دھرنا ختم ۔۔۔ نیا “مرنا” شروع — حسن تیمور جھکڑ

0
  • 25
    Shares

بالاخر دھرنا ختم ہوگیا،، مگر اپنے پیچھے ایک واضح پیغام اور نیا ٹرینڈ چھوڑ گیا،، اب آئندہ اس حکومتوں اور ہر انتظامیہ کو ایک مستقل “خطرے” کا سامنا کرنا پڑے گا مذہب یا کمیونٹی کے نام پہ، اب کبھی بھی، کہیں بھی کوی سا مذہبی یا قومی گروہ اٹھے گا اور پورے ملک کو مفلوج کرکے رکھ دےگا۔۔۔ کیوں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی “ٹام اینڈ جیری” سدا کا مسئلہ ہے اور رہے گا اور اسی بنیاد پہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کےلیے ایسے فیکٹرز استعمال میں لائے جائیں گے (جو ہمیشہ سے لائے جاتے بھی رہے ہیں مگر شائد اب یہ پہلے سے زیادہ موثر ہتھیار کے طور پہ استعمال ہونے لگیں)۔۔۔

“دینی کارڈ “ویسے بھی ہمیشہ کامیاب فارمولا رہاہے اور اب میڈیا کی ترقی کے بعد کمیونٹی کو بھی بہتر طریقے سے استعمال کیاجانے لگا ہے۔۔۔ اب ہوسکتا ہے کہ آئندہ دونوں میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ (یہاں حکومت اور اس کے آقاوں کے درمیان اختلاف کو بھی پیش کیاجاسکتا ہے مثلا امریکہ اور کسی حکومت کے درمیان اختلاف) کےدرمیان کوئی بھی کھٹ پٹ ہوئی تو اُدھر ہوسکتا ہے عیسائی، ہندو کمیونٹی پہ حملہ ہوجائے اور ان کی جانب سے ایسا ملک گیر دھرنا شروع کردیاجائے جس کا نتیجہ اس وقت کی حکومت کوگھنٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردے۔۔ یا پھر ٹھیک اسی وقت کوئی مذہبی چھیڑخانی ہوجائے اور حکومت وقت کو لینے کے دینے پڑ جائیں.

فیض آباد دھرنے میں سول انتظامیہ کی مکمل ناکامی (میں اسے ہماری حکومتی تاریخ کی بدترین ناکامی سمجھتا ہوں کہ ختم نبوت جیسے حساس موضوع کو چھیڑنے کی سنگین غلطی کی اور اس پر اٹھنے والے ردعمل کو بزور دبانے کی کوشش کی گیی) نے ایک نئی جہت دکھائی ہے کہ ایک ایٹمی طاقت ملک کی نہ صرف حکومت نااہل ہے بلکہ سول انتظامیہ بھی مکمل طور پہ ناکام ہے۔۔ اس دھرنے کے دوران فوج نےجس طرح حکومت کو جھنڈی دکھائی یہ بھی شائد آنے والے برسوں کےلیے ایک نئی راہ متعین کرنے کا ذریعہ ہے۔۔۔ یعنی اب ایسا نہیں ہوگا کہ فوج یا تو بالکل تابع ہو یا پھر مارشل لا لگا کر ملک پہ قبضہ کرلے بلکہ شائد غیراعلانیہ طور پہ فوج اب ترک ماڈل کی پیروی کرے گی جس میں وہ حکومت کا ایک مستقل حصہ رہنا چاہتی ہے بغیر کسی غیرقانونی اقدام کیے۔۔۔۔ (ہمارے لیے بہرحال یہ بھی ایک بہت خطرناک بات ہوگی کہ جس وقت بھی کوئی کمزور آرمی چیف آیا پورا ملک داو پہ لگ سکتا ہے، اور ہم وقت کے بھٹو کو پھانسی پہ چڑھا کہ پھر صدیوں پیچھے جاسکتے ہیں)۔۔ یہ دھرنا چاہے پرامن طور پہ ختم ہوتا یا تشدد سے، دونوں صورتوں میں دھرنا اپنا مقصد حاصل کرلیتا کہ آئندہ انتخابات میں ایک مقبول ٹرینڈ کاخاتمہ کردیاجائے۔۔۔ اور شائد تشدد کے ذریعے یہ زیادہ بہتر طور پہ حاصل کرلیاگیاہے کہ آئندہ انتخابات میں اپ کو مذہبی جماعتوں کے ایک اور اتحاد کا بھی سامنا ہوگا۔۔ آپ تاریخ پڑھ کہ دیکھ لیں یہ کارڈ ہر اس موقع پہ کامیابی سے استعمال ہوا جہاں خفیہ ہاتھوں کو ایک مقبول حکومت یا ایک ٹرینڈ کا خاتمہ مقصود تھا۔۔۔ ایوب خان کو سٹیپ ڈاون کرانا ہو یا بھٹو جیسے عوامی لیڈر کو لٹکانا۔۔ بی بی کوہٹانا ہو یا مظلوم ن لیگ کو پٹوانا ہو،، اسٹیبلشمنٹ نے اپنی چالوں میں اسئ کارڈ کو استعمال کیا ہے۔۔۔ اب بھی حسب معمول یہ لوگ شہروں میں تو کم، لیکن دیہاتی علاقوں میں ہر سیاسی پارٹی کے ووٹ بینک پہ کاری ضرب لگا سکتے ہیں اور یہی حاضر سروس اسٹیبلشمنٹ کی خواہش بھی ہوگی کہ آئندہ انتخابات میں کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت سے حکومت نہ بناسکے۔۔ اور کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا والا حساب تاکہ ان کو آنکھیں دکھانے کی ہمت کوئی نہ کرے۔۔۔ سو آئندہ دنوں میں نوے کی دہائی جیسی سیاست ہونے جارہی ہے جو ہمارے ملک کے لیے یقینا سودمند نہیں۔۔۔۔ ویسے جاتے جاتے ان “تجربہ کاروں ” کو بھی سلام جو ایک آسان سچوئیشن کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کے چکر میں لٹ گئے۔۔۔۔ واقعی ایسے “تجربہ کاروں” کےساتھ ہونا بھی یہی چاہیے تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: