دھرنا ۔ حکومت نے کیا کھویا کیا پایا: ثمینہ رشید

0

دھرنا کیا شروع ہوا کئی بیانات، کئی باتیں اور کئی تجزیئے سامنے آئے۔

کسی کو دھرنے میں اسٹیبلشمنٹ کی سازش نظر آئی تو کسی کو دھرنے والے ہی سازشی لگے۔

بد قسمتی سے یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ملک میں سموگ اور ڈینگی کے پیچھے بھی اسٹیبلشمنٹ کی ہی سازش نظر آتی ہے۔
کسی کو لگتا ہے کہ این اے 120 کے الیکشن کے رزلٹ نے خادم حسین کو اتنی ہمت دی کے انہوں نے حکومت کے عطا کردہ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے کم وقت میں سیاسی شہرت حاصل کرنے کے لئے یہ پالیسی اختیار کی۔
کسی کا خیال ہے کہ نون لیگ کا ایک باغی گروپ جس کے سربراہ دراصل شہباز شریف ہیں وہ ہی دھرنے کو پس پردہ سپورٹ کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ سارے صرف مختلف زاوئیے اور تجزیات ہیں۔

لیکن اگر ہم دھرنے کے حوالے سے جائزہ لیں اور اس حکومت کے ماضی پر یا پچھلے چار سال پہ ایک نظر ڈالیں تو کچھ حقائق تو بالکل واضح ہیں :-

حکومت نے ہمیشہ ہر مسئلے کو آسان سمجھا اور اسکو وقت پہ حل کرنے کے بجائے نظر انداز اور رَد کی پالیسی اپنائی۔ جب تک کہ وہ معمولی مسئلہ ایک پہاڑ بن کر اس کے سامنے نہیں آگیا۔
اس کی سب سے بڑی مثال عمران خان کے دھاندلی کے الزام اور چار حلقوں کے ووٹوں کی چیکنگ کے حوالے سے ڈیمانڈ تھی۔ جس کو حکومت نے نظر انداز کرتے کرتے ایک سال بعد دھرنے تک پہنچا دیا۔ ورنہ یہ مسئلا آکر ابتدائی طور پر افہام و تفہیم سے سلجھایا جاتا تو کوئی وجہ ہی نہیں تھی کہ معاملہ اتنا طول پکڑتا۔ لیکن اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنا اور بجائے کسی مسئلے کے منطقی حل کے اسے بیک ڈور اسٹرٹیجی اور تاخیری حربوں سے خراب کرنا اس حکومت کا وطیرہ رہا ہے۔

اس کی دوسری مثال پاناما تھا جس کے ٹی آر اوز پہ حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اتفاق نہ ہوسکا اور پھر حالات بدلتے بدلتے اس نوبت پہ پہنچے کے اسلام آباد میں امن و امان کے مسائل خود حکومت نے پیدا کردیئے اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔ اور اس کے بعد جو کچھ ہواوہ سب نے دیکھا کہ ایک مسئلہ جسے پارلیمنٹ میں حل کرنے کی تجویز تھی وہ بالآخر خود حکومت کی ناقص آلعقلی کے باعث آخر کار حکومت کے سربراہ کو ہی لے ڈوبا۔

مزے کی بات یہ تھی کہ پاناما میں کیس پہ توجہ دینے اور پراپر ثبوت پیش کرنے سے زیادہ جس چیز پہ توجہ دی گئی وہ یہ تھی کہ ہر کام کو متنازع بنا کر پیش کیا جائے۔ ہر وہ حربہ استعمال کیا جائے جس سے اداروں میں ٹکراؤ پیدا ہوجائے۔ نیب سپریم کورٹ کے ججز کسی کو بھی نہیں بخشا گیا۔ دھمکیاں، بد زبانی، الزامات غرضیکہ کیا کیا نہیں کیا گیا۔
لیکن حُبِٓ شیر و زر میں مبتلا دانشوروں کو ہر قدم پر اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے خواب آتے رہے۔

اب اسی روش کا اظہار اس مرتبہ بھی ہوا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے تحت کچھ قوانین میں ردوبدل کی گئی اور اس میں حلف نامے میں موجود ایک لفظ تبدیل ہوا اس سے کیا فائدہ لینا مقصود تھا؟ زمے داری کس کی تھی؟ کس کی منشاء پہ ایسا ہوا؟ کوئی اس سلسلے میں سامنے آنے کو تیار نہیں۔ جب اسمبلی ممبران نے احتجاج کیا تو فوری طور پر تبدیلی کو واپس لے لیا گیا۔ اسلامی جماعتوں نے لیکن اس پیچھے ہٹنے اور اس بارے میں حقائق کو چھپانے پر جو احتجاج شروع کیا اس کا سلسلہ لاہور سے شروع ہوکر فیض آباد تک پہنچ گیا۔

لیکن یہ سب ایک رات میں نہیں ہوا۔ دھرنے والوں کو اعلی سطح پر مزاکرات کے بعد اجازت دی گئی کہ وہ لاہور سے اسلام آباد جاکر احتجاج کرسکتے ہیں۔ اور یہ اجازت پنجاب گورنمنٹ کے وزیرِقانون کی جانب سے دی گئی۔

اب اگر تصور کر بھی لیا جائے کہ پنجاب گورنمنٹ اپنی تمام تر سمجھداری کے باوجود اس خطرے کا تعین نہ کرسکی تب بھی ایجنسیز کی جانب سے بھی گورنمنٹ کو اس سلسلے میں وارننگ جاری کی گئی لیکن حکومت نے اس احتجاج کی سنجیدگی کو ہمیشہ کی طرح بہت لاپرواہی سے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لاہور سے نکلنے والا چھوٹا سا احتجاجی گروپ لاہور سے اسلام آباد پہنچتے پہنچتے توانا شکل اختیار کر چکا تھا۔ لیکن پنجاب اور وفاق حالات کی سنگینی کا ادراک نہیں کرسکے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ فیض آباد پہ بیٹھے چند ہزار لوگوں نے شہر کو یرغمال بنا کر رکھ دیا۔ ان کے چند مطالبات تھے جن کو سن کر شروع مہذب تو حکومت نے قابل توجہ ہی نہ جانا۔ لیکن پھر چند دن اور گزرے اور لوگوں کی نہ صرف تعداد بڑھی بلکہ مطالبات بھی سادہ کی جگہ پیچیدہ تر ہونے لگے تو حکومت نے بات چیت کے لئے نمائندے بھیجے۔ کچھ مذہبی جماعتیں بھی درمیان میں آئیں لیکن تب تک معاملات کافی حد تک ہاتھ سے نکلنے لگے تھے۔ بالآخر ہفتے کی صبح دھرنے کو ختم کرنے کے لئے کئے جانے والے آپریشن میں جو ناقص ترین حکمت عملی اختیار کی گئی۔ بلکہ شاید آپریشن کیا ہی بغیر کسی پلاننگ کے کیا گیا تھا، معاملات کو حکومت کے قابو سے باہر ہی کردیا۔

دھرنے کو ختم کرنے کے لئے درخواست پر ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز نے حکومت کو احکامات جاری کئے تھے کہ دھرنا فیض آباد سے فورا کسی اور جگہ منتقل کیا جائے تاکہ لوگوں کو تکلیف سے نجات ملے۔

اور وہ حکومت جس نے کبھی سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی اتنی تابع داری نہیں دکھائی ہوگی جتنی پھرتی ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز کے حکم پہ دکھائی۔ اور وہ احسن اقبال جن کا بیان تھا کہ تین گھنٹے میں دھرنا ختم کرسکتے ہیں کئی گھنٹوں میں بھی آپریشن میں کامیابی نہ حاصل کرسکے۔ رات و رات جلد بازی میں فیصلہ کرکے بغیر کسی پلاننگ کے ایک آپریشن کیا گیا جس کی ناکامی نے پورے ملک میں فسادات کو جنم دے دیا۔

واضح رہے کہ ہائیکورٹ بلکہ سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کے، اس سے قبل یہی حکومت پرزے کرکے ہوا میں اڑاتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے اس موقف پہ شاید ہی کوئی یقین کرے کہ دھرنے کے خلاف آپریشن صرف عدالت کے کہنے پر کیا۔ حتی کہ سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں وزیر داخلہ نے بیان دیا کہ انتظامیہ نے عدالتی حکم پر ان کی اجازت کے بغیر کاروائی کی۔ یعنی ملک کے ادارے اپنے ہی وزیر کے اور حکومت کے تابع نہیں۔ اس بات پر۔ یقین کرنا ایک انتہائی مشکل امر ہے۔

ایک ناکام آپریشن نے اس حکومت کی تابوت میں یوں سمجھئے آخری کیل ٹھونک دی تھی۔ اس ایک عمل نے جتنا نقصان نون لیگ کو پہنچایا ہے اس کی تلافی شاید ہی ممکن ہو سکے۔

لوگوں نے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے جس رَد عمل کا اظہار کیا اس نے معاملات حکومت کے ہاتھ سے ہی نکال دئیے۔
پنجاب میں مسلم لیگ کے کئی رہنماؤں کے گھروں اور ڈیروں پہ حملے کئے گئے۔ پورے پنجاب اور کراچی میں حکومت مخالف اور دھرنے سے یکجہتی نے دو دن تک پورے ملک پر اپنے اثرات مرتب کئے۔ پٹرول کی سپلائی سے لے کر ٹرینوں کے شیڈول تک اور موٹر وے کی بلاک ہونے سے لے کر شہریوں کہ زندگی مفلوج ہونے تک حکومت ہر جگہ بے بس نظر آئی۔

آزادئ صحافت اور لوگوں کے حالات سے آگہی کے بنیادی حق پر جس طرح یک جنبشِ قلم ضرب لگائی گئی اور جس طرح چینلز کی بندش کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی سروسز کو حکومت نے معطل کیا اس نے حکومت کے جمہوریت کے نعروں کی حقیقت کا پول بھی کھول کر رکھ دیا تھا۔

حکومت کی بے بسی اور حالات سے نہ نمٹ سکنے کا راز اس معاملےمیں مزید کھل کر سامنے آیا۔ ڈائیلاگز کے زریعے یا ڈپلومیٹیکلی مسئلے کو حل کرنے کے حوالے حکومت کی صلاحیت بالکل صفر ثابت ہوئی۔ اس پوری صورتحال میں حکومت نے حالات کے پیشِ نظر فوج کی طلبی کا جو قدم اٹھایا اس سے مجموعی صورتحال پر مثبت اثرات نظر آئے، چیف آف آرمی اسٹاف قمر باجوہ صاحب کی وطن واپسی کے بعد وزیراعظم سے ملاقات اور ان کے دئیے گئے مشوروں کی روشنی میں کئے جانے والے حکومتی اقدامات نے بالآخر حکومت کو “فیس سیونگ” کا موقع فراہم کردیا۔ قمر باجوہ صاحب کے مشورے کے پیشِ نظر وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد مستعفی ہوگئے بلکہ چینلز اور انٹرنیٹ کی بندش کو بھی ختم کردیا گیا۔ اسکے بعد ہی فوج کے مصالحتی کردار کے نتیجے میں حکومت اور دھرنا کرنے والوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا۔
جس کے مطابق زاہد حامد کی زندگی اور حفاظت کے مد نظر رکھتے ہوئے دھرنے کے منتظمین اور علماء نے ان کیخلاف کسی بھی قسم کا فتوی جاری نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دونوں فریقین اس بات پہ متفق ہوگئے ہیں کہ تیس دن کے اندر معاملے کے زمے داروں کے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے لاکر مناسب کاروائی کی جائے گی۔ دھرنے کے دوران گرفتار کئے جانے والوں کی رہائی کے لئے بھی شرط معاہدے کا حصہ ہے۔ پچیس نومبر کی کاروائی کے زمدارانہ کا تعین اور سزا دی جائےگی۔

فوج کی مدد سے ہونے والے معاہدے کی وجہ سے دھرنا تو اختتام پزیر ہوا۔ مسلم لیگ نون کو جو نقصان اس پورے عمل کے دوران ہوا اسکے پس منظر میں حکومت کے تنخواہ دار دانشوران نئی نئی سازشوں کا سراغ لگائیں گے اور اس پورے سلسلہ کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا نادیدہ ہاتھ تلاشتے رہیں گے۔ اس حقیقت سے قطعی صرفِ نظر کرکے کہ دھرنے کا جواز فراہم کرنے کی کلی زمہ دار حکومت خود تھی۔

اگر دیکھا جائے تو اس دھرنے میں حکومت کے ہاتھ کچھ نہیں آیا، سوائے بدنامی اور زلت کے۔ لیکن بات اتنی بھی سادہ نہیں اس دھرنے نے پورے ملک میں عموما اور پنجاب میں خصوصا نون لیگ کی سیاسی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پنجاب سے اگلا الیکشن اب نون کے لئے جیتنا کسی معرکے سے کم نہ ہوگا۔

اس صورتحال اور نون لیگ کی سیاسی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کو بھانپ کر پنجاب کے کئی الیکٹیبلز اپنے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اس وقت حکومت سے علیحدگی اور ان کی کئے گئے فیصلوں کی مخالفت ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جسے استعمال کرکے اگلا الیکشن جیتا جاسکتا ہے۔ اور یہی بات نون لیگ میں ایک بڑے فارورڈ بلاک کا جواز بن سکتی ہے۔

یعنی نون لیگ اپنی ہی پالیسیوں کی وجہ سے آج زوال کی طرف گامزن ہے۔
کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہر عروج کو ایک دن زوال ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: