افغانستان کا مکتب آزادی: سمیع اللہ خان

0
  • 30
    Shares

مصنف

افغانستان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہر ملک کی گزرگاہ رہا ہے، اور اگر کسی کی گزرگاہ نہیں رہا تو اس کا دعویٰ یا ارادہ ضرور تھا کہ بہر حال اسے اس ملک سے گزرنا ہے یا اس ملک میں گزرنا ہے، کیونکہ افغانستان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ اس ملک میں اچھی یابری نیت سے جائے بغیر آپ اپنی آنے والی نسلوں کو آزمودہ نصیحت نہیں کر سکتے۔ افغانستان میں عرصہ دراز سے دوسرے ملکوں کے لوگ آتے رہے ہیں، اور انھوں نے اپنے بچوں کو ہمیشہ یہ نصیحت کی کہ ’’بیٹا، افغانستان جب بھی جانا ہو تو اچھی نیت سے جانا، ورنہ کوشش کرنا کہ بس نیت ہی کرنا، کیوں کہ اس صورت میں نیت پر عمل کرنے میں ایک نہ ختم ہونے والا عذاب ہے!‘‘ مگر آدمی کو اپنے تجربات سے سیکھنا چاہیے نہ کہ بڑوں یا دوسروں کے؟ آنجہانی عظیم انگلستان کے باسی، سمندرکے اس پار، برصغیر میں تاجر بن کر داخل ہوۓ اور بعد میں یہاں کے سیا ہ و سفید کے مالک بن گئے۔ جیسا کہ مشہور ہے کہ افغانستان میں قائم “مکتب آزادی” سے فارغ التحصیل ہوئے بغیر آپ اپنی آنے والی نسلوں کو دینے کے لیے کوئی کارگر سبق نہیں سیکھ سکتے سو اچھے اور دور اندیش بزرگوں کی طرح انگریزوں نے بھی اپنے بچوں کی بہترین تربیت اور روشن مستقبل کی خاطر افغانستان کے’’مکتبِ آزادی‘‘ کا رخ کیا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ افغانستان کے لوگوں کو مہذب اور متمدن انگریزوں کی نیتوں کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا، کیونکہ یہ مہم جو انگریز ہندوستان سے نکلتے ہوئے اپنی “علم کی پیاس” کو پورے اخلاص کے ساتھ بندوق کی سنگینوں پر سجائے افغانستان کی جانب آگے بڑھے تھے۔ قصہ مختصر انگریز ابھی افغانستا ن میں داخل ہی ہوئے تھے کہ’’ مکتبِ آزادی‘‘ میں آگہی کی موسلادھار بارشوں سے سیراب ہونے لگے او ر کچھ ہی عرصے میں ان انگریزوں نے اتنی دلجمعی سے افغانوں سے سبق سیکھا کہ اپنی جانیں تک گنوا بیٹھے، کہتے ہیں کہ فقط ایک فرنگی ڈاکٹر ہی باقی بچا جس کو یہ سارا سبق ازبر کروا کر واپس روانہ کیا گیا، تاکہ وہ واپس جاکر اپنے بچوں کو یہ سبق پڑھا سکے۔ یہ ڈاکٹر صاحب جہاں سے گزرتے سب لوگوں کو ”آزادی” کا یہ سبق پڑھاتے، جو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اپنی جان پر کھیل کر سیکھا تھا۔ فرنگی ڈاکٹر کے افغانستان سے انگلستان جانے کے ایک عرصے بعد، فرنگیوں نے ہندوستان سے جانے کی ٹھان لی، کیونکہ انھی دنوں انگلستان اور اس سے ملحقہ ملکوں نے ایک دوسرے پر چڑھائی کردی تھی، دوسرا مگر بڑا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ انھی ایام میں ہندوستان کے باسیوں نے فرنگیوں کے خلاف مزاحمت شروع کر دی تھی، یوں انگلستان کا تاجر اور مہم جو انگریز، اپنے غروب نہ ہونے والے سورج کی دھوپ لپیٹتا واپس اپنے دیس سدھارا۔ کہا جاتا ہے کہ انگلستان میں جس دن سورج طلوع ہوتا ہے اس دن آنجہانی انگریزوں کی چھوڑی ہوئی نصیحتوں کو سرکاری لائبریریوں سے نکال کر پڑھا جاتا ہے۔ چونکہ سورج کم ہی طلوع ہوتا ہے اس لیے بڑوں کا دیا گیا سبقِ آزادی انگریز بچوں کے کم ہی ذہن نشین ہو پاتاہے۔

فرنگی ابھی برصغیر میں موجود تھے کہ روس میں مزدوروں اور محنت کشوں نے اپنے جدی پشتی نمبرداروں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور وہاں معاشی مساوات کا ایک نرالا نظام رائج کیا جس میں خدا کی خدائی اور اس کی مخلوق سمیت سب کچھ تھا اگر نہیں تھا تو فقط خدا نہیں تھا، پاس پڑوس کے ملکوں میں لوگوں نے بوڑھوں اور بوڑھیوں سے یہ بات سنی ہے کہ روس نے ملحقہ ممالک کے لوگوں کو جو کہ اکثر مسلمان تھے، زبردستی مزدور بنا کر ان سے مطالبہ کیا کہ تم بھی معاشی مساوات کی بنیاد پر برابر ہوجاؤ ورنہ برابر کر دیے جاؤ گے، اس انقلاب کے بعد، روس اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگ برابر ہوگئے یا کر دیے گئے اور ہر ملک کی طرح روس کےسرکاری ٹی وی اور ریڈیوبھی دنیا کو بتاتے رہے کہ اشتراکی، باہمی اشتراک سےبرابری کی بنیاد پر ہنسی خوشی رہنے لگے ہیں۔ مگر، روس کے آنے والے کامریڈوں کے روشن مستقبل اور ان کی بہتر تعلیم و تربیت نے روس کے بڑے مگر دور اندیش کامریڈوں کو پریشان کرنا شروع کر دیااور روس نے افغانستان کے ’’مکتبِ آزادی‘‘ کے بارے میں عملاًسوچنا شروع کر دیا۔ روسی کامریڈوں نے اپنے پیش رو انگریزوں کے بر عکس یہ کیا کہ خود آنے کے بجائےپہلے افغانستان میں اپنے شناسا اور ہمدردوں کی معاونت شروع کردی، یہ ہمدرد خلقی اور پرچمی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان دو گروہوں کی مدد سے روسی کامریڈوں نے افغانستان میں اپنے حصے کا سبق سیکھنے کے لیےمیدان ہموار کرانا شروع کر دیا۔ سب سے بڑی مشکل روس کو یہ درپیش تھی کہ افغانستان میں ایک طرف تو کارخانے نہیں تھے تو مزدور کہاں سے آتے؟ دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ ہر جگہ خدا ہی خد ا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ روس پر سبق سیکھنے کی دھن اس قدر سوار تھی کہ اس کے ذہن میں یہ بات آئی ہی نہیں کہ افغانستان کی صورت حال روس سے مختلف ہے۔ خیر، روس نے پرچمی اور خلقی ہجروں میں افغانیوں کو مدعو کیا اورخود ہی ان کی خاطر داری کرنے کے بعد، روس سے آئے ہوئے باقی کامریڈوں کی موجودگی میں، اپنے میزبانوں یعنی خلقیوں پرچمیوں سے درخواست کی کہ وہ ان کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی بات افغانوں کے گوش گزار کریں، یوں پرچمیوں اور خلقیوں نے اپنے بے خدا مہمانوں کی بات اپنے با خدا افغانوں کو سمجھانی شروع کردی۔ روس سے آئے ہوئے ایک بڑے کامریڈ نے جب اپنے مرحوم بانی کامریڈکی مشہور زمانہ تقریر کا وہ جملہ افغانوں کو مخاطب کرتے ہوئے دہرایا کہ ’’اے مزدورو! تمھارے پاس کھونے کو سوائے زنجیروں کے کچھ نہیں‘‘ تو افغان سامعین نے بیک وقت اپنی نشستوں میں بیٹھے بیٹھے گردن گھماکر پیچھے مڑ کے دیکھا کہ شاید مزدوروں کاکوئی ٹولہ ہے جس نے زنجیریں پہنی ہیں اور جن سے یہ معزز روسی کامریڈ مخاطب ہیں، مگر ان کو وہاں سارے کے سارے یا تو تاجر نظر آئے یا دوکاندار، کسان اورطلباء، جنھوں نے سروں پر پگڑیاں یا ٹوپیاں تو رکھی ہوئی تھیں مگر ان کے پیروں میں زنجیر اس لیے نظر نہیں آئی کہ کرسیوں نے ان کی ٹانگوں کو چھپایا ہوا تھا۔ اب یہ سادہ افغان اپنی جانب متوجہ ہوئے اور اپنے پاؤں دیکھنے لگے مگر وہاں بھی کوئی زنجیر نہیں تھی، سوائے اس کے کہ ان کے ہاتھوں میں تسبیح تھی جس کے دانوں کو وہ مسلسل حرکت دے رہے تھے، یوں طے ہوا کہ وہ مزدور تو پہلے بھی نہیں تھے مگر یہاں زنجیر بھی نہیں تھی سو انھوں سو چا کہ ان کے اپنے ہم وطن خلقی اور پرچمی ان کامریڈوں کی بات صحیح طرح سے سمجھے نہیں اس لیے انھوں نے کسانوں کو مزدور اور تسبیح کو زنجیر کہہ دیا ہے۔ ان سادہ افغانوں نے معززکامریڈ کے کہے ہوئے جملے کو اپنے ذہنوں میں پھر سے ترتیب دیا ’’اے اللہ کے بندو، کسانو، تاجرو، دکاندارو اور طالب علمو! تمھارے پاس کھونے کو سوائے تسبیح کے اور کچھ نہیں!‘‘ اگر چہ ان کے پاس مسواک اور بندوق بھی تھی۔ ۔

قصہ مختصر روسی کامریڈ، علم و ہنر سیکھنے کے ایک شدید جذبے کے زیر اثر افغانستان میں آدھمکے۔ افغانوں نے اپنی خستہ حالی کے باجود روسیوں کو مکتب آزادی کا سبق پڑھانا شروع کردیا۔ افغان، پڑھائے جانے والے سبق کی مشق اور تیاری کرنے اپنے پڑوسی ملک پاکستان آجاتے اور رات گزارنے کے بعد صبح پھر روسیوں کی تدریس میں مشغول ہوجاتے۔ امریکہ کسی زمانے میں روس کا طالب علم رہا تھا ویتنام میں، امریکہ نے جب دیکھا کہ افغان بے سرومانی کی حالت میں اس کے محسن کی افغانستان میں تعلیم وتربیت میں مصروف ہیں تو اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنے محسن کی ویتنام میں کی گئی مہربانی کا بدلہ چکاؤں؟ یوں امریکہ نے افغانوں کو تدریسی معاونت کے جدید آلات سے لیس کیا تاکہ روس کو اپنا سبق سیکھنے میں سہولت ہو، کیونکہ،

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے

دنیا بھرمیں مغربی دنیا کے نشریاتی اداروں کی یہ خبر خوشگوار حیرت سے سنی گئی کہ افغانستان میں روس کی خاطر مدارت کرنے کے لیے دعوت عام ہے، تو رضاکار جوک درجوک پاکستان اور افغانستان کا رُخ کرنے لگے۔ انھی رضاکاروں میں اُسامہ بن لادن نام کا ایک عرب نوجوان بھی شامل تھا جو کہ ایک بڑے رئیس خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ مغربی دنیا میں اس عرب نوجوان کے جذبے کی مثالیں دی جانے لگیں کہ کس طرح یہ نوجوان ایک شاہانہ زندگی چھوڑکر اپنے افغان بھائیوں کی مدد سے امریکہ کے محسن کی تعلیم وتربیت میں شب وروز مصروف ہے۔ روس نے کم و بیش ایک عشرے تک افغانستان میں اپنا سبق دل وجان سے سیکھا۔ روس جب اپنا سبق سیکھ کر واپس اپنے ملک گیا تو روسی باشندوں نے افغانستان سے فارغ التحصیل روسیوں سے مطالبہ کیا کہ جو کچھ آپ سیکھ کر آئے ہیں وہ ہمیں بھی پڑھائیں۔ افغانستان سے فارغ التحصیل ان روسیوں نے اپنے ہم وطنوں کو ’’ آزادی ‘‘ کا سبق پڑھانا شروع کردیا۔

دوسری طرف وہ افغان جو روس کے اساتذہ رہے تھے انھوں نے سوچا کہ کچھ عرصے بعد ویسے بھی کسی نہ کسی نے سبق پڑھنے کے لیے افغانستان آنا ہی ہے تو کیوں نہ پورے افغانستان کو بطور ایک مکتب، ان خطوط پر استوارکیا جائے جن خطوط کی روشنی میں انھوں نے روس کو آزادی کا سبق پڑھایا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس مکتب کا ہیڈ ماسٹر کون ہو؟ امریکہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ آزادی کا یہ سبق مزید جاری رکھا جائے۔ اس لیے امریکہ نے کوشش کی تدریسی معاونت کے ٹولز خاص کر سٹنگر کو افغانوں سے واپس لیا جائے۔ آزادی مکتب کی ہیڈماسٹری کا قضیہ اتنا آگے بڑھا کہ اساتذہ باہم دست و گریباں ہوگۓ اس لیے ان اساتذہ کی جگہ لینے کے لیے طالبان یعنی طلباء آگے بڑھے اور انھوں نے سینئر اساتذہ کو ’’مکتبِ آزادی‘‘ سے نہایت عزت اور احترام کے ساتھ رخصت کردیا۔ دوسری طرف برادر اسلامی ملکوں سے آئے ہوئے رضاکار روس کو آزادی کا سبق پڑھاتے پڑھاتے اتنے پرجوش ہوگئے تھے کہ ان کے اپنے ملکوں میں یہ تشویش دوڑنے لگی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ رضاکار واپس آکر اپنے ملکوں میں ہی ’’مکتبِ آزادی‘‘ کھول لیں اس لیے ان کا پردیس میں ہی رہنا بہتر ہے۔ تشویش بے جا نہیں تھی، عرب رضاکاروں نے، جن کی قیادت اُسامہ بن لادن کر رہے تھے، اپنے ملکوں میں ’’ مکتبِ آزادی‘‘ کھولنے کے لیے باقاعدہ، القاعدہ نامی ایک نظم قائم کیا ۔ اس بات پر شرق وغرب نے اتفاق کیا کہ’’مکتبِ آزادی‘‘ کے دلدادہ ان رضاکاروں کو اپنے اپنے ملکوں کے حوالے کیا جائے تاکہ ان رضاکاروں کی افغانستان میں بے مثال خدمات کے عوض ان کو سرکاری مہمان بنایا جائے۔ مگراسامہ کا ملکوں ملکوں گھوم پھر کر کہیں دل نہ لگا اور افغانستان واپس آگیا۔ امریکہ نے اسامہ کی بہترین تدریسی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کے لیے، افغانستان سے مطالبہ کیا کہ اسامہ کو اس کی بہترین کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے امریکہ کو موقع دیا جائے کہ وہ اسامہ کی میزبانی کرسکے۔ باوجود اس کے کہ امریکہ نے اسامہ کو لینے کے لیے متعدد کروز میزائل بھیجے مگر ’’مکتبِ آزادی‘‘ کے طالبان نے جواب میں کہا کہ چونکہ اسامہ افغانستان میں ایک مہمان کی حیثیت سے کافی عرصے سے مقیم ہے لہذا افغانوں کی یہ روایت نہیں کہ کسی کواس کی مرضی کے بغیر رخصت کیا جائے۔ کروز کے ساتھ اُڑتی اُڑتی یہ خبر بھی سنی گئی کہ طالبانِ ’’مکتبِ آزادی‘‘ نے شکریے کے ساتھ ایک آدھ کروز میزائل چین کے توسط سے امریکہ کو واپس کردیا۔ کچھ عرصے بعد امریکہ نے الزام لگایا کے اسامہ کے رضاکاروں نے بغیر اجازت امریکہ میں ’’مکتبِ آزادی‘‘ کھولنے کے لیے دو بلند و بالا عمارتوں کوزمیں بوس کیا ہے۔ اس لیے امریکہ کو براہ راست اسامہ سے اپنی شکایت درج کرانی ہے۔ مگر نہ طالبان مانے نہ اسامہ۔ یوں امریکہ تمام مغربی ملکوں کا ایک جرگہ لے کر اپنی شکایت درج کرانے افغانستان پہنچ گیا۔ مگر کچھ ناسمجھ کہتے ہیں کہ اصل بات یہ تھی کہ امریکہ کو اپنے بزرگوں سے پڑھا ہوا آزادی کا سبق پڑھے بہت عر صہ بیت گیا تھا لہذا امریکہ نے سبق تازہ کرنے کے لیے افغانستان کا رخ کیا۔ دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ چونکہ امریکہ نے آزادی کا سبق پڑھایا تو بہت ہے مگر کبھی پڑھا نہیں اس لیے امریکہ نے افغانستان میں قائم ’’مکتبِ آزادی‘‘ میں داخلہ لینے کے لیے افغانستان کا قصد کیا۔ کہتے ہیں کہ امریکہ پڑھے ہوۓ سبق کی مشق پاکستان میں کرتا رہا ہے۔ ایک امریکی طالب علم ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان میں انجام دیے گۓ بے مثال خدمات کے نتیجے میں اعلی فوجی و سول اعزازات سے نوازا گیا۔ ۔ آخری اطلاعات آنے تک امریکہ کے ساتھ آئے ہوئے باقی ملک اپنا سبق سیکھ کرواپس جا چکے ہیں مگر امریکہ کافی سالوں سے آزادی کا سبق سیکھ کر بھول جانے کی ایک ذہنی بیماری کا شکار بتایا جاتا ہے۔ امریکہ نے ’’مکتبِ آزادی‘‘ میں اپنی تنہائی کم کرنے کے لیے بھارت کو افغانستان بلایا ہے۔ یوں بھارت و امریکہ کی وجہ سے ’مکتبِ آزادی‘ کی رونق قائم ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: