سراج منیرکا تصور تہذیب (ٓآخری حصہ): عزیز ابن الحسن

0

یہاں ایک ضمنی بحث بھی لگے ہاتھوں نپٹ جائے تو اچھا ہے۔ وہ ہے ‘‘اسلامی تہذیب’’ یا ‘‘مسلم تہذیب’’ کا مسئلہ۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ‘‘اسلامی تہذیب’’ کے بجائے ‘‘مسلم تہذیب’’ کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ‘‘مسلم تہذیب’’ کہہ کر ایک طرف تو اسلام کو ان تمام گمراہیوں اور بے اعتدالیوں سے بری الذمہ قرار دینے میں سہولت ہوگی جس کا سبب مسلمان ہیں اور دوسری طرف مختلف علاقوں میں پیدا کردہ اسلام کی تہذیبوں کے مزاجی اختلاف کو پہلے قدم پر ہی حل کر لیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک ہمدردانہ اور سہولت کی سوچ ہے۔ اگر یوں بھی کہہ لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن راقم کا خیال ہےکہ یہ محض ایک تکلف کی بات ہوگی۔ اس معاملے میں میرے نزدیک وہ دلیل بہت کافی ہے جو اس بحث کے ضمن میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے دی ہے:

‘‘اسلامی کلچر سے مراد مسلم کلچر ہی ہے کیونکہ یہ فاعل پر فعل کا اطلاق ہوگا، تاہم صحیح طریق اظہار شاید یہی ہوگا کہ اسے مسلم کلچر ہی کہا جائے۔ لیکن اس لحاظ سے اسے اسلامی کہنا بھی غلط نہیں کہ مسلم تہذیب، اسلام کے زیر اثر اسلام کے ماننے والوں نے پیدا کی لہٰذا اس میں فاعلی عنصر اسلام ہی ہے’’۔(۱۷)

اب یہاں یہ نہ کہہ دیا جائے کہ سید عبداللہ نے تو کلچر کی بات کی ہے ‘‘تہذیب’’ کی نہیں۔ اس کا ایک جواب تو متذکرہ بالا اقتباس میں ہی دیکھا جا سکتا ہے کہ خود ڈاکٹر صاحب نے ہی ‘‘تہذیب’’ کو کلچر کے متبادل کے طور پر استعمال کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم سر دست اس تنازع کو چھوڑ ہی دیتے ہیں اور اصل بحث کی طرف آتے ہیں کیونکہ یہ وہ دلدل ہے کہ ایک دفعہ اس میں اتر کر با مراد لوٹنا تو کیا معنی شاید خالی لوٹنا بھی مشکل ہوگا۔ کیونکہ یہاں عمریں کھپنے کا امکان ہے۔ الغرض کہ ہم ‘‘اسلامی تہذیب’’ کہیں یا ‘‘مسلم تہذیب’’ مصداق و مراد ایک ہی ہے۔

اسپین کی مسلم تہذیب کے بارے میں سراج منیر نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ بھی خاصے کی چیز ہے۔ اسلام نے یوں تو دنیا کے بہت سے علاقوں میں اپنی تہذیبیں پیدا کیں، لیکن اسپین کی مسلم تہذیب دیگر مسلم تہذیبوں سے بہت کچھ انفرادیت رکھتی ہے۔ اس تہذیب کے متعلق تاریخ میں ایسی اندوہناک رومانیت پیدا ہوگئی یا کر دی گئی ہےکہ یورپ تک اس کی عظمت رفتہ کے نوحے پڑھنے لگتا ہے۔ نتیجۃً مسلمان بھی اپنی تاریخ کی اسی مرحوم نشانی کو ہی اپنا اصل تہذیبی ورثہ سمجھ کر ذہنی اضمحلال کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اس بارے میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں:

۱۔ اسپین کی مسلم تہذیب، مسلمانوں کی دیگر تہذیبوں کے مقابلے میں کیسے مختلف تہذیب تھی؟
۲۔ دیگر علاقوں کی تہذیبوں کی نسبت یہاں کی مسلم تہذیب کیوں بالکل ختم ہوگئی؟
۳۔  اہل یورپ کو بھی مسلم تہذیب کا یہی کارنامہ کیوں قابل توجہ محسوس ہوتاہے؟
۴۔  مسلمانوں کی آنکھوں سے اسی تہذیب کی یاد ہی کیوں آنسو بن کر ٹپکتی ہے؟

ان سوالات کو ہم سراج منیر کے نقطہء نظر کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام نے دو اصولوں کی بنا پر اپنی تہذیب پیدا کی ہے۔ ایک یہ کہ اسلام جہاں بھی گیا اس نے وہاں کے مقامی عنصر اور تمدنی اوضاع میں اپنے تصور حقیقت کے مطابق تصرف کر کے انہیں اپنے اندر جذب کر لیا اور دوسرے یہ کہ اسپین کے علاوہ اسلام نے جو تہذیبیں تشکیل دیں ان کا مزاج بڑے شہروں کا نہیں تھا۔ کیونکہ اسلام کا اصل تہذیبی مزاج بڑےشہروں کا مزاج نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب اصلاً قصبات کی تہذیب ہے۔ اب ان دو اصولوں کی بناء پر دیکھیں تو اسپین کی مسلم تہذیب ان دونوں اصولوں سے قدرے ہٹ کر پیدا ہوئی۔ اول اس اعتبار سےکہ دوسرے علاقوں کے برعکس اسپین میں مسلمانوں نے وہاں کے مقامی عنصر سے بہت کم اعتنا کیا۔ نہ وہاں کے تمدنی اوضاع قبول کیے اور نہ وہاں کی عیسائی آبادی کو بالعموم مسلمان کیا۔ بلکہ وہاں جاتے ہی ان سے تصادم کی بنا رکھ دی۔ ماقبل اسلامی عنصر کے طور پر وہاں صرف مراکش سے آئے ہوئے افریقی مسلمان ہی تھے۔ اندلس کی سرزمین سے انہوں نے کچھ نہیں لیا اور اسلام وہاں از اول تا آخر کھجور کے درخت کی طرح اجنبی پودا رہا۔

دوم اس لحاظ سے کہ اسپین میں اسلام نے پہلی مرتبہ اپنے قصباتی مزاج سے ہٹ کر شہری اصول پر اپنی تہذیب پیدا کی۔ اور وہاں پہلی مرتبہ بڑے بڑے شہر پیدا کیے۔ قرطبہ، غرناطہ اور طیطلہ یہ سب بڑے شہر ہیں۔ ان کے اردگرد قصبات کا جو نظام ہے وہ عیسائی آبادیوں پرمشتمل ہے۔ یہ بڑے بڑے شہر وہاں جزیروں کی مانند تھے جن کے ذہنی روابط اپنے گرد و پیش کے بجائے بغداد و دمشق سے تھے۔ اس لیے وہاں ایک عدم تحفظ اور گھر جانے کا احساس پایا جاتا تھا۔ سراج منیر اسپین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

‘‘دیہات اور شہر میں فرق صرف رقبے اور سائز کا نہیں ہوتا بلکہ ان کی روح الگ الگ ہوتی ہے’’۔

اس روح کے فرق کی تعبیر وہ اس طرح کرتے ہیں کہ ‘‘تہذیبوں کے درمیان بڑے شہرعموماً خیال مجرد کی نمائندگی کرتے ہیں۔۔۔ ان کا سب سے بڑا اظہار وسیع شہروں کے اقلیدسی نظاموں اور بڑی بڑی عمارتوں میں ہوتا ہے’’۔ اوریہ کہ یہ بڑی عمارتیں ‘‘ارضیت’’ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کے خیال میں مسلم تہذیب کے تمام دائروں میں سب سے زیادہ ارضیت اسپین کی تہذیب میں پائی جاتی ہے۔ چونکہ یہاں مقامی عنصر سے اخذ و قبول نہیں ہوا، ان بڑے شہروں کی بنا خیال مجرد پر تھی اور اس میں ارضیت پائی جاتی تھی، لہٰذا ارضی حادثات کا سب سے زیادہ اثر بھی اسی پر ہوا۔ اس کی پرجلال عمارتیں تو باقی رہ گئیں، مگر ان کی روح جلد ہی مرجھاگئی۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر اسلامی تہذیبوں کے برعکس اسپین کی مسلم تہذیب جلد ہی ختم ہوگئی۔ اور اس اعتبار سے یہ تہذیب اسلام کے تصور تہذیب کے نقطہ نظر سے سب سے ادنی ٰدرجے کی تہذیب تھی۔

یہ مسلم اسپین کی تہذیب کی ظاہری چمک دمک ہی تھی جس سے مغرب اتنا زیادہ متاثر ہوا تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ اور علاقوں کی اسلامی تہذیبوں کی روحانی معنویت کی نسبت اسپین میں ارضی معنویت زیادہ گہری تھی اور یہی چیز مغربی نسل کی سمجھ میں آسانی سے آ سکتی تھی۔ اسلام سے مغرب کا رابطہ کئی سرحدوں پر قائم ہوا لیکن اس نے زیادہ اثرات اسپین ہی سے قبول کیے۔ کیونکہ اسپین کی تہذیب کی ارضی معنویت اور اس کے شہری نظام مغرب کی بالقوہ موجود تہذیب کو بہت بڑا آئیڈیل فراہم کرتے تھے۔ اس وجہ سے آج مغرب کو اور نتیجۃً مسلمانوں کو بھی اسلامی تہذیب کا قابل ذکر کارنامہ فوری طور پر اسپین ہی نظر آتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس میں بہت بڑا ہاتھ مغرب کے پروپیگنڈا کا ہی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اس نکتے کی طرف سب سے پہلے مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم کی نظر گئی ہے اور اسی کی گہری معنویتیں اور توجیہات علمی سطح پر سراج صاحب نے کی ہیں۔(۱۸)

اب ہم آتے ہیں تہذیبوں کے اصول زوال کی طرف۔ سراج منیر نے اس بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کا ملخص یوں ہے: تمام تر ماورائی جہات رکھنے کے باوجود تہذیب اصلاً چونکہ ایک ارضی مظہر ہے، لہٰذا اس کا اصول بھی وہی ہے جو جسم کا اصول ہے۔ جسم خواہ جتنا بھی قوی ہو مگر زمان و مکان کے اصولوں کے تابع ہوتا ہے۔ اس لیے حوادث زمانہ سے تخریب و کمزوری کا شکار ہو کر ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی حال تہذیبوں کا بھی ہے۔ دنیا کی سب تہذیبوں کی طرح اسلامی تہذیب کو بھی زوال ہوا ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ دیگر تہذیبیں اگر ایک دفعہ مبتلائے زوال ہوئیں تو یا تو ختم ہو کے رہ گئیں اور یا پھر ان کے باطن سے ان کا تصور حقیقت ختم ہو گیا ان کا محض ڈھانچہ رہ گیا۔ مگر اس کے مقابلے میں اسلام کا معاملہ یہ ہے اگر کسی ایک علاقے میں اسلامی تہذیب کو زوال ہوا تو اس کا مرکز کہیں اور منتقل ہو گیا۔ یعنی اسلامی تہذیب اپنے مراکز تبدیل کرتی رہی فی الاصل ختم کبھی نہیں ہوئی۔ اسلام چونکہ اصول ہےکوئی سسٹم نہیں اس لیے یہ خود ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کی تہذیبیں اور نظام ختم ہو سکتے ہیں۔ مگر جس طرح روح کو زوال نہیں اس طرح اسلام کو بھی زوال نہیں ہو سکتا۔

مزید برآں زوال کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اسلام کے تصورِ زمان کو مد نظر رکھنا ہوگا جو سراج منیر نے کسی اور جگہ بیان کیا ہے۔ حضور ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ سب سے بہترین زمانہ میرا ہے، پھر اس کے بعد۔۔۔ پھر اس کے بعد۔ یعنی اسلام کے صدر اول کے بعد سے خرابیاں ہی خرابیاں ہیں۔ تو اس لحاظ سے زوال تو حرکت تاریخ میں خلقی طور پر موجود ہے، اس سے تو مفر نہیں۔ اس لیے بقول حسین نصر:

‘‘اسلامی دنیا پر زوال آیا ہے مگر یہ ‘‘بڑھاپے’’ کےتدریجی اور طبعی عمل اور مبداءوحی سے بااعتبارزمانہ دور ہونے کی وجہ سے ہوا ہے’’۔(۱۹)

لیکن اسلامی تہذیب کے زوال کا غم کھانے والوں میں آج کتنے لوگ ہیں جو موجودہ دور کے زوال کو آنحضرت ﷺ کے زمانے کے لحاظ سے زوال کہتے ہیں؟ آج اکثر لوگ جب زوال کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے پیش نظر معیار صرف اور صرف مغرب کی سائنسی ترقیوں کا نمونہ ہوتا ہے۔ اور اس معیار پر تو شاید ‘‘خیرالقرون’’ کوبھی کوئی زیادہ مہذب اورعروج کا زمانہ نہ کہا جا سکے!!

اور سب سے آخر میں پاکستانی تہذیب اور کلچر کا مسئلہ۔ پاکستان کی تہذیب اور کلچر کے حوالے سے ہمارے ہاں جتنا انتشار اور خلفشار ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ پاکستانی کلچر صرف دراوڑی، گندھارا اور سندھ کی تہذیب پرمشتمل ہو سکتا ہے۔ دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ پاکستانی کلچر تہذیب کا آغاز تو تب سے ہوتا ہے جب اس سرزمین پر پہلے مسلمان کا قدم پڑا تھا۔ تیسرا طبقہ کہتا ہے کہ نہیں صاحب! پاکستانی تہذیب تو  چودہ اگست 1947سےشروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کا جو کچھ ہو وہ سب ہندوستان کا ہے ہمارا نہیں۔

اس بارے میں سراج منیر کا کہنا ہے کہ یہ تصور ہی غلط ہے کہ پاکستان وجود میں آگیا اور اب اس کی ایک تہذیب وجود میں آئے گی۔ اصل میں پاکستان تو برصغیر کی اسلامی تہذیب کے سیاسی ظرف اور حصار کے طور پر وجود میں آیا ہے۔ باقی یہاں کا موجود تہذیبی سرمایہ اور مواد جو ہے وہ پہلے ہی اسلام کے تہذیبی اصولوں اور معیاروں پر پرکھا جا چکا ہے۔ اصل چیز اسلام کا تصور حقیقت ہے۔ باقی مواد چاہے وہ ہیئت میں موجود ہو یا خیال میں، اس کی حیثیت ثانوی ہے۔ اور یہ رد و قبول کی چھلنی میں پہلے ہی چھانا جا چکا ہے۔ اس کے لیے ہمیں پاکستان بننے کے بعد کوئی زحمت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لحاظ دیگر قدیم تہذیبوں کا جو سرمایہ اس علاقے میں ہے وہ جس قدر اسلام کے تصور حقیقت کے مطابق ڈھل سکے وہ پاکستانی تہذیب کا حصہ ہے۔ اس سرمائے کو پاکستانی تہذیب سے خارج کرنا کوتاہ نظری ہوگی۔(۲۰)

اس مضمون میں ہم نے سراج منیر کے تصورِ تہذیب کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے اس پر نقد و جرح کی گنجائش بھی ہو سکتی ہے۔ خود میرے اپنے بہت سے سوال ہیں جو ان کی بعض تعبیروں سے پیدا ہوئے ہیں مگر اصلاً جو چیز اس ساری طول کلامی میں مقصود ہے وہ یہ ہے کہ اس مسئلے کو جس گہرائی سے سراج منیر نے دیکھا ہے اور جو بعض نکتہ آرائیاں کی ہیں وہ اردو کی حد تک تو شاذ ہی ہیں۔ انہوں نے مسئلہ تہذیب پر جو کچھ لکھا ہے ہم نے اس میں سے انتہائی بنیادی نکات اس تحریر کا حصہ بنائے ہیں۔ ان کے مفہوم کو بعض اوقات ان کے الفاظ میں اور اکثر اپنے الفاظ میں نقل کیا ہے۔ حتی المقدور ان کی طرف کوئی ایسی بات منسوب نہیں کی جس کی سند ہمارے پاس نہ ہو۔ جن حضرات نے ملت اسلامیہ۔ تہذیب و تقدیر پڑھی ہے، وہ جانتے ہوں گے کہ سراج منیر نے یہ مباحث کس ادق اسلوب میں لکھے ہیں۔ اس لیے خطا ممکن ہے۔ اس مضمون میں مقصود ان کے تصورات کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرنا تھا۔ اس پر نقد و جرح آئندہ کسی صحبت میں ہوگی۔

سراج منیر ایک شخصیت ہی نہ تھے بلکہ ایک ثروت مند تمدن کی علامت تھے۔ ان کے اندر ایک عہد بولتا تھا۔ ایک مکمل تہذیبی آدمی میں جو رعائتیں اور مروتیں ہوتی ہیں وہ ان کا زندہ نمونہ تھے۔ اسلامی تہذیب پر جس طرح جم کر انہوں نے لکھا ہے کم لوگوں نے لکھا ہوگا۔ تہذیب ان کی دیگر ادبی جہات پر اس طرح چھاگئی کہ وہ مجسم تہذیب ہوگئے۔

کارے کہ من اختیار کردم ایں بود
باقی  ہمہ  کار  اتفاقیست  مرا

بانگ درا کے ‘‘دیباچے’’ میں سر شیخ عبدالقادر نے علامہ اقبال کے بارے میں لکھا ہے کہ اقبال کے والدین جب ان کا نام رکھ رہے ہوں گے تو وہ قبولیت دعا کا وقت ہوگا۔ یہ بات اس زمانے میں اگر کسی شخص کے بارے میں کہی جاسکتی ہے تو وہ شخص ہے سراج منیر! ٹھہریئے چونکیے نہیں پہلے ذرا سراج منیر کو دیکھ لیجئے، جان لیجئے اور پھر میری اس جرات سے اگر آپ اختلاف کریں تو آپ کو حق ہوگا۔ اختلاف کرنے کے لیے کسی جواز کا ہونا ضروری تو نہیں!!

عالمے صاحب دل است
اماں کسے بیدل نہ شد

مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

مضمون کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں


حواشی

(۱۵) محمدحسن عسکری، جھلکیاں جلددوم بعنوان ‘‘تخلیقی عمل اور اسلوب’’، کراچی نفیس اکیڈمی، ۱۹۸۹ء، صفحہ۱۷

(۱۶) سلیم احمد، اسلامی نظام، مسائل اور تجز یے، صفحہ۱۴۵۔ اس مضمون میں سلیم احمد کا تجزیہ بہت چشم کشا ہے۔ وہ کہتے ہیں جو لوگ مسلمانوں کی تاریخ کو اسلام سے الگ کوئی چیز بتاتے ہیں ان کے دو گروہ ہیں، ایک گروہ یہ نقطہ نظر اس لیے اختیار کرتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنی تاریخ کے مختلف مرحلوں میں جو جو خلاف اسلام کام کیے ہیں، اس کا ذمہ دار اسلام کو نہ سمجھا جائے بلکہ ان کاموں کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالی جائے۔ یہ ایک ہمدردانہ اورصحیح نقطہ نظر ہے۔ لیکن اس کے مقابل دوسرا گروہ جو ہے وہ یہ کہتا ہے مسلمان اپنی پوری تاریخ میں جس اسلام کو مانتے آئے وہ حقیقی اسلام ہے ہی نہیں۔ بلکہ اصل اور خالص اسلام وہ ہے جو انہوں نے سمجھا ہے۔ باقی اب تک کے تمام محدثین و فقہا اور ائمہ کرام محض جھک مارتے رہے ہیں (نعوذباللہ)۔ یہ نقطہ نظر قطعی غلط اور گمراہ کن ہے۔

(۱۷) ڈاکٹرسیدعبداللہ، کلچر کا مسئلہ،صفحہ۳۹

(۱۸) اسپین کی تہذیب پر یہ بحث سراج صاحب کی کتاب ملتِ اسلامیہ کےصفحہ۱۰۰۔ ۱۰۲ سےماخوذہے۔

(۱۹) سیدحسین نصرIslam and the Plight of Modern Men, p.123 اس کتاب کے باب نمبر ۱۱ بعنوان “Decadance-Deviation-and-Rennisance” میں مصنف نے زوال کے حوالے بہت مفصل اور راسخ انداز میں گفتگو کی ہے۔ اور خاصے کی چیز ہے۔

(۲۰) پاکستان تہذیب کے حوالے سے سراج منیر صاحب کا یہ نقطہ نظر ان کی کتاب ملت اسلامیہ میں بیان نہیں ہوا۔ ہم نے یہ مواد تہذیب کے مسئلے پر ان کی ایک گفتگو سے اخذ کیا ہے جو انہوں نے تحسین فراقی کے ساتھ کی تھی اس گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ ہمارے پاس موجود ہے۔ اسے آڈیو سے تحریر میں منتقل کرکے ہم اسے حواشی و تعلیقات کے ساتھ ملتِ اسلامیہ: تہذیب و تقدیر کے دوسرے ایڈیشن میں شائع کرایا تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: