ابنِ حوا : ابن فاضل

0
  • 85
    Shares

انسانوں کا اسقدربڑا اجتماع اس نے آج پہلی بار دیکھا تھا۔ اولادِ آدم کا اتنا ہجوم ,خدا کی پناہ تا حدِ نگاہ لوگ ہی لوگ سر ہی سر۔ یہ میں کہاں ہوں اس نے گھبرا کر سوچا۔ کچھ دیر بعد جب تھوڑے اوسان بحال ہوئے تو ارد گرد کا جائزہ لینے لگا۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں میں ایک بھی شناسا ایک بھی اپنا دکھائی نہ دیا۔ میں کہاں ہوں, کیا ہورہا ہے یہاں,اس بار اس نے بلند آواز میں پکارا۔ لیکن جیسے کسی نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ تب اس نے غور کیا۔ ارے یہ کیا یہ تو سب کے سب غیر ملکی ہیں۔ کوئی گورا کوئی کالا, کوئی عربی ۔ ۔ جبھی تو کوئی اس کی بات سمجھ ہی نہیں پایا تو جواب کیسا۔ یکا یک اس کو سخت گرمی کے احساس نے ستایا۔ اس نے اپنی سفید قمیض کا اوپری بٹن کھول کر گریبان کو دو چار بار آگے پیچھے حرکت دیکر کچھ ہوا پیدا کرنے کی کوشش کی اور ایک لمبی سانس لی۔ اب اس کو پیاس بھی محسوس ہونا شروع ہوگئی تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا کہ کہیں کوئی ٹھیلا یا ریڑھی وغیرہ نظر آئے جس سے وہ پانی کی بوتل یا جوس کاڈبہ وغیرہ خرید لے اور پیاس بجھانے کا کچھ سامان کر سکے۔ ادھر ادھر نظریں گھمانے کے ساتھ ساتھ وہ غیر ارادی طور پر اپنی جیبیں بھی ٹٹول رہا تھا۔ لیکن اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب اس کو اندازہ ہوا کہ اس کی تمام جیبیں خالی ہیں۔ وہ اور بھی گھبرا گیا۔ دفعتاً اس نظر اپنے گلے میں پڑے سفید ربن پر پڑی جس کے آخری سرے پر ایک بیج تھا جس پر درج تھا ‘ابنِ حوا’۔ وہ حیرت سے کچھ دیر اس بیج کو خالی نظروں سے تکتا رہا مگر کچھ بھی سمجھ نہ پایا۔

پھر جیسے اس کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا اور اس کو کچھ کچھ یاد آنا شروع ہوگیا۔ اس کو یاد آرہا تھا کہ اس کہ اس کو دل کا دورہ پڑا تھا اورسینےمیں اسقدر شدید درد تھا جیسے کسی نے دو پھل والا تیز دھار خنجر اس کے سینے میں اتار دیا ہو۔ اور پھر اس کے بیٹوں نے اسے کھینچ کر گاڑی میں ڈالا تھا اور اسپتال کی طرف دوڑ لگائی۔ لیکن راستہ میں ہی وہ شاید بےہوش ہوگیا تھا ۔ ۔ نہیں نہیں ۔ ۔ وہ بیٹے, بیٹیوں, پوتے پوتوں کی رونے چلانے کی آوازیں …۔ اس نے جوش سے سر ہلایا جیسے سب سمجھ میں آگیا ہو……۔ ساتھ ہی اس کے ہونٹوں پر کشادہ مسکراہٹ پھیل گئی اور چہرے پر جیسے طمانیت کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔  یکا یک اس نے دیکھا کہ سب لوگ ایک طرف بھاگنا شروع ہو گئے ہیں وہ بھی ان سب کے ساتھ اس طرف ہو لیا۔ بھاگتے بھاگتے وہ ایک جگہ پہنچے جہاں بہت سی بیحد لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں, کچھ دیر توقف کے بعد وہ بھی ایک قطار میں لگ گیا۔ اسے لگا کہ جیسے ہزاروں سال سے قطار میں لگا ہے۔ گرمی اور پیاس نڈھال کیے دے رہی تھی۔ تبھی اسے یاد آرہا تھا کہ کیسے اس نے بیحد خوشحالی کے باوجود نہایت اچھی اور نیک پاک زندگی بسر کی ۔ فرائض کی گونا گوں پابندی کے ساتھ نوافل کا بھی معمول رہا۔ یہی نہیں بلکہ صدقہ و خیرات کا بھی خاطر خواہ اہتمام رہتا، بیشتر حج اور عمروں کی تو تعداد بھی یاد نہیں اور نہ یہ یاد تھا کہ کبھی کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہو یا کسی کا حق کھایا ہو۔ بلکہ حتی الامکان لوگوں مدد ہی کی، آسانیاں ہی تقسیم کیں۔

وہ جس قطار میں کھڑا تھا وہ رینگتے رینگتے آخر کار ایک بہت بڑی سفید عمارت میں داخل ہوئی۔ عمارت کے آخری سرے پر بڑے سے سفید چوبی میز کے پیچھے ایک سفید پوش باریش مستعد نوجوان کھڑا تھا، جو اپنے پاس پہنچنے والے ہر شخص کا بیج پکڑتا، اسے الٹا کر دیکھتا اور اپنے پیچھے موجود قدِآدم الماری میں سے ڈھونڈ کر ایک فائل نکال کر اس شخص کو تھماتے ہوئے عمارت کے دائیں اور موجود بہت سے دروازوں میں ایک کی طرف اشارہ کرتا۔ اور وہ شخص فائل اٹھائے میکانکی انداز میں بتلائے گئے دروازے میں سے گذر کر غائب ہو جاتا۔

باری آنے میں ابھی خاصی دیر تھی۔ سو وہ پھرکتابِ ماضی کے اوراق کھنگالنے لگا۔ کیسے وہ اپنی بڑی سی گاڑی میں صبح ہی فیکٹری پہنچ جاتا۔ اس کی فیکٹری کی چمنی سیاہ کثیف دھواں اگلتی دور سے ہی دکھائی دے جاتی اور اس کا سینہ فخر سے پھول جاتا۔ اسی طرح واپسی پر بھی جاتے ہوئے وہ بیک مرر میں دیر تک گھاڑے سیاہ دھویں کے مرغولے ہوا میں گھلتے دیکھ کر خوش ہوتا رہتا۔ حالانکہ بارہا اسے محکمہ ماحولیات کے افسروں نے سمجھایا کہ زہریلا دھواں بہت سی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے مگر وہ ہر بار انہیں موٹا سا لفافہ تھما کر خاموش کرا دیتا۔ اسے لگتا تھا یہ دھواں اس کی خوشحالی ہے اس کی خوش بختی ہے۔

اب وہ سفید پوش شخص کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ قطار میں اس سے آگے موجود دو حضرات کو سفید اور سبز رنگ کی فائلیں ملی تھیں اوران کو بالترتیب سفید اور سبز دروازوں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اب یہ سفید پوش کے روبرو تھا۔ اس نے اس کا بیج پکڑا، اسے الٹا کیا۔ بیج کی پچھلی طرف کوئی بارہ ہندسوں کا ایک عدد لکھا تھا۔ جسے دیکھتے ہی سفید پوش اپنے پیچھے رکھی الماری کی طرف بڑھ گیا۔ چند ثانیوں کے بعد جب وہ مڑا تو اس کے ہاتھ میں ایک سرخ رنگ کی فائل تھی جو اس نے آتے ہی اس پکڑا دی اور ساتھ ہی آخری نکر میں لگے سرخ دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ اسے لگا کہ جیسے یہ خود بخود میکانکی انداز میں سرخ دروازے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پھر دروازے کی دوسری طرف جاتے ہی اس نے تجسس سے فٹا فٹ فائل کھولی۔ ایک طرف اس کی تصویر لگی تھی جس کے نیچے لکھا تھا ‘ابنِ حوا’ اور ساتھ ہی بارہ ہندسوں والا وہی عدد۔ جبکہ فائل کے دوسری طرف سفید صفحے پر سرخ روشنائی میں جلی حروف سے درج تھا ‘ساڑھے سات قتل’۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: