سراج منیرکا تصور تہذیب (حصہ دوم): عزیز ابن الحسن

1
  • 100
    Shares

راقم کے خیال میں اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تصور حقیقت یا مذہب کا آدرش انسانی وجود میں سے گذرتا ہوا جب عمل کی دنیا میں ظاہر ہوتا ہے تو اس میں انسانی جذبات اور ارادے کی آمیزش ہو جانے کی وجہ سے یہ اپنی اصل سے قدرے ہٹ جاتا ہے اور تہذیبی صورت میں ظہور کرتا ہے۔ ان آدرشوں میں انسانی آمیزش جس قدر کم ہوگی، تہذیبی اوضاع اتنی ہی آدرش کےقریب ہوں گی۔ لیکن انسانی عرصۂ عمل میں ایسا ہونا چونکہ ممکن نہیں اس لیے یہ آمیزش جس تناسب سے بڑھتی جائے گی وہ اوضاع اسی نسبت سے تصورِ حقیقت کے اعتبار سے انسانیاتی و علاقائی ہوتی جائیں گی۔ یہ ایک اصولی نکتہ ہے جو بہت تفصیل کا محتاج ہے۔ اس سے ہم ایسے تمام تہذیبی مظاہر کی حیثیت بیان کر سکتے ہیں جو کچھ خاص ارضی خصوصیات اور کچھ مخصوص علاقوں اور وہاں کے رہنے والوں کے نسلی و نفسیاتی رنگ لیے ہوتے ہیں اسی لیے یہ بعض اوقات مذہبی نقطۂ نظر سے قابل قبول نہیں ہوتے۔ مثلاً قوالی ہے یا میلاد النبی ﷺ کے جلسے جلوس یا مثلاً فنون میں موسیقی یا مصوری وغیرہ ہے تو ان کی مذہبی حیثیت ہم اسی اصول سےمتعین کر سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا بحث سے معلوم ہوا ہے کہ مظاہر تہذیب کے پس منظر میں جو اصول کار فرما ہوتا ہے وہی در حقیقت کسی تہذیب کی روح ہوتا ہے اور وہ روح ہے اس تہذیب کا تصور حقیقت۔ (۱۱)

مظاہر کے اعتبار سے کچھ تہذبیں اگر متنوع بھی ہوں، لیکن ان کا اصول فاعلی یعنی تصور حقیقت اگرمشترک ہو تو وہ تہذیبیں کسی بڑے دائرے میں جا کر ہم آہنگ ہو جائیں گی۔ لیکن مظاہر کی یکسانیت کے باوجود تصور حقیقت اگر الگ ہوں تو وہ تہذیبیں بھی الگ الگ ہوں گی۔

سلیم احمد

مذہب یا تصور حقیقت تہذیب کا فاعلی عنصر ہونے کے باوجود تہذیب بہرحال ایک زمینی مظہر ہوتا ہے۔ اس لیے وحی (یا مذہب) اور تہذیب کے مابین وہی ربط ہوتا ہے جو روح اور جسم کے مابین ہے۔ چنانچہ جس طرح درجۂ روح میں کسی بیماری، خرابی، شر اور زوال کا تصور نہیں ہو سکتا اسی طرح وحی اور مذہب کے دائرے کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی ارضی خرابی اور زوال کی کار فرمائی ممکن نہیں۔ لیکن روح جب ظہور خارجی کی شرائط پوری کر کے جسم حاصل کرتی ہے تو اس میں ہزاروں طرح کی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور آخر کار اس کو زوال بھی آتا ہے۔ یہی معاملہ تہذیبوں کا بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبیں اپنی عارضی نوعیت کی وجہ سے زوال کا شکار بھی ہوتی ہیں اور آخر کار وہ فنا بھی ہو جاتی ہیں۔ اسلامی تہذیب بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ لیکن زوال کی بحث ہم آگے چل کے کریں گے۔

دنیا کے تمام مذاہب نے جس طرح اپنی اپنی تہذیبیں تشکیل کیں اسی طرح اسلام نے بھی اپنی ایک عظیم الشان تہذیب پیدا کی لیکن اسلام کے تہذیبی و ثقافتی مظاہر ہمیں صدر اول میں اس طرح نظر نہیں آتے جس طرح کہ بعد کو ایران میں یا ہندوستان کی اسلامی تہذیب میں ملتے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ہے، وہ یہ کہ اگر کسی معاشرے کے کچھ انسان اپنے بشری اور انسانی عارضوں سے اتنے مبرا اور شفاف ہوجائیں کہ ان کا تصور حقیقت یا احکام وحی ان کے وجود کے Prism سے گزرنے کے باوجود ان کی بشری آلودگیوں سے ذرا بھی متاثر نہ ہوں اور جوں کے توں انسانی سیاق میں ظاہر ہوجائیں تو اس معاشرے میں مذہب اور تہذیب کا فرق کم سے کم ہوگا یا وہاں مذہب اور تہذیب تقریباً یکساں ہو جائیں گے۔ اس لیے بقول سراج صاحب

‘‘ہم معاشرہ مدینہ کو مروجہ معنوں میں تہذیب نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہاں وحی کے مقابلے میں انسانی داعیات بڑی حد تک کار فرما تھے ہی نہیں’’

جو کہ تہذیب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے وجود وحی اور محیط وحی کی قربت اور صحبت کی وجہ سے اس قدر مصفی و مزکی ہو چکے تھے کہ احکامات الہٰی ان کے داخلی داعیات و مہیجات سے ذرہ بھی آلودہ ہوئے بغیر عرصہ عمل میں آ جاتے تھے۔ اس لیے ان کا مذہب اور ان کی تہذیب تقریباً ایک ہی تھے۔ لیکن جوں جوں نزول وحی اور قربت رسول ﷺ سے زمانی و مکانی فاصلہ بڑھتا گیا، انسانی طبائع میں دھندلاہٹ پیدا ہوتی گئی جس کی وجہ سے احکامات ربانی کی تعمیل میں خواہشات و مقتضیاتِ انسانی بھی شامل ہوتی گئیں جس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ تہذیبی اوضاع نے جنم لینا شروع کیا۔(۱۲)

تہذیب کے اصولِ تشکیل کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ اسلامی تہذیب کی دیگر تہذیبوں سے رابطے کی نوعیت کیا ہے۔ سراج صاحب کہتے ہیں کہ اس کی نوعیت وہی ہے جو اسلام کی دوسرے مذاہب کے تعلق سے ہے۔ اسلام بجائے خود کوئی نیا مذہب ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ وہ سلسلۂ مذاہب کی تجدید و تکمیل کرتا ہے۔ جس طرح اسلام دیگر تمام مذاہب میں موجود انسانی آمیزش سے پیدا شدہ گمراہیوں یا وقتی اور ہنگامی نوعیت کے احکامات کی تنسیخ کر کے ان کے تصور حقیقت کی تصدیق کرتا ہے اسی طرح اسلام کی پیدا کردہ تہذیب بھی دوسری تہذیبوں کے ان عناصر کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے جو اس کے تصور حقیقت کے مطابق ہوں اور ان مظاہر کو رد کر دیتی ہے جو خالص انسانی گمراہی کی پیداوار ہوتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

‘‘نبی کریم ﷺ نے ایام جاہلیت کی بہت سی رسموں کو علی حالہ باقی رکھا، کچھ میں ترمیم فرمادی اور کچھ کو یکسر منسوخ کر دیا۔ اس طریق کار کی لم یہ ہے جو رسوم دین ابراہیمی کے سوتے سے پھوٹی تھیں اور اپنی اصل شکل میں برقرار تھیں، انہیں جوں کا توں قبول کر لیا گیا۔ جن میں لوگوں نے ترمیم کر دی تھی انہیں ان کی اصل صورت پر لوٹا کر شعائر اسلام میں داخل کر لیا اور جو رسوم یکسر انسانی گمراہی کی پیداوار تھیں انہیں منسوخ کردیا’’۔

یوں گویا حضور ﷺ نے ہر زمانے اور ہر زمین کے لیے تہذیبی اخذ و قبول اور رد و تنسیخ کے اصول طے کر دیے۔ اب اس بات کا فیصلہ قرآن کی فرقانی روشنی میں ہو گا کہ کونسی تہذیبی اوضاع کائناتی قوانین کے مطابق ہیں اور کونسی انسانی گمراہیوں کی پیداوار۔۔۔ اسلام جہاں بھی گیا اور جن جن تہذیبی دائروں سے اس کا سابقہ پڑا اس نے وہاں کے تمام مواد کو اسی اصول کے تحت رد و بدل قبول کیا۔ اور ان علاقوں میں اپنی تہذیبیں تشکیل دیں۔

اس کے بعد تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اسلام نے مختلف علاقوں مثلاً عرب، ایران، افریقہ، ہندوستان وغیرہ میں اپنی جو تہذیبیں پیدا کیں وہ مزاجاً الگ الگ کیوں ہیں؟ اور ان تہذیبوں میں جو اخلاقی اور فکری گمراہیاں پیدا ہوتی ہیں ان کا سبب کیا ہے؟ اس حوالے سے سراج سب سے پہلے یہ بتاتے ہیں کہ تہذیبوں کے مزاج میں فرق کی اہم وجہ تو یہ ہے کہ چونکہ کوئی ایک نسل انسانی اپنے محدود ظرف کی وجہ سے حقیقت مطلقہ کا کلی اظہار نہیں ہو سکتی۔ اس لیے بنی نوع انسان کو مختلف شعوب و قبائل میں تقسیم کیا گیا کہ وہ لامحدود تجلیات کو سہار سکیں۔ یہ اسماء الہٰیہ کی مختلف تجلیات ہیں جومختلف تہذیبوں کو اصول متعالیہ کے درجے میں متحد رکھتے ہوئے بھی ان کے مزاجوں اور خارجی ڈھانچوں میں تنوعات کے ہزاروں رنگ بھر دیتی ہیں۔۔۔ اس کا دوسرا سبب یہ ہے کہ جس طرح اسلام کسی بھی علاقے کے انسانوں کو ان کا جسم اور دماغ تبدیل کیے بغیر محض ان میں ایمان پیدا کر کے انہیں اپنے دامن میں سمو لیتا ہے بالکل اسی طرح اسلام مختلف تہذیبی اوضاع کو اپنے تصور حقیقت کے مطابق ڈھال کر ان کی تمامتر نیرنگیوں سمیت انہیں قبول کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عجم کی رنگینیاں عرب کی سادگی سے ظاہراً مختلف ہونے کے باوجود اتنی ہی اسلامی ہیں جتنی کہ ہندوستان کی اسلامی تہذیب۔ اگر ایسا نہ ہو اور اسلام ان علاقوں کی کوئی چیز قبول نہ کرے تو ایک طرف تو یہ ان جائز مظاہر کا انکار ہوگا جن کا ظہور بالآخر فطرت انسانیہ سے ہوتا ہے اور دوسرے یہ چیز اسلام کے تہذیبی استحکام کے لیے بھی بے انتہا ضروری ہے جس کی وضاحت آگے اسپین کی اسلامی تہذیب کے ضمن میں ہوگی۔ مختلف علاقوں میں اسلامی تہذیب کی رنگا رنگی کی اصل حقیقت کو نہ سمجھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے عجم کی نکتہ طرازیوں کو خلاف اسلام جانا اور کچھ نے عرب کی سادگی کو خلاف تہذیب سمجھا۔ سراج منیر بتاتے ہیں کہ بحیثیت اصول کسی ایک ارضی مظہر کو دوسرے ارضی مظہر کے لیے معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ بلکہ ان کا ماورائی اصول ان کے لیے معیار ہوا کرتا ہے:

‘‘جس طرح آدمی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار محض اس کے ایمان سے قائم ہوتا ہے، اسی طرح تہذیب کے اسلامی یا غیراسلامی ہونے کا فیصلہ اس کے تصور حقیقت سے ہوتا ہے’’۔(۱۳)

ان تہذیبوں میں پیدا ہونے والی گمراہیوں کا سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ تہذیب بہرحال ایک انسانی اور ارضی مظہر ہے اس لیے اس میں شرکا پیدا ہونا اسی طرح لازمہ فطرت ہے جس طرح جسم میں بیماری کا پیدا ہونا۔ جسم جتنا بھی صحتمند ہو اس میں بیماری کا امکان ہر حال میں باقی رہتا ہے اسی طرح تہذیب میں بھی خرابیاں در آتی ہیں۔ کوئی بھی مذہبی تہذیب از روئے تدبیر الہٰیہ شر کے امکان کو ختم نہیں کر سکتی لیکن وہ اس امکان کو کم سے کم ضرور کر دیتی ہے:

‘‘جس طرح کسی بدی کو بحیثیت اصول اس لیے قبول نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں خیر کے کچھ پہلو بھی جھلکتے ہیں، اسی طرح کسی خیر کو محض اس لیے ترک بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے کچھ شعبوں میں بتقاضائے فطرت بدی کار فرما ہوگئی ہے۔۔۔ اصل مسئلہ اصولی شناخت کا ہے۔ اس اعتبار سے آج تک کی تاریخ میں اسلامی تہذیب کے جتنے بھی زمانی و مکانی دائرے وجود میں آئے ہیں وہ سب کے سب اپنی خوبیوں اور خامیوں سمیت اسلامی تہذیب کے نمونے ہیں’’۔(۱۴)

یہاں آ کر سراج منیر تاریخ اسلام کے بارے میں محمد حسن عسکری کے اس تصور کے بہت قریب آ جاتے ہیں جو انہوں نے قیام پاکستان کے فوراً بعد ‘‘تاریخی شعور’’(۱۵) نامی اپنے مضمون میں اور سلیم احمد نے جسارت اخبار کے اپنے چند کالموں(۱۶) میں خالص اسلام والوں کی رد میں اختیار کیا تھا جو مسلمانوں کی تاریخ اور تہذیب کو اسلام سے الگ کوئی شے بناتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

مضمون کا اگلا اور آخری حصہ اس لنک پہ


حواشی

(۱۱) ‘‘تصورحقیقت ایک ماوراعنصر ہے،جو آدم اور عالم کی جدلیات میں تہذیب انسانی کی بامعنی تشکیل کرتا ہے’’ (ملتِ اسلامیہ، صفحہ۷۸) ہم اسےوحی بھی کہہ سکتے ہیں۔

(۱۲) یہ بحث تفصیل کی متقاضی ہے۔ لیکن میں یہاں ایک آدھ مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔۔۔ حضور ﷺ کی محبت صحابہ کرام کے ایمان کا حصہ تھی۔ اس محبت کے اظہار کے تقاضوں کو وہ آنحضرت ﷺ کی سنت پر مو بمو عمل کر کے پورا کرتے تھے اور بس کیونکہ سنت کے علاوہ کسی اور چیز یا وسیلہ اظہار کو اختیار کرنا ان کے تصور میں بھی نہ آ سکتا تھا۔ مگر مابعد کے دور میں جب کمزوری ایمان کے نتیجے میں سنت کی تعمیل میں بشری عارضے حارج ہونے لگے تو عامۃ المسلمین نے محافل و مجالس میلاد کو بھی آنحضور ﷺ کی محبت کے اظہار کا وسیلہ جانا۔ اب ان مجالس اور ان کے لوازمات سے جو شکلیں پیدا ہوئیں وہ ہماری تہذیب کا ایک مظہر ہیں۔ علی ھذالقیاس۔ (عزیز)

(۱۳) ملتِ اسلامیہ،صفحہ۸۷

(۱۴) سراج منیر، ملتِ اسلامیہ،صفحہ۸۷۔ ۸۸

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. تہذیب یا تمدن؟
    تہذیب اور تمدن دو الگ الگ مظاہر ھیں۔ تہذیب کو تمدن اور تمدن کو تہذیب کے معنی میں استعمال کرنے کا نتیجہ ھے کہ ھم دونوں کو ارتقاء پذیر فضائل سمجھنے لگتے ھیں۔ حالانکہ ارتقاء پذیر فقط تمدن ھوتا ھے، تہذیب انسان کی ھستی کی طرح ارتقاء یافتہ فضیلت ھے۔ جیسے انسان جسمانی طور پر ارتقاء یافتہ ھے، اب مزید جسمانی ساخت کا ارتقاء ممکن نہیں ھے، اسی طرح تہذیب بھی ارتقاء یافتہ ھے۔ تہذیب انسان کی انسانیت ھے، وہ یہاں اور، اور وہاں اور نہیں ھے۔ انسان سے ھم انسانیت نہیں چھین سکتے اسی طرح ھم انسان سے تہذیب اور مقتضائے تہذیب الگ نہیں کر سکتے۔
    ہزاروں سال پہلے اور ہزاروں سال بعد انسان سے انسانیت کا مطالبہ فقط اس کے تہذیبی وجود کی وجہ سے کیا جا سکتا ھے۔ جرم اخلاقی ھو یا قانونی، انسانی صورت حال میں لاعلمی—- جرم سے لاعلمی—— اس جرم کے درست ھونے کا ثبوت ھے اور نہ دلیل ھے۔ ھم انسان کا ایسا تصور اپنے ذھن میں نہیں لا سکتے جو اخلاقی اور قانونی جرم کو جرم نہ سمجھے اور پھر بھی وہ انسان ھو۔
    انسان کو انسان ماننا ھے تو یہ ممکن نہیں کہ میں اسے اپنے سے ماورائی مخلوق مانو یا اپنے سے گرا ھوا جانور سمجھوں۔ فرض کرنے اور مفروضات کو حقیقت سمجھنے میں ٹکہ پیسا خرچ نہیں ھوتا، لیکن مفروضات کے نتیجے میں انسانی صورت حال کے مطالعہ نہ درست ھوتا ھے اور نہ یہ کوئی جائز منہج ھے۔
    غلط بات کو غلط باور کرانے سے انسان سمجھ لیتا ھے کہ وہ غلط ھے تو اس لیے کہ غلط کے غلط ھونے کا شعور انسان کے وجود میں پہلے سے موجود ھے۔ غلط اور ناشائستہ عمل انسان کی انسانیت کا نمونہ نہیں ھوتا۔ اگر کسی جگہ انسانوں میں کوئی غلط اور نارواء عمل مروج ھے تو یہ ان کی انسانیت کا ثبوت نہیں ھے، ان کی انسانیت کا ثبوت یہ ھے کہ جب درست اور جائز عمل اور طرزعمل ان سامنے آتا ھے تو وہ اسے اپنا لیتے ھیں۔
    “تہذیب” ان حشو و زوائید کی تراش خراش کا نام ھے جو غیرضروری اور غیرمتعلق ھوتے ھیں۔ انسان کا تہذیبی وجود غیرضروری اور غیراھم حشو و زوائید کو غیرضروری اور غیرمتعلق نہ سمجھے تو یہ کہنا درست ھو گا کہ انسان تہذیبی اعتبار سے ارتقاء پذیر ھستی ھے۔ جس طرح انسان ایام طفولیت میں ھی ان تمام قوی کو اپنے ھستی میں لیے ھوتا ھے جو مستقبل میں جا کر حقیقت بننے ھیں، اسی طرح انسان اپنے تہذیبی وجود میں تہذیبی ارتقاء کو لیے ھوتا ھے۔
    ھم کسی انسان کی “کذب بیانی اور قتل نفس” کو کسی بھی وجہ سے درست نہیں مان سکتے، ھمارے نقطہ نظر سے وہ مہذب ھو چاھے نہ ھو۔ اس کی کیا وجہ ھے؟ اس کی فقط ایک وجہ ھے کہ وہ انسان ھے۔
    ھم یہ مانتے ھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ھمارے جیسی ترقی نہیں رکھتے تھے مگر وہ کیا شے ھے جس میں وہ ھم سب کے لیے نمونہ ھیں؟ وہ فقط ایک شے ھے کہ وہ ھم سے زیادہ مہذب تھے، اور ھم ان سے زیادہ متمدن نہیں تھے۔
    ہارون الرشید کا شاھی دربار اگر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حکومتی آفس سے زیادہ کروفر رکھتا تھا تو یہ فرق تہذیبی نہیں تھا، تمدنی تھا۔ آج بھی استنبول کی جامع مسجد اور بلوچستان کی جھونپڑی نما مسجد میں فرق نظر آتا ھے تو یہ فرق تمدنی ھے، جہاں تک تہذیبی مظہر کا تعلق ھے تو ان دونوں مساجد کے ساتھ جو تعظیم و توقیر وابستہ ھے وہ اسلامی تہذیب کا مظہر ھے۔ اسلامی تہذیب کا مظہر استنبول کی جامع ھے اور نہ بلوچستان کی جھونپڑی نما مسجد ھے۔
    انسان جب اپنی زندگی کی آسانیوں کا سازوسامان بناتا ھے تو یہ اپنے خارج کو سنوارتا ھے اور یہ تمدن کہلاتا ھے اور جب اپنے وجود کی انسانی جہت کو سنوارتا ھے تو آسانیاں اگر اس مقصد میں رکاوٹ بن رھی ھوں تو ان کے تعقب میں نہیں دوڑتا۔ یہ انسان کی تہذیب ھے۔
    تمدنی مظاہر میں انسان اپنی راحت تلاش کرتا ھے، دیدہ زیب اور دل فریب مناظر بناتا ھے۔ مذھبی مظاہرہ بھی انسان کی نفسیاتی راحت کا ایک وسیلہ ھیں ورنہ “نبوت” انسانی مظاہر میں کوئی مظہر نہیں ھے۔ یہ خیال بڑا عجیب ھے کہ “نبوت” انسانی میڈیم سے خود کو Realize کرتی ھے یا غیرنبی “نبوت” کو اپنے اپنے زمان و مکان کے مطابق reshape کرتا ھے۔
    پچھلے چودہ سو سالوں میں مذھبی اعمال —— نماز، روزہ اور حج و زکوة وغیرہ —— زمان و مکان کی نذر نہیں ھوئے اور نہ قرآن پاک بدلا ھے۔ البتہ مساجد اور قرآن پاک کی خطاطی کے نمونے ضرور بدلے ھیں۔ مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا ھے کہ یہ تمدنی مظاہر ھیں تہذیب کا اس سے کوئی تعلق نہیں ھے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: