فیض آباد دھرنا: محمد خان قلندر

1
  • 101
    Shares

ہوا آخرکار وہی جو ہونا تھا۔ رینجرز نے چند گھنٹوں کے اندر معاملہ نپٹا دیا۔ جسے پوری وفاقی حکومت اور پنجاب کے نمبردارگزشتہ تین ہفتوں کی محنت شاقہ سے اس نہج پرلے آئے تھے کہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ چکا تھا اور کاروباری زندگی معطل ہو چکا تھا. اس سارے قضیئے کے محرکات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کس طرح دو ڈھائی ہزار بندوں نے نون لیگ کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو بے بس کئے رکھا۔ کیا یہ حکومت کی ایماء پر ہورہا تھا؟ اور اس میں دونوں حکومتوں کی منشاء شامل تھی کہ ملک مکمل انارکی کا شکار ہو جائے یا یہ قرین قیاس ہے کہ حکومت بالکل مفلوج ہو چکی ہے کیونکہ اس کی اتھارٹی کے مرکز کا کوئی وجود ہی نہیں نظر آیا اور اگر یہ قیافہ درست ہے تو ہم اس مقام تک کیسے اور کیونکر پہنچے ہیں؟

اس کے لئے گزشتہ دو عشروں کے تدریجی زوال کا جائزہ لینا سود مند ہو گا، تو آئیے آج حق کی، سچ کی بات سے انصاف کریں۔ اقتدار حاصل کرنے کے پرانے مروجہ طریقے تین ہی ہیں: طاقت، سیاست اور تجارت۔ دنیا بھر میں فاتحین نے طاقت سے حکومت قائم کی، بادشاہ بنے اور ان کے وارثان میں بھی طاقتور ہی حکمران بنے۔ محلات اور دربار میں سیاسی جوڑ توڑ ہوتا رہتا، ملکہ، وزیر اور پیادے مل گے اور سیاست کے کھیل سے حکمران بدل دیئے جاتے رہے۔تجارت سے مال کمانے کے لئے دوسری سلطنت میں کاروباری تعلقات پیدا کئے گئے، اور مال کے زور پر لوگوں کو ساتھ ملا کے امور مملکت پر قبضہ حاصل کیا گیا، اس سے فائدہ اٹھا کے مزید دولت لوٹی گئی اوراس دولت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کیا گیا۔ اس تناظر میں ہم اپنے ملک کے موجودہ تین ادوار کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم اس مقام تک پہنچے کیسے؟

چنانچہ بات مشرف صاحب سے شروع کرتے ہیں کہ جب انہوں نے طاقت سے اقتدار پر قبضہ کیا، جائز اور ناجائز کی بحث چھوڑ کران کی ڈکٹیٹر شپ میں، بظاہر بہتر مالیاتی ڈسپلن کے باوجود ملکی کی مجموعی صورت حال دگرگوں رہی، مذہبی دہشت گردی کے علاوہ ادارے بشمول فوج، عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کمزور ہوتے گۓ۔ ان کے دور کے دو اور تحفے سترہویں ترمیم اور Despondency, یعنی مکمل مایوسی تھے جن کا استفہامی انداز میں ذکرجنرل صاحب خود کرتے تھے۔ دوسرا دور آصف علی زرداری کی حکومت کا تھا، جو انہیں سیاست کی وجہ سے ملی، جوڑ توڑ، اور توڑ پھوڑ کا یہ دور ہچکولے کھاتا رہا۔ فوج اور عدلیہ کے معاملات بصد خرابی بصیار کے بعد بہتری کی طرف رو بہ سفرہوئے، اکانومی میں مزید بدتری تو رک گئی لیکن سوائے زراعت کے اس میں بہتری نہ آسکی، ان کمزوریوں کے باوجود اٹھارویں ترمیم سے اداروں میں استحکام پیدا ہونے لگا، اور صوبائی یکجہتی اورہم آہنگی میں پنجاب کی بالا دستی کے باوجود سدھار پیدا ہوا، ڈکٹیٹر شپ سے جمہوریت کی طرف سفر شروع ہوا۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نُون لیگ کے ارکان اسمبلی اور ان کی قیادت امور سلطنت کو چلانا تو درکنار اس کے رموز ریاست کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ عوام کے بنیادی مسائل کی صورت بہت ابتر رہی  حکومت کا وجود، میڈیا پر میگا پراجیکٹس کے افتتاح اور کسی نہ کسی سنگین بد انتظامی یا بدعنوانی کے تذکروں کے سواۓ کہیں نہیں تھا۔

عدلیہ اور فوج کی بالا دستی کی کاوشوں کی موجودگی میں اور ایک منتخب وزیر اعظم کو ان کی بھینٹ چڑھا کے، یہ دور پورا ہو گیا۔ تیسرا دور تیسرے طریقے کے استعمال سے شروع ہوا، شریف دور کی بنیاد ان کی گزشتہ پینتیس سال میں کسی نہ کسی طور اقتدار میں رہ کے ملکی وسائل سے خاندانی تجارت اور کاروبار کو ترقی دے کر بے تحاشہ دولت جمع کر کے اس کے زور پر الیکشن کی جیت ہے۔ مالیاتی امور کی ابتری پران کے اقتدار میں ہونے کی وجہ سے پردہ پڑا رہا، ادارے اور حکومتی نظم مشرف دور سے بھی بدتر شخصی آمرانہ طور چلتا رہا۔ فوج کے دہشت گردی کم کرنے کے باوجود ادارے کمزور ہوتے گۓ۔ عوام کے بنیادی مسائل کی صورت بہت ابتر رہی حکومت کا وجود میڈیا پر میگا پراجیکٹس کے افتتاح اور کسی نہ کسی سنگین بد انتظامی یا بدعنوانی کے تذکروں کے سواۓ کہیں نہیں تھا۔ پہلے دو سال اس حکومت نے چار حلقوں میں الیکشن کی دھاندلی کے مسئلے کو جو اپوزیشن کے ساتھ باہمی افہام و تفہیم سے اسمبلی کے اندر چار دنوں میں حل ہو سکتا تھا اسے بھی اپنی ہٹ دھرمی اور نااہلی یا وقت گزاری کے لئے ایک طویل دھرنے کی مہم میں بدلوا دیا تھا۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس گردی میں بندے مارنے کے عوامل پر پنجاب حکومت تا حال پردہ ڈالے ہوئے ہے مزید برآں عدالتی مداخلت کے باوجود انکوائری کمشن رپورٹ تا حال مخفی ہے۔

اس دوران پنامہ کیس میں میاں نواز شریف نااہل ہو گئے، انہوں نے بجائے اس فیصلے میں دی گئی رعایت کہ عدالت عالیہ نے ان کی حکومت کی برطرفی اور نئے الیکشن کا حکم دینے سے گریز کیا۔ بجائے اس کی قدر کرنے کے عدلیہ سے تصادم کی راہ اپنائی، فوج نے ان کے اس دور میں ان کے شاہانہ طرز حکمرانی کے باوجود تعاون اور براہ راست حکومت میں مداخلت سے گریز کی پالیسی اختیار کئے رکھی۔ لیکن میاں صاحب نے اپنے خلاف نیب کیسز میں، عدالت میں اپنا دفاع کرنے کے بجاۓ ٹکراؤ اور مہم جوئی کا وطیرہ اپنایا۔ پارٹی میں جمہوری طریقے سے نئے لیڈر کے انتخاب کرانے کی جگہ ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی۔ اسمبلی سے سپریم کورٹ سے نااہلی کو غیرمؤثر کرنے کے لئے خود کو نُون لیگ کی صدارت کا اہل ہونے کی ترمیم کروائی جس پرممکنہ ردعمل کے تدارک اور کسی نامعلوم مصلحت کے تحت آئین میں موجود ختم رسالت صلعم کے حلف میں قادیانی مختص شقیں بھی تبدیل کرا کے اسی ترمیم میں منظور کرا لیں اب ان کی سیاسی پارٹی کی متنازعہ صدارت کی بجائے رد عمل ختم رسالت صلعم کے مسئلے پر پیدا ہوا۔ اسے خفت کے ساتھ واپس لینے کے باوجود اس پر عوامی احتجاج شروع ہوا اب اس سے نپٹنے کی بجائے، دو ہفتے اسے فوج کی ہلہ شیری کے کھاتے ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نُون لیگ کے ارکان اسمبلی اور ان کی قیادت امور سلطنت کو چلانا تو درکنار اس کے رموز ریاست کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ کوئی بھی انتظامی مسئلہ درپیش ہو تو پہلے رعونت سے اس کے وجود سے انکار کرتے ہیں پھر اسے کسی ریاستی ادارے کی سازش قرار دیتے ہیں  پھر حالات  مزید بگڑتے دیکھتے ہیں تو اسے عدالت کے گلے ڈال دیتے ہیں۔

عقیدہءختم نبوت صلعم ہمارے مذہب کی اساس ہے۔ بلا تفریق و مسلک یہ بہت حساس عقیدہ ہے چنانچہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے اس کی نشانی اور یاد دہانی ہیں۔

فیض آباد دھرنے کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر وزراء کا جاتی عمرا کے محل میں تین گھنٹے نواز شریف کے دربار میں حاضری دینا سخت معیوب انتظامی بدعنوانی کی مثال رہی بالکل ویسے جیسے کابینہ سمیت لندن جا کے نواز شریف  اوران کے خلاف کیسز پر جس میں بطور سربراہ حکومت وہ ریاست کی طرف سے بطور مدعی ذمہ دار ہیں  تب انہی سے مشاورت کرنا اور ہدایات لینا آئینی حلف کی خلاف ورزی تھی۔ دونوں صورتوں میں ملزم اورخرابی پیدا کرنے والے شخص سے عملی تعاون، وزیراعظم کے منصبی فرائض کے خلاف امر ہے۔ جس کے نتیجے میں حکومت کی رٹ ہی ختم ہو چکی ہے۔ جمہوری حکومت تو اپنے اخلاقی جواز پر ہی قائم ہوتی ہے اور عدل پرچلتی ہے۔ عدل کا مفہوم ہر شے کا اس کے صحیح مقام پرواقع ہونا ہے۔ عدل کے مقابل ظلم ہے فرمایا گیا کہ “کفر کے نظام کی حکومت چل سکتی ہے ظلم کے نظام کی نہیں۔”

فیض آباد کا دھرنا تو امید ہے آج رات تک سمٹ جائے گا۔ لیکن ملک میں انارکی کی جو فضا پھیل چکی ہے وہ موجود رہے گی۔ کیونکہ یہ ایک ابتداء بھی بن سکتی ہے۔ عقیدہءختم نبوت صلعم ہمارے مذہب کی اساس ہے۔ بلا تفریق و مسلک یہ بہت حساس عقیدہ ہے چنانچہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے اس کی نشانی اور یاد دہانی ہیں۔ اگر یہ فضا برقرار رہتی ہے جس کا قوی امکان ہے تو نُون لیگ کے اکابرین، ممبران اسمبلی اور دیگر ورکرز کے لئے مشکلات ہوں گی۔ نواز شریف کی نُون لیگی صدارت سے ملحق اس ترمیم اور گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں اس کے مخالف بل پر نواز شریف کے حق میں ووٹ دینے والے ارکان اسمبلی کے لْۓ اب اور اگلے الیکشن میں اپنے حلقوں کے ووٹرز کا سامنا کیسے کریں گے؟  سیاسی جماعتیں اس صورتحال میں مقبول امیدوار کیسے سامنے لا سکیں گی؟ گویا صورت حال مخدوش اور کشیدہ ہوتی جاۓ گی۔

مہذب ممالک میں جمہوری طرز حکومت میں پارلیمنٹ جمہوریت سے بنتی ہے اور جمہوریت پارلیمنٹ سے پنپتی ہے۔ حکومت بھی پارلیمنٹ سے بنتی ہے اور کامیاب حکومت چلتی بھی پارلیمنٹ کی طاقت سے ہے۔ اب جب پارلیمنٹ سے ہی کابینہ بنتی ہے جو اپنے سربراہ سمیت پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوتی ہے ۔ مملکت کے سارے امور پارلیمان کے زیر نگرانی سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہی قوم کے اجتماعی شعور کا مظہر ہوتی ہے۔

اگر عنان حکومت پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے کسی شخص کے ہاتھ میں ہواور وہ شخص بھی ایسا جسے ملک کی اعلی ترین عدالت اس پالیمنٹ کا ممبر بننے سے ہی نااہل قرار دی چکی ہو تو یہ ماورائے آئین ڈکٹیرشپ ہو گی۔ مزید ہماری اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ہمارے دونوں ایوان پارلیمنٹ کے لیڈرآف ہاؤس اور لیڈر آف اپوزیشن پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے  دو اشخاص کےکٹھ پتلی ہرکارے ہیں۔ یہی دونوں اکثریتی پارٹیوں پ قابض شخصیات اپنی خاندانی گرفت کو مضبوط رکھنے اوراسے اپنی اولاد کو منتقل کرنے کی کاوش کو باقی ملکی مسائل سے قطع ء نظر پہلی ترجیح سمجھتے ہیں اس پورے تناظر میں یہاں دو ڈھائی ہزاربندے اٹھ کر پورا ملک آرام سے بند کرا دیں تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

ہمارے تو تمام ارکان سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران ان ہاوسز کو تنخواہ، مراعات، سہولیات حاصل کرنے کا وسیلہ سمجھتے ہیں، یہ ان کے لئے ایسے تفریح کلب ہیں جہاں سے وہ اپنے ذاتی مفادات، اپنے حلقے میں اپنے معتمد افسران کی تعیناتی اوراپنے معتبر حواریوں کے لئے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لئے جمہوریت الیکشن جیتنے تک محدود ہے۔ رہی ہماری عوام مجبور ہے یا از خود مقہور یہ معلوم نہیں تاہم یہ بھی پتہ نہیں کہ لوگ ان ہی لوٹوں کو بار بار ووٹوں سے کیوں نوازتے ہیں؟ ان عفریتوں سے جان چھڑانے کی سعی کیوں نہیں کرتے؟  شائد یا اگران کے لئے ممکن نہ ہو تو پھر روتے کیوں ہیں ؟

واللہ اعلم۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: