ٹیکنالوجی و معاشرتی تبدیلیوں کو قبول کرنے والوں کی درجہ بندی: زید محمود

0
  • 54
    Shares

یہ دیکھنے میں آیا ھے کہ عصر حاضر میں ہر کوئی فورا نئے نظریات نئی ٹیکنالوجی یا اردگرد ھونے والی کسی بھی تبدیلی کو فورا سے قبول نہیں کرتا ھے۔ کوئی بھی بدلاؤ معاشرے میں ایک چین ری ایکشن شروع کر دیتا ھے لوگ اسکو مثبت منفی انداز سے لیتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں دونوں انتہاؤں پر پائے جانے والے افراد زیادہ اور غیرجانبداری سے کسی بھی بدلاؤ کو اسکے متعلقہ نکتہ نظر سے دیکھنے والے افراد کا شدید فقدان ھے۔ اس انفرادی معاشرتی اور سماجی رویے کو دیکھتے ھوئے سوشل سائسندانوں نے کافی عرصہ تحقیق کرنے کے بعد لوگوں کو کیٹگرائز کیا اس بنیاد پر کہ ماحول میں آنے والی تبدیلی کو قبول کون لوگ کب کیسے کرتے ہیں اور اسکے معاشرے پر کیا اثرات دیکھنے میں آتے ہیں۔ کونسے لوگ ھیں جو بدلاؤ کا سبب بنتے ہیں اور کونسے لوگ ھیں جو کشادہ دلی اور کھلے ذہن سے اچھے بدلاؤ کو ویلکم کرتے ہیں اور کون سے لوگ ھیں جو باپ دادا سے جڑی روایات کو سینے سے لگائے قبر تک جا پہنچتے ہیں اور بدلاؤ قبول کرنے والوں کو لعن طعن کا نشانہ بناتے ہیں انکا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ اور ان تمام اقسام کے افراد کا ہمارے معاشرے میں کتنے فیصد حصہ ہے یہ سب اس تحریر میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔

یونیورسٹی دور میں ایگریکلچر ایکسٹینشن کا اسی سے متعلق ایک کورس پڑھا تھا اور بعد میں اس موضوع کو لیکر کچھ ریسرچ آرٹیکلز اور کتب دیکھیں جنکی بدولت مجھے اپنی شخصیت میں کچھ تعمیری بدلاؤ لانے کا موقع ملا تھا اور وسعت النظری پیدا ہوئی، وہی ادھر بتانا چاھوں گا ھو سکتا ھے کسی اور میں بھی مثبت سدھار آ جائے۔ اس کورس کو دہراتے ہوئے ان لوگوں کا تذکرہ کروں گا جو معاشرے میں آنے والی ایجادات یا بدلاؤ کو کیسے دیکھتے اور رسپانڈ کرتے ہیں۔ پڑھیں, سوچیں, سمجھیں اور پھر اپنے آپ کو غیر جانبداری کی کسوٹی پر پرکھیں کہ ہم کونسی کیٹیگری میں آتے ہیں۔

Innovators:
یہ کسی بھی معاشرے کا 2۔5 فیصد حصہ ہوتے ہیں یا تو یہ آبادی کے چند فیصد افراد کوئی بدلاؤ لاتے ہیں کچھ ایجاد کرتے ہیں یا کسی بھی آنے والی innovation کو سب سے پہلے آگے بڑھ کر خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں۔ انوویٹرز کم عمر نوجوان طبقہ ہوتا ھے جنکا مشغلہ خطرات سے کھیلنا ھوتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا مالی طور پر آسودہ طبقہ ہوتا ھے انکے سماجی اور دیگر اداروں کے ساتھ قریبی روابط ھوتے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی یا بدلاؤ کا خطرہ بھانپ کر سے قبول کرتے ہیں اور نتائج مرتب کرتے ہیں۔ انکے مالی وسائل ان ناکامیوں اور نقصانات کو برداشت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ (Rogers 1962 5th ed, p۔ 282)

Early adapters:
ابتدائی اڈاپٹرز معاشرے کا 13۔5 فیصد حصہ ہوتے ہیں۔ اور یہ ان افراد پر مشتمل ھوتے ہیں جو فورا تیزی سے آنے والے بدلاؤ کو قبول کرکے اپنی روزمرہ کی زندگی میں بدلاؤ لانے کا موجب بنتے ہیں انہیں trend setters کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ان افراد میں زیادہ تر جوان لوگ جو مالدار ھوتے ہیں اعلی تعلیم یافتہ لوگ اور معاشرے میں نمایاں مقام رکھنے والے افراد شامل ھوتے ہیں۔ اور ان میں قائدانہ صلاحیتیں زیادہ پائی جاتی ھیں دیر سے اختیار کرنے والے افراد کے مقابلے میں تیز ھوتے ہیں اور پھر اس بدلاؤ کا منصفانہ انتخاب کر کے اسکے اچھے برے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یوں افراد کے مابین مواصلاتی پوزیشن بھی برقرار رکھتے ہیں۔ (Rogers 1962 5th ed, p۔ 282)

Early majority:
ابتدائی اکثریت معاشرے میں 34فیصد حصہ دار ھوتے ہیں۔ اس قسم کے افراد مختلف وقت کے بعد ہی بدلاؤ کو قبول کرکے عملی طور پر زندگی میں اسکو اپناتے ہیں۔ اپنانے کا یہ وقت جدت پسندوں (innovators) اور ابتدائی گزرنے کے مقابلے میں کافی لمبا ہے۔ یہ۔لوگ کوشش کرنے پر تبدیلی اپنانے کے عمل میں تیز ہوسکتے ہیں۔ انہیں اپر مڈل کلاس کہہ لیں کیونکہ مالی طور پر کم حیثیت افراد کے مقابلے میں کافی آسودہ ہوتے ہیں ان میں محدود قائدانہ صلاحیتیں موجود ھوتی ھیں اور انوویٹرز کے ساتھ اچھے روابط ھوتے ہیں اور بقیہ معاشرے میں انکی رائے کو اہمیت دی جاتی ھے۔ (Rogers 1962 5th ed, p۔ 283)

Late majority:
لیٹ میجورٹی افراد 34 فیصد حصہ ہوتے ہیں اس معاشرے کا۔ انہیں۔لوئر مڈل۔کلاس بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس قسم کے افراد اس معاشرے کے اوسط افراد کے بعد ہی بدلاؤ کو قبول کریں گے۔ انتہائی skeptical ھوتے ہیں اور بعض تو اس بدلاؤ کو۔قبول کرنے میں ناکام بھی رھتے ھیں اپنی حد سے زیادہ سوچ بچار والی عادت کی بنا پر معاشرے میں کچھ خاص حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ مالی طور پر کمزور ھونے کی وجہ سے زیادہ فوکس لائف اسٹینڈرڈ کو بڑھانے ہر یا ضروریات کو احسن انداز سے پورا کرنے پر ھوتا ھے اور معاشرے میں ایک الگ تھلگ حیثیت رکھتے ہیں اور دوسرے طبقات کے ساتھ کم روابط ھوتے ہیں۔ (Rogers 1962 5th ed, p۔ 283)

Laggards:
لاگارڈ ہمارے معاشرے کا 16 فیصد لوگ ھوتے ہیں۔ یہ افراد نئے بدلاؤ کو سب سے آخر میں قبول کرتے ہیں اور یہ لوگ اپنی رائے اس بدلاؤ کے بارے میں نہیں دیتے۔ عموما عمر میں بڑے ھوتے ھیں اور بدلاؤ قبول کرنے والے افراد کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں اور ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ (Rogers 1962 5th ed, p۔ 283)
ان میں زیادہ تر طبقہ غریب ھوتا ھے اور نسلی یا خاندانی روایات کو سینے سے آخری دم تک لگا کر رکھنے کے قائل ھوتے ہیں معاشرے کے کم حیثیت لوگ کہلائے جاتے ہیں ان میں لیڈرشپ کی صلاحیتیں مفقود ھوتی ہیں اور محدود حلقہ احباب ھوتا ھے۔

نوٹ: اس تحریر کو کوئی بھی ایک شخص یا ایک قوم پر تنقید مت سمجھے یہ اقسام خالصتًا لوگوں کے سماجی رویے کو دیکھ کر کی جانے والی سائنسی تحقیق سے اخذ کردہ نتائج کی بدولت بنائی گئیں ھیں جو کہ میرے تجربے اور مشاہدہ کے مطابق درست ہیں۔ باقی سو فیصد درست تو کچھ بھی نہیں ھوتا آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ نئی تحقیقات اور نئے رویے دیکھنے کو ملتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے جائیں گے۔

حوالہ جات کے لئے مندرجہ ذیل آرٹیکلز اور ویب سائٹس دیکھیں۔

(Rogers, 1971) (P Diederen) (CJ Humphrey, 2005)
(https://en۔m۔wikipedia۔org/wiki/Diffusion_of_innovations)
(https://www۔ou


زید محمود کا تعلق فیصل آباد سے ہے، بی ایس سی آنرز مائکروبیالوجی میں جامعہ زرعیہ فیصل آباد سے کیا اور ابھی ایم ایس مالیکیولر ورچوئل یونیورسٹی سے کر رہے ہیں، سنٹر آف ایکسیلئنس مالیکیولر بیالوجی پنجاب یونیورسٹی سے رسرچ ورک کر چکے ہیں اور ملازمت کے لئے کیکس اینڈ بیکس سے منسلک ہیں.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: