یونیورسٹی کلچر اور لڑکے لڑکیوں کی “پاکیزہ” دوستیاں: ایچ ایم زبیر

1
  • 102
    Shares

معاصر ویب گاہ پر ایک تحریر “میڈم، مجھے لڑکے پسند ہیں”شائع ہوئی کہ جس کے جواب میں راقم کی ایک تحریر “سر، مجھے لڑکے کمینے لگتے ہیں” کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے تحریم عظیم نے “میرے بہت سے لڑکے دوست ہیں” کے عنوان سے ایک تحریر شائع کی۔

تحریم عظیم بلکہ ان کے علاوہ اس معاشرے کے ایک بڑے طبقے کا کہنا یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کی باہمی دوستی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے ان دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے، اسٹڈی میں اور زندگی کے مختلف مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہیں۔ اس طبقے کا کہنا یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی میں “محض دوستی” (just friendship) ممکن ہے کہ دوستی کو مرد اور عورت کی تمیز سے بالاتر ہونا چاہیے۔

محض دوستی کو اصطلاحا افلاطونی دوستی (platonic friendship) بھی کہتے ہیں یعنی ایسی دوستی کہ جس میں لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے رومانس اور سیکس کی خواہش نہ رکھتے ہوں۔ اس دوستی کے وجود کے بارے سائیکالوجسٹس کا اختلاف ہے جبکہ ماڈرن ریسرچ اسٹڈیز یہ بتلاتی ہیں کہ یہ ایک خواہش ہی ہے اور ایسا حقیقت میں ممکن نہیں ہے۔

2000ء میں جرنل آف سوشل اینڈ پرسنل ریلیشن شپس (Journal of Social and Personal Relationships) میں شائع شدہ ایک ریسرچ کے مطابق 300 کالج اسٹوڈنٹس سے ایک سروے کیا گیا کہ جس کے مطابق ان میں سے 67 فی صد کی فرینڈ شپ، سیکسچوئل ریلیشن شپ میں تبدیل ہو چکی تھی۔

ایک امریکی یونیورسٹی، ونکونسین-ایو کلیئر (The University of Wisconsin–Eau Claire) نے 400 لوگوں کی دوستی کو تحقیق کا موضوع بنایا کہ جس کا نتیجہ یہ شائع کیا کہ ان میں ایٹریکشن بہت عام تھی اور وہ محض دوستی نہیں تھی۔ اس ریسرچ کا خلاصہ یہ تھا کہ دونوں کی طرف سے نہ سہی لیکن ایک کی طرف سے ایٹریکشن ضرور موجود ہوتی ہے، چاہے کم لیول کی ہو اور یہ عموما مرد کی طرف سے ہوتی ہے۔

ایک اور امریکی یونیورسٹی، الاباما (The University of Alabama)  نے 418 اسٹوڈنٹس پر ریسرچ کی اور یہ نتائج پبلش کیے کہ اگرچہ اکثریت اس بارے پر امید ہے کہ “محض دوستی” کا وجود ممکن ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ 63 فی صد کا کہنا یہ بھی ہے کہ وہ نہ نظر آنے والی محبت (some kind of secret romantic interest)  کا شکار ہوتے ہیں۔ یعنی وہ کسی ذہنی لیول پر جا کر ایک دوسرے میں ایٹریکشن، رومانس اور سیکسچوئل ڈیزائر محسوس کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اس کو ماننے یا اظہار پر تیار نہیں ہوتے۔

بہرحال ماڈرن سائیکالوجی کیا کہتی ہیں؟ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن ہمارا مذہب اس بارے یہی رہنمائی دیتا ہے کہ مرد وزن کی آپس کی دوستیاں درست نہیں ہیں۔ صحیحین کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ عورتیں ہیں۔ اب یہاں عورتوں سے مراد ماں، بہن، بیوی اور بیٹی نہیں ہے۔ ظاہری بات ہے کہ اس سے مراد غیر محرم عورتیں ہیں۔ اور یہ حدیث بیوی کو بہت اچھی طرح سمجھ آتی ہے کہ غیر محرم عورتیں اس کے خاوند کے لیے کیسے فتنہ بن سکتی ہیں۔

ایک اور صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرد اور عورت جب تنہاء ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ تو “محض دوستی” کیا چیز ہے بھئی؟ ریلیشن شپ ایکسپرٹ اور بیسٹ سیلر اپیرل میسینی (April Masini) کا کہنا ہے کہ “محض دوستی” کا وجود ممکن نہیں ہے۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس لمحے میں “محض دوستی” سے گزر رہے ہیں تو ذرا انتظار کریں، کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ کو احساس ہو جائے گا کہ یہ آپ کی غلط فہمی تھی۔

ایڈیٹس یہ سمجھتے ہیں کہ “محض دوستی” ممکن ہے، لڑکے اور لڑکی کا باہمی تعلق بڑے اخلاص اور خیر خواہی پر مبنی ہے اور “سیکس” تو مولوی کے ذہن میں ہے جو انہیں اس دوستی سے ڈراتا ہے۔ اگر “سیکس” مولوی کے ذہن میں ہے تو “فرائیڈ” اور “منٹو” مدرسے کی پیداوار ہیں کیا؟ بیسویں صدی میں سائٹ کیا جانے دوسرا بڑا سوشل سائنٹسٹ اور سائیکالوجسٹ “فرائیڈ” ہے کہ جس کا کہنا ہے کہ ماں بیٹے کے پاس اور باپ بیٹی کے پاس بیٹھے تو اس میں بھی سیکسچوئل ڈیزائر موجود ہوتی ہے۔ تو یہ سیکس کیا مذہب کے ذہن پر سوار ہے یا آپ کی ماڈرن سائیکالوجی کی بنیادوں پر؟

۔۔۔۔لڑکیوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ان کا شوہر ساری عمر شک میں گزار دے گا۔ “غیرت” انہیں مذہب نے نہیں دی، یہ  ان کے جینز میں ہے۔ یہ مذہب کو چھوڑنے کے بعد بھی تمہارے معاملے میں اتنے ہی غیرت مند رہیں گے۔

اگر لڑکے اور لڑکی کی دوستی اتنی ہی پاکیزہ ہوتی ہے تو یہ سائبر کرائمز کس بلاء کا نام ہے اور اتنی بڑی تعداد میں یہ کہاں سے ٹپک پڑے کہ آپ کو قانون سازی کی ضرورت پڑ گئی؟ یہ یونیورسٹیز میں ڈیٹنگ کلچر کسے کہتے ہیں اور پیئرز جھاڑیوں اور درختوں کے پیچھے چھپ کر کون سی اسائنمنٹس حل کرنا چاہتے ہیں؟ یہ فریںڈ شپ کے نتیجے میں کورٹ میرج کوئی مریخ پر ہو رہی ہے کیا؟ اگر یہ دوستی اسٹڈی میں ہیلپ فل ہے تو سی۔جی۔پی۔اے (CGPA) ان اسٹوڈنٹس کا کیوں کم آ رہا ہے کہ جن کی کراس جینڈر دوستیاں زیادہ ہیں؟

لبرل طبقے کے پاس اپنے موقف کے حق میں عجیب عجیب فضول قسم کے منطقی دلائل ہے۔ ان کی ماڈرن منطق کے مطابق تو چنگیز خان بھی اللہ کی نعمت سے کم نہ تھا کہ اگر اتنے انسان قتل نہ کرتا تو دنیا کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہوتی۔ لبرل لکھاریوں کا المیہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس کہنے کو کوئی عقلی و منطقی بات نہیں ہے۔ ان کے پاس کہنے کو بہت سی منطقی اور عقلی باتیں ایسی ہی ہیں کہ جیسے “دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔”

اور قابل افسوس صورت حال یہ ہے کہ اب یونیورسٹی ٹرپس کے نام پر یہ مخلوط معاشرت اتنی عام ہو چکی ہے کہ مذہبی گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے بھی ان میں شمولیت ایک عام سی بات ہو چکی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ نقاب میں گروپ فوٹو کھچوا لیں گی۔ لیکن ان لڑکیوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ چیز ان کی شادی کے بعد کی زندگی کے لیے کتنی نقصان دہ ہے کہ ان کا شوہر ساری عمر شک میں گزار دے گا۔ “غیرت” انہیں مذہب نے نہیں دی، یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ غیرت ان کے جینز میں ہے۔ یہ مذہب کو چھوڑنے کے بعد بھی تمہارے معاملے میں اتنے ہی غیرت مند رہیں گے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ارسلان اصغر بھٹی on

    بلکل درست نشاندہی کی آپ نے لیکن ان سب کو سمجھے کون۔ مخلوط نظام تعلیم کی اولاًکوئی گنجائش ہونا ہی نہیں چاہیے۔ میری اپنی تحقیق ہے کہ یونیورسٹیز کی مخلوط تعلیم میں اگر کلاس میں 25 لڑکے اور 15 لڑکیاں موجود ہیں تو اچھا رزلٹ تعلیم میں 4 لڑکے اور 1 لڑکی دیتی ہے باقی کوئی حسرت میں رہ جاتا ہے اور کوئی لڑکی پٹا کر تعلیم کو کھڈے لائن لگا بیٹھتا ہے۔ جو پہلے سے ذہین ہوتے ہیں انٹرمیڈیٹ تک وہ نکمے بمشکل پاس ہی ہوتے ہیں۔ اگر علیحدہ نظام تعلیم آ جائے تو میرا خیال ہے بہترین تعلیم و تربیت دی جا سکتی ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: