جایداد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ: لاری میکفرلین – مترجم ڈاکٹرعامر سعید

0
  • 82
    Shares

(ڈاکٹر عامرسعید، یونیورسٹی آف دی پنجاب ،لاہور میں ،انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور ماہر معاشیات ہیں جو معاشیات کو عام فہم انداز میں سمجھانے کیلیے دانش پہ باقاعدہ لکھا کریں گے۔ زیر نظر مضمون ایک غیر ملکی مجلے میں شایع ہوا ہے جسے انہوں نے صرف ترجمہ ہی نہیں کیا بلکہ اسکے آغاز پہ مضمون کاخلاصہ کا اور انجام پہ کلید فکر کا اضافہ بھی کیا ہے۔)


مکان ہر انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر زندگی ان گنت دشواریوں کا شکار ہو جاتی ہے بلکہ بات جان کے نقصان تک بھی جا پہنچتی ہے۔ اس لئے کسی بھی مہذب، جدید انسانی معاشرے میں تمام آبادی کی اس ضرورت کا دوسری بنیادی ضرورتوں کے ساتھ پورا ہونا ازحد ضروری ہے۔ تاہم وطنِ عزیز جس میں بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہوئے لاکھوں افراد نے جانیں اور ہزاروں عورتوں نے عصمتیں لٹوائیں، میں گزشتہ چند دہائیوں میں جائیداد کی قیمتوں میں بے پناہ اور بے مثال اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس کے نتیجے میں زمین اور گھروں کی قیمتیں آسمان پہ جا پہنچی ہیں اور کم آمدنی والی آبادی کے لئے اپنا گھر ایک ایسا خواب بن چکا ہے کہ جس کی تعبیر ان کی زندگی بلکہ کئی نسلوں تک ممکن نظر نہیں آتی۔

ہر معاشرے میں انسانوں سے متعلقہ معاملات کو چلانے کے لئے ایک نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر نظام کچھ بنیادی عقائد، اصول و ضوابط اور اُن کو عمل میں لانے کے طریقہ ہائے کار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ مختلف اشیاء کے ہاتھ بدلنے اور دولت کے انتقال کے نظام کو معیشت یا اکنامکس کا نام دیا جاتا ہے۔ حالیہ تاریخ میں دو معروف معاشی نظام وجود میں آئے پہلا سرمایہ داری نظام اور دوسرا اُس کی ضد یعنی اشتراکی نظام۔ ان دونوں نظاموں کی جڑیں یورپی تاریخ میں پیوست ہیں اور یہ اُن خاص تاریخی عوامل کی بنا پر ظہور پذیر ہوئے جو پچھلی تین چار صدیوں میں یورپ میں وقوع پذیر ہوئے۔

تجارت کی غرض سے آنے والے انگریزوں نے جب دھوکے، فراڈ اور چاپلوسی کی مدد سے جب قبضہ برصغیر پر مضبوط کر لیا تو پھر انہوں نے یہ سرمایہ داری نظام یہاں نافذ کر دیا، اور مملکتِ خداداد کے ظہور پذیر ہونے کے باوجود آج بھی ہمارا معاشی نظام انہی بنیادوں پر استوار اپنے پھل بانٹ رہا ہے۔ لاری میکفرلین جو ایک ممتاز برطانوی معیشت دان ہیں نے ایک آرٹیکل لکھا جو برطانیہ میں گھروں/زمین کی قیمتوں کے متعلق ہے جس میں سائنسی انداز میں بتایا گیا ہے کہ یہ قیمتیں کیسے چڑھتی ہیں، ان کے فوائد اور نقصانات کون سمیٹتا ہے، اور کیسے کم ترین آمدنی والے افراد پر اس سب کچھ کا نزلہ گرتا ہے اور پھر کیسے سرمایہ داری نظام ترقی کا نام دے کر اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ آرٹیکل برطانیہ کی منڈی کے بارے میں لکھا گیا ہے مگر چونکہ دونوں ممالک میں ایک ہی نظام نافذ ہے اس لئے اس کو پڑھ کر پاکستان میں اس مسئلہ کو بہت اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ذیل میں اس آرٹیکل کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔”

عنوان: دولت کی اکثریت محنت کر کے نہیں کمائی گئی بلکہ یہ فارغ رہ کر اور غیر فعال ہوکر کمائی گئی ہے۔

(لاری میکفرلین اوپن ڈیموکریسی کے معاشیاتی ایڈیٹر ہیں اور یونیورسٹی کالج لندن کے انسٹیٹیوٹ فار انوویشن اینڈ پبلک پرپس میں ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ اس سے قبل وہ نیو اکنامکس فاؤنڈیشن میں سینئر معیشت دان تھے۔ وہ تنقیدی طور پر مشہور کتاب ری تھنکنگ دی اکنامکس آف لینڈ اینڈ ہاؤسنگ کے مشترکہ ادیب بھی ہیں۔ )

سرمایہ داری نظام کا ایک بنیادی دعوٰی یہ ہے کہ اس کے تحت لوگوں کو صلہ ان کی کوششوں اور محنت کے مطابق ملتا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ معیشت ایسا کھیل نہیں کہ جس میں ایک فریق کی کامیابی کا مطلب یقینی طور پر دوسرے کی شکست ہی ہو۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ سرمایہ دار معیشت کی خوبصورتی یہ ہے کہ جو لوگ محنت کرتے ہیں وہ دوسروں کو غریب بنائے بغیر امیر بن سکتے ہیں۔

مگر ان باتوں کا اطلاق جدید برطانیہ پر کیسے ہوتا ہے جو سرمایہ داریت اور اُس کے بہت سے نظریات کی جائے ولادت ہے؟ پچھلے ہفتے ملکی شماریات کے دفتر (ONS) نے کچھ نئے اعدادو شمار نشر کئے جو یہ بتاتے ہیں کہ پچھلے عرصے میں دولت کیسے پیدا ہوئی ہے۔ کاغذی طور پر تو یوکے پچھلی دہائیوں میں یقینی طور پر بہت مالدار ہو گیا ہے۔ 1995 کے مقابلے میں دولت میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو تقریباً 7 ٹریلین پاؤنڈ ہے۔ یہ فی کس دس لاکھ پاؤنڈ اضافے کے مساوی ہے، یقیناً یہ متاثر کُن ہے۔ مگر یہ ساری دولت آئی کہاں سے ہے، اور اس سے فائدہ کس کو ہوا ہے؟

5 ٹریلین پاؤنڈ سے کچھ زیادہ، یا اضافے کا تین چوتھائی، گھروں کی قیمت میں اضافے کے سبب سے ہے جو یوکے ہاؤسنگ سٹاک کا دوسرا نام ہے۔ قومی شماریات کا دفتر یہ وضاحت کرتا ہے کہ یہ اضافہ ‘بہت حد تک گھروں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے نہ کہ گھروں کی تعداد میں تبدیلی کی بنا پر’۔ فقط یہ بات کچھ زیادہ حیران کُن نہیں ہے۔ ‘ہمیں ہمیشہ جائیداد کی سیڑھی پر قدم رکھنے’ کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ گھروں کی منڈی کو بہت عرصے سے دولت کے مستقل وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

مگر جائیداد کی قیمت دو مختلف عناصر کے مجموعے سے بنتی ہے: عمارت کی قیمت اور زمین کی قیمت کہ جس پر عمارت کی بنا رکھی جاتی ہے۔ اس سال ONS نے پہلی بار ان دونوں عناصر کو علیٰحدہ کیا ہے اور اُس کے نتائج تعجب خیز ہیں۔

فقط دو ہی دہائیوں میں زمین کی قیمت میں چار گنا اضافہ ہوا ہے جس سے معلوم دولت میں 4 ٹریلین پاؤنڈ ز کا اضافہ ہو گیا ہے۔ گھروں کی بڑھتی قیمتوں اور یوکے کی بڑھتی دولت کی پشت پر موجود اصل وجہ زمین کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہے۔

مالکینِ جائیداد کے لئے تو یہ بے پناہ فائدے کا موجب ہے۔ ریزولوشن فاؤنڈیشن کے مطابق، گھروں کے مالکین جو 1940 اور 1950 کی دہائی میں پیدا ہوئے ہیں نے فقط 1993 اور 2014 کے درمیان 80،000 پاؤنڈ کا غیر کمائی شدہ (بلامحنت) منافع سمیٹا ہے۔ 2000 کی پہلی دہائی میں تو گھروں کی قیمتوں میں اضافہ اتنی سرعت سے ہوا کہ 17 فیصد کام کرنے کی عمر کے بالغین نے اپنے نوکریوں کے مقابلے میں اپنے گھروں سے زیادہ کمایا۔

پچھلے ہفتے دی ٹائمز نے یہ خبر دی کہ صرف پچھلے تین مہینوں میں ہی بے بی بومرز نے 850 ملین پاؤنڈ کی گھر کی آمدنی مختلف طریقوں سے پیسوں میں منتقل کی جو کہ جب سے یہ طریقے رائج ہوئے ہیں، سب سے زیادہ ہے ۔ ایک تہائی نے یہ پیسے کاریں خریدنے میں استعمال کئے جبکہ ایک چوتھائی سے زیادہ نے سیر و تفریح کے اخراجات پر یہ رقم خرچ کی۔ بقیہ لوگ ان رقوم سے مزید جائیداد خریدنے کے منصوبے بنا رہے ہیں: چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ نے بیان کیا ہے کہ گھر خرید کر کرائے پر دینے کی منڈی میں پرانے گھر رکھنے والے کی بدولت سیلاب کا سماں ہے جس میں وہ اپنی گھروں سے وصول شدہ رقم مزید جائیداد کی خرید میں استعمال کر رہے ہیں اور انہیں ان افراد کو کرائے پر دے رہے ہیں جو اپنی جائیداد کی سیڑھی پر چڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاں ہم گھروں کی منڈی میں بلندی کا تاریک پہلو دیکھ سکتے ہیں۔

جیسے جیسے گھروں کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے، گھروں کی قیمت اور آمدنی میں خلا بڑھتا جا رہا ہے اور گھر کا مالک بننا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ جہاں 1990 کی دہائی کے وسط میں کم اور اوسط آمدنی والے خریدار جو پہلی بار گھر خرید رہے تھے تقریباً تین سال کی بچت کے بعد گھر خریدنے کے قابل ہو جاتے تھے مگر اب اتنی رقم کے لئے انہیں 20 سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اکثریت کے پاس کرائے پر گھر لینے کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں بچی۔ جو افراد کرائے پر گھر لینے پر مجبور ہیں ان کا کرائے پر ہونے والا خرچ 1980 میں آمدنی کا 10 فیصد تھا جو اب 36 فیصد ہو چکا ہے۔ گھر کے مالکوں کے برخلاف ان کے پاس دولت کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ جس سے وہ نئی کاریں خرید یا سیر تفریح کر سکیں۔

برطانیہ میں ہم نے ابھی تک پچھلی چند دہائیوں میں گھروں کی فروخت سے حاصل ہونے والے کئی ٹریلین پاؤنڈ کے بارے سچ کا سامنا نہیں کیا کہ یہ دولت سیدھی ان افراد کے جیب سے نکل کر آ رہی ہے جو جائیداد کے مالک نہیں ہیں۔ جب گھر کی قیمت چڑھتی ہے، تو معیشت کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ کچھ نیا پیدا نہیں ہوا ہوتا، یہ تو محض زمین کی قیمت میں اضافہ کی بدولت ہوتا ہے۔ ہم یہ بات ایڈم سمتھ اور ڈیوڈ ریکارڈو کے وقت سے جانتے ہیں کہ زمین دولت کا نہیں بلکہ معاشی کرایے کا وسیلہ ہے یعنی دوسروں سے دولت لوٹنے کا ذریعہ۔ یا جیسے جوزف سٹگلٹز یہ بات اس طرح کہتا ہے کہ ‘یہ پائی کا ایک بڑا حصہ لینے کے مترادف ہے نہ کہ پائی کے حجم میں اضافہ کرنے کے’۔ سچ بات تو یہ ہے کہ پچھلی دہائیوں میں اکٹھی ہونے والی دولت ان محدود وسائل رکھنے والے طبقے کو لوٹ کر حاصل کی گئی ہے جو اگلے سالوں میں اپنی دولت کو بڑھتے کرایوں اور بنکوں کے رہن کی مہنگی ادائیگیوں کی صورت میں مزید سکڑتا دیکھیں گے۔ یہ دولت ‘پیدا’ نہیں کی گئی بلکہ یہ تو مستقبل کی نسلوں سے چرائی گئی ہے۔

گھروں کی قیمتیں اوسطاً آمدنیوں کے آٹھ گنا کے برابر ہیں جو کہ 20 سال پہلے سے دوگنا ہیں۔ یہ بات قرین قیاس نہیں کہ گھر کی قیمتیں اگلے 20 سال بھی اسی رفتار سے بڑھتی رہیں گی۔ پچھلی چند دہائیوں نے دولت کی منتقلی کا ایک ایسا تماشا دیکھا ہے جس کا دہرایا جانا شاید ممکن نہیں۔ اگرچہ اس کے اصل مستفیدین پرانی نسلیں تھیں، مگر آخرکار یہ اگلی نسلوں کو وراثت اور انتقال کی بنا پر منتقل ہو جائے گا۔ پہلے ہی ماں باپ کا بنک (ایک اصطلاح جو ماں باپ کو مالی امداد کا وسیلہ کہتی ہے) پہلے ہی نواں بڑا جائیداد خریدنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کا حتمی نتیجہ فقط بین النسلی تفریق ہی نہیں ہے، بلکہ طبقات کے مابین گہری تقسیم ہے یعنی ان کے مابین جو جائیداد کے مالک (یا دعویدار) ہیں اور ان کے جو مالک نہیں ہیں۔

دھوکہ آمیز اکاؤنٹنگ اور غیر ذمہ دار معاشیات نے اس نقب زنی کو چھپانے میں مدد فراہم کی ہے۔ گورنمنٹ کے قومی اکاؤنٹس ریکارڈ گھروں کی قیمتوں میں اضافے کو نئی دولت لکھتے ہیں اُن اخراجات کو نظرانداز کرتے ہوئے جن کا بوجھ معاشرے کے باقی افراد پر پڑتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور ان پر جنہوں نے ابھی دنیا میں وارد ہونا ہے۔ معیشت دان اب بھی گھروں کی قیمتوں میں اضافے کو معاشی ترقی کے نشان کے طور پر دیکھتے ہیں۔

نتیجتاً ہم ایسی دنیا پاتے ہیں جو معاشیات کی کتابوں میں بیان کی گئی دنیا سے کہیں مختلف ہے۔ آج کل کی ‘دولت’ کی اکثریت کاروباری کوششوں اور سخت کوشی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ فارغ اور غیر پیداواری بن کر اکٹھی کی گئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ایسا کھیل سمجھا جاتا ہے جس میں سبھی کھلاڑی فائدے میں رہتے ہیں، مگر وہ اس سے کہیں دور ایسا نظام ہے جس میں دولت کی اکثریت دوسروں کی محروم کر کے اکٹھی کی جاتی ہے۔ جیسے کہ جان سٹورٹ مل نے بہت پہلے 1848 میں کہا تھا: “اگر ہم میں سے کچھ سوتے ہوئے امیر ہو جائیں تو ہمارا کیا خیال ہے کہ ایسی دولت کہاں سے آ رہی ہے؟ یہ فضا میں سے نمودار نہیں ہوتی۔ یہ دوسرے انسانوں پر بوجھ لادے بغیر وجود میں نہیں آتی۔ یہ دوسروں کی محنت کا پھل ہے جو انہیں نہیں ملتا”۔

برطانیہ کا گھر کا بحران ایک پیچیدہ بکھیڑا ہے۔ اسے سلجھانے کے لئے ایک طویل مدتی منصوبہ اور پالیسی کے ایک دلیرانہ طریقہ درکار ہے۔ مگر تب تک اُسے وہی نام دینا چاہیے جو اس حقیت کا مظہر ہے: حالیہ تاریخ میں دولت دولت کی سب سے بڑی منتقلی۔ (ختم شد)

بہت سے وجوہات کی بنا پر ہمارے معاشرے میں خیالات ، تصورات، نظریات پر بات چیت کرنے کا رواج نہیں۔ معاشرے میں نظر آنے والے معاملات، افعال ، پراجیکٹس وغیرہ دراصل کسی خیال اور تصور کی بنا پر وجود میں آتے ہیں، ان تصورات کو سمجھنے اور اُس پر گفتگو کرنے کے بجائے ہمارے نسبتاً جاہل معاشرے میں شخصیات کو ان اعمال اور افعال کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے، اس کی بڑی وجہ علم اور تعلیم کی کمی ہے۔ تصورات پر بحث وتمحیص کر کے اس کے اچھے برے ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے اُس کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، مگر جب ان معاملات کی تہہ میں پائے گئے تصورات اور خیالات کوسمجھنے کے بجائے شخصیت  پرستی شروع ہو جائے تو پھر اُس کے گرد تقدس کا ہالہ بن جاتا ہے اور پھر جاہل عوام میں سے کچھ تو ان کو سر پر بٹھا لیتے ہیں اور کچھ انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے لگ جاتے ہیں۔ اور پھر چاہے نیا لیڈر انہیں خیالات کی بنا پر معاشرے کو استوار کرے جسے مسترد شدہ لیڈر نے اپنایا تھااور جس کی وجہ سے پچھلے دور میں ملک مزید تنزلی کا شکار ہوا، قوم اُسی کو راہبر و راہنما سمجھ لیتی ہے۔ ہم ستر سال سے ترقی کے نام پر اس کتے کی طرح ایک دائرے ہی میں گھومتے جا رہے ہیں جو مڑ کر اپنے دم کو منہ سے پکڑنا چاہتا ہے مگر پکڑ نہیں پاتا، اس ادبار کے چکر سے نکلنے کا واحد ذریعہ فقط ایسی تعلیم و تربیت ہے جو ہمارے معاشرے، عقائد، اور نظریہ زندگی سے مطابقت رکھتی ہو۔ انہیں بنیادوں پر تعلیم دے کر ہم اپنی قوم کو اس قعرِ مذلت سے نکال سکتے وہیں وگرنہ ہم دائرے ہی میں گھومتے رہیں گے۔

اغیار کے افکارو تخیل کی گدائی       کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: