طرف دیکھا۔
“یہ دو ستارے مل کر ایک شعلہ پیدا کرنے والے ہیں جو جہان قدیم و فرسودہ کو خاکسترکر کے ایک نئے جہان کوروشن کرے گا۔یہ کائناتی انقلاب کے آثار ہیں۔”
احوبہ کی غزالی آنکھیں بوڑھے کو حیرت سے تک رہی تھیں اور بوڑھے کا سر بید مجنوں کی طرح لرز رہا تھا۔
بیت المقدس کا نور اب فاران کی طرف ڈھلک رہا تھا۔
“ایک قوت اس شہر کو قصہ پارینہ بنانے والی ہے “۔

احوبہ کی عبرانی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اسکی آنکھوں میں اسرائیلی آگ کا پرتو تھا۔ وہ ایک یہودی رقاصہ کی بیٹی تھی۔ جس کا شہرہ قیصر و کسری کے درباروں میں گونج رہا تھا۔ اسکی ماں نے ساری عمر بدن کے ہیجانات اور لعل و جواہر کے شعلہ بار سمندر میں گزار دی، یہاں تک کہ وہ اس قدر سیر ہو گئی کہ اس کا دل نفرت اور خوف کے جذبات سے لبریز ہو گیا۔ اگر وہ خوف کی طرف جھک جاتی، تو اس کا مقام مسجد اقصی کے کسی محراب کا گوشہ تھا، اور اگر وہ نفرت سے متاثر ہوتی تو اپنی ہر محبت کو ہنگام وصل قتل کر دیتی، شاید وی اپنے حواس ہی کھو بیٹھتی یا شاید اس کے زمردی ہونٹوں میں وہ بے پناہ تلخی اور آگ پیدا ہو جاتی کہ ان سے چھونے والا ہر ہونٹ خاکستر ہو جاتا، اسی فکر میں غلطاں وہ روز روز زندگی کے ہنگاموں سے دور ہوتی گئی، اس کی آنکھوں کی گرم چمک ٹھنڈی پڑنے لگی، اور بیت المقدس کے میخانوں میں رندان تیزنگاہ نے اس کے شعلہ آسا حسن میں شبنم کے قطرے جمتے دیکھ لیے، اس نے رقص کرنا چھوڑ دیا۔ اور اپنے آپ کو اپنے مکان کی چار دیواری میں مقفل کر دیا، دو ہلالوں کے بعد وہ دیوار گریہ کے سائے میں روتی ہوئی پائی گئی۔ وہاں اس نے خدائے توریت و زبور سے ایک میثاق کیا، اگر اس کے ہاں کوئی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اس کو رشد وہدایت پر ڈالے گی۔ چند ایام کے بعد اس نے “ہرمقس” نامی ایک سوداگر سے شادی کر لی۔ وہ ہیروں کا تاجر تھا۔ اور اس کے جہاز سرخ پانیوں میں تیر رہے تھے۔جب لڑکی پیدا ہوئی، تو اس نے ایک جشن منایا، اور لڑکی کی تعلیم وتربیت کے لیے سربرآورہ عالم مقرر کیے، اسے چودہ علوم کے اسرار پڑھائے گئے، اور جب وہ فارغ التحصیل ہوئی تو کنعان کے چاردانگ میں اس کا نام گونج رہا تھا۔

“کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ فضیلت اب بنی اسرائیل سے رخصت ہونے والی ہے ؟ ”
بوڑھے نے پھر ستاروں کی طرف دیکھا۔
“ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ ”
“اگر وہ نور بیت المقدس سے نکلنے ہی نہ پائے تو پھر ؟ ”
منجم نے اپنی بیضوی آنکھیں گھما کر اس کی طرف دیکھا، وہ اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبائے دور دیکھ رہی تھی۔ جہاں مسجد کا سیاہ کلس اوندھے پیالے کی طرح نظر آ رہا تھا۔
“جس کی پشت سے یہ مشعل نکلنے والی ہے اگر تم اس کی نشانیاں مجھ کو بتا دو، تو تم دیکھ لو گے کہ بیت المقدس کے تقدس کے سامنے میں کس طرح ایک سد آہنی بن کر کھڑی ہو جاوں گی “۔
اس کے گلے کا نیلم آسمانی ستارے کی طرح چمک رہا تھا۔منجم نے اس کے الفاظ کے اندر اس کی ماں کا جنون دیکھ لیا۔ اس کے الفاظ آہنی عزم اور آتشیں جوش میں ڈوبے ہوئے تھے۔
“تمہیں وہ فاران کی چوٹیوں پر ملے گا، اس کی پیشانی لافانی تابانیوں سے منور ہو گئ۔”
اس کے بعد دونوں چپ چاپ آسمان کی طرف د یکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے، بیت المقدس کے گرم آسمان پر سلیمان کے نابود ہیکل کے ڈھیر کے اوپر دو ستارے بدستور چمک رہے تھے۔ احوبہ دل ہی دل میں کہہ رہی تھی: ” ایک ستارا میں ہی ہوں، میں اس شمع کو ضرور واپس لاوں گی۔”

دوسرے دن دیوار وہ دیوار گریہ کے پاس کھڑی رو رہی تھی، دیوار کے پرلی طرف توریت کی یزدانی تختیاں زیر زمین دفن تھیں۔ لیکن کون جان سکتا تھا کہ وہ کس سل کے نیچے تھیں؟ اس لیے کوئی انسانی قدم ان پتھروں پر چلنے کی جرات نہ کر سکتا تھا۔ مبادا خاکی انسان کے پاوں آسمانی الفاظ پر پڑ جائیں اور ساتوں آسمان ریت کے گھروندوں کی طرح کھڑکھڑاتے ٹوٹ گریں۔ سسکیوں اور ہچکیوں کی آنسووں میں ڈوبی ہوئی آوازیں گھٹے ہوئے حلقوں سے پیدا ہو رہی تھیں۔ اسرائیل کی بد قسمت اولاد اب بھی اسی جگہ کھڑی تھی، جہاں موسی و ہارون نے انھیں چھوڑا تھا، وہ حیران و سرگشتہ تھی۔ جب سے ارض موعود اس کے قدموں سے کھسک گئی تھی۔۔۔۔ وہ خدا کی برگزیدہ تھی، وہ خدا کے لاڈلے بچے تھے۔ لیکن انکا خدا کہاں تھا؟ کیا وہ اس سے دور تھے یا وہ ان سے دور؟ شاید وہ درمیانی خلا کو آنسووں اور سسکیوں سے عبور کرنا چاہتے تھے۔ تا ہم وہ سب جہان سے اولی و افضل تھے۔ وہی تھے جن پر بخت نصر کی فوج کرگسوں کی طرح جھپٹی، لیکن وہ نہ رہا وہ رہ گئے؛ بنی اسرائیل، آل اسحاق————— ‘احوبہ نے اپنے گرد و پیش نگاہ دورائی۔ روتی ہوئی آنکھوں نے اس کے سامنے وہ تصور لا کھڑا کر دیا، جب اہرام مصر کی تپتی ہوئی چوٹیوں تک وہ پتھروں کی بڑی بڑی سلیں اپنی کڑی پشتوں پر پہنچا رہے تھے۔ ان کی پیٹھوں پر کوڑے جنگی نقاروں کی طرح بجتے، لیکن انھوں نے سب کچھ سہا، انھوں نے مردوں کو کٹوایا اور اپنی عورتوں کو فراعنہ مصر کی ہوس رانی کی بھینٹ چڑھتے دیکھا، پھر وہی تھے جو اٹھے اور فرعون کے تخت پر چڑھ دوڑے دوڑے۔وہی تھے جنہوں نے بحیرہ احمر کے پانیوں کی موٹی چادروں کے درمیان اپنا راستہ نکالا، پھر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ مشعل جو وہ پورے ہزار برس سے تھامے چلے آ رہے تھے، ان کے ہاتھوں میں جائے جن کی گردنیں ان کے سود کے بوجھ سے جھکی ہوئی ہوں، وہ نور جو جھاڑی سے نکلا اور ناصرہ کے اصطبل پر چمکا، وہ صرف پاک گھر ہی کو روشن کرنے کے لیے ہے۔
“میں اس نور کو بچاوں گی، اسحق و یعقوب کے خداوند مجھکو توفیق دے۔”
” آمین”۔ عبادت گزاروں کی ہم آہنگ پکار گونجی۔
احوبہ نے چونک کر سر اٹھایا، دعا شروع ہو چکی تھی۔

احوبہ نے اپنی حبشن محبوبہ بڑھیا کو سنایا، کہ وہ عزم سفر کر رہی ہے، سفر بھی چھوٹا نہیں، پوری زندگی کا سفر۔ یہ بساط سفر کھلی ہی دل کی قیمتی آرزوں اور عزائم پر تھی۔
” سچ کہتی ہو بنت بریرہ؟ ”
حبشن کا منہ یہ خبر سن کر بے یقینی کی تصویر بن گیا۔ اس کے سفید دانت سیاہ ہونٹوں کے درمیان بجلی کی طرح چمکے۔ ” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سینچ ساسانی اور رومی خون سے اٹھا ہوا بدن صحرائی جھونکوں میں یوں لڑکھڑاتا پھرے۔ بنت بریرہ! چھی چھی، میں سمجھتی ہوں کہ ابھی تمہارا جذبہ شوق و عزم والہانہ ابل رہا ہے تا ہم اس پر خوب اچھی طرح سوچ بچار کر لو”۔
احوبہ نے زور کا قہقہہ لگایا۔ اگرچہ اس کے دل میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔

” ہاروت و ماروت کی نوزائیدہ، تجھے چلنا ہو گا، تجھے موت کے گھاٹ اترنا ہو گامیرے ساتھ، مجھ کو وہ شمع لینے جانا ہے جو آل یعقوب کی میراث ہے۔ صرف تم اور میں اور قیس ساربان۔ لیکن سنو، یہ کسی پر فاش نہ ہو گا”۔
یہ کہہ کر احوبہ اپنی آرام گاہ کی طرف چل دی۔ سمیہ کا منہ بدستور کھلا ہوا تھا۔ یہ فیصلہ سن کر اور بھی کھل گیا۔ ” آہ ! ہرمقس کی بیٹی، بنت بریرہ ! “۔

کچھ دنوں کے بعد وہ انجیر و زیتون کی سرزمین سے نکل کھڑے ہوئے، اور ان کی اونٹنی نے صحرائے عرب میں اپنا قدم رکھ دیا۔ مصائب و نوائب کے طویل لمحات اپنی گھناونی روح سمیت پرے باندھے چلے آ رہے تھے۔ گرمی اپنا راستہ بنائے چلے آ رہی تھی، اور سورج عین خط استواء پر آن کھڑا ہوا، صبح کے وقت سورج ریت کی دبیز چادر سے اپنا منہ نکالتا اوراس کی طلائی چہرہ تمتما اٹھتا۔ طوفان اور آندھیوں کی گھڑیاں شروع ہو جاتیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے ریت کے چمکیلے ذرات پتنگوں کی مانند اڑتے اڑتے ایک بگولے کی صورت بن جاتے۔ جو تمام کرہ فضا پر محیط ہو جاتا۔ شام کے وقت ریت کا پرسکون سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا، حسن کے سناٹے کو توڑنے والا یا تو قیس کا پردرد گیت ہوتا، یا حبشن کی امید و بیم سے چھلکتی ہوئی دعائیں، کہیں کہیں نخلستان کے جزیرے اپنے پھیلےہوئے سایوں سے صحرا نوردوں کو اپنی طرف کر لیتے، ان کی ٹھنڈی ندیاں اپنی سرد موجوں کو کھجور اور زیتون کی ڈالیوں میں سبک سیر ہو کر ہوا کے بربط اچھالتیں، لیکن پھر تشنگئ کام و دہن ہوتی، دور تلک پھیلا صحرا کا سراب جس کا سحر انگیز فریب انسان کو آرزو کی مانند منزل بمنزل ہانکتا ہوا لئے چلا جاتا ہے۔

ایک ندی کے قریب گھنے باغات کا جلوہ نظر آیا، احوبہ اپنے محمل سے نکل آئی، اسکا چہرہ خزاں زدہ کلی کی طرح فسردہ ہو رہا تھا، گرمی کا پیلا رنگ فضا میں دوپہر کے خشک بادل کی طرح چھایا ہوا تھا، ندی کےٹھنڈے شفاف پانی سے اس نے اپنا منہ ہاتھ دھویا اور اسی کے آئینے میں اپنے بال سنوارے، جبکہ وہ اپنے گرد و پیش کا جائزہ لے رہی تھی، بوڑھی حبشن پانی میں کلیلیں کر رہی تھی، تو اس نے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنی، اس نے مڑ کر دیکھا، اس کے سامنے ایک بورھا مسیحی درویش کھڑا تھا۔ اس کی نقرئی ڈاڑھی ہوا میں لہرا رہی تھی۔ اور اسکے سبز عبا پر صندلی صلیب ابدی رحمت کی طرح آویزاں تھی۔

“محترمہ اگر تم کھجوریں اور بکری کا دودھ چاہو، تو اس درویش کی کٹیا حاضر ہے ”
اس نے انگلی سے کھجوروں کے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا، جس کے پیچھے ایک چھوٹی سی کٹیا تھی، احوبہ اس کی پیش کش رد نہ کر سکی۔ اس لیے وہ اس کے پیچھے پیچھے چل دی۔
” یہاں بیٹھو۔ ”
اس نے ایک تخت کی طرف اشارہ کیا۔
درویش تھوڑی دیر بعد بکری کا تازہ دودھ اور کھجوریں لے آیا، اس نے طشت احوبہ کے سامنے رکھ دیا :” محترمہ میری دنیا تمہارے لیے یہی
کچھ پیش کر سکتی ہے “۔

ندی سے ہائے ہائے کی دردناک آواز آئی۔ درویش اپنے بڑھاپے کےباوجود سبک رفتاری سےندیکی طرف بڑھا، ایک عورت کےپاوں میں ایک بڑا سا کانٹا لگ گیاتھا۔ اس کا مٹکا اوندھا پڑا ہوا تھا۔ اور اس کے پاوں سے خون کی ایک پتلی سی لکیر جاری تھی، درویش نے اس کے زخم پر اپنا لعاب لگا دیا، اور اسکا خون ایکا ایکی بند ہو گیا، پھر اس نے خود مٹکابھرا، اور اپنے سر پر اٹھا۔ اس کے آگے آگے ہو لیا۔

جب وہ لوٹا تو احوبہ اس کےقدموں میں آ کر بیٹھ گئی۔
“تیرے مقدس چہرےپر نور برس رہا ہے، اے محترم بزرگ ! میریرہنمائی کر”۔
درویش کی پرسکون و ملائم آنکھیں کھجور کی جھالردار شاخوں کو دیکھ رہی تھیں جو ہوا میں جھوم رہی تھیں۔
” خاتون ! تم ذرے کو آفتاب سمجھ رہی ہو، تمہیں دھوکا ہوا ہے، میں اپنے ازلی گناہوں کا ہارکش ہوں اور خدا کی آسمانی سلطنت کی دید کا خوہاں ہوں”۔
“نہیں نہیں، مقدس باپ مجھ کو دھوکا نہیں ہو، میں آرزوزدہ ہوں، فریب زدہ نہیں، ایک موت میری راہ میں حائل ہے، ورنہ میں ریت کی مانند ہمیشہ ہمیشہ پیاسی رہنے والی ہوں”۔
“سچ ہے، سچ ہے”
بوڑھے نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ” چہرہ دل کا آئینہ ہے”۔
کیا تم۔ مجھ کو بتا سکتے ہو، کہ وہ مشعل اب کدھر جائے گی، جس کو یعقوب نے روشن کیا تھا”۔

احوبہ اضطراب اور بے چینی سے بوڑھے راہب کے خشک اور پیلے ہونٹوں کی طرف دیکھ رہی تھی، بوڑھے کے چہرے کے نقوش یکایک کھنچ گئے۔ اس کی پیشانی اس طرح شکن آلود ہو گئی، گویا اس کے دل میں سخت درد اٹھ رہا تھا، اور وہ اسے دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“باعزم خاتون! جس درخت کی جڑ کو اس کی شاخیں ہی کھا گئی ہوں، اس درخت سے باردری کی امید پتھر سے موم کی توقع ہے “۔ پھر اس نے آنکھیں گھما کر اس کی طرف دیکھا۔ ” تم اس شمع کو واپس لانے جا رہی ہو”۔
“ہاں مقدس راہب ! مجھکو تمہاری مدد اور تائید چاہیے “۔

“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ “بوڑھا بڑبڑایا، پھر وہ طویل مراقبے میں ڈوب گیا، جب اس نے سر اٹھایا تو اس کی پیزسانی پر پسینے کے باریک قطرات کھڑے تھے۔
“میں تمہاری امداد پر قادر نہیں، لیکن ایک بار تمہارے پاس آوں گا ضرور”۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: