دانش نامہ ۔۔۔ سازش : محمد خان قلندر

0

شک کی بیماری کا شکار شخص چاہے کتنے ہی بڑے عہدے پر متمکن ہو جائے، شدید عدم تحفظ کے خوف کا شکار رہتا ہے۔ ایسا بندہ ہر وقت اس وہم میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کے ارد گرد کے لوگ اور دیگر ادارے اس کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش کرنے میں مصروف ہیں۔ اس لئے چند انتہائی معتمد افراد کے وہ کسی کی کسی بات کو مبنی بر حقیقت ماننے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے. سوائے ان لوگوں کے جو خوشامد اور مبالغہ آرائی کے فن سے اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے اسے ہر وقت مکمل محفوظ، بااختیار، طاقتور اور عقل کل ہونے کا مسلسل یقین دلاتے رہتے ہوں وہ کسی سےبھی اپنی سوچ اور خیال کی بابت بات نہیں کرتا ہے۔

ہمارے محترم نواز شریف ایسی کیفیت سے دوچار رہنے کی بدترین اور عبرت ناک مثال ہیں۔ ان کے انتہائی قریبی ایک صحافی دوست نے فرمایا تھا کہ میاں صاحب کسی مسئلے پر اپنی ذاتی رائے نہیں دیتے جبکہ اس پر وہ اپنے ذاتی ملازمین سے بھی رائے طلب کرتے ہیں، میٹنگ میں بھی ہر ایک سے اس کا خیال پوچھتے ہیں لیکن خود کیا سوچ رہے ہیں اس کا اظہار کبھی نہیں کرتے ہیں.ان کے پہلے دو ادوار میں ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک اعلی سرکاری عہدے دار کا کہنا تھا کہ میاں صاحب اکثر یہ پوچھتے کہ وزیراعظم ہوتے ہوئے وہ فلاں کام کیوں نہیں کر سکتے چاہے وہ کام قواعد و ضوابط کے خلاف ہو۔

سعودیہ میں جلاوطنی کے دوران انہیں شکوک و شبہات اور واہموں سے بھری سوچ کے سبب وہ طے کر چکے تھے کہ پاکستان میں رہتے وہ کبھی محفوظ نہیں ہونگے سوائے اس کے وہ برسر اقتدار ہوں۔ اسی لئے اس دوران انہوں نے بیرون ملک کاروبار اور اتنی جائیداد بنالی کہ اگر اقتدار میں نہ ہوں تو وہاں رہ سکیں بچوں کو مستقل بیرون ملک سیٹل کر دیا۔

زرداری کے پانچ سالہ دور میں جہاں انہوں نے بیرون ملک اپنے خاندانی کاروبار کو اور پنجاب میں اپنی خاندانی حکومتی گرفت کو منظم اور مستحکم کیا. دوبارہ مرکز میں برسر اقتدار آنے کی منصوبہ بندی کی،  وہیں اپنے سابقہ تجربے کے بنیاد پر مستقبل میں اپنی ممکنہ حکومت کو پیش آنے والے خطرات کی پیش بندی اور تدارک کے لئے اپنے ذہن میں منصوبے بھی بنا لئے تھے.

غیر محفوظ ذہن سازش کی بہترین آماجگاہ ہوتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے خلاف سازش ہو رہی ہے اس لئے وہ سازش کا توڑ سازش سے سوچتا ہے۔  چنانچہ آدھ درجن آرمی چیفس کے ساتھ سینگ پھنسانے کی وجہ سے میاں صاحب کے ذہن میں سب سے بڑا ممکنہ خطرہ فوج سے تھا چاہے وہ جس کو بھی چیف لگائیں ذہن مطمئن نہیں رہ سکتا ۔ یہ سازش کی گردان قوم کو بار بار سنائی جاتی ہے درحقیقت ان کی فوج کے خلاف حکمت عملی کی انکی اپنی سازش ہے۔

نواز شریف فیملی گزشتہ دو عشروں سے زائد عرصے سے لندن کے مقیم شہری ہیں۔ اس دوران کاروباری معاملات اور دیگر سماجی تعلقات سے یہ حقیقت ان پر عیاں ہوئی کہ اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد پاکستان سے ترک سکونت کرنے والے قادیانی اور یورپ میں پہلے سے مقیم اس کمیونٹی کا کتنا اثرو رسوخ ہے۔ خاص طور اسلامی ابلاغ اور نشر و اشاعت کے بڑے ادارے قادیانی چلا رہے ہیں، سب سے بڑا اسلامی ٹی وی نیٹ ورک ان کا ہے، سوشل میڈیا پر فعال ویب سائیٹس کی اکثریت بھی اسی کمیونٹی کے لوگوں کی ہے، وہاں یہ مسلمانوں کے بڑے داعی ہیں۔ مغربی میڈیا پے مذہبی آزادی کی آڑ میں ان کو پذیرائی بھی بہت میسر ہے.

دوسری طرف میاں صاحب کے تیسری بار وزیراعظم بننے کے وقت یہاں مذہبی دہشت گردی سوات میں ختم ہونے کے باوجود دیگر سرحدی قبائلی علاقوں کے علاوہ ملحقہ علاقوں میں عروج پر تھی، اور ملک میں بتدریج پھیل رہی تھی. جب جنرل راحیل شریف کو فوج کی قیادت سونپی گئی تو انہوں نے ضرب عضب آپریشن پوری فوجی طاقت سے شروع کیام میاں صاحب اپنے سیاسی جھمیلوں میں مشغول تھے. ماڈل ٹاؤن کا سانحہ، اور اس کے بعد دھرنا، آپریشن میں حکومت بادل نخواستہ شامل ہوئ ۔ حالات کی نزاکت میں فوج کے لئے ناگزیر تھا کہ دہشت گردوں کی پسپائی کے ساتھ ہر محاذ پر اپنی دھاک بٹھائے۔

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی جہاں دنیا بھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک مثال بن کر ابھری افواج پاکستان کی اہلیت تسلیم کی گئی، وہاں جنرل راحیل شریف ایک بلند قامت، مستعد، چاک و چوبند، ہر محاذ پر ہر وقت موجود فاتح سپہ سالار کے طور چھا گئے. اب اندرون ملک وہ اہم ترین ہستی مانے جا رہے تھے تو خارجہ امور پر بھی وہی فعال تھے۔ بیرون ملک اہم امور طے کرنے کے لئے دورہ کرنا ہو یا ملک میں دورے پر آئی اہم غیر ملکی شخصیات سے ملاقات اور میٹنگ ہر جگہ ان کی قد آور شخصیت باقی سب حکومتی عہدے داروں سے کہیں زیادہ ممتاز ہوتی گئی. میاں صاحب کی وزیراعظم کی حیثیت چکوال کے مشہور کھیل بیلوں کی دوڑ “کراہ” میں بھاگنے والی جوڑی کے بچی داند جیسی تھی.

دنیا بھر میں جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے نواز شریف کو شدید احساس کمتری میں مبتلا کر دیا۔ ان کو اپنے وزیراعظم ہونے پر بھی شک ہونے لگا۔ بسازشی ذہن میں خوف کے ناگ پھنکارنے لگے، کہاں تو وہ، ملک پر اپنی خاندانی بادشاہت  قائم کرنے کے لئے اپنی بیٹی کو جانشین بنانے کا پروگرام ترتیب دینا چاہتے تھے. اب  یہاں انہیں اپنا اقتدار ہی خطرے میں نظر آنے لگا۔ پس انہوں نے بیٹی کی قیادت میں اپنے سیکریٹریٹ میں میڈیا سیل بنوایا، آرمی چیف جن کا ابھی سال باقی تھا ان کی اور افواج کی تضحیک اور تذلیل کی مہم شروع کرا دی. راحیل شریف کے جانشین بارے بحث ہونے لگی، ان کی ایکسٹنشن کی ہوائیاں اُڑائی گئیں، اس پراگندہ ماحول میں ڈان لیکس کا بھی شوشہ چھوڑا گیا۔
ان دنوں بدقسمتی سے میاں صاحب قدرتی آفت  پانامہ لیکس  کے شکار بھی ہو چکے تھے.

عدلیہ نے تو چیف جسٹس بننے کے عمل کو طے کر لیا تھا۔ افتخار چوہدری کے بعد باری پر چیف بننے والے جج صاحبان کی مرتب فہرست موجود ہے، جس کے مطابق آگے چیف جسٹس بننے والوں سے اس وقت تک میاں صاحب مطمئن تھے کہ سب ان کے رہین منت رہیں گے. الیکشن میں دھاندلی کے کیسز میں وہ عدالتی ریلیف سے بہرہ مند بھی تھے۔ اسی خوش فہمی میں پنامہ کیس بھی وہ خود عدالت عالیہ لے کر گئے تھے، مسلسل سماعتوں کے بعد عدالت نے ان کو نااہل کر دیا یہ علیحدہ مضمون کا متقاضی ہے.

نئے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے چناؤ کو باقاعدہ مہم کی شکل دی گئی،  شجرے کھنگالے گئے، ڈی جی چنے گئے، جرنیل صاحب کی شریف خاندان سے آٹھویں جگہ کی عزیز داری کی تشہیر اس طرح کی گئی کہ جیسے وہ آئی ایس آئی کے اسحق ڈار ہونگے.

آرمی چیف کا نام فائنل ہونے کے بعد اور ان کے حلف اٹھانے سے پہلے ایک درباری مولوی سے فتوی نشر کرایا گیا کہ ان کا کسی قادیانی خاندان سے تعلق ہے۔۔ یہ نواز شریف کے سازشی ذہن کا پہلا وار تھا ۔ شام تک مولوی صاحب نے اپنے فتوی کی تصحیح اس طرح کی جنرل صاحب خود نہیں البتہ ان  کی ساس کے ماموں کی بہو کے کوئی رشتہ دار قادیانی نہیں،لاہوری مکتب کے متفق تھے،  آرمی چیف بننے کے بعد جرنیل صاحب کی وزیراعظم سے ملاقات کے لئے وزیراعظم ہاؤس میں دربار جیسا سیٹ لگایا گیا جس کی تصویر کی خوب تشہیر کی گئی، میاں صاحب کی ذہنی بیماری کا یہ ثبوت سب نے دیکھا.

عدالت عالیہ سے نااہل ہونے کے بعد نواز شریف بجائے خود احتسابی کے اپنے ذہن کی سازش کے مکمل اسیر ہیں۔ اب تو وہ اپنے انتہائی برخوردار چھوٹے بھائی شہباز شریف پر بھی شک کرتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ جو لابنگ فرم ، ان کی یورپ اور دیگر ممالک میں کردار نگاری کی مشیر ہے اس کی رائے بھی لگتا ہے یہ ہے کہ میاں صاحب خود کو لبرل ڈیمو کریٹ ظاہر کریں.

ہمارے ختم رسالت اور توہین رسالت کے قوانین مغرب میں سخت ناپسندیدہ اور زیر تنقید رہتے ہیں. قادیانی لابی اپنے مسلمان ہونے کو منوانے کے لئے یہ مسئلہ زندہ رکھنا چاہتی ہے، سو میاں صاحب نے اپنی عدالتی نااہلی کے باوجود پارٹی کا صدر بننے کے لئے پارلیمان سے کرائی گئی ترمیم کے ساتھ ختم نبوت کی شقوں کو خذف کرا دیا، جس پر شدید احتجاج کے بعد یہ شقیں بحال ہو گئیں.

لیکن جس قومی سطح پر شدید رد عمل اور ہنگامہ آرائی کی توقع تھی وہ نہ ہوسکی تو فیض آباد دھرنا شروع کرا دیا گیا۔ یہ سازش کی اگلی کڑی ہے، سازش کا پلان یہ لگتا ہے کہ نیب کیسز  میں ہنگامہ آرائی ، توہین عدالت، اور فوج کے خلاف بیان بازی سب قابل تعزیر جرائم ہیں ان کی پاداش میں یا عدالتی حکم کے تحت فوج اگر کوئی حتمی ایکشن لیتی ہے تو عوام اسے قبول کر لیں گے.

تاہم ختم نبوت کے نام پر ہنگامے اگر ہوں تو فوج نے ایکشن لیا تو یہ کہیں گے کہ دیکھا ہم نے اسمبلی میں بھی کہا تھا کہ اعلی سرکاری عہدوں پر قادیانی  بیٹھے ہیں. فوج پہلے ہی حالت جنگ میں ہے، نواز شریف کے سرحد پار ’ممدوح‘ دونوں سرحدوں پر مصروف کار ہیں، پولیس اور فوج کے افسروں اور جوانوں کی روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں ، مزید بدامنی نقصان کا باعث ہو گی.

تو یہ وہ سازش ہے جس کاراگ شریف باپ بیٹی الاپ رہے ہیں، یہی وہ مخفی راز ہیں جن سے قوم کو ڈرایا جا رہا ہے. نواز شریف ہے بھولا بندہ ۔ سازش بننے کے ساتھ بتاتا ہے کہ سازش ہو رہی ہے.بس مسئلہ باپ اور بیٹی کا یہ ہے کہ وہ اس پلان میں اپنے جرائم کو نظر انداز کرتے ہیں اور ریاست کی طاقت کو اپنے اقتدار کی طاقت کے ماتحت اور زعم باطل میں خود سے کمزور تصور کرتے ہیں، مملکت کا منظم نظام ہے جس میں ایسے ہر فساد کا تدارک موجود ہے اور یہ اصلاحاتی عمل خودکار ہے.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: