ہم گالیاں دینے والی قوم بن رہے ہیں ۔ محمود فیاض

0
  • 71
    Shares

دھرنے کے دوران اور بعد میں دوست انباکس میں ایسی تقاریر مسلسل بھیج رہے ہیں جن میں منبر و محراب کے تقدس کی پرواہ کیے بغیر گالیوں ، بدزبانی اور ہرزہ سرائی کی حدیں مٹا دی گئی ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہی ہے کہ بدزبانی کو حقیقت بیانی کے مفہوم میں لیا جا رہا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو یہ تربیت دی جا رہی ہے کہ اختلاف تب ہی جاندار و شاندار ہوگا جب گالی دی جائے، جب دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دی جائیں۔

سیاست میں لوگ تحریک انصاف کو موجودہ گالیوں والے ماحول کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اگرچہ میں نے عمران خان کے منہ سے کبھی کوئی ایسی گالی نہیں سنی جو ہمارے مذہبی لوگ بہ انداز فخر دے رہے ہیں۔ خدا گواہ ہے انتہائی گھٹیا حربوں کے سیاسی استعمال کے باوجود میں نواز شریف پر بھی کسی مخالف کو دلال، کتے ، خنزیر اور باقی گالیوں کا الزام نہیں لگا سکتا۔

اسی طرح میڈیا میں حسن نثار جو سیاپا نگاری کے امام سمجھے جاتے ہیں (جنکے کوسنوں کو عوام کے لیے میں ایک باپ یا ماں کی ڈانٹ سمجھتا ہوں) ان سے بھی کبھی ایسے رقیق جملے اپنے مخالفین کے لیے نہیں سنے جو ہماری مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکروں سے سنائی دینے لگے ہیں۔

بچے اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جس گھر میں بڑوں میں گالی کا رواج ہو وہاں بچوں میں آسانی سے گالیاں مل جاتی ہیں۔ پھر محلے کے باقی گھر اپنے بچوں کو ان گالیاں دینے والے بچوں سے کھیلنے سے منع کرنے لگتے ہیں۔ ہماری نئی نسل جن رویوں کے ساتھ بڑی ہو رہی ہے، مجھے ڈر ہے پاکستان کی سیاسی تنہائی کے بعد پاکستانی نوجوان نسل معاشرتی طور پر بھی باقی دنیا سے کٹ جائے گی۔ لوگ ہم سے میل جول سے کترانے لگیں گے، کیونکہ ہمارے ماں باپ گالیاں دیتے تھے۔

انسانی زندگی میں استاد، ڈاکٹر، وکیل، سیاستدان اور دیگر کئی شعبے قابل احترام ہوتے ہیں، مگر ایک مذہبی رہنما یا اسکالر کا درجہ احترام تقدس کی حدود کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ ہمارے عوام تو جمعے کے منبر پر بیٹھے کسی بھی وجود کو سر جھکا کر سنتے ہیں۔ مگر عرصہ ہوا، یہ منبر اور اس پر بیٹھنے والے اپنے تقدس پر سوالیہ نشان لگواتے چلے آ رہے ہیں۔

ان منبروں سے شعیہ کافر، سنی مشرک، دیوبندی وہابی، سلفی وغیرہ کے فرقوں میں بانٹنے والی باتیں تو عرصے سے سنتے آئے تھے اور گاہے یہ آگ اس طرح بھڑکی بھی کہ مسجدیں خود میں نہلا دی گئیں۔ مگر خون کے اس کھیل سے اپنی خانقاہیت کشید کرنے والوں کو بھلا انسانی جان کی حرمت کونسی آئت سکھائے گی؟ رفتہ رفتہ اب یہ وقت آ لگا ہے کہ مخالفین کو ننگی گالیاں منبر رسول سے جاری کی جاتی ہیں اور سامنے بیٹھے مقتدی واہ واہ سبحان کی داد سے واعظ کا دل بڑھاتے ہیں۔ جو جتنا گلا پھاڑ کر اپنے مخالفین کی ماؤں بہنوں کے بارے میں جتنے کریہہ اور نازیبا کلمات ادا کر سکے وہ اتنا بڑا واعظ، وہ اتنا بڑا امام، وہ اتنا بڑا شیخ۔

سیرت کے رکھوالا ہونے کے دعوے کرنے والوں اور سیاسی غنڈوں میں فرق تو ہونا چاہیے۔ اور شائد یہی بات ہر عام فہم پاکستانی ان منبر و محراب پر “قابض مخلوق” سے کہنا چاہتا ہے

حقیقت یہ ہے کہ یہ رویہ اب صرف مسجدوں میں نہیں رہے گا۔ یہ گھر گھر پھیلے گا۔ پھیل چکا ہے۔ گالیاں روز مرہ اور محاورے کی طرح ہماری زبان میں شامل ہو رہی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ باقی “گھروں” والے جب ہماری یہ زبان سنیں گے تو ہمارے بارے میں کیا سوچ رکھیں گے۔ جبکہ اپنے تئیں ہم پوری دنیا کی امامت کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔

ان سب گالیوں، بدزبانی، ہرزہ سرائیوں، اور منہ سے غلاظت ابلتے گھٹیا سوچ کے واعظین کی دلیل صرف ایک ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ مخالف چونکہ مذہبی طور پر مختلف عقیدہ رکھتا ہے اس لیے اسکو گالیاں دینا ثواب کا کام ہے۔( یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ ہمارے ہاں ایک طبقہ پاتال کا عرش ثابت کرنے کی ہر دلیل کے لیے قران و حدیث سے اپنی “مرضی” نکال ہی لیتا ہے۔) مگر اگر مخالفین عقیدہ کو گالیاں دینا کار ثواب ہوتا تو ہمیں سیرت پیغمبر میں کوئی حوالہ تو ملتا۔ انکے زمانے میں تو منافقین بھی تھے، یہود بھی تھے اور مشرکین بھی تھے۔ مگر ایک حدیث، ایک جملہ ہمیں نہیں ملتا جس میں کسی بے مذہب کو بے دین کو زبان اطہر سے (نعوذباللہ) دشنام نصیب ہوا ہو۔

سیرت میں جگہ جگہ ہم دیکھتے ہیں کہ چہرہ مبارک غصے سے سرخ ہوا۔ کبھی محفل سے خود اٹھ کر چلے گئے اور کبھی حاضرین کو اپنے پاس سے ہٹ جانے کا کہا۔ کبھی دل کی بات کی تو سخت ترین یہ تھا کہ جمعہ باجماعت نہ پڑھنے والوں کے گھروں کو آگ لگا دوں (مفہوم)۔ نہ کسی کی چادر عصمت کی بات کی، نہ کسی کی ماں بہن کو سخن کا موضوع بنایا۔ لاکھوں حدیثیں گذر گئیں اور کہیں یہ نہ ملا کہ کسی مخالف کی ماں، بہن ، یا بیوی کو عزت نہ دی۔ تب بھی جب وہ مال غنیمت میں باندیاں بن کر دست تصرف میں تھیں۔ سب کو عزت ہی دی گئی۔

اس سیرت کے رکھوالا ہونے کے دعوے کرنے والوں اور سیاسی غنڈوں میں فرق تو ہونا چاہیے۔ اور شائد یہی بات ہر عام فہم پاکستانی ان منبر و محراب پر “قابض مخلوق” سے کہنا چاہتا ہے مگر کہہ اس لیے نہیں پاتا کہ جو اپنے مخالفین کو گالیاں دینے کے لیے دلیل اس آفاقی دین کی کتاب استعمال کر لیتے ہیں جو سارے جہانوں کے لیے رحمت بن کر آیا ہے، وہ اس کی اس عرض کے جواب میں اسکو کون سے فتووں کا مستحق گردانیں گے۔

پاکستان ننانوے فیصد مسلمانوں کا ملک ہے۔ اور اس میں بستے پاکستانی کلمہ گو مسلمان ہیں۔ اگر مسلمان کی کوئی اور تعریف ان شعبدہ بازوں سے لی جائے تو پاکستان اس وقت بہتر 72 اقلیتوں کا ملک ہے جہاں ہر اقلیت باقی اقلیتوں کے لیے واجب القتل نہیں تو واجب الذلالت و دشنام ضرور ہے۔ میری نوجوانان پاکستان اور متوازن ذہن کے لوگوں سے درخواست ہے کہ ایسے رویوں کے خلاف اپنی آواز بلند کیجیے ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ ہمارے گلی محلوں کی مسجدوں میں دشنام طرازی باعث ثواب کہلائی جانے لگے گی اور اس پر کھیر پکا کر مسجد بھیجی جائیگی۔ اللہ ہمیں اس وقت سے محفوظ رہنے کی توفیق دے ۔ آمین۔ ثم آمین۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: