مارکس کی آرزوئے خام ۔ ایک نقد: ذوالنورین سرور

0

جون جدا تو رہنا ہو گا، تچھ کو اپنے یاروں بیچ
یار ہی تو یاروں کا نہیں ہے، یاروں کا استاد بھی ہے۔

ابوبکر جانی کے لئے یہ موزوں اور میرا ان کے لئے پڑھنا موزوں تر ہے… اس وقت موضوع میرا اور ابوبکر کا ذاتی تعلق نہیں ہے بلکہ ابوبکر بطور استاد یا بطور لکھاری ہے… ابوبکر بطور استاد جتنا دلفریب اور جاذب ہے بطور لکھاری اتنا ہی سادہ اور بے تکلف ہے… اس کی تحریر، اس کی شخصیت کی سچی تصویر ہے جو تصنع، علمیت کے رعب اور بھرتی کے فقروں سے بالکل پاک ہے. وہ اتنی ہی بات کہتا ہے جتنی وہ کہنی چاہتا ہے… ایک صاحب الرائے، جس کا علمی رویہ ثقہ ہے اور اس پر گرفت کرنی آسان نہیں… اس نے سرسید کے دو سو سالہ جشن کے حوالے سے ایک تحریر لکھی ہے جس کا موضوع سرسید پر ہونے والے علمی مباحث ہیں. یہ اس تحریر پر ایک دوستانہ نقد ہے…

یہاں سب سے زیادہ جس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ بڑا آدمی بھی انسان ہی ہوتا ہے… ہر انسان کی زندگی میں غلط کام یا موقف موجود ہوتے ہیں… بڑا آدمی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بشری کمزوریوں سے مبرا ہے… اس کی ایک تحریر یا موقف کو اس کی زندگی بھر کی کاوشوں کا نمائندہ قرار دینا ایک مریضانہ رویہ ہے جس سے پرہیز لازم ہے…

اب ہم موضوع پر آتے ہیں کہ ابوبکر نے نفس مضمون مارکس کی ہندوستان پر تحریروں کو بنایا ہے… یہ کل تینتیس آرٹیکلز ہیں جو 1853سے 1858 تک New York Tribune میں شائع ہوئے… ان میں سے دو آرٹیکلز “The British Rule in India ” اور”  The Future Results of British Rule in India “ بہت زیادہ اہم ہیں…

“تباہی برائے تخلیق” کا نظریہ مارکس نے ان تحاریر میں ہی پیش کیا۔ وہ استعمار کی کارگزاریوں سے اچھی طرح واقف تھا۔ اسے برصغیر کی معاشی اور سیاسی صرتحال کا بھی بخوبی اندازہ تھا۔ اس بناء پر اس نے واشگاف الفاظ میں انگریزوں کو ہندوستان کی تاریخ کے بدترین حملہ آور قرار دیا۔ ایک اور بات جس کا یہاں پر بیان ضروری ہے وہ یہ کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں جدیدیت کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں اور انھوں نے لازمی طور پر کچھ نظریات اپنے جد سے حاصل کئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک بہت اہم چیز اصول تاریخ بھی ہے۔ یہ تاریخ کے خطی بہاؤ پر یقین رکھتے ہیں۔ اس وقت اس زاویہ نظر پر تنقید مقصود نہیں بلکہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جدیدیت کے اساسی نظریات میں سے ہے اور نشاتہ الثانیہ کی پیداوار ہے۔ تاریخ ظاہر ہے، اس سے بہت پہلے سے بطور نظریہ اور تجربہ انسانوں کے پیش نظر ہے جس کا یہ یقینی مطلب ہے کہ اس سے اختلاف رکھنے والے لوگ بھی موجود ہوں گے سو اگر کوئ شخص یا گروہ اس کے مخالف کوئ نظریہ رکھتا ہے تو اچنبھے کی بات بالکل نہیں…

سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں جدیدیت کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں اور انھوں نے لازمی طور پر کچھ نظریات اپنے جد سے حاصل کئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک بہت اہم چیز اصول تاریخ بھی ہے۔

اس نظریئے کی بنیاد پر ہی مارکس نے یہ حکم لگایا کہ ہندوستانی معاشرہ (ہر معاشرہ جو انسانی ہونے کا دعویدار ہو) بالکل یورپین معاشرہ جیسا ہے جو محض “ارتقا” میں کسی نچلے درجے کی سطح پر موجود ہے لیکن جلد یا بدیر اس نے اسی سطح پر پہنچنا ہے جہاں اس وقت کا یورپ موجود تھا… گویا یہ کوئی سیاسی، تاریخی، سماجی جدلیات سے پھوٹنے والا پیچیدہ مظہر نہیں ہے بلکہ ایک “فطری” نتیجہ اور امر واقعہ ہے جس نے جلد یا بدیر آخر ہونا ہی ہے… اسے مارکس انسانیت کی تقدیر قرار دیتا ہے۔ میں مارکس کا معتقد ہوں۔ سرمایہ داری پر اس کی تنقید کو انسانیت کا عظیم سرمایہ سمجھتا ہوں۔ اس وقت صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ اس کے پیش نظر جو تہذیبی نمونہ تھا وہ اسی کو معیار بنا کے ہندوستانیوں کے زمینی حقائق جوڑنے، بیان کرنے اور پھر پیشن گوئ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پیشن گوئیوں کی حد تک تو شاید ہی کوئ انسان مارکس کو درست قرار دینے کی کوشش کرے لہزا اب بات کرتے ہیں اس کے بیان کردہ اجزاء کی۔ ابوبکر نے تقریباً ہندوستان کی ساری تاریخ کے بارے میں مارکس کا موقف بیان کر دیا ہے ماسوائے ایک فقرے کے اور وہ یہ ہے کہ ہندوستان کی کوئ معاشرتی تاریخ ہے ہی نہیں…

ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ مارکس غلط کہ رہا ہے یا صیح… ہم بات زیر بحث تحریر کی کرتے ہیں جس میں مارکس کی تفہیم کے بیان میں غلطی ہوئ…

تاریخ پر اس ساری تقریر کا حاصل یہ ہے کہ مارکس نے بس یہ لکھا ہےکہ برصغیر میں صرف فاتحین ہی آیا کرتے تھے… اب کی بار کچھ بہتری آئ ہے کہ آنے والے ریل گاڑی بھی لائے ہیں، مواصلات کا نظام بھی بہتر ہو رہا ہے… جبکہ دراصل مارکس سوشلسٹ انقلاب کے لئے پر امید تھا، جو نہ ہو سکا… مارکس آگے چل کر اپنے آرٹیکل میں لکھتا ہے کہ یہ تاریخ کا اصول ہے کہ بادشاہ اپنے غلاموں کے مذہب میں تبدیل ہو جایا کرتے ہیں… اس سلسلے میں اس کے مطابق برطانوی استعمار اپنی تہذیبی برتری کی بنیاد پر استثنا حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے… ہندوستان کی تاریخ میں دین الہی کے واقعہ سے صرف نظر صرف اسی صورت ہی ممکن تھا کہ یہ پہلے ہی کہ دیا جاتا کہ ہندوستان کی تو کوئ سماجی تاریخ ہے ہی نہیں۔

جدید تہزیب کی سب سے بھیانک کامیابی یہ ہے کہ یہاں خام مال سے مراد فرد ہے جو سیاسی بندوبست اور سرمائے کی ضرورت کے مطابق علمی کارخانے میں فرمائش پر تیار کیا جاتا ہے۔ ہاری ہوئی پوری تہزیب ٹکٹکی باندھے اس کارخانے کا دروازہ کھلنے اور جنموں کے پاپ دھلنے کی امید میں قطار بنائے منتظر ہے

مارکس کا اصل مقصد انگریزوں کو ہندوستان کی فتح پر داد دینا یا غلامی کو ہندوستانیوں کی “نااہلی” کی درست سزا قرار دینا ہرگز نہ تھا…وہ بلکہ اس امید پر تھے کہ استعمار کی پالیسی جو ہندوستان سے زیادہ سے زیادہ لوٹ کھسوٹ کی ہے، اس سے پیداواری کے ضمن میں ایسی سیاسی اور سماجی حرکیات سامنے آئیں گی، جن کے نتیجے میں صنعتی مزدوروں کی ایک کھیپ بنے گی اور وہ ایک دن انقلاب لے کر آئیں گے… یہ امید خام ہی سہی مگر اس میں 1857 کی ناکام بغاوت پر سرسید کی طرح ناشکرے ہونے کا طعنہ تو شامل نہیں ہے۔

دل نا امید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے…

مارکس اس امید کا بھی اظہار کرتا ہے کہ سرمایہ داری جس معاشرت کو جنم دے گی، اس میں جاگیردارانہ نظام کے لئے کوئ جگہ نہ ہو گی لیکن کیا ایسا ہو سکا ؟؟؟ جاگیردارانہ نظام تو برقرار رہا ہی، ذات پات کے نظام کو بھی سامراج نے ہندوستان میں مزید مضبوط ہی کیا. گاؤں کی وہ اکائی جس کے خاتمے سے سیاسی مرکزیت بڑھنے میں مدد ملنی تھی اور اس نے عہد جدید کے لئے نقطہ آغاز بننا تھا،وہ جبر و استبداد کے نئے نظام میں بھی اسی صفائ سے استعمال ہوئ… انگریزوں نے ذات پات کی بنیاد پر ہی زمینوں جاگیروں (دیہاتوں) کی تقسیم کی…

دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ صنعت وحرفت کی بنیاد پر بننے والے نئے سماجی بندھنوں نے وہ انقلابی گروہ تو نہ پیدا کئے جو بقول مارکس انگریزوں کی غلامی کا جوا ہندوستان کے گلے سے اتار پھینکتے بلکہ ایک ایسی اشرافیہ پیدا کی جو مغربی تمدن کی دلدادہ تھی اور ہندوستان کے باشندوں، ان کی تاریخ، تہزیب کے بارے میں عین وہی موقف رکھتی تھی جو برطانوی استعمار کا تھا… اس موقف کا بیان لارڈ میکالے کے منٹ میں پوری صراحت سے موجود ہے کہ کیسے ہندوستان بلکہ مشرق کی تمام زبانیں اور ان میں موجود سارا لٹریچر لغو ہے… میکالے کا منٹ تو ایسا تاریخی واقعہ ہے جس کا انکار کرنا سچ میں ایک حوصلے کا کام ہے… ریسرچ آرٹیکلز موجود ہیں… میکالے بذات خود ایک تاریخ دان تھا جس نے کئ کتابیں لکھی ہیں یہ کوئ جذبات میں کی گئ تقریر تو تھی نہیں… ایک واضح سوچ کا تسلسل تھا… مزید یہ کہ استعمار کی پالیسی کے عین مطابق تھا، اس کا انکار کرنا بہت ہی افسوس ناک ہے… یہ ٹھیک ہے کہ ساری تاریخ آپ کے نظریات سے لگاؤ نہیں کھاتی لیکن ایک خبر جو تواتر کے ساتھ آ رہی ہے اور تمام شواہد و براہین سے ثابت ہے اس کے وجود سے انکار تو کسی طور ممکن نہیں… Percival spear کی کتاب bentinck and education دیکھیں جس میں وہ یہ بحث کر رہا ہے کہ میکالے کی بہت زیادہ تعریف کی گئ ہے مزید کہتا ہے کہ اس تعریف سے کیا کوئ یہ کہنا چاہتا ہے کہ گویا میکالے نہ ہوتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا…وہ وضاحت سے بیان کرتا ہے کہ کیسے قانونی دلائل کی کمی جذباتیت سے پوری کی گئ… Udey Singh Mehta کی کتاب liberalism and Empire دیکھیں جس میں استعمار کے اہداف اور طریقہ کار کی میکانیت بیان کی گئ ہے…

اتنے تحقیقی جرائد شائع ہو چکے ہیں، شکاگو یونیورسٹی پریس اور آکسفورڈ پریس اس کو چھاپ رہے ہیں… اب محض کسی زاویہ نگاہ کی سہولت کی خاطر ایک چیز کو تاریخ سے گم تو نہیں کیا جا سکتا !!!

تیسری بات یہ ہے کہ مذہبی اور روایت پسند کا جو علمی التباس اس تحریر میں پیدا کیا گیا ہے، اس کی تفصیل میں تشنگی رہ گئ ہے اور مجھ ایسے ناقص العقل کے ہاتھ کچھ بات نہیں آئ۔ ان دونوں کے فرق پر اگر کچھ بنیادی نوعیت کی تنقید کر دی جاتی تو بہتر تھا۔آخر میں بھی تو ساری کہانی ہند اسلامی تاریخ کے چاہنے والوں پر ہی آ گئ ہے۔ اگر شروع سے ہی ہند اسلامی تاریخ کو مخاطب کر کے بات کی جاتی تو شاید زیادہ مناسب تھا…

چوتھی اور اہم بات یہ ہے کہ ہم سخن (Interlocutor ) سے بات کرتے ہوئے کچھ مسلمات کا خیال رکھنا لازم ہے، یعنی جب گفتگو ہو گی تو طرز استدلال کا مشترک ہونا ضروری ہے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کم از کم وجود تو ماننا ہی پڑے گا جسے آپ شرف کلام بخش رہے ہیں۔۔ جدید تہزیب کی سب سے بھیانک کامیابی یہ ہے کہ یہاں خام مال سے مراد فرد ہے جو سیاسی بندوبست اور سرمائے کی ضرورت کے مطابق علمی کارخانے میں فرمائش پر تیار کیا جاتا ہے۔ ہاری ہوئی پوری تہزیب ٹکٹکی باندھے اس کارخانے کا دروازہ کھلنے اور جنموں کے پاپ دھلنے کی امید میں قطار بنائے منتظر ہے۔ ایسے میں اگر چند اصحاب ‘خام حالت’ میں اس کارخانے کے سایہ دیوار میں بیٹھے حق ہو کر رہے ہیں تو ان سے بھی غالب تہزیب کی عین مراد پر ڈھل جانے کے لئے قطار میں لگنے کا مطالبہ کیا اتنا ہی ضروری ہے ؟؟؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: