خوف میں لتھڑے قصے :فرحین شیخ

0
  • 83
    Shares

زندگی کے امتحان میں ایک بار پھر میں بری طرح ہار گئی۔ اب کی بار بوجھ اس قدر سِوا ہوا کہ میرے دماغ کی شریان پھٹ گئی، سوچنے والا ذہن کھوپڑی کے اندر ہی لہولہان ہو گیا۔ اطراف سے غافل میں کتنے ہی دن اسپتال کے بستر پر پڑی رہی۔ بند آنکھوں کو سامنے سے دیکھنے والے مجھے ہوش و خرد سے بے گانہ جان کر میری سانسیں گن رہے تھے اور پلکوں کے سائے میں سکون سے لیٹی میں، ایک منفرد دنیا کی سیر کر رہی تھی۔ دم بخود وہاں کی ہر انوکھی شے دیکھ رہی تھی۔ سرخ اور نارنجی رنگوں کے چمک دار اور حسین گھوڑوں پر میری نظر پڑی تو آنکھیں پلٹنا ہی بھول گئیں۔ میں ان پر سوار ہو گئی۔ وہ میری سوچوں کے ساتھ ساتھ سفر کرتے، جب چاہتی وہ اپنے جھلملاتے پروں کو کھول کر مجھے اُڑا لے جاتے، جہاں چاہتی، گھٹنوں کے بل جھک کر مجھے اتار دیتے۔ یہاں بہنے والے دریا کا شفاف پانی خو شبو سے مہک رہا تھا۔ اس کا ایک ہی گھونٹ مجھے ترو تازہ اور سرشار کر گیا۔

پہاڑوں سے پھوٹنے والی گلابی روشنی میری آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ وہاں بسنے والوں کے لباس اور چہرے اس قدر اُجلے کہ دیکھ کر حیرانی ہو، لبوں پر نرم مسکراہٹ سجائے، وہ خاموشی کی زبان میں گفتگو کر رہے تھے، خاص انداز سے سروں کو جنبش دیتے، ان ادائوں کے سامنے، دنیا کی ساری نزاکتیں ہیچ تھیں۔ یہ منفرد لوگ اس مسحور کن دنیا کی دل فریبی اور بڑھا رہے تھے۔ نادر اور قیمتی اسباب سے بھرپور نفاست کے شاہ کار، شیشے کے بنے ہوئے گھر تھے جو میری آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔

میں جانے کتنی دیر خود فراموشی کے عالم میں انہیں تکتی رہی۔ میری محویت کو درختوں پر بیٹھے پرندوں کی چہکار نے توڑا، یہ پہلی آواز تھی جو اس دنیا میں سننے کو ملی، جس کے رسیلے پن نے میرے اعصاب پر سحر طاری کر دیا۔ میرے قدم نرم زمین میں جم گئے۔ میں ان پرندوں کے نام سے واقف تھی اور نہ ہی رنگوں سے۔ یہ پرندے درختوں سے سفید موتی توڑ کر شکم سیری کرتے اور پھرگنگنانے میں مگن ہو جاتے۔

اس دنیا میں آکر سکون کا لفظ بھی چھوٹا محسوس ہو رہا تھا۔ مجھے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ کاش میں اپنے بچوں کے ساتھ ہمیشہ یہاں رہ سکوں!!! بچے!!! میرے بچے کہاں ہیں۔ ان کو تو شاید میں اس دنیا سے باہر ہی چھوڑ آئی۔ میں دیوانہ وار بھاگی۔ تھوڑے جتن کے بعد ہی مجھے سرخ اور سرمئی رنگ کا وہ بڑا سا گول دروازہ نظر آگیا جس کی نقاشی اپنی مثال آپ تھی۔ میں بے تابی سے دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ چند لوگ میرے سامنے آکر کھڑے ہو گئے۔

’’میرے بچے باہر رہ گئے، مجھے جانے دو، دروازہ کھولو!!‘‘ میری بے چینی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔‘‘
’’اس دنیا کا ایک اصول ہے کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے یہ جگہ چھوڑ کر جائے گا تو کبھی دوبارہ یہاں قدم نہیں دھر سکے گا۔‘‘ نقرئی آواز میرے کانوں میں گونجی۔

’’میرے بچے اگر ساتھ نہیں تو تمہاری دنیا تو درکنار میں خدا کی جنت میں بھی نہیں رُکوں گی، دروازہ کھولو۔‘‘
میکانکی طریقے سے گول دروازہ گھومتے گھومتے میرے سامنے سے ہٹ گیا اور تیز ہوا نے بھک سے اڑا کر مجھے باہر پٹخ دیا۔

میں نے مندی ہوئی آنکھوں سےجائزہ لیا تو جھٹکا کھا کر کھڑی ہو گئی۔ بنتِ حوا کا برہنہ جلوس گلیوں میں گھمایا جا رہا تھا۔ ویسے ہی قہقہے لگاتے، منحوس چہروں والے وحشی اس کے آگے پیچھے چل رہے تھے.

اسی دنیا کے سحر میں گم میں کافی دیر تک میں اوندھے منہ زمین پر پڑی رہی۔ اچانک مجھے ایک ناگوار بو کا احساس ہوا میں نے سر اٹھا کر اطراف دیکھا تو مارے خوف کے اندر ہی اندر سکڑ گئی۔ آس پاس لاشوں کا ڈھیر تھا۔ ایک دوسرے کے اوپر پڑی بے ترتیب انسانی لاشیں اور ان سے بہتا گاڑھا سرخ خون، مرنے والے اپنے حلیے سے مزدور پیشہ لگ رہے تھے، کسی کے سر میں گولی سے سوراخ کر دیا گیا تھا اور کسی کے سینے کا گوشت باہر نکل چکا تھا۔ لاشوں کے گرد خوف ناک قہقہے لگاتے وحشی ماحول کی نحوست اور بڑھا رہے تھے۔ خوف سے میری گھگی بندھ گئی۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہوئے پلٹی اور وہاں سے دور بھاگتی چلی گئی۔ جانے کتنا دوڑی پھر کہیں جا کر انسانی آبادی کا سفیدہ نمودار ہوا تو میری ہمت کچھ بندھی۔ سڑک کے کنارے لگے نل سے چُلو بھر پانی پیا اور سستانے کو وہیں ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔ اچانک شور سا اٹھا، میں نے مندی ہوئی آنکھوں سےجائزہ لیا تو جھٹکا کھا کر کھڑی ہو گئی۔ بنتِ حوا کا برہنہ جلوس گلیوں میں گھمایا جا رہا تھا۔ ویسے ہی قہقہے لگاتے، منحوس چہروں والے وحشی اس کے آگے پیچھے چل رہے تھے، جن کو میں بندوق برداروں کی شکل میں دیکھ آئی تھی۔ حیوانیت کے اس ننگے کھیل پر میری آنکھوں کو یقین نہ آیا۔ جلوس بڑھتا ہوا میری طرف ہی آرہا تھا۔ میں خوف زدہ ہو کر اٹھی، اپنے لباس کو مٹھیوں میں بھینچتے ہوئے اندھادھند بھاگتی چلی گئی اور مڑ مڑ کر ہجوم کو اس وقت تک دیکھتی رہی جب تک وہ میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔

بھاگتے بھاگتے نہ جانے میں کہاں آنکلی!! لیکن اطمینان ہوا کہ یہ جگہ دیکھنے میں پُرامن محسوس ہو رہی تھی۔ سڑکیں بھی کشادہ، عمارتیں بھی جدید، شوروغل بھی زیادہ نہیں۔ یہ حقیقی انسانوں کی بستی معلوم ہو رہی تھی، درندے شاید یہاں تک نہیں پہنچے تھے، سب عافیت دکھائی دے رہی تھی۔ میں اپنی سوچوں میں غلطاں خالی سڑک پر چلتی جا رہی تھی کہ قدم ایک جگہ ٹھٹھر کے رہ گئے۔ سامنے ایک بے بس آدمی ہاتھ جوڑے، منتیں کر رہا تھا، راستہ مانگ رہا تھا، رو رہا تھا۔ پیچھے کھڑی گاڑی میں اس کا کم سن بچہ موت سے زندگی طلب کر رہا تھا، ماں اس کا سر گود میں دھرے بلک رہی تھی۔ باپ ان جنونیوں کی داڑھیوں میں ہاتھ ڈالے گڑ گڑا رہا تھا، مگر وہ نامراد ٹھہرا۔ گاڑی میں آخری سانسیں لیتا ہوا بچہ مذہب پر قربان ہو گیا۔ میں ٹھیک سے سن نہ سکی کہ اس مظلوم نے فرشتوں کو جان دینے سے پہلے لبیک کا نعرہ بلند بھی کیا تھا یا نہیں؟ میں گاڑی کے پاس ہی اکڑوں بیٹھ گئی اور گُھٹنوں میں سر دے کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ مجھے اپنے بچے اور شدت سے یاد آنے لگے۔ پھر وہاں مزید ٹھہرنا ناممکن ہو گیا۔

مجھے اپنے شہر کی تلاش تھی۔ یقین تھا کہ روشنیوں کے اس شہر میں تو لازمی انسان بستے ہوں گے۔ میرے شہر کے لوگ با شعور ہیں، اس بربریت کا وہاں گزر بھی نہ ہوگا۔ روشنیوں تک پہنچنے کے راستے میں صعوبتیں تو بے شمار اٹھانی پڑیں لیکن مجھے اپنے شہر کے آثار دِکھ ہی گئے۔ قدموں میں تیزی آگئی۔ میں شہر کے بیچوں بیچ ایک پُررونق بازار میں کھڑی تھی۔ یہ ایک مصروف کاروباری علاقہ تھا۔ آس پاس دفاتر کی بلند و بالا عمارتیں تھیں۔

میں نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے خیریت سے میرے اپنوں میں پہنچا ہی دیا۔ رکوع کی حالت میں جھک کر میں نے گہرے سانس بھرے اور تھکن باہر نکالنے لگی۔ یکایک مجھے اپنے گرد اسی مانوس ہجوم کا احساس ہوا میں نے جھکے جھکے گردن بلند کی اور میری چیخیں نکل گئیں۔ سامنے دفتر کی ایک بلند عمارت کی پانچویں منزل سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔ بے رحم شعلوں سے فرار کا کوئی راستہ نہ پا کر ایک نوجوان کھڑکی توڑ کر باہر لٹکا ہوا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر التجا کر رہا تھا، جان بچانے کے لیے لوگوں کو پکار رہا تھا لیکن اتنا بڑا ہجوم تماشائی بنا کھڑا تھا۔ کیمرے اس نوجوان کی بے بسی کی براہ راست تصاویر دنیا کو دکھانے کے لیے منٹوں میں ہی مستعد ہو گئے، مگر کوئی اس کی جان بچانے کے لیے کوئی ہل بھی نہ سکا۔ بالآخر، جب اس کے ہاتھوں نے زندگی کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا تو وہ بے حس ہجوم کے درمیان ہی آن گرا۔ مزید کچھ دیکھنے کی اب مجھ میں تاب نہ تھی اور چکرا کے وہیں گر پڑی۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال کے بستر پر تھی۔ بچے میری ٹانگوں سے لپٹے تھے۔ گھر والے میری زندگی کی طرف واپسی کا جشن منا رہے تھے اور میں اس دل کش دنیا میں کھوئی ہوئی تھی جس کی طرف واپس جانے کا دروازہ اپنے ہاتھوں سے بند کر آئی تھی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: