پروین شاکر…خوشبو کی شاعرہ: شکور پٹھان

0
  • 2
    Shares

دوبئی کے ٹریڈ سنٹر ھال میں مشاعرہ تھا. زرد ساڑھی میں ملبوس کھلے بالوں والی شاعرہ پڑھ رہی تھیں

بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے
یہی کیاکم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور میری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

حاضرین ہر شعر پر داد کے ڈونگرے برسا رہے تھے.  لیکن مجھ سمیت بہت سے ایسے تھے جو سننے کے بجائے یک ٹک شاعرہ کو دیکھے جارہے تھے.  اسٹیج پر عمر رسید،جھریوں والے چہروں اور بکھرے بالوں والے شعرا کے درمیان وہ ایسی لگ رہی تھیں گویا گلدان میں سجا ہوا پھول۔

پروین شاکر کو میں نے ان کی زندگی میں بہت کم سنا اور پڑھا، کہ میں مشاعروں میں انہیں صرف دیکھا کرتا تھا۔ اپنے انداز گفتگو، اپنے رکھ رکھاو،غرضیکہ ہر چیز سلیقے اور نفاست کے ساتھ۔

اور یہی نسوانی حسن اپنے تمام تر احساسات کے ساتھ ان کے اشعار میں نظر آتا۔ نسائیہ جذبات کو اتنے خوبصورت اور بے باکانہ اندازمیں پیش کرنا ان ہی کا اعجاز تھا۔

بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن
گیا ہے روح کو آباد کر کے

ایک عورت کی زندگی کے مختلف مراحل، اسکا بچپن، دوشیزگی۔ جوانی، ممتا اور بڑھاپا، سب کچھ ان کے  شعروں سے منعکس ہوتا ہے۔

پلٹ کر پھر یہیں آجائیں گے ہم
وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے

لیکن اس قدر نسوانی احساس کے باوجود وہ حالات حاضرہ سے بے خبر نہیں تھیں۔

اے میری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر تیرا کیا حال کردیا

انہیں یہ بھی احساس تھا کہ اب دنیا میں رومانویت اور خیالی باتوں کی گنجائش نہیں۔ یہ دنیا بہت عملیت اور عقلیت پسند ہوگئی ہے۔

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

ان کی ذاتی زندگی بھی ان کے شعروں میں جھلکتی ہے۔ اپنی ناکام شادی پر جو کچھ پروین نے کہا اس کا ایک مصرعہ تو اب ضرب المثل بن گیا ہے۔

کیسے کہدوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے ، مگر بات ہے رسوائی کی

خوشبو کی اس شاعرہ نے اپنے زخموں کو بھی پھول بنا دیا

میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں
بے ردائی کوہماری دے گیا تشہیر کون

دل میں اترتی، خوشبو کی طرح  کو بہ کو پھیلتی اور اپنی پھولوں جیسی نزاکت سے دل کو تھپکتی شاعری

حسن کو سمجھنے کو عمر چاہئے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیان نہیں کھلتیں

پروین کی تعلیمی زندگی کے کارنامے، انکی شاندار ملازمتیں بھی بھلا کوئی ذکر کرنے کی بات ہے۔ پروین جس کے ہاں چند الفاظ گھوم پھر کر ضرور آتے، جیسے اپنے انشاٗ جی کے ہاں چاند، بار بار نظر آتا ہے، خوشبو، شبنم، پھول، جاند، رات، شہر، موسم، خواب۔۔اور یہ ساری چیزیں انکی اپنی شخصیت میں نطر آتیں۔

خوشبو اور محبت کی یہ شاعرہ پروین شاکر بہت سے رومانوی شعرا کی طرح عالم شباب میں ہی دنیا چھوڑ گئیں.
شاید اس لئے کہ یہ خوشبو ہمارے دلوں میں ھمیشہ اسی طرح بسی رہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: