بچے دو ہی اچھے اور بیویاں؟ محمد عثمان جامعی

1
  • 50
    Shares

ہم یہ تحریر لکھتے ہوئے واضح کردینا چاہتے تھے کہ ہمارا دوسری شادی کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن بھیا پھر سوچا کہ خدا سے ڈرنا چاہیے، ایسے بڑے بڑے دعووں سے بچنا چاہیے، ویسے بھی بعض کاموں میں کہاں کے ارادے، کیسے وعدے، وہ تو دیکھنا ہے جو تقدیر دکھادے، ہم تو ہیں تورے کھونٹے کے بکرے ہانکو جدھر ہنک جائیں رے اری قسمت موری۔ تقدیر پر اسی ایمان راسخ کی وجہ سے ہمارے ایک متقی دوست کا جس پر دل آیا اس سے صاف لفظوں میں فرمایا، ”تم میری پہلی اور اب تک کی آخری محبت ہو۔“ موصوف کی سچائی کا یہ عالم ہے کہ اپنی اہلیہ کے i love u کے جواب میں بڑی محبت اور پوری صداقت سے i love u 2 کہتے، ایک دن ایس ایم ایس پر بھی اظہار محبت کا جواب اسی دودھاری اقرارِمحبت سے دے دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ ان دنوں دو سے ایک ہوگئے ہیں۔ سو ایسا کھلا سچ تو ہم نہیں بول سکتے جو سر کے کُھلنے کا سبب بن جائے، ہاں اتنا ضرور ہے کہ قول قرار کرتے ہوئے فرار کا راستہ رکھنا چاہیے اور وعدے وعید میں نکاحِ ثانی کی تقریب سعید کا امکان یکسر نظرانداز نہ کردینا چاہیے کہ مقدر کے سامنے انسان کی عاجزی اور لاچاری ظاہر ہووے۔ اب کون نہیں جانتا کہ دل کا آناآتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںوالا معاملہ ہوتا ہے، تو اگر کسی کے خیال میں کوئی ایسا مضمون ”آئی“ ہے تو اسے غیب کا معاملہ سمجھا جائے عیب کا نہیں۔ بہ ہرحال اگر کسی کے خیال میں یہ مضمون وارد ہُوا ہے تو یہ خبر سُن کر ہَوا ہوگیا اور وہ تائب ہوگیا ہوگا کہ لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ایک صاحب کو بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر چھے ماہ قید اور دو لاکھ روپے جُرمانے کی سزا سُنا دی۔

ارے شادی شدہ آدمی کی کیسی قید، ہماری ہی ایک نظم کا مصرعہ ہےیہ تو زنداں سے زنداں کو جانا ہُوا۔ موصوف جیل جاتے ہوئے دوسری بیگم سے کہہ گئے ہوں گےبُرا وقت آگیا ہے تو کیا ہوامیں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں۔ اور پہلی بیوی سے آنکھوں میں آنسو بھر کے کہا ہوگا اپنے ”سرتاج“ سے ایسا بھی کوئی کرتا ہے۔

عدالت اقامے پر سزا دے یا نکاح نامے پر، فیصلہ سر آنکھوں پر، مگر یہ کیا بات ہوئی کہ آدمی بیوی کی اجازت کے بغیر شادی بھی نہیں کرسکتا! چلیے ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھنے کے لیے بیگم کی مرضی لازمی، کہاں جانا ہے کے لیے زوجہ محترمہ کی اجازت درکار، کس سے ملنا ہے کا فیصلہ کرنے کی صرف اہلیہ اہل، لیکن شادی ایسا کام ہے جو آدمی بیوی کی ”قبول، قبول“ کی رضامندی کے ساتھ پہلے بھی کرچکا ہے، چناں چہ ہمارے جیسا معصوم انسان یہی سمجھے گا نہ کہ اس فعل کے لیے قبولیت کی سند مل چکی ہے، جب بیگم کو پہلے شادی پر اعتراض نہیں ہوا تو اب کیوں ہوگا؟ بندہ شادی ہی تو کر رہا ہے، ٹی وی پر ڈرامے کی جگہ خبریں یا کرکٹ میچ تو نہیں لگارہا، اپنی بہن کے لیے جوڑا تو نہیں بنا رہا، اتوار کے روز کسی دوست کے گھر تو نہیں جارہا، سُسرال جانے سے پہلو تو نہیں بچارہا پھر کیسی اجازت؟ ہم جیسے بہت سے بھولے بھالے حضرات اسی منطق کو سامنے رکھتے ہوئے عقدثانی کرڈالتے ہیں، اور جب یہ عُقدہ کُھلتا ہے تو عقداول کے بھی لالے پڑجاتے ہیں۔

ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ دوسری بار سر پر سہرا سجانا ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگانے کے مترادف کیوں ہو جاتا ہے؟ ایسے مردوں کو ناحق ظالم، عیاش اور رنگیلا سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ بات بس اتنی سی ہے کہ یہ بے چارے اپنی بیوی سے اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ چاہتے ہیں اس جیسی ایک اور ہو۔ اب اس معصوم سی خواہش کی تکمیل پر عدالتوں سے رجوع کرلینا کہاں کا انصاف ہے۔ پھر یہ کیا تضاد ہے کہ بچے دو ہی اچھے، لیکن بیویاں دو ہوجائیں تو دوچار سُناکر، دو ہاتھ لگا کر آدمی کی عزت دو ٹکے کی کردی جائے، کیوں بھئی کیوں؟ ویسے تو کہتے ہیں ایک سے دو بھلے، مگر اس معاملے میں ایک سے دو بُری کردی جاتی ہیں اور دو کرنے والے پر بُرا وقت آجاتا ہے۔

ویسے غور کرکے اور معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے کر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ دوسری شادی تو کوئی کرتا ہی نہیں۔ کوئی شخص جس عورت سے شادی کرتا ہے پہلی بار ہی کرتا ہے، چناں چہ دھڑلے سے اور قسم کھاکے کہہ سکتا ہے کہ یہ خاتون پہلی بار میری بیوی بنی ہیں، یہ ان سے میری پہلی شادی ہے۔ مثال کے طور پر بابو بھائی نے جمیلہ سے شادی کی، یہ ان کی جمیلہ سے پہلی شادی تھی، پھر انھوں نے حمیدہ سے شادی کی یہ ان کی حمیدہ سے پہلی شادی تھی۔ اعتراض کس بات کا، بات ہی ختم۔

ہمارے ذہن رسا نے جب بڑی کاوشوں، کوششوں اور سوچ بچار کے بعد یہ نکتہ ڈھونڈ نکالا تو ہم نے خود کو شاباش دےتے ہوئے خودکلامی کی کہ میاں! کیا نکتہ دریافت کیا ہے، مسلمان مرد جاتی تمھارے صدقے واری جائے گی، تمھاری ذات خواتین میں چاہے بدذات تصور کی جائے لیکن مُحسنِِ مردذات قرار پائے گی، جنازہ اٹھے گا تو لاکھوں مرد ویر میرا کوڑی چڑھیا گاتے ساتھ چلیں گے، عالی شان مزار بنے گا جس پر لکھا ہوگا بیاہ والی سرکار، پھولوں کی چادروں کے بہ جائے سہرے اور نوٹوں کے ہار چڑھائے جائیں گے اور عرس کے موقع پر شادی بیاہ کے گیت گائے جائیں گے۔

بس تو ایک اور پہلی شادی پر کمربستہ حضرات کمر کس لیں، شادی کے لیے نہیں، ہمارے مزار کے لیے، کہ یہ دوسروں کو ورغلاتی اور ہماری خواہشات سے پردہ اُٹھاتی یہ تحریر بیگم کی نظر سے گزرتے ہی ہم گزر جائیں گے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. دوسری شادی ہمارے معاشرے میں ایک عجوبہ سے کم نہیں۔ ۔ بندہ دوسری شادی کر لے تو بیٹھے بٹھائے مجرم بن جاتا ہے۔۔۔چوروں کی طرح منہ چھپائے پھرتا ہے۔۔۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ کہ اب ہمارے معاشرے میں پہلی شادی کرنا اور نبھانا ہی نہایت مشکل ہوگیا ہے ،،دوسری کا تو سوال ہی نہیں!!!

Leave A Reply

%d bloggers like this: