ڈاکٹر عزیز ابن الحسن کے مضمون ’’سراج منیر کا تصورِ تہذیب‘‘ پر ایک تبصرہ: عاصم بخشی 

0
  • 63
    Shares

ڈاکٹر صاحب کے مضمون ’’سراج منیر کا تصورِ تہذیب‘‘ کے تینوں حصے دانش پہ ایک ساتھ نظر نواز ہوئے۔ کیا خوب تسہیل و شرح کا حق ادا کیا۔ کاش ان کی شاگردی اختیار کرنے کے لئے ایک متوازی زندگی ہوتی اور متن فہمی اور خیالات کے سلجھاؤ کے گر سیکھے جاتے۔

میرے پاس مقالاتِ سراج منیر تو موجود ہیں لیکن فی الوقت ’’ملت اسلامیہ‘‘ موجود نہیں۔ چاہتا تو تھا کہ محترم ڈاکٹر صاحب کی شرح کو مرحوم سراج منیر کے متن سے ملا کر ذرا نظر ڈال لیتا لیکن یہ فوری طور پر ممکن نہیں۔ متن سامنے ہوتا تو سطورِ متن کو خط کشیدہ کرنے کا یوگا ذہن کے مزید دریچے کھولنے میں یقیناً مددگار ثابت ہوتا، لیکن اس مجبوری کے باعث فوری خیالات کی رَو کو روکنا مناسب نہیں۔


عزیز ابن الحسن کے مزکورہ مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں،  دوسرا حصہ یہاں  اور تیسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں۔


کچھ دن پہلے برادرم ابوبکر صدیق کے ’’اسلامی تہذیب‘‘ پر لکھے گئے ایک مضمون پر تبصرہ کیا تھا کہ اس موضوع پر سلیم احمد اور عسکری صاحب سے مکالمہ ممکن نہیں، لیکن سراج منیر سے بات چیت ممکن ہے۔ اس کی تین وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے کوئی باربط تھیوری پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ ان کی تھیوری کے ذریعے ان کے مشرقی و مغربی ماخذات تک امکانی رسائی ممکن ہے۔ اور تیسرا یہ کہ اگر کاہلی اور بےتوجہی آڑے نہ آئے تو اکیڈمک سطح پر ان کی تھیوری کو سماجیاتی تاریخ اور فلسفیانہ اعتبار سے غلط یا صحیح ثابت کیا جا سکتا ہے، اور بالفرض اگر کوئی محقق ان کے وجدانی و ایمانی مفروضوں اور الہامی متون کی بنیادوں پر ترجیحات کے لئے ایک نرم گوشہ رکھتا ہے تو ان کے مفروضوں کو مانتے ہوئے ان کی تھیوری کے سقم دور کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہو گا لیکن کم از کم وہ فلسفیانہ اشکالات پیدا نہیں ہوں گے جو مفروضوں سے نتائج تک کے سفر میں رکاوٹوں کا باعث بنتے ہیں۔

میں اپنے بساط بھر مطالعے کی حد تک دو سطحوں پر مرحوم سراج منیر سے شدید اختلاف اور ایک سطح پر نسبتاً کم شدید اختلاف رکھتا ہوں۔ مجھے اعتراف ہے کہ یہ تینوں سطحیں بس کچھ ڈھیلی ڈھالی بنت رکھتے ہوئے  فوری خیالات ہیں جو عزیز ابن الحسن صاحب کا مضمون پڑھ کر بطنِ تصور میں آئےمیرے ذاتی تجربے کی حد تک متن کی پہلی قرأت ایک نگفتہ احساس کی سطح سے اوپر نہیں لے جاتی۔ دوسری قرأت مجموعی خاکہ بمع چیدہ چیدہ تفصیلات فراہم کرتی ہے جو کبھی تو ذہن کی گرفت میں آتی ہیں اور کبھی پھسل جاتی ہیں۔ تیسری قرأت متن سے مکالمے کی ابتدا ء ہے جس کے بعد ایک وسیع تنقیدی جہان سامنے آتا ہے۔ اس تناظر میں یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ۔ میں نے سراج منیر کا مطالعہ ٹکڑوں میں  کیا ہے اور ان کے کچھ مضامین کا دو بار جب کہ زیادہ تر کاایک بار سے زیادہ نہیں کیا۔ بہرحال یہ اعترافات اس لحاظ سے کچھ خاص اہم نہیں کہ ہماری ذہنی اور جذباتی ساخت ہی یہ طے کرتی ہے کہ متن ہمیں کس حد تک اپنی طرف بلا رہا ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نہ صرف وجدانی و جذباتی سطح پر سراج منیری سانچے سے کافی مختلف ہوں بلکہ قدوقامت کے لحاظ سے شاید صرف بار بار مطالعے اور متن فہمی ہی کی کوشش کر سکتا ہوں۔ تنقید کی منزل میری دسترس میں نہیں۔ لہٰذا میں مذکورہ بالا تینوں سطحوں کی جانب بس سرسری اور نہایت غیررسمی پیرائے میں اشارے کرنے پر ہی اکتفا کروں گا اور اپنے اختلافات اپنے تک ہی رکھوں گا کیوں کہ چھوٹے منہ سے بڑی بات بھی منہ جتنی چھوٹی ہی ہو جاتی ہے۔

پہلی سطح تصورِ تہذیب کی ایک عینیت پسند تعریف کی ہے۔ پروٹسٹنٹ اخلاقیات اور سرمایہ دارانہ ادوار کے ظہور کے بعد ’تہذیب‘ کی جدید کیٹگری ایجاد ہوئی اور یہ تصور پیدا ہوا کہ ’تاریخ‘ کی ایک قدیم کیٹگری ’تہذیبی دھارے‘ میں بہتی چلی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو گمان قائم کیا گیا کہ پھر منطقی اعتبار سے اس دھارے کو قابو کرنا اور موڑنا ممکن ہے۔ اگلا سوال یہ تھا کہ یہ دھارا کون موڑ سکتا ہے؟ جواب یہ تھا کہ یہ دھارا وہ موڑ سکتا ہے جس کے ساتھ ’تقدیر‘ کی ایک اور قدیم کیٹگری ہو۔ پھر خیال آیا کہ چونکہ بہاؤ کافی آگے پہنچ چکا ہے اور تیز ہے لہٰذا یہ اتنا آسان نہیں۔ اس کے لئے charismatic movements برپا کرنا ضروری ہے۔ اس لفظ Charisma کے اشتقاقی تجزیے سے ایک تصوراتی جہانِ معنی تک پہنچا جا سکتا ہے۔ عطیۂ الہی؟ فیضِ ربانی؟ روحانی جذبہ؟ غرض لفظی امکانات تو بے شمار ہیں لیکن مدعا ایک ہی ہے۔ ان تمام امکانات میں ایک لفظ ’عشق‘ بھی ہے جو فلاطونیت پسند مزاج کو بہت بھاتا ہے۔ عینیت پسند تصورِ تہذیب اسے عقلیت پسندی اور ارسطاطالیسی مزاج کی خالص منطقی جہت سے متضاد رکھتا ہے کیوں کہ یہ عینیت پسند تھیوری کے مفروضوں کے منطقی ربط کے لئے لازم ہے۔ ارسطاطالیسی مزاج کی ایک دوسری جہت مطلق العنانیت کی وکیل بھی ہے لیکن وہ ایک الگ زاویہ ہے۔

دوسری سطح، اس عینیت پسند تصورِ تہذیب یا تہذیبی تھیوری کے سراج منیر کے ہاں اطلاق کی ہے۔ اس سطح پر دو باہم گنجلک ضمنی اشارے اہم ہیں۔اول تو اسپنگلر، ٹائن بی، سوروکن وغیرہ جیسے فلسفۂ تاریخ اور سماجیات کے مفکرین اس عینیت پسند اور مرکزیت پسند تصورِ تہذیب کو اس حد تک کھول دیتے ہیں کہ اپنی تھیوری پر تمام ممکنہ تنقیدی زاویوں کے جوابات بھی انہی کے مطالعے سے حاصل ہو جاتے ہیں، یعنی ان سے اتفاق یا اختلاف کسی واضح بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کا تصورِ تہذیب ایسی متعدد اور پھیلی ہوئی پرتیں رکھتا ہے جنہیں یوں علیحدہ کرنا ممکن ہے کہ ان پر تاریخی یا فکری تناظر میں تنقید ہوسکے، مثال کے طور پر اسپنگلر کی دی گئی ان گنت مثالوں سے اس کے نظریات پر تنقید یا ان کے متاثر کن پہلوؤں پر ایک فیصلہ کن نظر ڈالی جا سکتی ہے۔ ٹائن بی کے ہاں بھی اسلامی تہذیب، ہندوستانی تہذیب، چینی تہذیب اور مغربی تہذیب کا تصور ہے، لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سمجھوتے کہاں کئے جا رہے ہیں اور کس حد تک معقول ہیں۔ سراج منیر کے ہاں ایسا کرنا باآسانی ممکن نہیں جس کی بظاہر وجہ ان کی علمی یا فکری مجبوری نہیں بلکہ برصغیر میں علمی وسائل کی کمی اور دوسری مجبوریاں ہیں۔ عین ممکن ہے کہ  وسائل میسر ہوتے تو سراج منیر اسلامی تہذیب و ثقافت پر ایک عظیم کام کر جاتے۔ فی الوقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تھیوری آدھی ادھوری ہے اور مرکزیت پسند سرا تو ہاتھ میں آتا ہے لیکن اس کے بعد متعدد خلاؤں کو زبردستی پُر کیا گیا ہے۔ ایسا ان کئی تھیوریز میں ہوتا ہے جو تصوراتی خاکے سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ سو شاید یہ کہنا بھی نامناسب نہیں ہو گا کہ سراج منیر کی selective bias اتنی زیادہ ہے کہ انہیں علمی طور پر appreciate کرنے کے لئے لازماً ان سے مزاجاً متفق ہونا ضروری ہے۔

روایتی الہامی یا عرفِ عام میں مذہبی فکر ان مسائل کا شکار نہیں ہوتی کیوں کہ اس کی مرکزیت پسندی اس حد تک لچکدار ہوتی ہے کہ وہ مطلق العنان نظریہ نہیں بن پاتی۔ یہ مرکزیت پسندی متن کے لئے وہ رومانویت نہیں رکھتی جو تجدد کے ساتھ خاص ہے۔

دوم، عینیت پسندوں کے ہاں جسم و روح کی دوئی میں تہذیب کا تصور واضح طور پر روح تک محدود کیا جا رہا ہے اور تصورِ وجود میں جسم کبھی تو ایک بیماری اور کبھی ایک فضلہ ہے۔ فلاطونیت پسندی بالتعریف ملفوظ کرنے کے عمل، خالص منطقی اطلاقات اور جسم کی شدید ضرورتوں سے بھاگ کر عالمِ امثال میں پناہ لیتی ہے۔ اسپنگلر کے ہاں تو مغربی تہذیب کا زوال خود تہذیب کے تصور سے مشروط ہے کیوں کہ وہ ثقافت کو ایک ارفع کیٹگری مانتا ہے جو زوال اور جمود کے بعد تہذیب بن جاتی ہے۔ اگر کسی مارکسی تصورِ تہذیب کو دریافت کیا جا سکتا ہو تو وہ بعینہٖ اس کے متضاد ہو گا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سراج منیر مارکسی تصورِ تہذیب و تاریخ کو عینیت پسندی کی تیز اور charismatic تلوار سے لڑا رہے ہیں لیکن فتح ہوتے ہی جیت کا سہرا اسلامی تہذیب کو پہنا دینا چاہتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک نظریاتی مسئلہ ہے جو بشمول مارکسیت ان تمام نظریات سے وابستہ ہے جو تاریخ کے دھارے پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ میری رائے میں قبضے کی یہ کشش کسی بھی علمی تھیوری کو سیاسی نظریے کے تابع کر دیتی ہے۔ نظریاتی نابینا پن نظروں سے بہت کچھ اوجھل کر دیتا ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ٹائن بی تک ہٹلر کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گیا تھا۔ عینیت پسندوں کے ان جھانسوں پر کارل پاپر کا کام حرفِ آخر ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ عینیت پسندی کو ہمیشہ ہٹلر جیسے وکلاء میسر آ جاتے ہیں۔ اسی لئے سراج منیر بھی کسی ضیاء الحق جیسے مردِ مومن کی تلاش میں معلوم ہوتے ہیں۔ وہ یقیناً انسان دوست ہیں، لیکن عینیت پسندوں کی انسان دوستی نظریے کے اس طرح تابع ہوتی ہے کہ انسان کبھی تصوراتی اقلیم میں خدا ( دوسرے لفظوں میں کونیاتی مرکز یا تصورِ حقیقت) کی جگہ نہیں لے سکتا۔ یہ فلاطونیت پسندوں کی لاعلاج (اگر اسے مرض مانا جائے) جبلی رومانویت ہے۔ عقل صرف ایک کنیز کے طور پر انہیں یہ باور کرواتی ہے کہ وہ تاریخ کے دھارے میں بہنے والے ایک ایسی لہر ہیں جو روحانی جذبے سے سرشار پورے دھارے کا رخ تبدیل کر سکتی ہے۔

نسبتاً کم شدید اختلاف والی تیسری سطح مذہبیات اور عقلیات کے باہم تال میل سے عبارت ہے۔ جب ہم تصورِ تہذیب کی سی نہایت پھیلی ہوئی بحث کے ساتھ الہامی متون اور مذہبی آثار کو بھی شامل کرتے ہیں تو ہمارا طرزِ استدلال لازمی طور پر متعدد پیراڈائم قائم کرتا ہے۔ مرکزیت پسند فکر بالتعریف ان تمام پیراڈائم کے اوپر ایک مرکزی پیراڈائم کی چھتری نصب کر کے ہی آگے بڑھتی ہے۔ اگر آپ اس مرکزی پیراڈائم کی چھتری ہٹاتے ہیں تو نیچے موجود ننھی چھتریاں تیز انتقادی روشنی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ نتیجتاً ایک ایسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے جس سے آپ کی مکمل فکر کے لئے لاینحل مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ بطور قاری یہ ڈر ہمیشہ رہتا ہے کہ کلاس تو سماجیات، فلسفے اور تاریخ کی ہے لیکن باہر ایک مولوی صاحب کھڑے ہیں جن کی بات مانے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ کشمکش طرزِ استدلال یا عقلی پیراڈائم کی کشمکش ہے۔ میری رائے میں logocentric traditions میں کھڑے عینیت پسند فکری رویے تاحال اس جدید مسئلے کا حل کرنے کے قابل نہیں جو پیراڈائم کی کشمکش سے تعلق رکھتا ہے۔ حقیقت پسند مکاتبِ فکر بہرحال تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر مخصوص paradigmatic atomism کو مان کر ہی آگے بڑھتے ہیں۔ روایتی الہامی یا عرفِ عام میں مذہبی فکر ان مسائل کا شکار نہیں ہوتی کیوں کہ اس کی مرکزیت پسندی اس حد تک لچکدار ہوتی ہے کہ وہ مطلق العنان نظریہ نہیں بن پاتی۔ یہ مرکزیت پسندی متن کے لئے وہ رومانویت نہیں رکھتی جو تجدد کے ساتھ خاص ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ تجدد نظریۂ تاریخ و تہذیب میں ہے یا خالص مذہبیات میں۔ طبقاتِ متجددین میں باہمی کشمکش سے قطع نظر روایت بمقابلہ تجدد کی بحث میں روایت جب جب الہامی متون کی شرح پر مائل ہو گی وہ شرح الہامی متون میں تعبیری روایت کے حاملین کے ہاں ’’جدید‘‘ مانی جائے کیوں کہ وہاں تجدد بس روایتی دھارے کے اندر ہی قابلِ قبول ہو گا۔ اس معاملے میں سراج منیر ایسی کئی تعبیری کشتیوں کے سوار معلوم ہوتے ہیں جن کی تصوراتی منزل تو ایک ہو سکتی ہے لیکن ملاحوں کے جھگڑے سلجھانے کا کوئی عملیت پسندی طریقہ ممکن نظر نہیں آتا۔ کچھ وقتی سمجھوتے یقیناً ہو سکتے ہیں، لیکن جوں جوں سفر بڑھے گا، تھیوری کا منطقی ربط قائم رکھنے اور اسے داخلی تضادات سے بچانے کی خاطر انہیں ترک کرنا لازم آئے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: