عشقِ رسول صلعم اور اُس کے پیمانے: شہنیلہ بیلگم والا

4

ہمارے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق کی ابتداء اوائل عمر میں ہی ہو گئی تھی۔ اس عشق کا سہرا، ان تین عدد خواتین کے سر جاتا ہے، جنہوں نے اپنے سر ٹیچر ہونے کی تہمت لی تھی۔ ان بیبیوں نے سر توڑ کوشش کی کہ ہم اس مضمون میں قطعی کوئی دلچسپی نہ لیں بلکہ صرف رٹو طوطے کی طرح سوالات کے جواب رٹ کر پاس ہو جائیں۔ رٹے رٹائے جوابات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کاپیاں اور امتحانات کے پرچے چیک کرنا نہایت آسان ہوجاتا ہے۔ ان محترماوں کی ان تھک اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ عرصے بعد ان کے کلاس میں داخل ہوتے ہی ہمارے معصوم چہروں پر خودبخود زندگی سے بیزاری اور اکتاہٹ کے آثار نمودار ہونے لگے (ہماری حالیہ تصویر دیکھ کر لفظ معصوم کو پڑھ کر سکتے میں مت آیئے بچپن میں ہم خاص معصوم اور بھولا بچہ ہوا کرتے تھے)- ان خواتین کی اولین ترجیح تھی کہ کلاس میں کوئی طالبہ سوال نہ کرے۔ ہر وہ طالبہ جو گرے میٹر رکھتی تھی اس کی حوصلہ شکنی کرنا فرضِ اولین سمجھا جاتا اور رٹو طوطیاں بارگاہِ عالیہ میں منظورِ نظر ہوا کرتیں۔ بہرحال ان کی کوششوں کا الٹا اثر ہوا اور ہمیں جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔ اگر یہ سبجیکٹ ڈھنگ سے پڑھنا ہے تو لائبریری میں سر کھپانا پڑے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اس مضمون کے عشق میں گرفتار ہوگئے اور ماسٹرز کر کے ہی دم لیا۔ اس طرح ہم نے اپنی دانست میں دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

چونکہ ماسٹرز اسی مضمون میں کیا اس لئے پڑھانے کے لیے چنا بھی یہی۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پڑھانے سے زیادہ پڑھا اور مزید پڑھتے پڑھتے رحمت العالمین کے عشق میں گرفتار ہوتے چلے گئے۔ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتے کرتے اسوہ صحابہ سے جانکاری ہوئی اور پتہ چلا کہ عاشقانِ رسول کیسے ہوا کرتے ہیں. وہ عاشقانِ رسول جو اپنے نبی کے اخلاق، سیرت اور اسوہ کا مکمل آئینہ دار تھے۔ اس پر بھی سورہ الحجرات میں رب ذولجلال کی آوازوں کو پست رکھنے کی تنبیہ کہ مبادا اعمال اکارت نہ کر دیئے جائیں۔

عاشقِ رسول میرے نزدیک وہ ہے جس کے قول و فعل سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ عاشقِ رسول وہ ہے جسے دیکھ کر اس امام الانبیاء کی یاد آئے اور انسان یہ سوچنے پہ مجبور ہوجائے کہ جب عاشق ایسے ہی تو محبوب کیسا ہوگا۔

چند دنوں سے وطنِ عزیز میں عاشقانِ رسول کا ایک ہجوم دیکھ رہی ہوں۔ گندی گالیاں، اخلاق باختہ گفتگو، لوگوں کی زندگی اجیرن کرنا، ایمبولینس کو راستہ نہ دے کر معصوم بچے کی موت۔ ایک جاننے والی بتا رہی تھیں کہ ان کے میاں اس دھرنے کی وجہ سے 14 گھنٹے ٹریفک میں پھنسے رہے۔ اور کتنوں نے عشق کے اس اظہار کے باعث تکلیفیں اٹھائی ہوں گی وہ تو سوہنا رب ہی جانتا ہے۔ یہ ہے رسول سے عاشقی کے دعوےدار۔ صرف اتنا سوچئے کہ کیا میرے محبوب کے پاکیزہ گوش مبارک ایسی اخلاق سوز باتیں، گندی گالیاں سن سکتے ہیں؟؟؟ یہاں تو بات کی ابتداء ہی ماؤں اور بہنوں کی گالیوں سے ہو رہی ہے۔ میرے نبی نے تو عورتوں کو اتنی عزت دی کہ جنت کے عورتوں کی سردار بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لاتیں تو اپنی چادر بچھا دیتے۔ اپنی بیویوں سے ایسی شدت کی محبت کہ ان کا جھوٹا کھاتے۔ میرے نبی تو وہ تھے کہ اگر کسی شیر خوار بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر کردیتے کہ بچہ بھوک سے بلک رہا ہے اور ماں طویل نماز کی وجہ سے اسے دودھ پلانے سے قاصر ہے۔ یہ کیسے عاشقان رسول ہیں جو ایمبولینس کو راستہ نہ دے کر ماوں کی گودیں اجاڑ رہے ہیں؟؟؟

اللہ گواہ ہے کہ ختمِ نبوت پہ ایمان لائے بغیر انسان مسلمان نہیں مگر کیا عشق کے اظہار کا یہی طریقہ ہے؟؟ اس طرح مجمع میں کھڑے ہو کر گندی گالیاں دینا، انتہائی عامیانہ اندازِ گفتگو اختیار کرنا، لوگوں کی زندگی اجیرن کرنا۔ کیا یہ آپ کو عاشق رسول بناتا ہے۔ کتنے لوگ ہونگے جنہیں ڈائلیسس کے لئے جانا ہوگا۔ کتنے تھیلسیمیا کے مریض ہونگے جنکی زندگی صرف اس بات پہ خطرے میں پڑ گئی ہوگی کہ وہ باقاعدگی کی طرح خون نہیں لگوا سکے, کتنے کینسر کے مریض ہونگے جو اپنی ریڈیشن اور کیمو تھراپی کے لئے نہیں جاسکے۔ آپ کے عشق کے اس اظہار کے لئے وہ کیوں تکلیف سہیں۔

کیا ہم اسی رحمت العالمین کے ماننے والے ہیں جو لہو لہان پیر مبارک لئے اللہ سے طائف والوں کو معاف کرنے کی سفارش کر رہے تھے۔ کیا ہم اسی نبیوں میں رحمت لقب پانے والے کے عاشق ہیں جو اپنے عزیز از جان چچا کے قاتل اور ان کا کلیجہ چبانے والی کو معاف کر دیتے ہیں صرف اس لئے کہ انہوں نے کلمہ پڑھ لیا۔

صرف اتنی عرض اور گزارش ہے کہ اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے اس پاک ہستی کا نام مت لیجئے کہ اگلے آپ کو کچھ کہتے ہوئے بھی گھبرائیں کہ ابھی گستاخی اور کفر کا فتوی لگے گا۔ آپ عاشق رسول ہیں صرف یہ چلاّنے سے کام نہیں چلے گا یہ آپ کے قول و فعل میں بھی نظر آنا چاہیے۔ میرے نزدیک میرے نبی کا عاشق باوقار، سنجیدہ، خوش گفتار اور نرم خو ہونا چاہیے نہ کہ پورے ملک میں گالیوں کا استعارہ۔

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. پروین زسہف on

    پاکستانی قوم ہر معاملے میں انتہا پسند اور شدت پسندہے یہ قوم سنت رسول پر عمل کریں نا کریں توہین رسالت کرنے والوں کو مار دیں گے اور میرے سمیت ہر مسلمان حرمتے ردول جان دے دئں گے دهرنے میں شریک علماء کی زبان پر سب کو اعتراض ہے عمومی طور پر یہ غلط لگتا هے مگر جو سازش یہ لوگ کرچکے تهے وہ تو واجباقتل ہیں گالی دینے والے کی زبان پر بری ہے مگر جن کو دی گئ وه اسی قابل ہیں

  2. آپ نے بجافرمایا لیکن جو سازش رچی گئ تھی اسکا ری ایکشن ایسا ہی ہونا چاہیے تھا باقی بات رہ گئ بد زبانی کی تو جناب عالیہ مقابل میں اس سے بھی غلیظ لوگ ہیں جنہیں گالیاں دی جا رہی ہیں ۔

    • چلیں اگر آپ کی یہ بات بھی مان لی جائے کہ چونکہ مقابلہ ایسوں سے تھا اس لیے ایسی گھٹیا اور لچر زبان میں گفتگو کی گئ۔ مجھے صرف یہ بتائیں کہ ایمبولینس کو راستہ نہ دینے، بچے کی جان لینے اور بے قصور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کی کیا توجیح پیش کریں گی آپ۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: