عامر لیاقت : جو نام ہے اعتماد کا —- شہنیلہ بیلگم والا

0
  • 152
    Shares

پلیز ہنسئے مت۔ پہلے بات سن لیں پوری۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عامر لیاقت جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں اسے اپنا پورا ہنڈرڈ پرسنٹ دینے ہیں۔ مثلا اگر سانپ دکھانا ہے تو اس کے سامنے اپنی لپ لپ کرتی زبان بھی دکھائیں گے۔ آم کھلانا ہے تو ایسے کھلائیں گے کہ کھانے والے کی ہمیشہ کی بس ہوجائے۔ اپنے ٹی وی شو کا پرومو ایسے بنائیں گے کہ بڑے بڑے ایکٹر ان کے آگے پانی بھرتے نظر آئیں۔ ان سے مجلس کروا لیجئے۔ چلانے کو کہہ دیجئے۔ ان سے گوا لیجئے۔ طاہر شاہ سے اٹھکھیلیاں کرنے کو کہہ دیجئے۔ ہر شعبے میں اپنی بہترین پرفارمنس دینے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔

ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ ان کی لیکڈ وڈیو، کسی فلم سے زیادہ دیکھی گئی۔ کون بھول سکتا ہے وہ شرماتے لجاتے مولوی صاحب کا چہرہ جب وہ کہتے ہیں “بہت نازک صورتحال ہے”۔ کیسے کوئی فراموش کردے وہ تاریخی جملہ”غالب فلم دیکھی ہے آپ نے”۔ واہ کیا بذلہ سنجی تھی، کیا بے ساختگی تھی۔ کیا خوش گفتاری تھی۔ اس وڈیو نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور یہ سب کیسے ممکن ہوا صرف اور صرف عامر لیاقت حسین کے کارن۔ جب آپ کے اندر ٹیلنٹ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو تو لوگ حسد کرنے لگ ہی جاتے ہیں۔

کیا کیا نہ تہمتیں لگائیں ان پہ لوگوں نے۔ کہ ان کو پیسے دے کر کچھ بھی کروا لیجئے تو صاحب اس میں کیا غلط ہے۔ کیا اپنی نوکری پوری ایمانداری سے کرنا، رزق حلال کمانا نہیں۔ مگر برا ہو حاسدوں کا۔ ان کی اس خوبی کو بھی خرابی بنا دیا۔ یہاں تک کہہ دیا کہ حضور عامر لیاقت کے نوکری کرنے سے ڈر نہیں لگتا چھوڑنے سے لگتا ہے۔ اب کیا ایک ایماندار بھلا مانس کسی جگہ کو اس کی برائ اور بدعنوانی کی وجہ سے مجبورا چھوڑے تو کیا وجہ بھی نہ بیان کرے۔ احباب سوال کریں تو حقیقت تو بیان کرے گا نا غریب۔ مسکین دوران نوکری تو مالکوں کے خلاف کچھ کہہ نہ سکا مگر اب تو کوئی مجبوری نہیں۔ کیا ہم میں سے کسی نے نوکری چھوڑنے کے بعد وجوہات نہیں بتائیں؟؟؟ کیا ہم نے پرانے مالکوں کی غلطیاں فاش نہیں کیں؟؟؟ تو پھر اس معصوم پہ ہی الزام کیوں؟؟؟

کچھ شرانگیز تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ ایک طرح کی بلیک میلنگ ہے عامر لیاقت کی کہ اگر مُجھے نکالا تو پھر دیکھنا کرتا کیا ہوں تمہارے ساتھ۔ مگر ہمیں اس سے قطعی اتفاق نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ نوکری چھوڑنے کے بعد بھی اپنے سابقہ مالکان کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سابقہ ادارے ان کے بغیر بھی ترقی و کامرانی کی راہ پہ گامزن رہیں۔ جو کام وہ نوکری کے دوران نہ کرپائے وہ نوکری چھوڑنے کے بعد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے سابقہ اداروں کی اصلاح کی غرض سے ہی وہ انہیں ان کی کوتاہیاں اور غلطیاں بتاتے ہیں تاکہ وہ آگے سے ایسی غلطیاں نہ کریں جس کی وجہ سے انہیں عامر لیاقت جیسے بےلوث اور مخلص کارکن کھونا پڑیں۔

عامر لیاقت کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ کوئی نیکی کا کام بھی کرنا چاہتے ہیں تو احباب مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں۔ مگر آفرین ہے عامر کے بلند حوصلے اور اولوالعزمی کو۔ مجال ہے کہ ان کے پایہ استقامت میں ذرا لڑکھڑاہٹ آئے۔ کسی کی بھی تنقید اور تضحیک کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ چپ چاپ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے روہنگیا مسلمانوں کی تڑپ، ان کے درد کو محسوس کرتے ہوئے، امت کا کرب اپنے اندر سموتے ہوئے جب برما کی طرف عازم سفر ہوئے تو لوگوں نے کیا کیا نہ کہا۔ کچھ ناہنجاروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ تھائی لینڈ جا رہے ہیں اور کچھ صحت بخش مشغولیات میں وقت صرف کرنے کا ارادہ ہے۔ اب قسمت کا پھیر دیکھئے کہ تھائی لینڈ میں ہی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کی باعث روک لئے گئے ورنہ تو پوری نیت تھی کہ برما کے لیڈران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر روہنگیا مسلمانوں پہ کی گئی ہر زیادتی کا بدلہ لیں گے اور ان کو تمام حقوق دلوا کر ہی لوٹیں گے جو اب تک ساری دنیا نہیں دلوا سکی۔ مگر بدخواہوں کی نظر کھا گئ اور کشتی کنارے پہ پہنچنے سے پہلے ہی ڈوب گئ۔

اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ جیسے ہی عامر لیاقت کسی چینل کو چھوڑتے ہیں یار لوگ پاپ کارن سامنے رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اصلی مزیدار فلم تو اب چلے گی۔ تو بس درخواست اتنی ہے کہ بدگمانی اچھی بات نہیں۔ ایسا بھی کیا کہ کسی کا نام ہی سن کر سمجھ لیا جائے کہ یہ جب بھی کچھ بولیں گے جھوٹ اور منافقت کا بھنڈار ہی ہوگا۔ کبھی کبھی تو ہر انسان سچ بول ہی دیتا ہے تو خدارا ایسا مت کیجئے۔ سن تو لیجئے کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ کیا کہ پہلے سے ہی ہنسنا شروع۔ اب وہ ایسے بھی نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: