احوبہ ——– جیلانی بی اے

0
  • 118
    Shares

جیلانی بی اے مقصدی ادب کے ان روشن ناموں میں سے ایک تھے جنہوں نے بہت کم مگر خوبصورت لکھا۔ احوبہ اور بعلم بن بعور جیسے مقصدی اور کسی حد تک علامتی افسانوں میں وہ فن اور مقصد کا تال میل کامیابی سے بناتے ہیں۔ اپنی طرز کا فکشن لکھنے والوں میں غالبا وہ ندرت زبان و فکر میں سب سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔
ان کا افسانہ “احوبہ” اسلام اور یہودیت کے درمیان روز اول سے چھڑی کشمکش کے پس منظر میں لکھ گئی ایک خوبصورت تحریر ہے جسے ربیع الاول کی مناسبت سے قارئین کے لیے حصہ وار پیش کیا جا رہا ہے۔


(1)
یہ لوگ کہاں بھاگے جا رہے ہیں ؟
جبکہ سورج آسمان کے وسط سے نیچے ڈھلک رہا ہے اور فرات کی روپہلی لہروں پر ڈھونگے اور مچھوے نرم رو نسیم کی مانند تیر رہے ہیں۔ بابل کی گلیوں سے روشن چہروں والے لوگ باہر نکل رہے ہیں اور اس کی شاہراہوں کی خوش آہنگ آبادی اپنے پیچھے ایک سناٹا بکھیرتی چلی جا رہی ہے۔ عورتیں فرات کے گونگے اور دریائی چاندی کے زیور پہنے کھلکھلاتی جا رہی ہیں۔ نوجوانان بابل ریشمی عبائیں اوڑھے ان کی طرف کنکھیوں سے دیکھ رہے ہیں۔ سب ایک ہی حرکت سے جا رہے ہیں، گلیوں سے باہر، شاہراہوں سے باہر، باہر فرات کے کھلے میدان میں، جہاں بابل کا سالانہ جشن اپنا خراج مسرت ان سے وصول کرے گا، اس دن عورت مرد کا انتخاب کرے گی اور مرد عورت کا، چاندی کا ایک سکہ ہی کافی ہو گا اور مطلوب طالب کی جھولی میں ہو گا۔ دریائی سرکنڈے کی بانسری کے نغمے فضا کے دوش پر تیر رہے ہیں۔

” لے لو شب فردوس کے پھول، اگر تمہاری محبوبہ فرقت میں روتی اور ہنگام وصل ہنستی ہے، تو نجم شب اس کے لیے مناسب ہے، اور اگر وہ تمہارے بازووں میں آنسووں کے موتی پروتی ہے توہلال قلب اس کو بحال کر دے گا۔ ”

بوڑھے پھول فروش نے ایک نوجوان کو دیکھا جو ایک نازنین کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا، وہ جھپٹ کر اس کی طرف بڑھا: “آنکھوں کی ٹھنڈک جوان، اگر تمہاری محبوبہ ان دونوں صفات سے عاری ہے، تو فغان سحر لے لو۔ ”

بوڑھے کی خوشامد آمیز مسکراہٹ اس کی آنکھوں تک پھیل گئی۔ نوجوان نے زمین پر تھوکا، اور اس کی طرف دیکھے بغیر چل دیا۔

کھلے میدان میں انسانوں کا بوقلموں ہجوم متحرک تھا۔ سورج دیوتا کی قربان گاہ کی طرف اچھوتے بیل ہانکے جا رہے تھےجن کے سفید چمڑے سورج کی طلائی تابش سے سرخ ہو رہے تھے۔ اورقربان گاہ پر سورج دیوتا اس خون کو غضب کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جو نرم گردنوں کی نسیجوں سے رستے رستے ایک ندی کی شکل میں بہنے لگا تھا۔ اس کا چہرہ ابھی تک تمتما رہا تھا۔ قربان گاہ کے پیچھے بابلی راہب لمبی لمبی عبائیں پہنے اپنی جھولیوں میں دریائی پھولوں کے ڈھیر لیے مقدس راگ گا رہے تھے۔ ان کی طویل گھنگھریالی لٹیں انکے شانوں پر سانپوں کی بل کھا رہی تھیں اور لمبی ڈاڑھیاں فرات کی لہروں کی طرح لہرا رہی تھیں۔ انکے سر مذہبی جنون اور سرگشتگی سے بیدمجنون کی طرح کانپ رہے تھے۔ اور پسینے کی پتلی لکیریں ان کی پیشانیوں سے پہاڑی چشموں کی طرح پھوٹ رہی تھیں۔ ان کی لرزتی ہوئی ہم آہنگی فضا میں مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح پھیل رہی تھی۔

ڈونگے اور مچھوے پانی پر دوشیزہ کی آوارہ آنکھوں کی طرح تیر رہے تھے اور بابل کے میناروں کے سائے خاکئ زمین کو چوم رہے تھے۔
” مجھ کو چاند دیوتا کی قسم، میں اپنا پہلا بچہ اس کی نظر کر دوں، اگر وہ آہو چشم مجھے مل جائے۔ ” ایک گھنی مونچھوں والا اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا۔
” صرف ایک شب کے عوض میں اس کے گیسووں کے ڈنگ سے اپنی جان دینے کو تیار ہوں۔ ایک شب کے عوض، شام کی پہلی سیاہ دھاری سے سحر کی پہلی دھاری تک”۔ دوسرے نے سرد آہ بھر کر کہا۔

ہجوم شہر سے مکڑیوں کی طرح نکل رہا تھا اور باہر کی طرف جا رہا تھا، ہجوم پہاڑیوں کے بل دار راستوں سے چیونٹیوں کی طرح اتر رہا تھا اور باہر کی طرف جا رہا تھا۔ ہجوم مرغزاروں اور وادیوں سے تیتریوں کی طرح اڑتا آ رہا تھا اور باہر کی طرف جا رہا تھا۔ جہاں فرات کا دیوتا عقیدت کے پھول قبول کر رہا تھا، پانی کے کنارے امیدوں بھرے ہاتھ اپنی بھینٹیں لیے پھیلھ ہوئے تھے۔ پانی کی لہر جونہی آتی، ہاتھوں سے پھول چھوٹ جاتے اور دیوتا منہ پھاڑ کر انہیں نگل لیتا، یکایک ایک دردناک چیخ اٹھی اور ایک عورت سسکیاں بھرتی ہوئی پیچھے ہٹ گئی۔ اس کے پھول کیچڑ میں دھنسے رہ گئے اور موج ایک کف آلود سرسراہٹ کے ساتھ لوٹ گئی۔
“ابھاگنی!”
عورت کے شانے پر ایک مضبوط ہاتھ پڑا، اس نے آنسووں سے لبریز آنکھیں اٹھا کر دیکھا، اس کے پیچھے فرات دیوتا کا راہب کھڑا تھا اس کا سر منڈا ہوا تھا اور اس کی چاند دھوپ میں چمک رہی تھی۔
” تم بیوہ ہو” ؟
“ہاں مقدس باپ “۔ اس نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا۔
” تم معبد میں کتنے برس رہ چکی ہو؟”
“دو برس”
“تمہارا وہی ٹھکانہ ہے ”
عورت نے پلو میں منہ چھپا لیا، لیکن اس کی سسکیاں اسکے بھنچے ہوئے ہونٹوں کھسک گئیں، اس کا چہرہ گلاب سے لالہ بن گیا، اس کا جسم فرات و دجلہ کے مقدس پانی سے دھلا ہوا تھا۔ جونہی وہ چلی، راہب کی آنکھیں چمک اٹھیں، گویا ہوس کی چنگاری سے۔

سورج پہاڑیوں کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ اور بابل کے میناروں کے سائے فرات کے کناروں کو چھوڑ رہے تھے۔ میدان میں مشعلیں رات کی لاتعداد آنکھوں کی طرح روشن ہو رہی تھیں۔

اور انتخاب کی منتظر عورتیں کٹہروں سے لگی کھڑی تھیں، قہقہے اور گیت فضا میں تھرتھری پیدا کر رہے تھے، بابل مکمل سناٹے میں کھڑا تحیر سے اس میدان کو دیکھ رہا تھا۔ جہاں اس کا سارا شور منتقل ہو چکا تھا۔

صرف ایک جواں سال لڑکا تھا۔ جو مکانوں کے سایوں کی آڑ لیتا ہوا اس کی تنہا و سنسان گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ وہ معبد عظیم کے سامنے رک گیا۔ جس کے اندر صد طلائی بتوں کے سامنے مقدس آگ کے شعلے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ اور اس کے ستونوں کے درمیان عنبر و عبیر اوع خوشبودار عود کی لپٹیں چکر لگا رہی تھیں۔ وہ بے دھڑک اس بت کے سامنے جا کھڑا ہوا، جو سب بتوں کے وسط میں تھا اور اپنی ہیئت و حجم سے ان کا سردار معلوم ہو رہا تھا، اس نے لڑکے کی اس جسارت آمیز گستاخی پر اسے اپنی سرخ زمردی آنکھوں سے گھورا۔ لڑکا بدستور بے خوف اس کی اور اسکے ننھے منے چیلے دیوتاوں کی طرف دیکھتا رہا، جن کے طلائی جسموں پر مقدس شعلوں کے سائے زیر وبم کھیل رہے تھے۔

” تم مجھے کائنات اور اس کے اندر زندگی کی صداقت سے آگاہ کر سکتے ہو؟ یہ سب راز کیا ہے؟”
بڑے دیوتا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، اس سے پہلے کبھی کسی نے اس سے ایسا سوال نہ کیا تھا، ہمیشہ لوگ آتے، سر جھکاتے، انکی حمد و ثنا کرتے، اور گڑگڑا کر اس کے سامنے اپنی پوشیدہ آرزوئیں ظاہر کر کے چل دیتے، کبھی کسی نے آنکھ اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں کی تھی، پھر یہ کون تھا جو اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے یہ سوال پوچھ رہا تھا، اور اس کے علم کی گہرائی جانچ رہا تھا، بڑے دیوتا کی انکھوں کی سرخی شعلوں کی مانند گہری اور چمکدار ہو گئی۔

” تم مجھے انسانی خلقت کا راز بتا سکتے ہو؟”

تہوار کے قہقہے پانی کی موجوں کی طرح اچھلے، اب اس کے دوسرے دیوتاوں کے کان بھی کھڑے ہو گئے، یہ کس طرح ممکن تھا، کہ ایک گستاخ اور منہ پھٹ لڑکا ان سے ایسے سوالات پوچھے جن کا خود انہیں سان و گمان نہ ہوا تھا۔

” تم مجھے بتاو گے یا نہیں ؟” لڑکے نے تلخ لہجہ میں پوچھا : ” کتنے عرصہ سے میرا دل بے قرار ہے کہ کیں معلوم کروں یہ سب شور کیسا ہے ؟ میری آنکھیں گھومتی ہیں اور اپنے گرد رنگوں کی قوس قزح اور صورتوں کی بوقلمونی دیکھتی ہیں، میرے کان صوت کے تال و تناسب سے بھر جاتے ہیں، وہ کیا ہے جس سے ان میں شیرینی اور تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ عالم آہنگ و رنگ ! مجھ کو بتاو یہ کیا ہے، کہ جب میں آنکھیں موند لیتا ہوں تو میرے اندر کی دنیا ہفت رنگ کی کل کی طرح کھل جاتی ہے، جس سے نغموں کے سوتے پھوٹ بہتے ہیں اور رنگ برنگ کے پھول بہار کا دامن تھامے نمودار ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب اس طرف سے بھی توجہ ہٹتی ہے تو کیا ہے ؟ کچھ بھی نہیں رہتا ؛کیا یہ سب کھیل کسی کی کامل توجہ کا نتیجہ ہے، یا یہ ایک وسیع مرض کا بوس ہے، جو سب جانداروں کو احاطہ کیے ہوئے ہے ؟ میں نے ستاروں کی قندیلوں کو گم ہوتے دیکھا، سورج کی طشت کو افق میں ڈوبتے دیکھا اور چاند کے نقرئی حسن کو سوج کی قہربانی کے سامنے فق ہوتے دیکھا، کیا یہ سب جلالی و جمالی کی آنکھ مچولی ہے ؟ مجھ کو بتاو یہ سب کچھ کیا ہے ؟ میں تم سے پوچھ رہا ہوں جس کے سامنے بابل کے ان گنت لوگ اپنی آرزوں کو دل کے طشت میں لے کر آتے ہیں، میری مشکل بھی حل کر دو۔ ”
بڑے دیوتا کی زمردی آنکھوں میں شعلے کانپ رہے تھے۔

ننھےمنے دیوتا ساکن کھڑے اپنے سرخیل کی بے بسی اور لڑکے کی جسارت پر متعجب ہو رہے تھے، آگ میں ایک عجیب قسم کی بے چین سرسراہٹ پیدا ہو رہی تھی۔ اس کے شعلے لاتعداد اژدہوں کی زبانوں کی طرح لپک رہے تھے۔
” اگر تم میرے سوالات کا جواب نہ دو گے، تو میں تم سب کا سر پھوڑ دوں گا ” یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی آستین سے ایک کلہاڑا نکالا، جس کا پھل آگ کی روشنی میں چمک اٹھا۔
باہر سے قہقہوں کا شور اٹھا، بڑے دیوتا کی آنکھیں خوف سے بے نور ہو گئیں اور ننھے منے دیوتاوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

“کوئی جواب نہیں تو پھر میں تم سب سے باغی ہوں، سن لو، میں تم سب سے اور تمہارے بنائے ہوئے جہاں سے باغی ہوں، ————— میں تم سب سے اور تمہارے بنائے ہوئے جہاں سے باغی ہوں۔ ”
یہ کہہ کر اس نے ایک سرے سے دیوتاوں کی گردنیں اتارنا شروع کر دیں۔

“انسانی زندگی کو گمراہ کرنے سے بہتر ہے کہ تم نابود ہی ہو جاو، اگر تم۔ میں بدلے کی جسارت ہے تو تم اپنی تمام قوتیں لے آو اور مجھ کو جو سزا دے سکتے ہو، دو ———ایک ——–دو ———تین ———-چار——”
سوائے بڑے دیوتا کے، جس کی آنکھوں کی چمک بالکل زائل ہو چکی تھی۔ اس نے سب کے سر اتار دئیے۔ پھر اس نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا :
” تم ہی اس کے ذمہ دار ہو، چونکہ تم میرے سوالوں کا جواب نہ دے سکے اس لیے مجھ کو یہ کام کرنا پڑا۔ ”
یہ کہتے ہوئے اس نے اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا۔

صبح کے وقت لڑکا پکڑا گیا، ایک جزام زدہ بڑھیا، جو جشن بابل میں شریک نہ ہو سکی تھی، نے اس کو معبد سے نکلتے دیکھ لیا تھا۔ بابل میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی، ہر آنکھ غضب سے شرر بار ہو رہی تھی۔ انکے خداوں کی بے حرمتی ؟ آسمان کیوں نہ ٹوٹ پڑا، زمین کیوں نہ پھٹ گئی، یک بیک شہر تلوارعں کی چمک اور بھالوں کی نوکدارانیوں دے بھر گیا، جوش وغضب کے نعرے لگنے لگے۔
بڑے راہب نے غضب ناک نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا :
“لڑکے ! تم نے یہ کیا کام کیا ہے ؟”
ہیکل کے اندر جھوٹے بتوں کے سر ٹوٹے ہوئے ناریلوں کی طرح بکھرے پڑے تھے۔
” نہیں یہ تو بڑے دیوتا کا کام ہے۔ اس سے پوچھو، جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے ”
” کبھی بت بھی بول سکتے ہیں؟” مقدس راہب نے جھنجھلا کر کہا۔
لڑکے نے طنز آمیز نگاہوں سے بوڑھے راہب کی طرف دیکھا۔ وہ وفور جذبات سے اپنے ہونٹ چبا رہا تھا۔ ” پھر تم انہیں پوجتے کیوں ہو، اگر وہ تمہارے سوالوں کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ؟”
راہب کی زبان بتوں کی مانند گنگ ہو گئی۔

وہ بھی اس کے سوالوں کا جواب نہ دے سکا۔ غضبناک ہجوم یہ گستاخانہ رویہ برداشت نہ کر سکتا تھا اور انھوں نے اسے آگ میں زندہ پھینک دیا۔ لیکن وہ بھی راہب اور اس کے خداوں کی طرح بے بس ہو کر ٹھنڈی ہو گئی، اس کے بعد اس لڑکے نے جس کا نام آئندہ نسلوں نے “ابراہیم” سنا۔ اپنے خدا کا ایک الگ مسکن وادئ ذی زرع میں لا بنایا، کیونکہ اس کا خدا آبادیوں سے زیادہ ویرانوں میں بستا تھا۔ یہ معبد ایک سادہ اور کچا مکان تھا جس کی چار دیواری قد آدم سے بڑی نہ تھی، وہاں عود و عبیر اور لوبان نہ سلگتے تھے، کیونکہ اس کا خدا تکلف پسند نہ تھا، وہاں کوئی رسم و آئین نہ تھا، وہاں کسی قربان گاہ اور بھینٹ کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ اس کا خدا صرف دلوں کی نیاز قبول کرتا تھا۔

جب عالم انسانی کا وہ مرکز تیار ہو رہا تھا، ابراہیم معمار کا کام کر رہا تھا اور اسماعیل مزدور کا۔ باپ بنیاد چن رہا تھا بیٹا اس کے لیے مواد تیار کر رہا تھا، جب دیواریں مکمل ہو چکیں تو باپ نے مسکرا کر بیٹے کی طرف دیکھا، اس کا نور اس کے سینے میں جاگزیں ہوا، پھر اسحاق میں، پھر یعقوب و یوسف میں، پھر وہ کوہ سینا پر چمکا، اور اس کے بعد اسی نور کی مشعل لیے ایک واعظ بے نوا بیت المقدس کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔
اس کے بعد یہ نور کدھر جائیگا ؟

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: