مریض : سمیع اللہ خان

0

مرض ایک ہی تھا اور مریض بھی، ہاں البتہ مرض کے عنوان بدلتے رہے۔ ابتدا ء میں وہ سادہ بخار ہی سے کام چلاتا رہا، دراصل اِس طرف سے بیماری کا بتایا جانا اور اُ س طرف سے بیماری کی اطلاع پر ردعمل وہ کسوٹی تھی، جس پر وہ اپنی محبت کو پرکھ رہا تھا۔

’’ کیوں نہیں رکھتے خود کا خیال؟ ‘‘ یہ سوال یا دوسرے لفظوں میں یہ پیار بھری جھاڑ, اس کے پر خلوص جھوٹ کا حاصل ٹھیرتی۔ اس رات وہ پر سکون نیند سوتا۔ گویا اس کے پیار کو سند مل جاتی۔ چند دن اسی سر شاری میں گذرتے، کہ پھر محبت کو آزمائش کی بھٹی میں ڈال کر کندن بنانے کا خیال ستانے لگتا۔

’’آج سینے میں شدید درد سا اٹھا ہے اور رات کو مجھے دوسرے شہر بھی جانا ہے ایک ضروری کام کے سلسلے میں‘‘ آزمائش کی بھٹی پہلے ہی بخار سے تپ رہی تھی، کہ اس کو مزید بھڑکانے کے لیے درد کا ایندھن بھی فراہم کیا گیا۔ ’’آخر آپ کب بڑے ہونگے؟ کیوں نہیں رکھتے خود کا خیال؟ کروں کیا آپ کا؟ کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی اس حالت میں‘‘ ردعمل، نے پیار کو پھر سرخرو کردیا۔ ادھر پیار سرخرو ہوا، اِدھر محبوب پر پیار آیا، سو تشویش کو دیکھ کر تسلی کے دو بول بولے گئے، تشویش جو کہ پر خلوص جھوٹ کا نتیجہ تھی۔

یار بہت ضروری کا م ہے، جانا تو پڑے گا کچھ نہیں ہوتا، درد خود سے ہوا ہے، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔درد خود سے ہوا تھا اور خود ہی ٹھیک ہوگیا۔ دل کے نہاں خانوں میں جہاں آزمائش کی یہ بھٹی دہک رہی تھی، وہیں کہیں ضمیر بھی ڈیرہ جمائے ہوئے تھا، ضمیر ندامت کی حدت سے تنگ آکر کبھی کبھی ملامت کی فائر بریگیڈ بن کر اشک فشانی کرتا اور کچھ دیر کو بھٹی کی آگ ٹھنڈی پڑ جاتی مگر آزمائش کی بھٹی راکھ کا ڈھیر بن جاتی اگر، اس کو ہیپا ٹایٹس کا ایندھن نہ پہنچتا۔

ہیپاٹائٹس کا نچوڑا ہوا خون، آزمائش کی بھٹی نے کچھ ہی دنو ں میں نگل لیا۔ ھل من مزید، ھل من مزید کی صدا بلند ہونے لگی۔ پھر کیا تھا دماغ نے حق لہو ادا کرنا تھا، وہ بھی تو صارف تھا تازہ خون کا، دماغ نے جھٹ سے دل کو بیمار قرار دے دیا۔ دل نے دماغ کو گھورکے دیکھا، مگر بے سود، ہارٹ نے یہ اٹیک سہ لیا، دل خود بخود بیمار ہوگیا۔یوں زکوٰۃ ادا ہوگئی۔ تازہ خون رگوں میں دوڑتا، دل میں پہنچا، دل تازہ دم ہوگیا۔ زندگی جی اٹھی، ہر چیز اچھی لگنے لگی، بلا وجہ ٹہلنا اور بلا وجہ بات کرنے کو دل چاہا، باچھیں تو کھلنی تھیں سو بہانے کے طور پرمزاح کی حس کو جگایا گیا۔ اپنے دفتری ساتھی سے مخاطب ہوتے ہوئے’’ یار آپ کی بیگم کے شوہر کو چائے بنانی نہیں آتی؟؟؟‘‘ ا یک مسکراہٹ، اور ایک پیالی چائے۔ تازہ خون کا حاصل۔۔

’’ کیا!!! ہارٹ اٹیک!!دوسری طرف دل دھک سے رہ گیا۔ خدا کے لیے مجھ سے مذاق نہ کریں، میں بہت پریشان ہوں، کب ہوا یہ؟؟ سینے میں ایسے ہی درد اُٹھا ہوگا، آج کل سردی بھی تو بہت ہے، ٹھنڈ لگ گئی ہوگی،یہ بیٹھے بیٹھے دل کی بیماری کہاں سے آگئی؟؟؟ ‘‘ ردعمل !!!!! اونہہ!! ٹھیک ہے مگر کچھ کمی سی ہے، آخر دل کا معاملہ ہے، سو کچھ مزید۔

یار!!! تم نے دل میں رہتے ہوئے بھی دل پرحملہ نہیں روکا؟؟؟ لگتاہے نصیب کو منظور نہیں تمھارا میرے دل میں رہنا!!!! ’’خدا کے لیے بس کریں، فضول باتیں نہ کریں، کچھ نہیں ہوگا، سب صحیح ہے کچھ نہیں ہوتا۔ انشاء اللہ خدا جو بھی کرے گا ٹھیک کرے گا، اللہ سے اچھی امید رکھنی چاہیے، آپ کیوں مایوسی کی باتیں کرتے ہیں! ‘‘

فکر مندی صاف ظاہرہے، تشویش کی شدت نے بے چین دل کو پر سکون کردیا۔سرشاری کے عالم میں تسلی کے دو بول بھی کہنا بھول گئے، اب کی بار دوسری طرف کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ دل کا معاملہ ہے کچھ دن تو چلے گا، تسلی بھی دے دی جائے گی۔ ضمیر کی تسلی ہوگئی۔

پوچھا گیا، ’’رپورٹس کا کیا بنا؟ ڈاکٹر کیا کہتا ہے؟ ‘‘

ڈاکٹر کہتا ہے کہ ابھی تشخیص ہونی ہے، ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا، ویسے ڈاکٹر میرا دوست ہے، وہی دیکھ رہا ہے سارے معاملات۔ دیکھو کیا بنتا ہے، ویسے یہ دل کا حملہ ہوتا بڑا اچانک ہے۔ سنبھلنے کا موقع کم ہی ملتا ہے،

’’فضول بات ہی کرنا، جب بھی کرنا‘‘۔

اُدھر گھبراہٹ، اِدھرمسکراہٹ!!!!!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: