عمران خان کو بولنا نہیں آتا، اور ہم سب کو عقل: محمود فیاض

0
  • 28
    Shares

جہنم کی گرمی پر عمران خان کے بیان پر سوشل میڈیا پر طوفان تھما ہی تھا کہ خونی لبرل والا بیان کٹی پتنگ کی طرح بلیاں چڑھ گیا۔ خدا خدا کر کے وہ ہفتہ گذرا تو ایک پرانی ویڈیو جس میں عمران خان مولانا فضل الرحمٰن اور کچھ دوسرے مذہبی حلیہ رکھنے والے سیاستدانوں کے بارے میں اپنی ایک پرائیویٹ میٹنگ میں بات کر رہا ہے، یار لوگوں نے پبلک کے “پر زور اصرار” پر وائرل کر دی ہے۔ یہ ویڈیو پرانی بھی ہے اور غیر متعلق بھی مگر چونکہ ایجنڈا پورا کرتی ہے، یعنی عمران خان پر سنگ باری کا مشن پورا ہوتا ہے، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک میں مذہب کے نام پر بلیک میلنگ کا سلسلہ اس حد تک دراز ہوچکا ہے کہ سابق و حاضر وزراء اپنی سبز عمامے والی تصویروں سے اپنا ایمان پکا کر رہے ہیں۔

عمران خان کا دفاع میرا مقصد نہیں مگر عقل و ہوش، اور دلیل و منطق کی بات آپ تک پہنچانا میرا فرض ہے۔ اگر آپ کسی گروہ سے وابستہ نہیں تو شائد یہ تحریر آپ کو کچھ سوچنے لائق نکات دے سکے، ورنہ جس کا “زندہ باد” حلق میں آیا ہوا ہے اسی نعرے کو بجاتے چلے جائیے۔ یہ فری کنٹری ہے، بلکہ اب تو شتر بے مہار ملک بن چکا ہے۔

سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ یہ جملہ ایک نجی میٹنگ سے لیا گیا ہے، کوئی سیاسی بیان نہیں ہے۔ جب ہم کسی محفل میں بیٹھے ہوتے ہیں تو ایسے غیر محتاط جملے اکثر سرزد ہوتے ہیں۔ آپ راستے میں دو سرخ سگنل سے ہو کر آئیں تو کہیں گے سارا شہر ہی بند پڑا ہے۔ ایک جگہ ٹریفک جام میں دس پندرہ منٹ لگ جائیں تو کہا جاتا ہے کہ سارا دن ہی ٹریفک کی نذر ہو گیا۔ دو دن بارش ہو جائے تو ہم کہتے ہیں گلیاں جل تھل ہوگئیں۔

پنجابی زبان میں ایک ایکسپریشن ہے جو شائد صرف پنجابی ہی سمجھ سکتے ہیں۔ جب دو انگریز آپس میں موسم کا حال ڈسکس کرتے ہیں تو کہتے ہیں آج بہت سردی ہے، یا آج بہت گرمی ہے۔ مگر جب دو پنجابی یہی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں، “اج بڑی گرمی کرا دتی اے” (آج تم نے بہت گرمی کروا دی ہے)۔ مطلب وہی ہوتا ہے، بس زبان کا ایک انداز ہے۔ اسی جملے کو انگریز کو دے دو، وہ حیران ہو جائے گا کہ یہ کیا منطق ہے، موسم کا حال تو سیدھے سے پوچھنا چاہیے۔ اور اسی جملے کو کسی مولوی کو دے دیں تو وہ سیدھا سیدھا کفر کا فتوٰی ٹھوک دے گا کہ (نعوز باللہ) اللہ کے کاموں کو بندے پر قیاس کر کے شرک کیا ہے۔

یہ تو ایسا ظالم ایکسپریشن ہے کہ لاہور میں دھماکہ ہو جائے تو کچھ ناسمجھ اس طرح پوچھتے ہیں کہ “فیر دھماکہ کرا دتا جے؟” ( آپ نے پھر دھماکہ کروا دیا؟) اب آپ خود ہی سمجھ جائیں کہ ایسے جملے اور ایکسپریشن کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو سکتا ہے بھلا۔

عمران خان نے بھی اپنے سیاسی دھوکا کھانے کے تجربات میں داڑھی والوں کا زکر اسی طرح ہی کیا ہے اور ایک ایکسپریشن کے ذریعے اپنے فرسٹریشن دکھانے کی کوشش کی ہے۔ مگر اس جھلے کو کیا پتہ کہ ہم پاکستانی بال کی کھال اتارنے کے کتنا شوقین ہیں اور ہمارے پاس کس قدر فارغ وقت ہے۔

انگریزی اور اردو زبانوں میں کسی چیز کی کثرت کو ظاہر کرنے کا ایک یہ انداز ہے جس میں عمران خان نے بات کی ہے۔ جیسے پچانوے فیصد مرد زن مرید ہیں اور باقی پانچ فیصد جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ جملہ جب بھی کسی جگہ پڑھا جائے گا سمجھدار انسان اس سے ایک ہی مطلب اخذ کرے گا کہ لکھنے والا یہ کہنا چاہتا ہے کہ شادی شدہ حضرات کی اکثریت زن مرید ہے۔ اسی طرح کے اور جملے بھی ہیں جو زبان کا حسن بڑھانے اور کسی بات کے تاثر کو گہرا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں نہ کہ مردم شماری کے نتائج کے لیے ۔ ان جملوں میں اسی فیصد، بیس فیصد کا استعمال محض زیب داستاں ہوتا ہے۔ مشتاق یوسفی نے کیا خوبصورت جملہ کہا ہے کہ جھوٹ کی تین قسمیں ہوتی ہیں، جھوٹ ، سفید جھوٹ اور سرکاری اعداد و شمار۔ اب اس جملے کا مطلب اور اس کا حظ اٹھانے والے ہی مشتاق یوسفی کے مزاح کا لطف لے سکتے ہیں۔ باقی لوگ اس بحث میں پڑجائیں گے کہ جملہ بالکل غلط ہے، تینتیس اعشاریہ انہتر (چھ نو) فیصد اعداد و شمار ٹھیک بھی ہوتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اب ایسوں کا کیا کرے کوئی۔

اب عمران خان کا مسئلہ اور ہے۔ وہ سیاست (پاکستانی سیاست) بالکل نہیں جانتا۔ جو بات کہنی ہو کھل کر کہہ دیتا ہے۔ آئین تہتر کے تناظر میں گھما پھرا کر بات کہنا اسے نہیں آتا اس لیے اس کی زبان پر اعتراض اٹھتے رہتے ہیں۔ جن میں سے کچھ بجا طور پر ٹھیک ہوتے ہیں۔ مگر جہنم کی گرمی والا جملہ ، لبرل کے خونی ہونی کی بات اور اب مولویوں کے کرپٹ ہونے والا جملہ سب اسی کیٹیگری میں آتے ہیں جہاں عمران خان نے ایک ایکسپریشن سے کسی بات کا وزن بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ٹھیک سمجھنے والوں کے لیے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر بات کا بتنگڑ بنانے والوں اور موجودہ گردوغبار میں ایک نیا طوفان اٹھا دینے والوں کے لیے لفظوں کا لفظی مطلب لیکر اپنا مطلب نکال لینا بھی آسان ہے۔

اب اگر آپ اس بات پر برافروختہ ہیں کہ عمران نے داڑھی والوں کی اکثریت کو کرپٹ کہا ہے اور اس میں آپ خود، یا میرے آپ کے باپ دادا آ جاتے ہیں تو یہ محض آپ کی اوور تھنکنگ ہے۔ نہ عمران خان کے جملے کا یہ مطلب نکلتا ہے اور نہ عمران خان کی زندگی اور انداز و اطوار سے کبھی یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ تمام داڑھی والوں سے ہی الرجک یا بیزار ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک مذہبی جماعت سے اتحاد اور پچھلے پانچ سال سے ایک مذہبی جماعت کے ساتھ حکومت میں اتحادی ہونے سے آپ کو کچھ اشارہ نہیں ملتا؟ جو لوگ آپ کو ایسا سمجھنے پر یقین دلانا چاہتے ہیں انکا ایجنڈا کچھ اور ہے۔

آخری بات کہ مولوی، یا داڑھی والوں کی توہین ہوئی ہے تو ان سب حضرات کے لیے میرا صرف اتنا ہی کہنا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ داڑھی والے کی توہین نہ ہو اور اگر داڑھی والے کی عزت معاشرے میں شعائر اسلام کو منہ پر سجا کر مذہب اور تقوٰی کے نمائندے کے طور پر کرانی ہے تو اپنی صفوں میں ان توہین کرنے والوں کو تلاش کرو۔ اور ان تمام بہروپیوں کو جو صرف داڑھی، عمامے کا حلیہ اپنا کر اہل تقویٰ کا بھیس بنا کر اپنے باقی تمام کام گنہگاروں اور مکاروں والے ہی رکھتے ہیں، اپنے درمیان سے نکال کر الگ کر دو۔ اصلی داڑھی والوں کی عزت خود بخود بحال ہوجائیگی۔ لیکن اگر آپ صرف یہ چاہتے ہو کہ داڑھی رکھ کر بندہ جھوٹ بھی بولتا رہے جو گناہ کبیرہ ہے، اور مسجدوں میں لواطت جیسے فعل قبیح بھی کرتا رہے، اور سیاست میں کتاب و قران کے نام پر ووٹ لے کر انسانوں کی زندگیوں کو مشکل تر بنائے رکھے، یا کاروبار میں ملاوٹ، سود، دھوکہ دہی بھی جاری رکھے، تو صد معذرت پھر لوگ کہتے رہیں گے کہ داڑھی والے بھی کرپٹ ہوتے ہیں۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: