دھرنے کا ڈراپ سین: نون لیگ کو کیا سبق دے گیا — ڈاکٹر رئیس صمدانی

0
  • 39
    Shares

تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کا 22 روزہ دھرنا نون لیگ اور اس کی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ نااہل نواز شریف کی ناکارہ پلاٹون، فوج ظفر موج درباریوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔ فیض آباد کے دھرنے کا اختتام جس انداز سے ہوا، حکومت نے جس انداز سے پسپائی کا سامنا کیا، صاف ظاہر ہورہا تھا کہ حکومت بیک فٹ پر چلی گئی ہے، حکومت کی رٹ کہی نظر نہیں آئی۔ 25 اور 26نومبر کو نواز شریف کے درباری نہ جانے کون کون سے بلوں میں گھس کر ایسے بیٹھے کہ کسی نے چوں بھی نہیں کی۔ ایک بچارہ وزیر داخلہ حکومت کی جانب سے ہٹو بچو ہٹو بچو کرتا رہا۔ جو کچھ اس کی سمجھ میں آرہا تھا وہ ویسا ہی کررہا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے عدالت کے حکم کا سہارا لیا اور اپنی جان بچائی، عجیب صورت حال پورے ملک کی تھی، فیض آباد کی آگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، ہر جانب آگ کے شعلے اورہر جانب ’لبیک یا رسول اللہ لبیک ‘ کی صدائیں گونجتی نظر آرہی تھیں۔

غلطی کس سے ہوئی، دانستہ یا غیر ارادی طور پر لیکن یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ایسا ہوا، اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو حکومت کا دماغ خراب ہوگیا تھا کہ اس بل کو سابقہ حیثیت میں بحال کرایا۔ غلطی ہوگئی تھی، جو دیر سے پکڑی گئی، اگر اسی وقت پکڑی جاتی، 163 اراکینِ پارلیمنٹ نے اسے پہلی مرتبہ منظور کیا تھا تو یہ معاملہ وہیں رک جاتا، اس وقت سارے اراکین کی آنکھوں پر اقتدار کا خمار چھا گیا تھا۔ جب بھانڈا پھوٹا تو حکومت نے دوبارہ بل کو اپنی اصل حالت میں لانے کا بل پیش کیا وہ بھی منظور ہوگیا۔ بات تو ختم ہوچکی تھی۔ سیاست صرف نواز شریف کے خون میں ہی تو نہیں، مخالف سیاسی جماعتوں نے بھی تھوڑا بہت شور مچایا اور خاموش ہو رہیں۔

مولانا خادم حسین رضوی ایک کم معروف مذہبی رہنما تھے، ممکن ہے انہیں پنجاب کی حد تک شہرت حاصل ہو، انہیں کسی سیاست کے کھلاڑی نے یہ راستہ سجایا ہو، کچھ کہا نہیں جاسکتا، مولانا نے دھرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ لاہور سے 22 روز قبل نکل کھڑے ہوئے اسلام آباد، حکومت پنجاب بھی اور وفاق بھی سب بے ہوش، یہ پہنچ گئے فیض آباد، شروع میں تو حکومت انہیں سمجھاتی بجھاتی رہی، ٹال مٹول سے کام لیتی رہی، دھرنے والوں نے اپنے ہاتھ پیر دراز کیے تو وزیر داخلہ نیند سے بیدار ہوئے، پانی سر سے اوپر جاچکا تھا، عدالتی فیصلے نے حکومت کو سہارا دیا جس میں کہا گیا تھا کہ دھرنے والوں سے جگہ خالی کرائی جائے۔ اب وزیر داخلہ کے بقول عدالت کا حکم تھا، انتظامیہ نے از خود آپریشن کر ڈالا، انہیں معلوم ہی نہ ہوسکا، وہ تو مذاکرات سے معاملہ حل کرنا چاہتے تھے۔ قربان تیری سادگی پر اے وزیر داخلہ، پولیس کو ناکامی ہوئی، 7ہلاکتیں بھی ہوگئیں۔ کہا گیا کہ یہ دھرنے کی جگہ نہیں بلکہ سابق وزیر داخلہ کے گھر پر حملے کے نتیجے میں ہوئیں، جس کی تردید چودہری نثار نے کردی اور کھری کھری سنائی موصوف کو، اب حکومت کی نیندیں اڑگئیں، کریں تو کیا کریں، فوج کی ٹپل اون بریگیٹ کو دھرنے کا علاقہ اور اختیارات دے دیے گئے، خیال تھا کہ فوج آئے گی اور دھرنے کو دھبڑ دھوس کر دے گی۔ فوج نے ہری جھنڈی دکھادی، کہ ہم عوام پر گولی نہیں چلا سکتے، بات اپنی جگہ درست تھی۔ یہ دھرنا سیاسی نہیں تھا، بہت نازک تھا، حکومت اس کا ادراک نہیں کر رہی تھی، ان کے ذہنوں میں سیاست کا خناس بھرا ہوا ہے۔ بلکہ فوج کے علاوہ کسی ادارے نے اس مسئلہ کی حساسیت کا ادراک نہیں کیا۔ دوسری جانب فیض آباد کی آگ پورے پاکستان میں پھیل چکی تھی۔ صرف کراچی میں 25جگہ احتجاج ہورہا تھا۔ اسی دوران حکومتی ذمہ داران جو بلوں میں چھپ کر نظارہ دیکھ رہے تھے، انہوں نے مناسب جانا کہ نیوز چینل، سوشل میڈیا کو بند کردیا جائے۔ اب حکومت نے اپنے لیے ایک اور محاز کھول لیا، میڈیا والے ہی نہیں بلکہ عام لوگ اس سے متاثر ہوئے، ملک طرح طرح کی افواہوں کی زد میں آگیا۔ مسئلہ کے حل کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ دھرنے والوں کا مطالبہ کیا تھا کہ وزیر قانون زاہد حامد مستعفی یا انہیں فارغ کردیا جائے۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا نواز شریف اپنے خاص لوگوں کی قربانی دیتے آئے ہیں۔ اگر وہ پہلے دن زاہد حامد کو مستعفی کرادیتے تو 22 حکومت کو اس ذلت کا سامنا تو نہ کرنا پڑتا، کہتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت آسانی سے بھلا کہاں مانتے ہیں۔ جواز یہ دیا جاتا رہا کہ اگر ہم نے دھرنے والوں کا یہ مطالبہ مان لیا تو وہ پھر کوئی اور مطالبہ کر دیں گے۔ وہ تو ہونا ہی تھا۔ مطالبات تو ہوئے۔

آخر کار پاک فوج کے سپہ سالار نے مسئلہ کو حل کرایا، بلکہ نظر یہ آرہا ہے کہ حکومت کو اس مطالبہ کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیا، اس میں شہباز شریف کی کوششیں بھی رہیں، وہ تو بہت پہلے زاہد حامد کی چھٹی کردینے کی بات کر چکے تھے پر میاں نواز شریف اس میں حائل رہے۔ فوج بیچ میں پڑی، تحریری معاہدہ ہوا، دونوں فریقین نے اسے قبول کیا، اصل مطالبہ زاہد حامد کی کابینہ سے برخاستگی تھا، انہوں نے استعفیٰ دیا، منظور ہوا، دیگر باتیں تو طویل دنوں میں ہو جانے والے واقعات کی وجہ سے ہوئیں۔ جیسے گرفتاریاں اور مقدمات وغیرہ۔ اصل معاہدہ جو طے پایا دونوں فریقین کے دستخط اور پاک فوج کی جانب سے میجر جنرل فیض حمید کے دستخط گویا فوج اس معاہدہ کی ضامن بنی، لوگ واپس چلے گئے، عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ اب پھر عدالت کا فیصلہ سامنے آیا جس میں فوج کو ثالثی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا یا گیا۔ اب ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ بحث اس قدر خطرناک نہیں، 22نومبر تک کی صورت حال بہت خطرناک اور تکلیف دہ تھی۔ بحث ومباحثہ ہوتا رہے گا۔ معاہدے کے آخر کے الفاظ بہت واضح ہیں ان میں کسی قسم کا ابہام نہیں لکھا ہے’’ یہ تمام معاہدہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب اور ان کی نمائندہ ٹیم کی خصو صی کاوشوں کے ذریعے طے پایا۔ جس کے لیے ہم ان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے قوم کو ایک بہت بڑے سانحہ سے بچا لیا‘‘۔

معاہدہ کی تحریر بتا رہی ہے کہ یہ معاہدہ دھرنے والوں کی جانب سے لکھا گیا ہے، حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ احسن اقبال اور سیکریٹری داخلے نے چپ کر کے دستخط کیے۔ معاہدہ حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمان الرحیم
معاہدہ مابین تحریک لبیک یا رسول اللہ اور حکومت پاکستان
تحریکِ لبیک یا رسول اللہ جو کہ ایک پر امن جماعت ہے اور کسی قسم کی تشدد اور بدامنی پر یقین نہیں رکھتی۔ یہ جماعت ختم بنوت اور تحفظ ناموسِ روالتﷺ میں قانونی ردو بدل کے خلاف اپنا نکتہ نظر لے کر حکومت کے پاسآئی مگر افسوس کہ اس مقدس کام کا صحیح جواب دینے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ 21دنوں پر محیط اس کوشش کو اگر بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے تو ہماری مندرجہ ذیل مطالبات کو پورا کیاجائے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ان شرائط پر اتفاق ہونے پر ہم ن ہ صرف ختمِ نبوت دھرنا ختم کریں گے بلکہ ملک بھر میں اپنے ساتھیوں کو پُر امن رہنے کی درخواست بھی کریں گے۔
۱۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد جن کی وزارت کے ذریعے اس قانون کی ترمیم پیش کی گئی کو فوری اپنے عہدے سے برطرفّ مستعفی) کیا جائے۔ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی فتویٰ جاری نہیں کرے گی۔
۲۔ الحمد اللہ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کے مطالبے کے مطابق حکومتِ پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017 میں 7Bاور 7Cکو مکمل متن مع اردو حلف نامہ شامل کر لیاہے جن اقدام کی تحریکِ لبیک یا رسول اللہ ستائش کرتی ہے تاہم راجہ ظفر الحق صاحب کی انکوئری رپورٹ 30دن میں منظر عام پر لائی جائے گی جو اشخاص بھی ذمہ دار قرار پائے گئے ان پر ملکی قانون کے مطابق کاروئی کی جائے گی۔
۳۔ 6نومبر2017سے دھرنا کے اختتام پزیر ہونے تک ہمارے جتنے بھی افراد مک بھر میں گرفتار کیے گئے ہیں، ایک سے تین دن تک ظابطہ کی کاروائی کے مطابق رہا کردیئے جائیں گے مقدعمات اور نظر بندیاں ختم کردی جائیں گی۔
۴۔ 25نومبر2017کو ہونے والے حکومتی ایکشن کے خلاف تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کو اعتماد میں لے کر ایک انکوائری بورڈ تشکیل کیا جائے جو تمام معاملات کی چھان بین کر کے حکومت اور انتظامیہ ذمہ داران کے خلاف کروائی کا تعین کرے اور 30روز کے اندر انکوائری مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے۔
۵۔ 6 نومبر2017سے دھرنا کے اختتام تک جو سرکاری وغیر سرکاری املاک کا نقصان ہوا، اس کا تعین کر کے ازالہ وفاقی اور صوبائی حکومت کرے گی۔
۶۔ حکومت پنجاب سے متعلقہ جن نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، ان پر مِن و عن عمل کیا جاے (نکات لف ھذا ہیں) یہ تمام معاہدہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب اور ان کی نمائندہ ٹیم کی خصو صی کاوشوں کے ذریعے طے پیا۔ جس کے لیے ہم ان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے قوم کو ایک بہت بڑے سانحہ سے بچا لیا۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1) علامہ خادم حسین رضوی (مرکزی امیر) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفاقی سیکٹری داخلہ ارشد مرزا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2) پیر محمد افضل قادری (سرپرست اعلیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔3) محمد وحید نور (مرکزی ناظم اعلیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتاریخ: 27 نومبر2017 بوساطت میجر جنرل فیض حمید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھرنے اس سے پہلے بھی ہوئے بلکہ اس سے طویل دھرنے اسلام آباد کے اندر ہوئے لیکن ان کا اختتام اس طرح کا نہیں ہوا تھا۔ اس دھرنے نے حکومت کو خاص پیغام دیا ہے، سوچنے کے لیے مہلت دی ہے، اس کا اختتام سیاسی نہیں کہا جا سکتا، اگر ملک کے طاقت ور ادارے بیچ میں نہ پڑتے تو نوبت لال مسجد اور سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی تاریخ ہی دھرائی نہیں جاتی بلکہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں آجاتا۔ حکومت کی حکمت عملی دیکھتے ہوئے بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ بحران مصنوعی تو نہیں، یہ حکومت یا نون لیگ کا سوچا سمجھا منصوبہ تو نہیں؟ کہیں نون لیگ ایک مرتبہ پھر مظلوم تو بننے کے خواب نہیں دیکھ رہی، کہیں نواز شریف پر عدالتی دباؤ کو دور کرنے کی کوشش تو نہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو تجزیہ کرتی سوچوں کے ذہنوں میں آرہے ہیں۔ حکومت کے کمزور اور بے بس ہونے میں کوئی شک نہیں، موجودہ حکمراں نواز شریف کے رحم و کرم پر ہیں۔ ہر بات کے لیے نا اہل نواز شریف کی جانب دیکھتے ہیں۔ جب ملک کے کونے کونے میں آگ لگی ہوئی تھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور تمام درباری اسلام آباد کے بجائے لاہور میں جاتی امرا میں سر جھکائے نواز شریف کے احکامات کے منتظر تھے۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، سب لاہور میں تھے۔ اسلام آباد میں آگ اور خون کے دریا بہنے کے آثار نمایاں تھے۔ یہ نشانیہ ہیں کمزور حکومت کی، بے بس حکومت کی، جب ملک کا وزیر اعظم از خود یہ کہے کہ ’میرا وزیر اعظم تو نواز شریف ہے‘ تو وہ ملک کا نظام کیسے چلا سکے گا۔ وہ چھوٹے بڑے مسئلہ کے لیے دوڑتا ہے جاتی امرایا لندن۔ فیض آباد کا دھرنا اختتام کو پہنچا، حکومت بے بس اور مسکین صورت، فوج نے معاملے کو بغیر خون خرابے کے، صرف 7افراد کی ہلاکت، جی صرف سات کا لفط اس لیے استعمال کیا کہ آثار تو خون کی ندی بہنے کے تھے۔ دھرنے والوں کے لیے دعائے خیر، فوج کے لیے خراج تحسین اب رہ گئی عدلیہ تو عدلیہ کے محترم جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنے اور دھرنا بخیر خوبی ختم کرانے والوں کے لیے جو ریمارکس دئے۔ ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، اس لیے کہ عدالتی معاملہ ہے، ریمارکس میں کہا گیا ہے ’’فوج اپنی حدود میں رہے، جن فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے وہ ریٹائرڈ ہو کر سیاست کریں، آئین پاکستان کے تحت آرمی کیسے ثالثی بن سکتی ہے۔ کیا قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں، یہ تو لگ رہا ہے کہ سب ان کے کہنے پر ہوا، فوجی کیوں خواہ مخواہ ہیرو بنے پھرتے ہیں، آرمی اپنے آئین کردار میں رہے، مجھے معلوم ہے لاپتہ افراد کی لسٹ میں اب میں بھی آسکتا ہوں، میری جان کو بھی اب خطرہ ہے‘‘۔ اس پر کوئی تبصرہ، کوئی رائے نہیں دی جاسکتی۔ اس لیے کہ معاملہ عدالتی ہے۔

آخر میں دھرنے والوں کے لیے کالم نگار محمود فیاض کے کالم ’ہم گالیاں دینے والی قوم بن رہے ہیں‘ کے تعارفی نوٹ میں ’دانش‘ کی صبافہیم نے لکھا ’’ہمارے علماء کے گالیوں سے بھرے خطاب، اس پہ سبحان اللہ کہہ کر جھومتی عوام۔ ہمارے اخلاقی انحطاط کا نوحہ‘‘۔ دھرنے والے جو مقصد لے کر آئے تھے وہ انہوں نے حاصل کر لیا، کوئی شک نہیں گفتگو مناسب نہ تھی لیکن جو بیان اور بہتان وہ حکومت پر لگا رہے تھے وہ بہت ہی نازک اور حساس ہے۔ یہ ضرور ہوا کہ انہیں سات افراد کی قربانی دینا پڑی، زخمی کتنے ہیں یہ کچھ کہا نہیں جاسکتا، سو کے قریب پولیس والے بھی زخمی بتائے جاتے ہیں۔ نون لیگ نے اپنے ایک وزیر کی قربانی دی، درباریوں کی قربانی کوئی اہم مسئلہ نہیں، نون لیگ جس ڈگر پر چل رہی ہے لگتا ہے کہ ابھی اور بھی قربانیاں ہونا ہیں۔ یہ قربانی اس وقت دے دیتے جب میاں شہناز شریف نے بھرے مجمع میں کہا تھا کہ اس شخص کو کابینہ سے نکال باہر کیا جائے۔ گویا شہباز شریف زیادہ سیاسی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے تین باریاں لے کر بھی سیاست نہ سیکھی۔وہ خود عدالتوں کے ذریعہ ذلیل و خوار ہوئے اپنی پارٹی کو بھی رسوا کردیا۔ دھرنے والوں نے نواز شریف اور نون لیگ کو نشانے پررکھا، شریف خاندان تو پانا مالیکس، ڈان لیکس،اقامہ میں پہلے ہی ذلیل و خوار ہوچکے اور ہو رہے ہیں۔ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ نے نون لیگ کو رسوا کر دیا۔خدا کرے کہ دھرنے کے اختتامی ڈراپ سین سے نون لیگ کی قیادت نے کچھ سبق سیکھا لیا ہو ویسے امید کم ہی ہے۔ (29نومبر2017)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: