تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ۔۔۔۔ ایک عورت ایک کہانی ۔ قسط 4

0
  • 42
    Shares

ایک عروسِ نو کی آ بلہ پائی کی سچی، خود نوشت داستان ۔۔۔۔۔ جو بہت سے نشیب و فراز سے گزر کر اب ایک ملکہ کہ طرح اپنی راجدھانی کی حکمران ہے مگر عمرِ گذشتہ کے کچھ روگ اب بھی ہمراہ ہیں جو کہانی لکھنے کا محرک بنے۔
چوتھا حصہ۔


کیا کہا ڈاکٹر کے پاس جانا ہے? میں اپنی حیرت چھپا نہ سکی. کیا تمھیں سنائی نہیں دے رہا۔ مجازی خدا گرجتے ہوئے بولے۔ جی جی جانا ہے سوری کہتے ہوئے میں نے کہا پھر میں نے برقعہ پہنا گڈے کو گود میں لیا، ساتھ گڑیا کو بٹھایا اور اسکوٹر پر بیٹھ گئی۔ ڈاکٹر کے پاس گئے دوائی لی اور واپس اسکوٹر پر بیٹھنے لگی تو مجازی خدا بولے کہ چمن آئس کریم کھانی ہے ؟ جی جی۔۔۔۔۔۔ کے الفاظ ایسے نکلے جیسے دل کو اس دعوت کا انتظار ہو۔ آئس کریم کھائی پھر لارنس گارڈن گئے بچوں کو جھولوں پر بٹھایا سلائیڈ کروائی گارڈن بچوں اور انکے اہل خانہ سے بھرا پڑا تھا کوئی بچہ ادھر بھاگ رہا تھا اور کوئی ادھر گر رہا تھا۔ بچے ہر بات سے بے خبر خوب اچھل رہے تھے مگر گڑیا اور گڈا بس میرے ساتھ چپکے ہی رہے۔ نجانے کیوں پریشان تھے۔ واپسی پر ایک سگنل پر گجرے والا آگیا مجازی خدا بولے، گجرے لینے ہیں جی جی۔۔۔۔ جی کے الفاظ آج میرے ہونٹوں کے ساتھ ایسے ادا ہورہے تھے کہ جیسے مدتوں سے جی جی بولنے کے لیے بیقرار ہوں۔۔۔

میری یادوں کا اچانک ایک دریچہ کھل گیا اباجی امی جی کے لیے گجرے لاتے اور پہناتے تھے، اس دن امی جی شرمائی شرمائی سے رہتی تھیں۔۔۔ مجازی خدا نے گجرے دیتے ہوئے کہا کہ ابھی مت پہننا کمرے میں پہننا میں نے جلدی سے گجرے لیے اور بیگ میں چھپالیے۔۔۔۔ دل کررہا تھا کہ اسکوٹر کی رفتار تیز سے تیز ہوجائے اور میں ہوا میں اُڑنے لگوں۔۔۔۔ صبح مجازی خدا نے یہ کہہ کر اُٹھنے سے منع کردیا کہ میں ناشتہ خود کرلونگا، مجازی خدا کے آفس جاتے ہی کمرے میں بھابھی آگئیں انھیں کمرے میں آنے کی اجازت مانگنی نہیں پڑتی تھی۔ کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھنے لگیں کہ تم نیچے کیوں نہیں آئی گڑیا کیسی۔۔۔۔۔ انکے الفاظ منہ میں رہ گئے گلاب کی پتیاں کمرے کے فرش پر ایسے سجی پڑی تھیں جیسے کسی دلہن کا استقبال کیا ہو۔۔۔۔۔ بھابھی کئی دن مجھ سے اکھڑی اکھڑی رہیں، بات بے بات پر غصہ کرتی رہیں مگر اب مجھے پرواہ بھی نہیں رہی تھی، میں اپنے اور بچوں میں مگن رہی مگر پھر بھی ایک خوف مجھے پریشان کررہا تھا کہ میرے بچوں کو کچھ نہ ہوجائے۔ ایک دوپہر کو جب میں بچوں کے ساتھ سوئی ہوئی تھی تو مجھے دروازے کی ہلکی سی آواز نے اُٹھادیا ۔ کون کون پوچھا مگر کوئی جواب نہ آیا وہم سمجھ کر پھر سو گئی۔

شام کو بیڈ سے اُٹھنے کی کوشش میں تھی تو میرے منہ سے ہائے میرے اللہ۔۔۔۔ تکلیف کے ساتھ ہی یہ الفاظ نکلے میرے گھٹنے کی ہڈی میں ایک بڑی سی سوئی چبھی ہوئی تھی بچے بھی اُٹھ گئے تھے گڈے کو پکڑا اور گڑیا کو کہا کہ بلکل ہلنا نہیں ساتھ ہی بیڈ پر دیکھنا شروع کیا تو بیڈ پر اور بھی سوئیاں مل گئیں، اُن دنوں میں صوفہ کور کاڑھ رہی تھی کاڑھنے کے بعد سوئی بہت احتیاط کے ساتھ کپڑے میں ٹانک دیتی تھی۔ مگر اب تو سوئی میرے گھٹنے میں فکس ہوگئی تھی، پھر بھی میں نے اللہ کا شکر کیا کہ بچے محفوظ رہے سسر جی میو ہسپتال لے گئے سوئی کو نکالنے کے لیے بغیر سن کیے آپریشن کیا گیا سن کرنے والی دوائی ختم ہوگئی تھی اور آپریشن کرنے کا ٹائم بھی ختم ہورہا تھا۔ مجھے ایک کپڑا دے دیا گیا تھا جسے دانتوں کے درمیان میں رکھنے کو کہا میں ایسا نہیں کرسکتی تھی یہ سوچ کر ہی مجھے ابکائی آنے لگتی، آپریشن کے دوران مجھے بچوں کی فکر کھائے جارہی تھی۔ آپریشن ختم ہوا تو میں بہت نڈھال تھی میرے بازو دانتوں کے نشانوں سے بھر گئے تھے پھر بھی مجھے گھر جانے کی جلدی تھی۔ سسر کے ساتھ اسکوٹر پر بیٹھ کر گھر آگئی۔ بچوں کو انکی پھوپھو کے گھر چھوڑ کر آئی تھی انکا گھر بھی ساتھ ہی تھا گھر آتے ہی کاموں میں لگ گئی۔ بچے آئے منہ ہاتھ دھویا کپڑے پہنائے پھر شام کا کھانا پکانے کا آ رٓڈر آگیا تو اس میں مصروف ہوگئی، بھابھی جی بلکل لاتعلق بنی رہیں مجازی خدا شام کو آئے پھر عدالت لگی الزام بچوں پر لگایا گیا، تو میں نے اس الزام کو ماننے سے صاف انکار کردیا ایسے میں اباجی کے الفاظ یاد آگئے میرا بیٹا بہت صبر والا، ہمتوں والا، اور بہادر بیٹا ہے۔ میرے دل و دماغ میں یہ الفاظ گونجنے لگے ۔ اب مجھے ہمتوں والا بننا ہے اب مجھے بہادر بننا ہے ایسے میں صبر خاموشی سے مجھے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

بچپن میں ابا جی ایک مرتبہ ریسلنگ دکھانے لے گئے تھے۔ کشتیاں دیکھنا میرے لیے بہت ہی مشکل تھا مگر لائیو دیکھنے کا شوق بھی تھا۔ کشتیاں شروع ہوئیں تو ایک طاقتور پہلوان تھا اور دوسرا کمزور سا۔ ہر راؤنڈ میں کمزور والے کو دوسرا پہلوان خوب مارتا راؤنڈ ختم ہونے پر کمزور پہلوان جاکر اپنی سیٹ پر بیٹھ جاتا اس کا ریسلنگ ماسٹر اسے کچھ سمجھانے لگتا آخری تین راؤنڈز میں بالکل ہی پانسہ پلٹ گیا طاقت ور پہلوان فرش پر گرا اور دوبارہ اُٹھ نہیں سکا اور کمزور پہلوان جیت گیا میرے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ ماسٹر کے سمجھانے اور شاباشی سے کمزور پہلوان نے ہمت کی اور بہادری سے لڑا۔ جس کے نتیجے میں اسے فتح نصیب ہوئی، میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا فرق صرف یہ تھا کہ میرا دشمن میری پیٹھ پیچھے وار کرتا تھا سامنے نہیں آتا تھا یہ دشمن کے کمزور ہونے کی دلیل تھی۔ اب میں نےسوچ لیا تھا کہ کمزور پہلوان کی طرح میں نے ہمت اور بہادری دکھانی ہے اباجی کی باہمت اور بہادر بیٹی بن کر دکھانا ہے۔ گڑیا چار سال کی ہوگئی تھی، اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار تھی۔ چھوٹے چھوٹے کام بھاگ بھاگ کر کرتی تھی، باتیں بھی خوب کرنے لگ گئی تھی ایک دن میں نے گڑیا کو کہا کہ بابا کو آواز دو کھانا کھالیں گڑیا کہنے لگی اللہ بابا(فقیر)کو میں نے کہا کہ نہیں بابا کو کہنے لگی چوکی بابا (چوکیدار )کو میں نے تنگ آکر مجازی خدا کو آواز دی تو گڑیا بولی اچھا جن بابا کو آواز دینی تھی۔

گڑیا کے ننھے ذہن میں باپ کا تصور جن بابا بن چکا تھا مجازی خدا کے آتے ہی گڑیا بالکل خاموش ہوجاتی تھی۔ گڈا تین سال کا ہوگیا تھا اسکی زبان کا زخم ٹھیک ہونے کے بجائے بڑھ گیا تھا۔ گڈا اشاروں سے باتیں کرتا یا حلق سے عجیب و غریب آوازیں نکال کر مجھے اپنی بات سمجھادیتا۔ خاندان میں یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ میرا بیٹا میرا گڈا گونگا ہے۔ میری ساس صاحبہ کی شدید خواہش تھی کہ بس ایک بیٹا اور ہوجائے اور میری خواہش تھی کہ میرے درجن بھر بچے نہ بھی ہوں کم ازکم چھ تو ہونے چاہئیں۔ ایسے میں اللہ پاک نے مجھے تیسری مرتبہ ماں بننے کی خوشخبری سنادی مجھے ننھے منے بچے بہت پیارے لگتے تھے۔ میرا دل کرتا تھا کہ ہر وقت ایک ننھا بچہ میری گود میں رہے۔ اس کے برعکس مجازی خدا کو بچوں سے نفرت تھی۔ میں ایک مرتبہ پھر اپنی خوشی میں مگن ہوگئی بچے کی پیدائش کے حساب سے چھوٹے چھوٹے سویٹر ٹوپیاں بوٹ اور کروشیہ سے چادریں بنانے لگی نو مہینے اور دس دن ہوگئے تھے اکتوبر کا مہینہ تھا چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کے پاس گئی تو انھوں نے الٹرا ساؤنڈ کی رپوٹ دیکھ کر کہا کہ بچہ الٹا ہے ہمیں آپریشن کرنا پڑے گا۔ یہ سن کر میں پریشان ہوگئی یہ بات جب ساس صاحبہ کو بتائی تو کہنے لگیں کہ آپریشن سے عورت ختم ہوجاتی ہے آپریشن بلکل نہیں کرانا۔

دوسرے دن سسر جی دائی کو لے آئے دائی نے کہا کہ یہ تو دو منٹ کا کام ہے۔ دائی نے اپنا کام کیا پیسے لیے اور چلی گئی۔ اسکے جانے کے بعد میرے پیٹ میں درد شروع ہوگیا۔ شام تک درد شدید ہوگیا مجازی خدا آئے طبیعت کا بتایا تو ناراض ہونے لگے کہ میں تھکا ہوا آیا ہوں تمھارے ڈرامے ختم نہیں ہوتے۔ اُن کی بات بھی درست تھی ان کے آتے ہی میں نے پریشان کردیا تھا، میں بھی کیا کرتی عجیب درد ہو رہا تھا پہلے کبھی ایسا درد نہیں ہوا تھا۔ رات ہوئی پھر آدھی رات میں مجازی خدا کی منتیں کرنے لگی کہ مجھے ہسپتال لے چلیں میرا بچہ مر رہا ہے۔ خدا کے لیے مجھے ہسپتال لے جائیں مجازی خدا نے غصے سے گرجتے ہوئے کہا کہ تمھیں ہی بچے کا شوق تھا اب شوق پورا کرو۔ صبح میں نے آفس جانا ہے مجھے سونے دو یہاں سے چلی جاؤ رات کے تین بج رہے تھے میں کس کا دروازہ کھٹکھٹاتی، کس کو مدد کے لیے بلاتی میں درد سے کراہتی اور بلکتی رہی یہاں تک کہ رات کے آخری پہر میں بچے کی آخری سانسیں محسوس کرنے لگی میرا بچہ مر رہا تھا۔ میں اس کو کیسے بچاؤں میرے اللہ میرے بچے کو زندگی دے میرے بچے کو بچالے میں صرف دعا کرسکتی تھی۔ دعا کرتی رہی روتی رہی، میرے درد کو میرے آنسوؤں نے اپنے اندر جذب کرلیا صبح ہوئی مجازی خدا آفس چلے گئے۔ شام کو لوٹے تو بولے چلو ڈاکٹر کے پاس لے چلوں ڈاکٹر کے پاس گئے چیک اپ کے دوران ڈاکٹر سے میرا پہلا سوال تھا کیا میرا بچہ مرگیا ؟ ڈاکٹر نے میرے منہ پر ایک چپیڑ ماری اور بولی یہ تم کیا کیا۔ کلینک سے باہر آئی تو مجازی خدا بولے بچے کی پیدائش کی کونسی تاریخ دی ہے میں بولی کوئی تاریخ نہیں دی میرا بچہ مر چکا ہے۔ آپ نے میرا بچہ مار دیا آپ میرے بچے کے قاتل ہیں مجازی خدا بولے تمھارا دماغ خراب تو نہیں ہوگیا، لگتا ہے تم پاگل ہوگئی ہو اگر بچے کی زندگی نہیں ہوئی تو میرا کیا قصور اللہ کو اسکی زندگی منظور نہیں ہوگی اسی میں بہتری ہوگی۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس داستان کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں     اس داستان کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: